نمازِ تراویح کے اہم مسائل اور شرعی احکام صحیح احادیث کی روشنی میں

فونٹ سائز:
یہ اقتباس کتاب الصوم سے ماخوذ ہے جسے شیخ غلام مصطفٰی ظہیر امن پوری حفظہ اللہ نے مرتب کیا ہے۔
مضمون کے اہم نکات

نماز تراویح کا بیان

سوال:

نماز تراویح باجماعت پڑھنا افضل ہے یا منفرد؟

جواب:

جسے قرآن زبانی یاد ہے، اسے چاہیے کہ خود قیام کرے، اس کے لیے یہی بہتر اور افضل ہے۔ البتہ جو عام عوام ہیں جنہیں قرآن زبانی یاد نہیں، ان کے لیے افضل یہی ہے کہ وہ باجماعت نماز تراویح ادا کریں۔
❀ عبدالرحمن بن عبد القاری رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں:
خرجت مع عمر بن الخطاب رضي الله عنه ليلة في رمضان إلى المسجد فإذا الناس أوزاع متفرقون يصلي الرجل لنفسه ويصلي الرجل فيصلي بصلاته الرهط فقال عمر إني أرى لو جمعت هؤلاء على قارئ واحد لكان أمثل ثم عزم فجمعهم على أبي بن كعب ثم خرجت معه ليلة أخرى والناس يصلون بصلاة قارئهم قال عمر نعم البدعة هذه والتي ينامون عنها أفضل من التي يقومون يريد آخر الليل وكان الناس يقومون أوله
”میں رمضان کی ایک رات سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے ساتھ مسجد کی طرف نکلا، لوگ مختلف گروہوں میں منقسم تھے۔ کوئی آدمی اکیلا اور کوئی جماعت کے ساتھ نماز پڑھ رہا تھا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میرے مطابق انہیں ایک قاری پر جمع کر دیا جائے تو بہت اچھا ہو گا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے عزم مصمم کر لیا اور لوگوں کو سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کی امامت پر جمع کر دیا۔ ایک رات پھر میں آپ رضی اللہ عنہ کے ساتھ نکلا۔ لوگ ایک قاری کی اقتدا میں نماز پڑھ رہے تھے تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: یہ تجدید نو کیا خوب ہے! البتہ ان سے وہ افضل ہیں جو اس وقت سو جاتے ہیں اور آخری پہر قیام کرتے ہیں۔“
(صحيح البخاري: 2010)
❀ حافظ بیہقی رحمہ اللہ (458ھ) فرماتے ہیں:
فيه دلالة على فعل صلاة التراويح بالجماعة أفضل لمن لا يكون حافظا للقرآن
”یہ دلیل ہے کہ جو قرآن کا حافظ نہ ہو، اس کے لیے افضل یہی ہے کہ وہ نماز تراویح باجماعت ادا کرے۔“
(فضائل الأوقات، تحت الرقم: 123)

سوال:

قریب کی مسجد کو چھوڑ کر دور والی مسجد میں جا کر تراویح پڑھنا کیسا ہے؟

جواب:

جائز ہے۔

سوال:

جامع مسجد کو چھوڑ کر بغل والی مسجد میں نماز تراویح پڑھنا کیسا ہے؟

جواب:

جائز ہے۔

سوال:

بعض تاجر تین، پانچ یا دس روز تراویح ادا کرتے ہیں، باقی رمضان نہیں کرتے، ایسا کرنا کیسا ہے؟

جواب:

ایسا کرنا مناسب نہیں، پورا رمضان قیام کرنا چاہیے۔ گاہے بہ گاہے لوگوں کو ترغیب دیتے رہیں۔ بعض حفاظ شروع رمضان میں ڈیڑھ ڈیڑھ یا دو دو پارے قرآت کرتے ہیں اور آخر میں بہت کم کر دیتے ہیں، لوگوں کا تراویح سے پیچھے رہ جانے کا ایک سبب یہ بھی ہے۔ ائمہ کو چاہیے کہ روزانہ ایک پارہ پڑھا کریں، اس میں پڑھنے اور سننے والوں کے لیے سہولت اور آسانی ہے۔ تراویح میں پارے کا چوتھائی حصہ تلاوت کیا جائے یا پورا پارہ پڑھا جائے، فرق پندرہ بیس منٹ کا پڑتا ہے۔
دوسری وجہ یہ بھی سمجھ آتی ہے کہ بیس رکعات تراویح پڑھنا لوگوں کے لیے بوجھل ہوتا ہے، جبکہ بیس رکعات تراویح مسنون بھی نہیں، لہذا آٹھ رکعات مسنون تراویح پڑھی جائے تو کافی حد تک یہ مسئلہ حل ہوتا دکھائی دیتا ہے۔ اکثر و بیشتر تراویح میں سستی وہی لوگ کرتے ہیں جو سال بھر فرض نماز ادا نہیں کرتے۔ فرائض کا ترک نوافل کے ترک کا سبب ہے اور نوافل کا ترک فرائض میں سستی و کاہلی کا موجب ہے۔ لہذا مسلمانوں کو چاہیے کہ نماز جو ایمان کی دلیل ہے، کبھی نہ چھوڑیں۔

