غیر محرم عورت سے خلوت اور دیور سے پردہ صحیح احادیث کی روشنی میں

فونٹ سائز:
یہ اقتباس ڈاکٹر یوسف القرضاوی کی کتاب اسلام میں حلال و حرام سے ماخوذ ہے جس کا اُردو ترجمہ محمد طاھر نقاش صاحب نے کیا ہے۔

اجنبی عورت کے ساتھ خلوت حرام ہے

اسلام نے جن ذرائع کو حرام ٹھہرایا ہے، ان میں سے ایک ذریعہ مرد کا اجنبی عورت کے ساتھ خلوت میں رہنا ہے یعنی ایسی عورت کے ساتھ خلوت میں رہنا جو نہ بیوی ہو اور نہ ان رشتہ داروں میں سے ہو جن سے ابدی طور پر رشتہ ازدواج حرام ہے مثلاً: ماں، بہن، پھوپھی، خالہ وغیرہ۔ یہ حرمت اس وجہ سے نہیں ہے کہ مرد یا عورت پر اعتماد نہیں ہے بلکہ دراصل ان کو وسوسوں اور برے خیالات سے بچانا مقصود ہے۔ کیونکہ جہاں مردانہ اور زنانہ خصوصیات کو جمع ہونے کا موقع ملا اور وہاں کوئی تیسرا آدمی موجود نہ ہو تو دلوں میں گناہ پر آمادگی پیدا ہوسکتی ہے۔ خلوت کے بارے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:
من كان يؤمن بالله واليوم الآخر فلا يخلون بامرأة ليس معها ذو محرم منها فإن ثالثهما الشيطان
”جو شخص اللہ اور یوم آخر پر ایمان رکھتا ہو اسے چاہیے کہ کسی عورت کے ساتھ خلوت میں نہ رہے جہاں کوئی محرم موجود نہ ہو کیونکہ ایسی صورت میں ان دو کے ساتھ تیسرا شیطان موجود ہوتا ہے۔“
مسند احمد: 3/339 وله شاهد من حديث عمر رضي الله عنه عند الترمذي كتاب الفتن باب ما جاء في لزوم الجماعة ح: 2165
ازواج مطہرات کی شان میں نازل شدہ آیت:
وَإِذَا سَأَلْتُمُوهُنَّ مَتَاعًا فَاسْأَلُوهُنَّ مِنْ وَرَاءِ حِجَابٍ ۚ ذَٰلِكُمْ أَطْهَرُ لِقُلُوبِكُمْ وَقُلُوبِهِنَّ
”نبی کی ازواج سے جب تمہیں کوئی چیز مانگنا ہو تو پردے کے پیچھے سے مانگا کرو۔ یہ طریقہ تمہارے دلوں کے لیے بھی پاکیزگی کا باعث ہے اور ان کے دلوں کے لیے بھی۔“
سورة الأحزاب: 53
آیت کی تفسیر بیان کرتے ہوئے امام قرطبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: مراد یہ ہے کہ اُن خیالات سے دلوں کو پاک کیا جائے جو عورتوں کے تعلق سے مردوں کے دلوں میں اور مردوں کے تعلق سے عورتوں کے دلوں میں پیدا ہوتے ہیں۔ یعنی پردہ کرنے سے شک اور تہمت کے لیے گنجائش باقی نہیں رہتی اور یہ تحفظ کا بڑا اچھا ذریعہ ہے۔ اس سے یہ رہنمائی ملتی ہے کہ کسی شخص کے لیے مناسب نہیں ہے کہ وہ خود اعتمادی سے کام لے کر کسی اجنبی عورت کے پاس خلوت میں رہے۔ اس سے اجتناب کرنا بہتر ہے اور پاکدامانی و تحفظ عصمت کا باعث ہے۔
تفسير القرطبي ج 14 ص 228
