مچھلی اور ٹڈی مردار کے حکم سے مستثنیٰ ہیں :
اسلامی شریعت نے مچھلی جیسے آبی جانوروں کو حرام کردہ مردار سے مستثنیٰ کر دیا ہے چنانچہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سمندر کے پانی کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
هو الطهور ماؤه ، والحل ميتته
”سمندر کا پانی پاک ہے اور اس کا مردار حلال ہے۔“
مسند احمد 361/2، ابو داود كتاب الطهارة باب الوضوء بماء البحر ح 83، ترمذی كتاب الطهارة: باب ماجاء فى ماء البحر انه ظهور ح 69، نسائي كتاب الطهارة: باب الوضؤ بماء البحر ح 333، ابن ماجه كتاب الطهارة باب الوضوء بماء البحر ح 386
اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :
أُحِلَّ لَكُمْ صَيْدُ الْبَحْرِ وَطَعَامُهُ
”تمہارے لیے سمندری شکار اور اس کا کھانا حلال کر دیا گیا ہے۔“
سورۃ المائدہ : 96
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس کی تفسیر کرتے ہوئے فرمایا ہے : سمندر کے شکار کا مطلب ہے کہ جو سمندر سے شکار کے ذریعہ حاصل کیا جائے۔ اور سمندر کے کھانے سے مراد یہ ہے کہ جس کو سمندر خود پھینک دے۔
السنن الكبرى للبيهقي 254/9
اسی کے مثل سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا قول ہے کہ سمندر کے کھانے سے مراد سمندر کا مردار ہے۔
السنن الكبرى للبيهقي 255/9
صحیحین میں سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے:
أن النبى صلى الله عليه وسلم بعث سرية من أصحابه فوجدوا حوتا كبيرا قد جزر عنه البحر أى ميتا فأكلوا منه بضعة وعشرين يوما ثم قدموا إلى المدينة فأخبروا الرسول فقال كلوا رزقا أخرجه الله لكم أطعمونا إن كان معكم فأتاه بعضهم بشيء فأكله
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کا ایک دستہ کسی مہم پر روانہ کیا، انہیں ایک بڑی مچھلی ملی جسے سمندر نے پھینک دیا تھا۔ یعنی وہ مردار تھی۔ اسے وہ بیس سے زیادہ دنوں تک کھاتے رہے پھر جب مدینہ لوٹے تو انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس سے مطلع کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اللہ نے تمہارے لیے جو رزق نکالا ہے اسے کھاؤ۔ اگر اس مچھلی میں سے تمہارے پاس کچھ موجود ہے تو ہمیں بھی کھلاؤ۔ بعض حضرات نے اس مچھلی کے کچھ اجزاء آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کیے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے تناول فرمایا۔
بخاري كتاب الشركة باب الشركة فى الطعام ح 2483، مسلم كتاب الصيد باب اباحة ميتات البحر ح 1935
سمندر کے مردار مچھلی اور ٹڈی کو بغیر ذبح کیے کھانے کی اجازت دی ہے کیونکہ ان کو ذبح کرنا ممکن ہی نہیں۔ سیدنا ابن ابی اوفی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :
غزونا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم سبع غزوات نأكل معه الجراد
ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سات غزوات میں شریک رہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ٹڈیاں کھاتے رہے۔
