رویت ہلال کے اہم مسائل اور شرعی احکام صحیح احادیث کی روشنی میں

فونٹ سائز:
یہ اقتباس کتاب الصوم سے ماخوذ ہے جسے شیخ غلام مصطفٰی ظہیر امن پوری حفظہ اللہ نے مرتب کیا ہے۔
مضمون کے اہم نکات

رویت ہلال

سوال:

کیا رویت ہلال میں اختلاف المطالع معتبر ہے؟

جواب:

اختلاف مطالع کی صحیح صورت حال سمجھنے کے لیے چند مقدمات کا لحاظ ضروری ہے۔
➊ زمین سے چاند کا فاصلہ سورج کی نسبت کم ہے۔
➋ چاند کی روشنی سورج سے مستفاد ہے۔
❀ مشہور مقولہ ہے:
نور القمر مستفاد من نور الشمس.
”چاند کی روشنی سورج سے مستفاد ہے۔“
لہذا چاند کا وہی حصہ روشن ہو گا جو سورج کے سامنے ہو گا۔ مہینے کی آخری تاریخوں مثلاً 27، 28 یا 29 کو چاند نظر نہیں آتا، وجہ یہ ہوتی ہے کہ ان دنوں چاند سورج کے قریب ہوتا ہے اور اس کا منور حصہ سورج کی اور غیر منور حصہ زمین کی جانب ہوتا ہے۔
➌ چاند روزانہ ایک منزل مشرق کی طرف سے سورج سے پیچھے ہٹتا ہے۔
➍ چاند تب نظر آتا ہے جب سورج سے ایک منزل (12 درجات سے کچھ زائد) بعید ہو۔
➎ مشرقی ممالک میں اگر چاند نظر آ جاتا ہے تو مغربی ممالک میں یقیناً نظر آ جائے گا۔ عارضی مانع موجود ہو تو ممکن ہے نظر نہ آئے، مثلاً دھند، غبار یا عرض بلد کا بُعد وغیرہ۔
اب ذرا تفصیل سے اس پر غور فرمائیے، زمین کی قدرتی ساخت ایسی ہے کہ مغربی ممالک میں چاند اور سورج مشرقی ممالک سے پہلے غروب ہو جاتے ہیں، لہذا مشرقی ممالک میں چاند جب سورج سے ایک منزل پیچھے ہٹے گا اور مشرقی ممالک میں نظر آئے گا تو لازماً مغربی ممالک میں بھی نظر آ جائے گا، بلکہ مغربی ممالک کا چاند مشرقی ممالک سے زیادہ روشن اور واضح ہو گا، کیونکہ مغربی ممالک میں سورج ذرا تاخیر سے غروب ہو گا، اتنے میں چاند مزید سورج سے پیچھے ہٹ چکا ہو گا اور جتنا ایک منزل (12 درجات) سے پیچھے ہٹتا جائے گا، رویت حتمی ہوتی جائے گی۔
البتہ مغربی ممالک میں چاند اگر نظر آ جاتا ہے تو ضروری نہیں کہ مشرقی ممالک میں بھی نظر آئے، بلکہ بعض دفعہ ناممکن ہو جاتا ہے، خصوصاً ان ممالک میں جو مغربی ممالک سے ایک منزل (12 درجات) کے فاصلے پر واقع ہیں، چاند کے لیے ممکن نہیں کہ وہ ایک منزل پیچھے ہٹ جائے اور ان مشرقی ممالک میں بھی نظر آ جائے جو مقام رؤیت سے ایک منزل (12 درجات) دور ہیں۔
مناسب ہے کہ رویت ہلال میں قرب و بعد کے لیے چاند کی ایک منزل (12 درجات) ہی کو معیار تسلیم کیا جائے۔ یاد رہے کہ ہر دو درجات کے درمیان 69 میل کا فاصلہ ہوتا ہے، اس لحاظ سے بارہ درجات کی مسافت 828 میل کے لگ بھگ ہو گی۔
اب صورت حال مزید نکھر کر سامنے آ گئی ہے، مسافت مطلع کے واحد ہونے کا معیار چونکہ 828 میل ہے، اس لیے ایک مغربی ملک میں اگر چاند نظر آتا ہے تو اس کے مشرق میں 828 میل کے اندر اندر جتنے ملک آئیں گے، ان میں اس مغربی ملک کی رؤیت کا اعتبار ہو گا، جو اس مسافت سے زیادہ دور ہوں گے ان کا مطلع البتہ مختلف ہے۔
لیکن مشرقی ممالک میں اگر چاند نظر آ جاتا ہے تو وہ تمام مغربی ممالک کے لیے قابل اعتبار ہے، مطلع ایک ہو یا مختلف کیونکہ مشرق کا مطلع جتنا مختلف ہو گا، وہاں چاند اتنا ہی زیادہ روشن اور اونچا دکھائی دے گا۔
خط استواء سے شمالاً جنوباً رہنے والوں کے لیے رؤیت کا معیار وہی ہو گا جو خط استوا پر رہنے والوں کے لیے ہو گا، مثلاً خط استواء پر طول بلدہ 70 پر رہنے والوں کے لیے رویت کا جو حکم ہو گا وہی طول بلدہ سے شمالاً جنوباً رہنے والوں کا حکم ہو گا، خواہ رہنے والے قطب شمالی اور قطب جنوبی کے قریب ہی کیوں نہ رہتے ہوں۔ یہاں پر موسم سرما میں چاند کے نظر آنے کا امکان بھی کم ہے۔ واللہ اعلم بالصواب!
(افادات از پیر محمد یعقوب قریشی نور اللہ مرقدہ)
اس مسئلہ میں مولانا عبد الرحمن کیلانی رحمہ اللہ کی تصنیف لطیف ”اسلام کا نظام فلکیات“ اور اہل حدیث ہندی عالم مولانا ابوالعاص وحیدی کی کتاب مستطاب ’’رؤیت ہلال اور اختلاف مطالع‘‘ کا مطالعہ مفید رہے گا۔

