قربانی واجب نہیں؟ مستند دلائل جمہور علماء کے موقف کے ساتھ

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ زبیر علی زئی رحمہ اللہ کی کتاب قربانی کے احکام و مسائل سے ماخوذ ہے۔

قربانی سنت مؤکدہ ہے

امام مالک نے فرمایا: قربانی سنت ہے، واجب نہیں اور میں پسند نہیں کرتا کہ کوئی آدمی مال و دولت ہونے کے باوجود اسے ترک کرے۔
(الموطأ 387/2 بعد ح 1073، روایہ یحیی بن یحیی)
امام احمد سے پوچھا گیا: قربانی فرض ہے؟ انھوں نے فرمایا: میں اسے فرض نہیں کہتا لیکن یہ مستحب ہے۔ (مسائل ابی داود ص 255 مختصرا)
امام بخاری نے فرمایا: باب سنة الأضحية قربانی کی سنت کا باب۔
پھر انھوں نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے تعلیقاً روایت بیان کی: هي سنة و معروف قربانی سنت ہے اور نیکی کا کام ہے۔
(صحیح بخاری قبل ح 5545، نیز دیکھئے تغلیق التعلیق 3/5 و فیه ابوالخصیب زیاد بن عبدالرحمن القیسی)
❀ امام ترمذی رحمہ اللہ نے لکھا ہے:
والعمل على هذا عند أهل العلم أن الأضحية ليست بواجبة ولكنها سنة من سنن النبى صلى الله عليه وسلم يستحب أن يعمل بها وهو قول سفيان الثوري و ابن المبارك
اہل علم کے نزدیک اس پر عمل ہے کہ قربانی واجب نہیں لیکن وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنتوں میں سے ایک سنت ہے اور اس پر عمل کرنا مستحب ہے، یہی قول سفیان ثوری اور عبد اللہ بن المبارک کا ہے۔ (سنن ترمذی: 1506)
اور یہی قول اکثر اہل علم کا ہے، جیسا کہ طحاوی کے حوالے سے گزر چکا ہے اور اب اس کے بعض دلائل پیش خدمت ہیں:
➊ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إذا دخلت العشر وأراد أحدكم أن يضحى فلا يمس من شعره و بشره شيئا.
جب ذوالحجہ کا عشرہ داخل ہو جائے اور تم میں سے کوئی شخص قربانی کرنے کا ارادہ کرے تو نہ اپنے بال کاٹے اور نہ ناخن کاٹے۔
(صحیح مسلم: 1977 مطبوعہ دارالسلام: 5117، شرح غلام رسول سعیدی 172/6)
اس حدیث پر امام دارمی نے باب ما يستدل من حديث النبى صلى الله عليه وسلم الأضحية ليس بواجب باندھا ہے۔ (سنن دارمی 76/2 قبل ح 1953)
امام شافعی رحمہ اللہ نے دوبارہ قربانی والی حدیث کی شرح میں فرمایا:
فاحتمل أن يكون إنما أمره أن يعود لضحية أن الضحية واجبة واحتمل أمره أن يكون أمره أن يعود إن أراد أن يضحي لأن الضحية قبل الوقت ليست بضحية تجزيه فيكون من عداد من ضحى، فوجدنا الدلالة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم أن الضحية ليست بواجبة لا يحل تركها و هي سنة نحب لزومها و نكره تركها لا على ايجابها فإن قيل فأين السنة التي دلت على أن ليست بواجبة ؟ قيل ـ أخبرنا سفيان عن عبد الرحمن بن حميد عن سعيد ابن المسيب عن أم سلمة رضي الله عنها قالت قالت رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم : إذا دخل العشر فأراد أحدكم أن يضحى فلا يمس من شعره ولا من بشره شيئًا. قال الشافعي رحمه الله وفي هذا الحديث دلالة على أن الضحية ليست بواجبة