بخاري، كتاب الذبائح باب اكل الجراد ح 5495، مسلم، كتاب الصيد: باب اباحة الجراد ح 1952
مردار کی کھال ہڈی اور بال سے فائدہ اٹھانا :
مردار کے حرام ہونے کا مطلب اس کا کھانا حرام ہے۔ اس کی کھال، سینگ، ہڈی یا بال سے فائدہ اٹھانے میں کوئی حرج نہیں، بلکہ یہ مطلوب ہے کیونکہ ایک قابل استفادہ چیز کو ضائع کرنا جائز نہیں۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے :
تصدق على مولاة لميمونة أم المؤمنين بشاة فماتت فمر بها رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال هلا أخذتم إهابها فدبغتموه فانتفعتم به فقالوا إنها ميتة فقال إنما حرم أكلها
”ام المؤمنین سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کی لونڈی کو صدقہ میں بکری ملی جو مر گئی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر اس طرف سے ہوا تو فرمایا : اس کی کھال تم نے کیوں نہیں لی کہ اس کی دباغت کر کے اپنے کام میں لاتے؟ لوگوں نے کہا : وہ مردار ہے، فرمایا : مردار کا بس کھانا حرام کیا گیا ہے۔“
بخاري، كتاب الزكوة باب الصدقة على موالى ازواج النبي ح 1492، مسلم، كتاب الحيض باب طهارة جلود الميتة بالدباغ ح 363 واللفظ له
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مردار کی کھال کو پاک کرنے کا طریقہ بتلا دیا ہے یعنی دباغت کرنا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
دباغ الأديم ذكاته
”کھال کو دباغت کے ذریعہ پاک کرنا جانور کو ذبح کرنے کے مترادف ہے۔“
مسند احمد 476/3، ابوداود کتاب اللباس: باب فى اهب الميتة ح 4125، نسائي كتاب الفرع والعتيرة: باب جلود الميتة ح 4248، سنن الدارقطني 45/1، البهقي 21/1 واللفظ لهما
ایک اور روایت میں ہے :
دباغه يذهب بخبثه
”دباغت نجاست کو زائل کرتی ہے۔“
مستدرك حاكم 161/1، مسند احمد 314/1، قال الشيخ الالباني رحمہ اللہ : ضعيف بهذا اللفظ، غاية المرام ح 27
اور صحیح مسلم وغیرہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے :
أيما إهاب دبغ فقد طهر
”جس کھال کی بھی دباغت کی گئی وہ پاک ہو گئی۔“
مسلم كتاب الحيض : باب طهارة جلود الميئة بالدباغ 366 ، ترمذی كتاب اللباس : باب ما جاء في جلود الميتة اذا دبغت ح 1768 واللفظ له
یہ حکم عام ہے جس کا اطلاق تمام کھالوں پر ہوتا ہے خواہ وہ کتے کی ہو یا خنزیر کی۔ یہ اہل ظاہر کا قول ہے امام ابو یوسف سے بھی یہی منقول ہے۔ اور امام شوکانی اسے ترجیح دیتے ہیں۔
نيل الأوطار 86/78
سیدہ ام المؤمنین سودہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں :
ہماری ایک بکری مر گئی تو ہم نے اس کی کھال کی دباغت کی اس کے بعد ہم برابر اس میں نبیذ (کھجور کا شربت) بناتے رہے، یہاں تک کہ وہ پرانا مشکیزہ بن گئی۔
بخارى كتاب الأيمان والنذور ، باب اذا حلف ان لا يشرب نبيذ ح 6686
مجبوری کی حالت مستثنیٰ ہے :
مذکورہ بالا تمام محرمات اختیاری حالت سے تعلق رکھتے ہیں۔ حالت مجبوری کے احکام اس سے مختلف ہیں، جس کا ذکر اس سے پہلے ہم کر چکے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :
وَقَدْ فَصَّلَ لَكُم مَّا حَرَّمَ عَلَيْكُمُ إِلَّا مَا اضْطُرِرْتُمْ إِلَيْهِ