سوال:

کیا نماز تراویح بیٹھ کر پڑھی جا سکتی ہے؟

جواب:

نماز تراویح نفل ہے اور نوافل بلا عذر بیٹھ کر پڑھے جا سکتے ہیں، البتہ ان کا ثواب آدھا ہو گا۔

سوال:

کیا تراویح چار چار رکعات کر کے پڑھی جا سکتی ہیں؟

جواب:

تراویح دو دو رکعت کر کے پڑھنی چاہیے، یہی مسنون ہے۔ چار چار رکعات کر کے پڑھنے کا کوئی ثبوت نہیں۔
❀ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں:
إن رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يصلي بالليل إحدى عشرة ركعة يوتر منها بواحدة فإذا فرغ منها اضطجع على شقه الأيمن حتى يأتيه المؤذن فيصلي ركعتين خفيفتين
”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کو گیارہ رکعت پڑھتے تھے، ان میں ایک وتر ادا فرماتے۔ فارغ ہو جاتے تو دائیں پہلو پر لیٹ جاتے، مؤذن آتا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم دو سنتیں ادا فرماتے۔“
(صحيح البخاري: 994، صحيح مسلم: 736، واللفظ له)
❀ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں:
كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يصلي إحدى عشرة ركعة يسلم بين كل ركعتين ويوتر بواحدة
”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم گیارہ رکعت ادا کرتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہر دو رکعت کے بعد سلام پھیرتے اور ایک وتر ادا کرتے۔“
(صحيح مسلم: 736/122)
امام طحاوی حنفی رحمہ اللہ ان لوگوں کا رد کرتے ہیں جو رات کی نماز کو چار رکعت ایک سلام سے پڑھنا مسنون سمجھتے ہیں اور عائشہ رضی اللہ عنہا کی حدیث سے دلیل پکڑتے ہیں۔
❀ امام طحاوی حنفی رحمہ اللہ (321ھ) فرماتے ہیں:
قيل له فقد روى الزهري عن عروة عن عائشة رضي الله عنها أنه كان يسلم بين كل اثنتين منهن وهذا الباب إنما يؤخذ من جهة التوقيف والاتباع لما فعل رسول الله صلى الله عليه وسلم وأمر به وفعله أصحابه من بعده فلم نجد عند من فعله ولا من قوله أنه أباح أن يصلى في الليل بتكبيرة أكثر من ركعتين وبذلك نأخذ وهو أصح القولين عندنا في ذلك
”ایسے لوگوں (جو رات کی نماز کو چار رکعت ایک سلام سے مسنون کہتے ہیں) کو جواب دیا جائے گا کہ زہری عن عروہ عن عائشہ رضی اللہ عنہا کی سند سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہر دو رکعت کے بعد سلام پھیرتے تھے۔ یہ مسئلہ توقیفی ہے اور اس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا اتباع کیا جائے گا، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا ہی کیا ہے اور یہی فرمایا ہے، نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد آپ کے اصحاب نے بھی ایسا ہی کیا ہے۔ جو لوگ رات کی نماز کو چار چار رکعت کر کے پڑھتے ہیں، ان کے پاس یا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی کسی حدیث میں کوئی دلیل نہیں کہ جس سے رات کو دو رکعت سے زیادہ ایک سلام سے پڑھنا ثابت ہوتا ہو۔ ہمارا موقف یہی ہے، اس مسئلہ میں ہمارے مطابق صحیح ترین قول یہی ہے۔“
(شرح معاني الآثار: 1/336)