اسے آپ کے حکم کہ دوبارہ قربانی کرو، میں یہ احتمال ہے کہ قربانی واجب ہے اور آپ کے حکم کا یہ بھی احتمال ہے کہ آپ نے اسے دوبارہ قربانی کرنے کا حکم دیا بشرطیکہ وہ قربانی کرنا چاہے کیونکہ وقت سے پہلے ذبح کر دینا قربانی نہیں جو جائز ہو لہذا وہ بھی قربانی کرنے والوں میں شامل ہو جائے گا پھر ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث سے دلیل مل گئی کہ قربانی واجب نہیں، اسے ترک کرنا حلال نہیں اور یہ سنت ہے جسے لازم پکڑنا ہم پسند کرتے ہیں اور ترک کرنا مکروہ سمجھتے ہیں، واجب نہیں۔ اس حدیث میں دلیل ہے کہ قربانی واجب نہیں۔ پھر اگر کہا جائے کہ وہ سنت (حدیث) کہاں ہے جو اس کے واجب نہ ہونے کی دلیل ہے؟ ( ہماری طرف سے) کہا گیا: ہمیں سفیان بن عیینہ نے حدیث بیان کی ، انھوں نے عبدالرحمن ابن حمید عن سعید بن المسیب عن ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب عشرہ داخل ہو جائے اور تم میں سے کوئی شخص قربانی کا ارادہ کرے تو نہ اپنے بال کاٹے اور نہ ناخن کاٹے ۔ (شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ) اس حدیث میں دلیل ہے کہ قربانی واجب نہیں۔ الخ
(السنن الکبری للبیہقی 363/9 وسندہ صحیح)
ام سلمہ کی یہ حدیث پیش کر کے امام ابن المنذر نے لکھا ہے:
فالضحية لا تجب فرضا، استدلالا بهذا الحديث إذ لو كان فرضا لم يجعل ذلك إلى إرادة المضحى
پس اس حدیث سے استدلال کرتے ہوئے قربانی واجب فرض نہیں، کیونکہ اگر یہ فرض ہوتی تو اسے قربانی کرنے والے کے ارادے پر موقوف نہ کیا جاتا۔
(الاقناع لابن المنذر 376/1)
❀ قاضی ابوبکر ابن العربی المالکی نے کہا:
فعلق الاضحية بالارادة والواجب لا يتوقف عليها، بل هو فرض أراد المكلف أو لم يرد
پس آپ نے قربانی کو ارادے پر معلق کیا اور واجب کے بارے میں توقف نہیں کیا جاتا بلکہ وہ فرض ہے مکلف چاہے یا نہ چاہے۔
(احکام القرآن 2/1989، سورۃ الکوثر)
نیز حافظ ابن حزم نے اس حدیث کے بارے میں لکھا ہے:
برهان بأن الأضحية مردودة إلى ارادة المسلم و ما كان هكذا فليس فرضا
دلیل ہے کہ قربانی کو مسلمان کے ارادے پر موقوف کیا گیا ہے اور جس کی یہ حالت ہو وہ فرض نہیں ہوتی۔
(المحلی 7/355 مسئلہ 973)
آٹھویں صدی کے ابن الترکمانی (م 745ھ) نے امام شافعی پر اعتراض کرتے ہوئے دو روایتیں پیش کی ہیں:
اول: من أراد الجمعة فليغتسل (الجوهر التقى 363/9)
ان الفاظ سے یہ روایت محل نظر ہے لیکن صحیح مسلم میں ہے:
إذا أراد أحدكم أن يأتى الجمعة فليغتسل
جب تم میں سے کوئی شخص جمعہ جانے کے لئے ارادہ کرے تو غسل کرلے۔ (844، دار السلام: 1951)
یہاں ارادہ جمعہ پڑھنے یا نہ پڑھنے پر موقوف نہیں بلکہ جمعہ پڑھنے کے لئے روانہ ہونے اور غسل کرنے پر موقوف ہے، جیسا کہ ماوردی نے کہا:
قلنا: إنما علق بالارادة الغسل دون الجمعة والغسل ليس بواجب فكذلك الاضحية
ہم نے کہا: یہاں ارادہ جمعے پر نہیں بلکہ غسل پر معلق ہے اور غسل واجب نہیں، پس اسی طرح قربانی بھی واجب نہیں۔ (الحاوی الکبر للماوردی ج 5 ص 161)
دوم: من أراد الحج فليتعجل (الجوهر التقى 263/9)