”اس نے وہ چیزیں تفصیل سے بیان کر دی ہیں جو تم پر حرام کر دی ہیں، اس استثناء کے ساتھ جس کے لیے تم مجبور ہو جاؤ۔“
سورۃ الانعام : 119
اسی طرح مردار اور خون کی حرمت بیان کرنے کے بعد فرمایا :
فَمَنِ اضْطُرَّ غَيْرَ بَاغٍ وَلَا عَادٍ فَإِنَّ رَبَّكَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ
”تو جو شخص مجبور ہو جائے اور وہ اس کا خواہشمند اور حد سے تجاوز کرنے والا نہ ہو تو اس پر کچھ گناہ نہیں۔ بیشک اللہ بخشنے والا اور رحم فرمانے والا ہے۔“
سورۃ الانعام : 145
جس مجبوری پر سب کا اتفاق ہے وہ کھانے کی ایسی اضطراری کیفیت کا نام ہے کہ بھوک کاٹ رہی ہو۔ بعض فقہاء نے اس کی تحدید اس طرح کی ہے کہ مجبوری کی حالت میں ایک شب و روز گزر جائے اور سوائے حرام غذا کے کوئی چیز کھانے کے لیے نہ ملے۔ ایسی صورت میں مجبور شخص حرام غذا اس حد تک کھا سکتا ہے کہ مجبوری ختم ہو جائے اور وہ ہلاکت سے بچ جائے۔
امام مالک کہتے ہیں کہ اس کی حد یہ ہے کہ پیٹ بھر کے کھا لے اور ضرورت کے بقدر سفر کے لیے ساتھ لے لے یہاں تک کہ کوئی جائز چیز کھانے کے لیے مل جائے۔ دیگر فقہاء کا قول یہ ہے کہ حرام میں سے سد رمق سے زیادہ نہ کھائے اور غالباً اللہ کے ارشاد غَيْرَ بَاغٍ وَلَا عَادٍ سے یہی مترشح ہوتا ہے۔ بھوک کی مجبوری کا حقیقتاً مجبوری ہونا قرآن کی نص سے واضح ہے :
فَمَنِ اضْطُرَّ فِي مَخْمَصَةٍ غَيْرَ مُتَجَانِفٍ لِّإِثْمٍ فَإِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ
”پس جو شخص بھوک سے مجبور ہو کر بغیر گناہ کی طرف مائل ہوئے، کوئی حرام چیز کھا لے تو بے شک اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔“
سورۃ المائدہ : 3
علاج کی مجبوری :
رہی علاج کی مجبوری یعنی شفاء حاصل کرنے کے لیے کسی حرام چیز کا کھانا ناگزیر ہو جائے تو فقہاء کا اس مسئلہ میں اختلاف ہے۔ ایک گروہ نے اس مجبوری کا اعتبار نہیں کیا ہے۔ ان کا استدلال اس حدیث سے ہے :
إن الله لم يجعل شفاءكم فيما حرم عليكم
”اللہ نے اپنی حرام کردہ چیزوں میں تمہارے لیے شفاء نہیں رکھی ہے۔“
بخاري كتاب الأشربة، باب شراب الحلواء والعسل تعليقاً قبل ح 5614، ووصله أحمد في كتاب الأشربة ح 130، والحاكم 4/218
لیکن دوسرے گروہ نے علاج کی مجبوری کا لحاظ کیا اور علاج کو غذا کی طرح ضروری قرار دیا ہے۔ کیونکہ دونوں ہی چیزیں (مصلحت) زندگی کے لیے ضروری ہیں۔ اس گروہ کا استدلال یہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ اور زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ کو خارش کی وجہ سے ریشم پہننے کی اجازت دی تھی۔ حالانکہ ریشم پہنا ممنوع ہے اور اس پر وعید آئی ہے۔
بخاري، كتاب الجهاد، باب الحرير في الحرب، ح 2919، 2920 ، مسلم، كتاب اللباس، باب إباحة لبس الحرير للرجل، ح 2076
غالباً یہ قول اسلام کی اسپرٹ (روح) سے زیادہ مطابقت رکھتا ہے۔ اسلام نے تمام تشریعی اُمور میں انسانی زندگی کی محافظت کا پورا پورا لحاظ کیا ہے۔ لیکن جو دوا حرام چیز سے بنائی گئی ہو اس کو استعمال کرنے کی اجازت چند شرائط کے ساتھ مشروط ہے :