سوال:

اگر رویت ہلال کی خبر دن بارہ بجے موصول ہو تو کیا کرے؟

جواب:

رؤیت ہلال کی معتمد اور معتبر خبر جب موصول ہو تو فوراً روزہ ختم کر دے، خواہ مغرب سے کچھ پہلے معلوم ہو۔

سوال:

رؤیت ہلال کے لیے کتنے آدمیوں کی گواہی ضروری ہے؟

جواب:

ایک ثقہ عادل مسلمان بھی گواہی دے دے تو اس کی گواہی مانی جائے گی۔ یاد رہے کہ عید اور روزہ کی گواہی ایک جیسی ہے۔
❀ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں:
تراني الناس الهلال فأخبرت رسول الله صلى الله عليه وسلم أني رأيته فصامه وأمر الناس بصيامه
”لوگوں نے ہلال دیکھا تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر دی کہ میں نے چاند دیکھا ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (رمضان کا) روزہ رکھا اور لوگوں کو بھی حکم دیا۔“
(سنن أبي داود: 2342، سنن الدارقطني: 2156، وسنده صحيح)
اس حدیث کو امام ابن حبان رحمہ اللہ (3447) نے صحیح کہا ہے، امام حاکم رحمہ اللہ (1/324) نے امام مسلم کی شرط پر صحیح کہا ہے، حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے موافقت کی ہے۔
❀ حافظ خطابی رحمہ اللہ (388ھ) فرماتے ہیں:
”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا روزے کے معاملہ میں صرف ایک شخص کی بات کو قبول کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ اخبار آحاد پر عمل کرنا واجب ہے، نیز خبر دینے والا صرف ایک ہی شخص ہو یا لوگوں کی ایک جماعت، اس میں کوئی فرق نہیں پڑتا۔“
(معالم السنن: 2/102)
❀ ابو عمیر بن انس رضی اللہ عنہ کے چچا جو صحابی رسول ہیں، بیان کرتے ہیں:
”ہمیں شوال کا چاند نظر نہ آیا تو ہم نے صبح کو روزہ رکھ لیا، پھر پچھلے پہر ایک قافلہ آیا اور انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر گواہی دی کہ انہوں نے کل چاند دیکھا ہے، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اس دن روزہ افطار کرنے اور اگلے دن عید گاہ جانے کا حکم دیا۔“
(مسند الإمام أحمد: 5/86، سنن أبي داود: 1157، سنن النسائي: 1558، سنن ابن ماجه: 1653، وسنده صحيح)
اس حدیث کو امام ابن الجارود رحمہ اللہ (266) نے صحیح قرار دیا ہے۔

