قرض کم کرنے کے متعلق احکامات
① سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے (سیدنا) ابن ابی حدرد رضی اللہ عنہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں مسجد میں اپنے قرض کا تقاضا کیا تو ان دونوں کی آواز بلند ہو گئی حتیٰ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے گھر میں ہوتے ہوئے اسے سن لیا۔ پس آپ ان کی طرف تشریف لائے، اپنے حجرے کا پردہ اٹھایا اور آواز دی:
يا كعب! ”اے کعب!“
میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! حاضر ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے اشارہ کرتے ہوئے فرمایا:
قم فاقضه
”اپنا قرض آدھا کم کر دو “۔
بخاری، کتاب الصلوة 471۔ مسلم، کتاب المساقات 1558/2۔
② سیدنا ابو قتادہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا:
من سره أن ينجيه الله من كرب يوم القيامة ، فلينفس عن معسر أو يضع عنه
”جس شخص کو یہ پسند ہو کہ اللہ اسے روزِ قیامت کی تکلیفوں اور سختیوں سے بچا لے، تو وہ تنگ دست کو مہلت و رعایت دے یا اس کے قرض میں کمی کر دے“۔
مسلم، کتاب المساقات 1563/32۔
③ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
من أنظر معسرا أو وضع له أظله الله يوم القيامة تحت ظل عرشه يوم لا ظل إلا ظله
” جو شخص کسی تنگ دست کو مہلت دے یا اس کے قرض میں کمی کر دے تو اللہ روز قیامت اسے اپنے عرش کے سائے تلے جگہ نصیب فرمائے گا جس دن اس کے سائے کے سوا کوئی سایہ نہیں ہو گا۔ “
ترمذي، کتاب البيوع 1306۔
④ سیدنا ابو قتادہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا:
من سره أن ينجيه الله من كرب يوم القيامة ، فلينفس عن معسر أو يضع عنه
”جس شخص کو یہ پسند ہو کہ اللہ اسے روزِ قیامت کی تکلیفوں اور سختیوں سے بچا لے، تو وہ تنگ دست کو مہلت و رعایت دے یا اس کے قرض میں کمی کر دے“۔
مسلم، کتاب المساقات 1563/32۔
قرض کی ممانعت
① سیدنا ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إن أعظم الذنوب عند الله أن يلقاه عبد بعد الكبائر التى نهى الله عنها أن يموت الرجل وعليه دين لا يدع له قضاء
”کبیرہ گناہوں کے بعد جن سے اللہ نے منع کیا ہے، اللہ کے ہاں سب سے بڑا گناہ یہ ہے کہ آدمی اس حال میں فوت ہو کر اللہ سے ملاقات کرے کہ اس کے ذمے قرض ہو اور اس نے اس کی ادائیگی کے لیے کوئی چیز نہ چھوڑی ہو“۔
ابوداؤد، کتاب البيوع 3342۔ مسند احمد، اول مسند الكوفيين 478/4 حدیث 19514۔
② سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
من أخذ أموال الناس يريد أداءها أدى الله عنه ، ومن أخذ يريد إتلافها أتلفه الله
”جو شخص لوگوں کے اموال ان کی ادائیگی کی نیت سے لیتا ہے تو اللہ اسے ادا کرنے کی توفیق سے نوازتا ہے (یا اس کی طرف سے ادا کر دیتا ہے) اور جو شخص تلف کرنے (مار لینے) کی نیت سے لیتا ہے تو اللہ اسے تباہ و تلف کر دیتا ہے“۔
بخاري، كتاب في الاستقراض وأداء الديون والحجر والتفليس 2387۔ ابن ماجه، كتاب الأحكام 2411۔ مسند احمد، باقي مسند المكثرين 2 / 489۔
③ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
يغفر للشهيد كل شيء إلا الدين
”شہید کی قرض کے سوا ہر چیز بخش دی جاتی ہے“۔
اور ایک دوسری روایت میں ہے:
القتل فى سبيل الله يحفر كل شيء إلا الدين
”اللہ کی راہ میں شہید ہو جانا، قرض کے سوا ہر چیز مٹا دیتا ہے“۔
مسلم، كتاب الإمارة 119 / 1886۔ مسند احمد، أول مسند المكثرين من الصحابة 2 / 295 حديث 7068۔
قرض کی ادائیگی میں تاخیر کرنے کی ممانعت
① سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
مطل الغني ظلم ، وإذا أتبع أحدكم على ملي فليتبع
”مال دار شخص کا قرض کی ادائیگی میں ٹال مٹول کرنا ظلم ہے، اور جب تم میں سے کسی کا قرض کسی مال دار کے ذمے لگا دیا جائے (حوالہ کر دیا جائے) تو اسے قبول کر لینا چاہئے“۔
یہ حوالہ قبول کر لینا چاہئے۔ بخاري، كتاب الحوالات 2400، 2288۔ مسلم، كتاب المساقاة 33 / 1564۔ ابو داؤد 3345۔
قرض کی ادائیگی اچھے انداز سے کرنا
① سیدنا ابو رافع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک نو عمر اونٹ قرض لیا، پس آپ کے پاس صدقہ کے اونٹ آئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حکم فرمایا کہ میں اس شخص کو نو عمر اونٹ واپس کر دوں۔ میں نے عرض کیا: میرے پاس تو صرف ایک بہترین جوان اونٹ ہے۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
أعطه إياه ، فإن خيار الناس أحسنهم قضاء
”اسے وہی دے دو، اس لیے کہ بہترین شخص وہ ہے جو اچھے انداز سے قرض ادا کرتا ہے“۔
مسلم، كتاب المساقاة 1600۔