◈ اس کو استعمال نہ کرنے کی صورت میں صحت کو واقعی خطرہ لاحق ہو۔
◈ کوئی ایسی جائز دوا نہ مل سکے جو اس دوا کا بدل ہو یا جو اس سے بے نیاز کر دے۔
◈ یہ دوا کسی مسلمان طبیب نے تجویز کی ہو جو دینی لحاظ سے بھی قابل اعتماد ہو اور اپنی معلومات اور تجربہ کے لحاظ سے بھی۔
ہم اس پر اپنی معلومات اور قابل اعتماد ڈاکٹروں کے بیانات کی روشنی میں اس بات کا اضافہ کرنا چاہتے ہیں کہ محرمات میں سے کسی چیز کو علاج کے لیے استعمال کرنا ناگزیر ہو ایسی کوئی واقعی طبی ضرورت موجود نہیں ہے۔ پھر بھی اصولی طور پر ایسی ضرورت کو ہم احتیاطاً تسلیم کر لیتے ہیں۔ کیونکہ ممکن ہے کوئی مسلمان کسی ایسی جگہ پر ہو جہاں اسے محرمات کے سوا کوئی دوسری چیز نہ مل سکے۔
فرد کی مجبوری اس صورت میں باقی نہیں رہتی جب معاشرہ اس کی ضرورت پوری کر دے :
آدمی کے پاس اگر ذاتی طور سے خورد و نوش کی اشیاء موجود نہیں ہیں تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ ہر طرح مجبور ہو گیا ہے جبکہ معاشرے کے دیگر افراد کے پاس خواہ وہ مسلم ہوں یا ذمی، کھانے پینے کی چیزیں فاضل مقدار میں موجود ہوں۔ ایسی صورت میں اس مجبور شخص کی ضرورت ان فاضل چیزوں سے پوری کی جا سکتی ہے اور اسے حرام چیزیں کھانے سے بچایا جا سکتا ہے۔ اسلامی معاشرہ کی تکمیل در حقیقت ایک دوسرے سے مل کر ہوتی ہے اور وہ باہم ایک دوسرے کے کفیل ہوتے ہیں۔ گویا اسلامی معاشرہ کے افراد جسد واحد کے اجزاء ہیں۔ یا یوں کہیے کہ ایک سیسہ پلائی ہوئی دیوار ہیں جس کے اجزاء ایک دوسرے کو مستحکم کرتے ہیں۔
اجتماعی کفالت کے بارے میں امام ابن حزم رحمہ اللہ کی یہ گراں قدر رائے فقہائے اسلام کے لیے مشعل راہ ہے : وہ فرماتے ہیں کہ ایک مسلمان کے لیے حالت اضطرار میں مردار یا سور کا گوشت کھانا جائز نہیں ہے جبکہ اس کے مسلم یا ذمی ساتھی کے پاس خورد و نوش کی فاضل اشیاء موجود ہوں، کیونکہ جس کے پاس کھانے کی فاضل چیزیں موجود ہوں اس پر بھوکے کو کھانا کھلانا فرض ہے۔ ایسی صورت میں یہ مضطر شخص مردار یا خنزیر کا گوشت کھانے کے لیے مجبور نہیں ہے۔ اس کو اپنے ساتھی سے کھانے پینے کی فاضل چیزیں حاصل کرنے کا حق پہنچتا ہے۔ اس غرض کے لیے اگر اسے لڑنا پڑے اور اس میں وہ مارا جائے تو قاتل کے ذمہ قصاص ہوگا۔ اور اگر مجبوراً روکنے والے شخص کو قتل کرنا پڑا تو اس مقتول پر اللہ کی لعنت ہے کیونکہ اس مقتول نے ایک مجبور شخص کو اپنا حق حاصل کرنے سے روکا، بنا بریں اس کا شمار باغی گروہ میں ہوگا جس سے اللہ تعالیٰ نے قتال کا حکم دیا ہے :
فَإِنْ بَغَتْ إِحْدَاهُمَا عَلَى الْأُخْرَى فَقَاتِلُوا الَّتِي تَبْغِي حَتَّى تَفِيءَ إِلَى أَمْرِ اللَّهِ
”پھر اگر ان میں سے ایک گروہ دوسرے گروہ پر زیادتی کرے تو زیادتی کرنے والے سے لڑو۔ یہاں تک کہ وہ اللہ کے حکم کی طرف پلٹ آئے۔“
(سورۃ الحجرات : 9)
دراصل اپنے بھائی کو روکنے والا شخص باغی ہے۔ اسی بناء پر سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے مانعینِ زکوٰۃ سے جہاد کیا تھا۔
(المحلى لابن حزم، ج 6، ص 159)