سوال:

سال بھر کے لیے جو کیلنڈر مرتب کیا جاتا ہے، اس کے مطابق روزے رکھنا یا عیدیں منانا جائز ہے؟

جواب:

اس کیلنڈر کے مطابق روزے یا عید کرنا جائز نہیں۔ روزے یا عید کے لیے چاند دیکھنا ضروری ہے۔ جب تک رؤیت بصری حاصل نہ ہو، روزے رکھنا یا عید منانا درست نہیں۔ یاد رہے کہ چاند کی تخلیق کا اعتبار نہ ہو گا، بلکہ رؤیت کا اعتبار ہو گا۔

سوال:

ہلال عید میں مستور الحال کی شہادت کا کیا حکم ہے؟

جواب:

مستور الحال کی شہادت قبول نہیں۔

سوال:

کیا گواہ کا عادل ہونا ضروری ہے؟

جواب:

ضروری ہے۔

سوال:

اگر تیس رمضان کو بھی چاند نظر نہ آئے تو کیا کرے؟

جواب:

اگلے دن عید کی جائے۔ چاند دیکھنے کا جو حکم ہے وہ انتیس تاریخ کو ہے، جب تیس دن پہلے ہی مکمل ہیں تو اس کے بعد چاند کی رویت ضروری نہیں۔
❀ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
”چاند دیکھ کر روزے رکھیں اور چاند دیکھ کر روزے چھوڑیں، پھر اگر مطلع ابر آلود ہو تو تم تیس دن گن کر پورے کر لیں۔“
(صحيح البخاري: 1909، صحيح مسلم: 1081)
❀ عبداللہ بن ابی قیس رحمہ اللہ کہتے ہیں:
مجھے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس بھیجا گیا کہ میں ان سے چاند نظر نہ آنے کی صورت میں رمضان کا روزہ رکھنے اور نماز عصر کے بعد (نفل) نماز پڑھنے کے متعلق پوچھوں۔ چنانچہ میں نے ان کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا: فلاں آپ کو سلام کہتا ہے، انہوں نے مجھے آپ کے پاس نماز عصر کے بعد (نفل) نماز پڑھنے، روزوں میں وصال کرنے اور ماہ رمضان میں روزوں کے متعلق پوچھنے کے لیے بھیجا ہے۔ انہوں نے حدیث کا کچھ حصہ بیان کیا، کہتے ہیں: سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا:”آپ باقی مہینوں کے ایام اس قدر نہیں گنا کرتے تھے جس قدر شعبان کے ایام گنا کرتے تھے، پھر رمضان کا چاند دیکھ کر روزہ رکھتے، اگر چاند نظر نہ آتا تو (شعبان کے) تیس دن شمار کرتے، پھر روزہ رکھتے۔“
(مسند الإمام أحمد: 6/149، سنن أبي داود: 2325، وسنده صحيح)
اس حدیث کو امام ابن الجارود رحمہ اللہ (377)، امام ابن خزیمہ رحمہ اللہ (1910) اور امام ابن حبان رحمہ اللہ (3444) نے صحیح کہا ہے، امام حاکم رحمہ اللہ (1/423) نے بخاری اور مسلم کی شرط پر صحیح کہا ہے، حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے ان کی موافقت کی ہے۔ امام دارقطنی رحمہ اللہ نے (السنن: 2/157) اس کی سند کو حسن صحیح قرار دیا ہے۔

