آخر الانبیا
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
إني آخر الأنبياء ، وإن مسجدي آخر المساجد .
”میں آخری نبی ہوں اور میری مسجد (نبوی) آخری مسجد ہے۔“
(صحیح مسلم : 1394/507)
اس حدیث میں بیان ہوا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مسجد آخری مسجد ہے، اعتراض ہے کہ مساجد تو اس کے بعد بھی بنائی گئی ہیں، یہ آخری کیسے ہوئی؟
امام ابن حبان رحمہ اللہ (354ھ) لکھتے ہیں :
قوله صلى الله عليه وسلم : إنه آخر المساجد، يريد به آخر المساجد للأنبياء ، لا أن مسجد المدينة آخر مسجد بني فى هذه الدنيا .
”آخری مسجد سے مراد انبیا کی آخری مسجد ہے، نہ کہ دنیا میں بنائی جانے والی آخری مسجد ہے۔“
(صحیح ابن حبان : 502/4)
علامہ سندھی حنفی رحمہ اللہ (1138ھ) لکھتے ہیں :
آخر المساجد أى آخر المساجد الثلاثة المشهود لها بالفضل أو آخر مساجد الأنبياء أو أنه يبقى آخر المساجد ويتأخر عن المساجد الآخر فى الفناء أى فكما أنه تعالى شرف آخر الأنبياء شرف كذلك مسجده الذى هو آخر المساجد بأن جعل الصلاة فيه كألف صلاة فيما سواه إلا المسجد الحرام، والله تعالى أعلم .
”آخری مسجد سے مراد فضیلت والی تین مسجدوں میں آخری مسجد ہے، یا اس سے مراد انبیا کی آخری مسجد ہے، یا پھر مراد یہ ہے کہ یہ مسجد تب تک ختم نہیں ہو گی، جب تک کہ باقی تمام مساجد ختم نہ ہو جائیں، یعنی جس طرح اللہ نے آخری نبی کو شرف بخشا ہے، اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مسجد کو بھی شرف بخشا ہے، جو کہ آخری مسجد ہے۔ اس میں ایک نماز کا ثواب دوسری مساجد میں ہزار نماز کے برابر رکھا ہے، سوائے مسجد حرام کے۔“
(حاشیۃ السندی علی النسائی : 35/2)
علامہ زمخشری رحمہ اللہ (538ھ) لکھتے ہیں :
معنى كونه آخر الأنبياء أنه لا ينبأ أحد بعده، وعيسى ممن نبئ قبله، وحين ينزل ينزل عاملا على شريعة محمد، مصليا إلى قبلته، كأنه بعض أمته .
”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے آخری نبی ہونے کا مطلب یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی کو نبوت نہیں ملے گی، جب کہ عیسیٰ علیہ السلام کو نبوت آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے ہی مل چکی ہے، جب عیسیٰ علیہ السلام نزول فرمائیں گے، تو شریعت محمدیہ کے پیرو بن کر نازل ہوں گے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قبلہ کی طرف منہ کر کے نماز ادا کریں گے، گویا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے امتی ہوں۔“
(تفسیر الزمخشری : 544/3-545)
لَا هِجْرَةَ بَعْدَ الْفَتْحِ :
فرمان نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے :
لا هجرة بعد الفتح .
”فتح مکہ کے بعد کوئی ہجرت نہیں۔“
(صحیح البخاری : 2825)
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں :
انقطعت الهجرة منذ فتح الله على نبيه صلى الله عليه وسلم مكة .
”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھوں مکہ فتح ہوا تو ہجرت کا سلسلہ ختم ہو گیا۔“
(صحیح البخاری : 3080)
یہاں ہجرت سے مراد مکہ سے مدینہ کی طرف ہجرت ہے، کیونکہ فتح مکہ کے بعد مکہ سے کہیں بھی ہجرت نہیں ہے، کیونکہ مکہ دار الاسلام ہے، دار الحرب سے دار الاسلام کی طرف ہجرت تا قیامت باقی ہے۔
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ (852ھ) لکھتے ہیں :
لا هجرة بعد الفتح وإنما كان كذلك لأن مكة بعد الفتح صارت دار إسلام فالذي يهاجر منها للمدينة إنما يهاجر لطلب العلم أو الجهاد لا للفرار بدينه بخلاف ما قبل الفتح .
”فتح مکہ کے بعد ہجرت نہیں ہے، فتح کے بعد مکہ دار الاسلام بن گیا ہے، تو اب مکہ سے مدینہ کی طرف ہجرت طلب علم یا جہاد کے لیے ہوگی، نہ کہ دین بچانے کے لیے، جیسا کہ فتح مکہ سے پہلے تھی۔“
(فتح الباری شرح صحیح البخاری : 185/10)
سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کی ہجرت کے ساتھ ختم نبوت کا موازنہ :
سیدنا سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں :
استأذن العباس بن عبد المطلب النبى صلى الله عليه وسلم فى الهجرة، فقال له : يا عم، أقم مكانك الذى أنت به فإن الله عز وجل يختم بك الهجرة كما ختم بي النبوة .
”سیدنا عباس بن عبد المطلب رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ہجرت کی اجازت چاہی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : چچا! جہاں آپ ہیں، وہیں رہیے، اللہ نے آپ کے بعد ہجرت ختم کر دی ہے، جیسا کہ میرے بعد نبوت ختم کر دی ہے۔“
(مسند أبي يعلى : 2646 ، فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل : 1812 ، المعجم الكبير للطبراني : 154/6 ، مسند الروياني : 61/10)
روایت جھوٹی ہے۔
اسماعیل بن قیس ابو مصعب مدنی ”منکر الحدیث“ ہے۔
اسے امام بخاری رحمہ اللہ (التاریخ الکبیر : 370/1) اور امام مسلم رحمہ اللہ (الکنی والاسماء : 788/2) نے ”منکر الحدیث“ کہا ہے۔
امام ابو حاتم رازی رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
ضعيف الحديث منكر الحديث يحدث بالمناكير لا أعلم له حديثا قائما .