یہاں ارادہ حج کرنے یا نہ کرنے کے ساتھ نہیں بلکہ تجیل یا تاخیر کے ساتھ مشروط ہے۔
❀ صوفی عبدالرؤوف المناوی (م 1031ھ) نے لکھا ہے:
وهذا أمر ندبي لأن تاخير الحج عن وقت وجوبه سائغ كما علم من دليل آخر
اور یہ حکم استحبابی ہے کیونکہ وقت وجوب سے حج کی تاخیر جائز ہے جیسا کہ دوسری دلیل سے ثابت ہے۔
(فیض القدیر شرح الجامع الصغير /63 تحت ح 8384)
یہ دونوں اعتراضات ختم ہوئے اور حدیث مسلم سے استدلال باقی رہا۔ والحمد للہ
ابو سریجہ (حذیفہ بن اسید رضی اللہ عنہ) سے روایت ہے کہ أن أبا بكر و عمر رضی اللہ عنہما كانا لا يضحيان بے شک ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما دونوں قربانی نہیں کرتے تھے۔
(شرح معانی الآثار 74/4 باب من تحریوم النحر قبل أن ينحر الإمام، وسندہ حسن)
ایک روایت میں آیا ہے کہ ابو سریحہ نے فرمایا: میں نے ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما کو دیکھا وما يضحيان اور وہ دونوں قربانی نہیں کرتے تھے۔
(شرح معانی الآثار طبع سعید کمپنی کراچی ج 2 ص 329، وسندہ صحیح، مترجم اردو ج 3 ص 178-373)
تنبیہ: معانی الآثار میں کاتب کی غلطی سے ابو سریحہ کے بجائے ابو شریحہ لکھا ہوا ہے اور مکتبہ شاملہ میں صحیح حوالہ یعنی ابو ریحہ بھی موجود ہے۔
فائدہ: یہ دونوں روایتیں بطور استدلال پیش کر کے طحاوی (حنفی) نے یہ مسئلہ ثابت کیا ہے کہ عوام کے لئے نماز عید کے بعد اور خلیفہ کے قربانی کرنے سے پہلے بھی قربانی کر لینا جائز ہے۔
معرفة السنن والآثار للبیہقی کی روایت ہے کہ ابوسریحہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا:
ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما دونوں میرے پڑوسی تھے، پس وہ دونوں قربانی نہیں کرتے تھے۔
(معرفة السنن والآثار 7/198، وسندہ حسن، مسند الفاروق لابن کثیر 332/7 وقال: وهذا إسناد صحیح)
بیہقی کی السنن الکبری (265/9) میں بھی اس مفہوم کی ایک روایت ہے جس کی سند میں سفیان بن سعید الثوری ہیں اور سند عن سے ہے۔ یہ روایت حنفیہ، دیوبندیہ اور بریلویہ تینوں کے اصول سے بالکل صحیح ہے اور اہل حدیث کے اصول سے سندہ ضعیف لیکن صحیح لغیرہ ہے۔
اس روایت کی دوسری سند میں اسماعیل بن ابی خالد مدلس ہیں اور روایت عن سے ہے۔ امام دار قطنی نے اس روایت کو محفوظ (صحیح) قرار دیا اور فرمایا کہ یہ اسماعیل بن ابی خالد نے شعبی سے سنی ہے۔ (کتاب العلل 286/1 سوال 76)
نیز دیکھئے الامالی للمحاملی (ح 335 دوسرا نسخہ چوتھا حصہ: 79) احکام القرآن لابن العربی (4/1989) لمحیم الکبر لطبرانی (182/3 ح 13058) مجمع الزوائد 3/18 اور ارواء الغلیل (355/3 ح 1139)
بعض لوگوں کا یہ کہنا کہ ان دونوں کے پاس نصاب زکوۃ یا مال نہیں تھا، بالکل بے دلیل ہے، جس کی تردید اس سے بھی ہوتی ہے کہ وہ دونوں اس وجہ سے قربانی نہیں کرتے تھے تا کہ لوگ اسے سنت واجبہ نہ سمجھ لیں، جیسا کہ اس روایت کی بعض سندوں میں آیا ہے۔ اب چند وہ روایتیں پیش خدمت ہیں جو شافعی، دیوبندی اور بریلوی تینوں کے اصول سے صحیح یا حسن ہیں:
➊ ابو مسعود الانصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے قربانی کو چھوڑ دینے کا ارادہ کیا اور میرے پاس تم سے زیادہ مال موجود ہے، اس خوف کی وجہ سے کہ لوگ اسے کہیں واجب ضروری نہ سمجھ لیں۔ (السنن الکبری للبیہقی 265/9)
اس روایت کی سند میں سفیان ثوری مدلس ہیں اور روایت عن سے ہے (عن منصور و واصل) باقی سند صحیح ہے، لہذا حنفیہ، بریلوی اور دیوبندیہ کے اصول سے یہ روایت صحیح ہے۔
➋ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ما أبالي لو ضحيت بديك مجھے کوئی پروا نہیں اگرچہ میں مرغ کی قربانی کر دوں۔ (المؤتلف والمختلف للدارقطنی 1031/2)
اس روایت کی سند میں سفیان ثوری مدلس ہیں اور روایت عن سے ہے، باقی ساری سند صحیح ہے، لہذا حنفی، شافعی، دیوبندی اور بریلوی تینوں فرقوں کے اصول سے یہ روایت صحیح ہے۔
تنبیہ: یہ روایت مصنف عبدالرزاق (8156، 384/4) میں بھی موجود ہے، بلکہ المحلی لابن حزم (358/7 مسئلہ 973) میں بحوالہ سعید بن منصور سفیان ثوری کی متابعت (ابوالاحوص ثقہ) بھی مذکور ہے۔ واللہ اعلم
➌ ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انھوں نے ابوالخصیب سے کہا: شاید تم اسے (قربانی کو) حتمی (ضروری، واجب) سمجھتے ہو؟ ابوالخصیب نے کہا: نہیں! لیکن وہ اجر ہے، خیر ہے اور سنت ہے۔ تو عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: جی ہاں! (السنن الکبری للبیہقی 266/9)
اس روایت کی سند میں بنو قیس بن ثعلبہ کا ایک آدمی ابوالخصیب (زیاد بن عبدالرحمن القیسی) ہیں، جنھیں ابن حبان نے ثقہ قرار دیا اور امام بخاری نے تعلیقات میں ان سے روایت لی۔ (قبل ح 5545)
بوصیری نے ان کی بیان کردہ روایت کے بارے میں کہا: هذا إسناد حسن (اتحاف الخیرة المبرة: 325/5 ح 4768) [معاذ]
حافظ ابن حجر نے ان کی بیان کردہ اس روایت کے بارے میں فرمایا: بسند جيد إلى ابن عمر یعنی ابن عمر تک اچھی سند کے ساتھ۔ (فتح الباری 3/10 کتاب الاضاحی باب1) اس سے ثابت ہوا کہ زیاد بن عبدالرحمن صدوق راوی ہیں، لہذا یہ سند حسن ہے۔ عبدالعزیز بخاری (حنفی) نے لکھا ہے: وعندنا خبر المجهول من القرون الثلاثة مقبول ہمارے نزدیک قرون ثلاثہ (خیر القرون) کے مجہول کی روایت مقبول ہے۔ (کشف الاسرار 386/23)
نیز دیکھئے حسامی مع النامی (143/1-144) اور مسلم الثبوت (ص 191)
آخر میں عرض ہے کہ قربانی کا وجوب صراحتاً کسی آیت یا حدیث سے ثابت نہیں اور نہ کسی صحابی یا تابعی نے اسے واجب قرار دیا ہے، بلکہ اس مضمون میں سیدنا ابوبکر اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہما کے عمل سے اس کا عدم وجوب ثابت ہے، لہذا قربانی سنت مؤکدہ ہے اور اسے ترک نہیں کرنا چاہیے۔
قربانی کا سنت یا مستحب ہونا امام مالک، امام شافعی، امام احمد بن حنبل، امام بخاری اور جمہور علماء سے صراحتاً ثابت ہے، جبکہ اس کا واجب ہونا نہ کسی صحابی سے ثابت ہے، نہ کسی تابعی سے ثابت ہے اور نہ امام ابو حنیفہ سے ثابت ہے۔ وما علينا إلا البلاغ
مقالات 283/9
(10/ ذوالحجہ 1433ھ بمطابق 27 اکتوبر 2012ء)