سوال:

ایک علاقے میں مشہور ہو گیا کہ چاند نظر آ گیا ہے، مگر کوئی عادل گواہ نہیں مل رہا کہ جس نے خود چاند دیکھا ہو تو کیا حکم ہے؟

جواب:

جب تک کوئی ثقہ عادل گواہ گواہی نہ دے دے، روزہ یا عید نہ کی جائے گی، خواہ بات کتنی بھی مشہور ہو جائے۔

سوال:

رؤیت ہلال کی شہادت میں ٹیلیفون کی گواہی معتبر ہے یا نہیں؟

جواب:

اگر خبر دینے والا عادل و ثقہ ہے تو گواہی معتبر ہے۔

سوال:

مطلع صاف ہو تو کتنے آدمیوں کی گواہی ضروری ہے؟

جواب:

ایک ثقہ و عادل آدمی بھی گواہی دے دے تو معتبر ہے۔

سوال:

اگر بستی کے باہر سے آنے والے رویت ہلال کی گواہی دیں تو کیا وہ گواہی معتبر ہو گی یا نہیں؟

جواب:

اگر وہ عادل ہیں تو معتبر ہو گی۔
❀ ابو عمیر بن انس رضی اللہ عنہ کے چچا جو صحابی رسول ہیں، بیان کرتے ہیں:
”ہمیں شوال کا چاند نظر نہ آیا تو ہم نے صبح کو روزہ رکھ لیا، پھر پچھلے پہر ایک قافلہ آیا اور انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر گواہی دی کہ انہوں نے کل چاند دیکھا ہے، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اس دن روزہ افطار کرنے اور اگلے دن عید گاہ جانے کا حکم دیا۔“
(مسند الإمام أحمد: 5/86، سنن أبي داود: 1157، سنن النسائي: 1558، سنن ابن ماجه: 1653، وسنده صحيح)

سوال:

اٹھائیس روزوں کے بعد چاند نظر آ جائے تو کیا حکم ہے؟

جواب:

اگلے دن عید کی جائے اور عید کے بعد ایک روزے کی قضا کی جائے۔

سوال:

اگر فاسقوں کی ایک بڑی جماعت چاند دیکھنے کی گواہی دے تو کیا حکم ہے؟

جواب:

فاسقوں کی گواہی قبول نہیں، خواہ کتنے ہی زیادہ ہوں، البتہ ان کے مقابل ایک عادل شخص گواہی دے دے تو گواہی معتبر ہے۔

سوال:

29 رمضان کو زوال کے بعد چاند نظر آیا تو کیا حکم ہے؟

جواب:

روزہ توڑ دیا جائے، اگلے دن عید کی جائے اور عید کے بعد ایک روزے کی قضا دی جائے، تاکہ مہینے کے 29 روزے مکمل ہو جائیں۔
❀ ابو عمیر بن انس رضی اللہ عنہ کے چچا جو صحابی رسول ہیں، بیان کرتے ہیں:
”ہمیں شوال کا چاند نظر نہ آیا تو ہم نے صبح کو روزہ رکھ لیا، پھر پچھلے پہر ایک قافلہ آیا اور انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر گواہی دی کہ انہوں نے کل چاند دیکھا ہے، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اس دن روزہ افطار کرنے اور اگلے دن عید گاہ جانے کا حکم دیا۔“
(مسند الإمام أحمد: 5/86، سنن أبي داود: 1157، سنن النسائي: 1558، سنن ابن ماجه: 1653، وسنده صحيح)

سوال:

کیا دو عادل گواہوں کی گواہی سے رؤیت ثابت ہو جاتی ہے؟

جواب:

جی ہاں۔ ایک عادل گواہ کی گواہی سے بھی رؤیت ثابت ہو جاتی ہے۔
❀ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں:
تراني الناس الهلال فأخبرت رسول الله صلى الله عليه وسلم أني رأيته فصامه وأمر الناس بصيامه
”لوگوں نے ہلال دیکھا تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر دی کہ میں نے چاند دیکھا ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (رمضان کا) روزہ رکھا اور لوگوں کو بھی حکم دیا۔“
(سنن أبي داود: 2342، سنن الدارقطني: 2156، وسنده صحيح)
اس حدیث کو امام ابن حبان رحمہ اللہ (3447) نے صحیح کہا ہے، امام حاکم رحمہ اللہ (1/324) نے امام مسلم کی شرط پر صحیح کہا ہے، حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے موافقت کی ہے۔
❀ حافظ خطابی رحمہ اللہ (388ھ) فرماتے ہیں:
”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا روزے کے معاملہ میں صرف ایک شخص کی بات کو قبول کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ اخبار آحاد پر عمل کرنا واجب ہے، نیز خبر دینے والا صرف ایک ہی شخص ہو یا لوگوں کی ایک جماعت خبر دے، کوئی فرق نہیں پڑتا۔“
(معالم السنن: 2/102)

سوال:

اگر ضعیف البصر چاند دیکھنے کی گواہی دے تو کیا حکم ہے؟

جواب:

جو شخص دور دیکھنے سے قاصر ہو، اس کی گواہی معتبر نہ ہو گی، خواہ وہ عادل ہو۔

سوال:

کیا شہادت میں قسم اٹھانا ضروری ہے؟

جواب:

ضروری نہیں۔

سوال:

معتمد علیہ آدمی کے خط کی گواہی سے عید کرنا کیسا ہے؟

جواب:

خط کے ذریعہ گواہی بھی معتبر ہے، بشرطیکہ خط لکھنے والا عادل ہو۔

سوال:

عادل گواہوں کی گواہی سے 29 روزوں کے بعد عید کر لی، مگر بعد میں معلوم ہوا کہ رمضان 30 دنوں کا تھا تو کیا حکم ہے؟

جواب:

عید کے بعد ایک روزے کی قضا واجب ہے۔

سوال:

رؤیت ہلال میں فاسق و فاجر کی شہادت کا کیا حکم ہے؟

جواب:

فاسق و فاجر کی شہادت قبول نہیں، تا آنکہ وہ تائب ہو جائے۔

سوال:

رؤیت ہلال کی گواہی خط کے ذریعے معتبر ہو گی یا نہیں؟

جواب:

عادل گواہ کی گواہی ہر طرح معتبر ہے، البتہ یہ جانچ کر لی جائے کہ خط واقعی میں عادل گواہ کا ہے۔

سوال:

کوئی شخص دوسرے ملک سے رمضان کے روزے رکھ کر آئے تو تکمیل کس حساب سے کرے گا؟

جواب:

جس ملک میں آیا ہے، اس ملک کی رؤیت کا اعتبار ہو گا۔

سوال:

نیا چاند دیکھ کر کیا دعا پڑھی جائے؟

جواب:

ہلال دیکھنے کی کوئی دعا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت نہیں، البتہ بعض آثار میں یہ دعائیں ثابت ہیں:
❀ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما چاند دیکھتے تو یہ دعا پڑھتے:
الله أكبر الحمد لله الذي أذهب هلال كذا وكذا وجاء بهلال كذا وكذا
”اللہ اکبر، تمام تعریفیں اللہ کے لیے، جو فلاں فلاں مہینے کے چاند کو لے گیا اور فلاں مہینے کے چاند کو لے آیا۔“
(مصنف ابن أبي شيبة: 29748، وسنده صحيح)
❀ عبدالرحمن بن حرملہ رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں:
انصرفت مع سعيد بن المسيب فقلنا هذا الهلال يا أبا محمد فلما أبصره قال آمنت بالذي خلقك فسواك فعدلك
”میں سعید بن مسیب رحمہ اللہ کے ساتھ نکلا، ہم نے عرض کیا: ابو محمد! یہ دیکھئے! چاند۔ جب آپ رحمہ اللہ نے چاند پر نگاہ ڈالی تو فرمایا: آمنت بالذي خلقك فسواك فعدلك میں اس ذات پر ایمان لایا جس نے تجھے تخلیق کیا، درست کیا، پھر برابر کیا۔“
(مصنف ابن أبي شيبة: 29745، وسنده صحيح)