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خاص طور سے شوہر کے رشتہ داروں مثلاً دیور، شوہر کے چچازاد بھائی وغیرہ کے ساتھ خلوت میں رہنے سے منع فرمایا ہے۔ عام طور سے اس معاملہ میں رشتہ دار تساہل برتے ہیں جس کا نتیجہ بعض اوقات بہت برا نکلتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ کسی رشتہ دار کے ساتھ خلوت میں رہنا غیروں کی بہ نسبت زیادہ اندیشہ ناک اور خطرناک ہوتا ہے۔ اور اس میں شدید فتنہ کا احتمال ہوتا ہے۔ کیونکہ اجنبی کے برخلاف غیر محرم رشتہ دار عورت کے پاس بے روک ٹوک آ جا سکتا ہے۔ یہی حکم بیوی کے غیر محرم رشتہ داروں کے ساتھ خلوت میں رہنے کا ہے۔ مثلاً: بیوی کے چچازاد بھائی، ماموں زاد بھائی اور خالہ زاد بھائی۔ ان میں سے کسی کے ساتھ خلوت میں رہنا جائز نہیں ہے۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:
إياكم والدخول على النساء فقال رجل من الأنصار يا رسول الله أفرأيت الحمو؟ قال الحمو الموت
”عورتوں کے پاس خلوت میں رہنے سے بچو۔ انصار میں سے ایک شخص نے کہا : اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! ”حمو“ (دیور) کے بارے میں کیا خیال ہے؟ فرمایا : ”حمو“ موت ہے۔“
صحیح البخاری کتاب النکاح باب لا یخلون رجل بامرأة إلا ذو محرم والدخول على المغيبة ح : 5232 ، صحیح مسلم کتاب السلام باب تحریم الخلوة بالأجنبية والدخول عليها ح : 2172
”حمو“ لغوی طور پر شوہر کے رشتہ داروں کو کہتے ہیں۔
مطلب یہ ہے کہ یہ خلوت باعث خطر اور موجب ہلاکت ہے۔ اگر آدمی معصیت کا مرتکب ہوتا ہے تو یہ دینی ہلاکت ہے۔ اور اگر شوہر کی غیرت اُسے اس بات کے لیے آمادہ کرتی ہے کہ وہ اپنی بیوی کو طلاق دے دے، تو یہ عورت کے لیے ہلاکت ہے۔ اور خلوت کے نتیجہ میں جب اقارب ایک دوسرے کے بارے میں بدگمانی کرنے لگیں تو یہ معاشرتی روابط کے لیے ہلاکت کا سامان ہوگا۔ حقیقت یہ ہے کہ اس کا اثر صرف انسانی جذبات اور خیالات ہی پر نہیں پڑتا بلکہ اس کی زد میں خاندان کی زندگی، میاں بیوی کے گزر بسر کے حالات اور ان کی راز دارانہ باتیں بھی آجاتی ہیں اور فضول گوئی کرنے والوں اور گھروں میں بگاڑ پیدا کرنے والوں کو زبانیں دراز کرنے کا موقع مل جاتا ہے۔
جس طرح عرب الأسد الموت (شیر موت ہے) اور السلطان النار (سلطان آگ ہے) بولتے ہیں اسی طرح الحمو الموت (شوہر کے اقارب موت ہیں) بولتے ہیں۔ یعنی ان سے ملنا گویا آگ اور موت کے مترادف ہے۔ مطلب یہ ہے کہ شوہر کے رشتہ داروں کے ساتھ خلوت میں رہنا، اجنبیوں کے ساتھ خلوت میں رہنے سے زیادہ شدید ہے کیونکہ بعض اوقات یہ رشتہ دار عورت کے دل میں ایسی چیز کی طلب پیدا کرتے ہیں جس کو پورا کرنا شوہر کے بس میں نہیں ہوتا یا کبھی وہ بدسلوکی کرنے پر اکساتے ہیں۔ نیز اس وجہ سے بھی کہ شوہر اس بات کو پسند نہیں کرتا کہ اس کے رشتہ دار اس کے گھر میں داخل ہو کر اس کے باطنی حالات سے واقف ہو جائیں۔