”ضعیف اور منکر الحدیث ہے، منکر حدیثیں بیان کرتا ہے، مجھے اس کی بیان کردہ کوئی صحیح حدیث نہیں ملی۔“
(الجرح والتعديل لابن أبي حاتم : 193/2)
امام ابن عدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
عامة ما يرويه منكر .
”اس کی بیان کردہ اکثر روایات منکر ہیں۔“
(الكامل في ضعفاء الرجال : 491/1)
امام نسائی رحمہ اللہ نے ”ضعیف“ کہا ہے۔
(الضعفاء والمتروكون : 41)
امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
تنبيه : فى حديثه من المناكير والمقلوبات التى يعرفها من ليس الحديث صناعته .
”اس کی احادیث میں ایسی منکر اور مقلوب روایات ہیں، جنہیں وہ بھی پہچان سکتا ہے، جس کا فن حدیث سے کوئی تعلق ہی نہ ہو۔“
(كتاب المجروحين : 127/1)
تنبیہ :
امام حاکم رحمہ اللہ (234/2) نے اس کی ایک روایت کی سند کو صحیح کہا، تو حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے تعاقب کرتے ہوئے لکھا :
ضعفوه .
”اسماعیل بن قیس کو محدثین نے ضعیف کہا ہے۔“
امام بزار رحمہ اللہ نے ”صالح الحدیث“ کہا ہے۔
(کشف الأستار عن زوائد مسند البزار : 79/2 ح : 1247)
یہ امام صاحب کا تساہل ہے، راجح بات جمہور ائمہ حدیث کی ہے۔
امام ابو حاتم رازی رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
هٰذا حديث موضوع وإسماعيل منكر الحديث .
”یہ حدیث موضوع ہے اور اسماعیل منکر الحدیث ہے۔“
(علل الحديث لابن أبي حاتم : 368/2)
حافظ ذہبی رحمہ اللہ لکھتے ہیں :
إسناده واه … ويروى نحوه من مراسيل الزهري .
”اس کی سند سخت ضعیف ہے … اسی طرح زہری سے مرسل روایت بھی مروی ہے۔“
(سير أعلام النبلاء : 84/2)
حافظ ہیثمی رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
رواه أبو يعلى والطبراني وفيه أبو مصعب إسماعيل بن قيس وهو متروك .
”یہ روایت امام ابو یعلیٰ اور امام طبرانی رحمہ اللہ نے بیان کی ہے، اس کا راوی ابو مصعب اسماعیل بن قیس متروک ہے۔“
(مجمع الزوائد : 289/9)
یہ روایت تاریخ ابن عساکر (297/26) میں مرسل بھی آتی ہے۔ یہ سند بھی جھوٹی ہے۔ عثمان بن ابی عثمان عثمانی ضعیف ہے۔ احمد بن محمد لیثی کون ہے؟ معلوم نہیں۔
إِلَّا أَنْ يَّكُونَ نَبِيٌّ :
سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
أبو بكر خير الناس إلا أن يكون نبي .
”سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ انبیاء کے علاوہ تمام لوگوں سے بہتر ہیں۔“
(الكامل في ضعفاء الرجال لابن عدي : 484/6 ، الغرائب الملتقطة من مسند الفردوس لابن حجر : 241 ، المتفق والمفترق للخطيب : 368/1 ، تاريخ أصبهان لأبي نعيم : 85/2 ، تاريخ ابن عساكر : 212/30)
سند سخت ضعیف ہے :
اسماعیل بن زیاد ابلی متروک و کذاب ہے۔
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ لکھتے ہیں :
متروك كذبوه .
”متروک ہے، محدثین نے اسے کذاب قرار دیا ہے۔“
(تقريب التهذيب : 446)
یہ روایت مسند عبد بن حمید (212) اور فضائل الصحابہ لاحمد بن حنبل (508) میں بھی آتی ہے، اس کی سند بھی ”ضعیف“ ہے۔ ابو سعید بکری کے حالات زندگی نہیں ملے۔ نیز عطاء بن ابی رباح رحمہ اللہ کا سیدنا ابو الدرداء رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں ہے۔ اسی طرح یہ روایت من حدیث حیثمہ بن سلیمان (132) اور تاریخ ابن عساکر (123/30) میں آتی ہے، اس کی سند بھی ضعیف ہے، صدقہ قرشی ابو محمد کی امام ابن حبان رحمہ اللہ (467/6) کے علاوہ کسی نے توثیق نہیں کی، لہٰذا یہ مجہول الحال ہے۔ نیز سلیمان بن سیار رحمہ اللہ تابعی براہ راست نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کر رہے ہیں، لہٰذا روایت مرسل ہے۔
امام ابو حاتم رازی رحمہ اللہ نے اسے من گھڑت قرار دیا ہے۔
(علل الحديث لابن أبي حاتم : 2663)
حافظ ذہبی رحمہ اللہ اسے موضوع (من گھڑت) قرار دیتے ہوئے لکھتے ہیں :
مع أن معنى الحديث حق .
”حدیث کا معنی بہرحال درست ہے۔“
(میزان الاعتدال : 231/1)