سوال:

بعض کہتے ہیں کہ جو علم فلکیات کا ماہر ہو، وہ چاند کی منازل کا حساب لگا کر روزہ رکھ سکتا ہے، آنکھ سے چاند دیکھنے کی ضرورت نہیں۔ اس بارے میں کیا کہتے ہیں؟

جواب:

رمضان کی آمد اور رمضان کے اختتام کے لیے شریعت نے رویت ہلال کو بنیاد بنایا ہے، یہ رویت آنکھ سے معتبر ہے۔ کوئی کتنا بھی فلکیات کا ماہر ہو، جب تک چاند کو آنکھ سے نہیں دیکھ لیتا، رویت معتبر نہ ہو گی۔ جدید ٹیکنالوجی سے مستفید ہونا چاہیے، مگر رؤیت وہی معتبر ہو گی جو بصری ہو، یعنی آنکھ سے دیکھنے کے لیے جدید وسائل کو بروئے کار لایا جا سکتا ہے۔
اسی طرح کیلنڈر کے مطابق روزے یا عید کرنا جائز نہیں۔ روزے یا عید کے لیے چاند دیکھنا ضروری ہے۔ جب تک رؤیت بصری حاصل نہ ہو، روزے رکھنا یا عید منانا درست نہیں۔ یاد رہے کہ چاند کی تخلیق کا اعتبار نہ ہو گا، بلکہ رؤیت کا اعتبار ہو گا۔
تمام احادیث میں رؤیت بصری کا ذکر ہے۔
❀ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
صوموا لرؤيته وأفطروا لرؤيته فإن غبي عليكم فأكملوا عدة شعبان ثلاثين
”چاند دیکھ کر روزے رکھیں اور چاند دیکھ کر روزے چھوڑیں، پھر اگر مطلع ابر آلود ہو تو شعبان کے تیس دن گن کر پورے کر لو۔“
(صحيح البخاري: 1909، صحيح مسلم: 1081)
❀ عبداللہ بن ابی قیس رحمہ اللہ کہتے ہیں:
مجھے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس بھیجا گیا کہ میں ان سے چاند نظر نہ آنے کی صورت میں رمضان کا روزہ رکھنے اور نماز عصر کے بعد (نفل) نماز پڑھنے کے متعلق پوچھوں۔ چنانچہ میں نے ان کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا: فلاں آپ کو سلام کہتا ہے، انہوں نے مجھے آپ کے پاس نماز عصر کے بعد (نفل) نماز پڑھنے، روزوں میں وصال کرنے اور ماہ رمضان میں روزوں کے متعلق پوچھنے کے لیے بھیجا ہے۔ انہوں نے حدیث کا کچھ حصہ بیان کیا، کہتے ہیں: سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا:
”آپ باقی مہینوں کے ایام اس قدر نہیں گنا کرتے تھے جس قدر شعبان کے ایام گنا کرتے تھے، پھر رمضان کا چاند دیکھ کر روزہ رکھتے، اگر چاند نظر نہ آتا تو (شعبان کے) تیس دن شمار کرتے، پھر روزہ رکھتے۔“
(مسند الإمام أحمد: 6/149، سنن أبي داود: 2325، وسنده صحيح)
اس حدیث کو امام ابن الجارود رحمہ اللہ (377)، امام ابن خزیمہ رحمہ اللہ (1910) اور امام ابن حبان رحمہ اللہ (3444) نے صحیح کہا ہے، امام حاکم رحمہ اللہ (1/423) نے بخاری اور مسلم کی شرط پر صحیح کہا ہے، حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے ان کی موافقت کی ہے۔ امام دارقطنی رحمہ اللہ نے (السنن: 2/157) اس کی سند کو حسن صحیح قرار دیا ہے۔