كتاب الجهاد
اللہ کی راہ میں مجاہد تیار کرنا
① سیدنا زید بن خالد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
من جهز غازيا فى سبيل الله فقد غزا و من خلف غازيا فى أهله بخير فقد غزا
”جس نے اللہ کی راہ میں کسی مجاہد کو تیار کیا یا اس کے اہل و عیال کے بارے میں بھلائی کے ساتھ جانشینی کی تو اس نے جہاد کیا“۔
محدثین کی ایک جماعت نے اسے روایت کیا ہے۔ بخاری، کتاب الجهاد والسير 2843۔ مسلم، کتاب الامارة 1895 ابوداؤد، كتاب الجهاد 2509 ،نسائی، كتاب الجهاد 6 / 46۔
② سیدنا ابن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
للغازي أجره وللجاعل أجره و أجر الغازي
”مجاہد کے لیے (صرف) اپنا اجر ہے جبکہ جاعل (جو شخص مجاہد کی اجرت کا انتظام کرتا ہے) کے لیے اپنا اور مجاہد کا اجر ہے“۔
صحیح ابوداؤد، كتاب الجهاد 2526۔ مسند احمد، مسند المكشرين من الصحابه 174/2۔
اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد
① سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، عرض کی گئی: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم! اللہ کی راہ میں جہاد کرنے کے برابر کون سا عمل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لا تستطيعونه فأعادوا عليه مرتين أو ثلاثا كل ذلك يقول: لا تستطيعونه قال: مثل المجاهد فى سبيل الله كمثل الصائم القائم القانت بآيات الله لا يفتر من صيام، ولا صلاة حتى يرجع المجاهد فى سبيل الله
”تم اس کی استطاعت نہیں رکھتے۔ انہوں نے دو یا تین مرتبہ سوال دہرایا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر مرتبہ یہی فرمایا: تم اس کی طاقت نہیں رکھتے۔ پھر فرمایا: اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے کی مثال روزہ دار، شب بیدار اور اللہ کی آیات کے اطاعت گزار کی سی ہے۔ جو اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے کی واپسی تک روزہ چھوڑتا ہے نہ نماز“۔
بخاری، کتاب الجهاد 2787 مسلم، کتاب الامارة 1878 ترمذى، فضائل الجهاد عن رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم 1609 ، نسائی، کتاب الجهاد 16/6۔
② سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے عرض کی: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم! مجھے کوئی ایسا عمل بتائیں جو جہاد کے برابر ہو۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لا أجده
”میں ایسا کوئی عمل نہیں پاتا۔“
پھر فرمایا:
هل تستطيع إذا خرج المجاهد أن تدخل مسجدك فتقوم ولا تفتر وتصوم ولا تفطر ؟
” کیا تم استطاعت رکھتے ہو کہ جب مجاہد جہاد پر چلا جائے اور تم اپنی مسجد میں چلے جاؤ وہاں قیام کرو اور ذرا سستی نہ دکھاؤ اور روزہ رکھو افطار نہ کرو؟“
تو اس آدمی نے عرض کی: ”اس کی کون استطاعت رکھتا ہے؟“
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
”مجاہد کا گھوڑا جو اپنے طول میں دوڑتا ہے تو وہ اس کے لیے نیکیاں لکھی جاتی ہیں“۔
بخاري، كتاب الجهاد والسير 2785۔ مسلم، کتاب الامارة 1878۔
اللہ تعالیٰ کی راہ میں پہرہ دینے کا اجر
① سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا:
رباط يوم وليلة خير من صيام شهر و قيامه ، و إن مات فيه جرى عليه عمله الذى كان يعمل و أجري عليه رزقه و أمن الفتان
”دن اور رات پہرہ دینا، مہینے بھر کے روزے رکھنے اور قیام کرنے سے بہتر ہے۔ اور اگر وہ اس دوران فوت ہو جائے تو وہ جو عمل کیا کرتا تھا وہ جاری رہتا ہے، اس کا رزق بھی جاری کر دیا جاتا ہے اور وہ منکر و نکیر سے بھی محفوظ رہتا ہے“۔
مسلم، كتاب الامارة 3 / 19۔
② سیدنا سہل بن سہل الساعدی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
رباط يوم فى سبيل الله خير من الدنيا وما عليها
”اللہ کی راہ میں ایک دن کا پہرہ دینا دنیا اور اس کی تمام چیزوں سے بہتر ہے“۔
بخاری، كتاب الجهاد والسير 2892، ترمذی، فضل الجهاد 1164۔
③ سیدنا فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
كل ميت يختم على عمله إلا الذى مات مرابطا فى سبيل الله فإنه ينمي له عمله إلى يوم القيامة ويؤمن من فتنة القبر
”اللہ کی راہ میں پہرہ دینے کی حالت میں فوت ہونے والے کے سوا ہر میت کا اپنے عمل پر اختتام ہو جاتا ہے۔ لیکن اس کا عمل قیامت کے دن تک اس کے لیے بڑھتا رہتا ہے اور وہ فتنہ قبر سے بھی محفوظ رہتا ہے“۔
ابوداؤد، كتاب الجهاد 2500۔ ترمذی، فضل الجهاد 1621۔
④ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا:
رباط يوم فى سبيل الله خير من ألف يوم فيما سواه من المنازل
”اللہ کی راہ میں ایک دن کا پہرہ دینا اس ہزار دن سے بہتر ہے جس میں اس کے علاوہ دیگر منازل ہوں“۔
ترمذی، کتاب فضائل الجهاد 1667۔ روایت صحیح ہے۔