سوال:

کیا دو مقتدیوں سے نماز تراویح کی جماعت ہو سکتی ہے؟

جواب:

ہو سکتی ہے۔

سوال:

کیا تراویح کے بعد نوافل کی جماعت ہو سکتی ہے؟

جواب:

جب کوئی تراویح پڑھ لے تو بعد میں مزید نوافل پڑھ سکتا ہے، مثلاً کوئی شخص لیلۃ القدر کی تلاش میں تراویح کے بعد زائد نفل ادا کر کے شب بیداری کرے۔ یہ نوافل انفرادی بھی ادا کیے جا سکتے ہیں اور باجماعت بھی۔ اصل میں مسئلہ یہ ہے کہ ممنوع اوقات کے علاوہ کسی بھی وقت نوافل پڑھنا چاہے تو کوئی پابندی نہیں۔ سلف کے عمل سے اس کی تائید ہوتی ہے۔
❀ قیس بن طلق رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ رمضان میں ایک دن سیدنا طلق بن علی رضی اللہ عنہ ہمارے پاس آئے۔ شام پڑ گئی تو ہمارے پاس افطاری کی۔ اسی رات ہمیں قیام کروایا اور وتر پڑھائے۔ پھر اپنی مسجد میں گئے اور اپنے ساتھیوں کو نماز پڑھائی۔ وتر باقی رہ گئے تو ایک آدمی کو آگے کیا اور فرمایا: اپنے ساتھیوں کو وتر پڑھائیں۔ میں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے:
لا وتران في ليلة
”ایک رات میں دو بار وتر نہیں۔“
(سنن أبي داود: 1439، سنن النسائي: 1680، سنن الترمذي: 470، وسنده حسن، وأخرجه أحمد: 4/23، وسنده حسن أيضًا)
اس حدیث کو امام ترمذی رحمہ اللہ نے حسن، جب کہ امام ابن خزیمہ رحمہ اللہ (1101) اور امام ابن حبان رحمہ اللہ (2449) نے صحیح کہا ہے۔
❀ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے اسے حسن قرار دیا ہے۔
(فتح الباري: 2/481)

سوال:

تراویح کے بعد باآواز بلند درود و سلام پڑھنا کیسا ہے؟

جواب:

بدعت ہے۔ اسلاف امت سے ایسا کرنا ثابت نہیں۔

سوال:

رمضان کے آخر میں تراویح پڑھانے والے قاری کو معاوضہ دینا اور اس کا لینا کیسا ہے؟

جواب:

جائز ہے، یہ قرآن پڑھنے کا معاوضہ نہیں ہوتا، بلکہ جماعت کی طرف سے ہدیہ اور تحفہ ہوتا ہے۔

سوال:

کیا تراویح میں قرآن سننے کا ثواب ملتا ہے؟

جواب:

کیوں نہیں۔

سوال:

اگر کسی شیعہ نے جماعت میں شامل ہو کر لقمہ دیا تو کیا حکم ہے؟

جواب:

اگر شیعہ نے امام کو لقمہ دیا اور امام نے لقمہ قبول کر لیا تو نماز میں کوئی حرج واقع نہ ہو گا، اس سے نماز باطل نہ ہو گی۔

سوال:

کیا سورت ضحی کے بعد ہر سورت کے اختتام پر ”اللہ اکبر“ کہنا جائز ہے؟

جواب:

جائز نہیں۔ یہ بدعت ہے جو زمانہ خیر کے بعد شروع ہوئی۔

سوال:

اگر کوئی تراویح کی پہلی رکعت میں ایک سورت پڑھے اور ہر تراویح کی دوسری رکعت میں سورت اخلاص پڑھے تو کوئی حرج تو نہیں؟

جواب:

جائز ہے، بشرطیکہ وہ ایسا کرنے کو سنت یا لازم نہ سمجھتا ہو۔

سوال:

اگر کوئی شخص گھر میں نماز تراویح باجماعت ادا کرے اور مسجد میں باجماعت ادا نہ کرے تو کیا حکم ہے؟

جواب:

گھر میں باجماعت تراویح ادا کرنا بھی جائز ہے۔

سوال:

تراویح کی جو رکعات رہ گئیں، وہ کب پڑھی جائیں؟

جواب:

امام کے ساتھ وتر پڑھنے کے بعد ادا کر لے، یا امام کے ساتھ وتر چھوڑ دے، پہلے تراویح کی رکعات پوری کر لے اور بعد میں اکیلے وتر ادا کر لے۔

سوال:

کیا نماز تراویح اور نماز وتر کے بعد دعا کی جا سکتی ہے؟

جواب:

دعا کسی بھی وقت کی جا سکتی ہے، بشرطیکہ کسی وقت کے ساتھ خاص نہ کیا جائے اور اس وقت میں دعا کے مستحب یا واجب ہونے کا نظریہ نہ رکھا جائے۔

سوال:

دو یا چار تراویح کے بعد وعظ یا درس کا اہتمام کرنا کیسا ہے؟

جواب:

جائز ہے، اس سے ایک تو لوگ تھکاوٹ کا شکار نہ ہوں گے اور دوسرا یہ کہ لوگوں کو وعظ و نصیحت ہو جائے گی۔ بہتر ہے کہ جتنا حصہ قرآن کریم کا تراویح میں تلاوت کیا گیا ہے، اس کا خلاصہ بیان کر دیا جائے۔

سوال:

مسجد میں کئی قراء ہیں، ہر قاری دو دو رکعات تراویح پڑھاتا ہے، کیا ایسا کرنا جائز ہے؟

جواب:

جائز ہے۔

سوال:

بغیر سامع کے تراویح کی امامت کرانا کیسا ہے؟

جواب:

جائز ہے۔

سوال:

تراویح کی قرآت میں بھول جانے کی وجہ سے خاموش ہو کر سوچنا کیسا ہے؟

جواب:

جائز ہے، اس سے نماز پر کوئی حرج واقع نہیں ہوتا، اس پر سجدہ سہو نہیں۔

سوال:

کسی حافظ کو غلط لقمہ دے کر پریشان کرنا کیسا ہے؟

جواب:

یہ شرارت ہے، کسی سے شرارت کرنا گناہ ہے اور نماز میں شرارتیں کرنا سخت گناہ ہے۔

سوال:

کیا ایک حافظ دو مسجدوں میں تراویح پڑھا سکتا ہے؟

جواب:

پڑھا سکتا ہے۔
❀ قیس بن طلق رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ رمضان میں ایک دن سیدنا طلق بن علی رضی اللہ عنہ ہمارے پاس آئے۔ شام پڑ گئی تو ہمارے پاس افطاری کی۔ اسی رات ہمیں قیام کروایا اور وتر پڑھائے۔ پھر اپنی مسجد میں گئے اور اپنے ساتھیوں کو نماز پڑھائی۔ وتر باقی رہ گئے تو ایک آدمی کو آگے کیا اور فرمایا: اپنے ساتھیوں کو وتر پڑھائیں۔ میں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے:
لا وتران في ليلة
”ایک رات میں دو بار وتر نہیں۔“
(سنن أبي داود: 1439، سنن النسائي: 1680، سنن الترمذي: 470، وسنده حسن، وأخرجه أحمد: 4/23، وسنده حسن أيضًا)

سوال:

تراویح میں بھولتے وقت ادھر ادھر سے پڑھنا جائز ہے یا نہیں؟

جواب:

جائز ہے۔

سوال:

تراویح کی جماعت ہو رہی ہے، مگر کچھ لوگ جماعت سے الگ ہو کر باتوں میں مشغول ہیں، کیا حکم ہے؟

جواب:

اجر و ثواب سے محرومی ہے۔

سوال:

تراویح میں کتنی مقدار قرآت کرنی چاہیے؟

جواب:

جتنی مقتدی سننا چاہیں۔ بہتر ہے کہ روزانہ ایک پارہ تلاوت کیا جائے، تا کہ مہینے کے آخر تک قرآن کی تکمیل بھی ہو جائے اور سننے والوں پر بھی بوجھ نہ بنے۔

سوال:

تراویح میں ہر سورت کے شروع میں بسم اللہ اونچی آواز سے پڑھنا کیسا ہے؟

جواب:

اونچی بھی پڑھی جا سکتی ہے اور آہستہ بھی۔

سوال:

کیا قریب البلوغ تراویح کی امامت کرا سکتا ہے؟

جواب:

ہر سمجھ دار بچہ فرض اور نفل کی امامت کرا سکتا ہے، خواہ وہ بالغ ہو یا نابالغ۔

سوال:

اگر تراویح میں سجدہ تلاوت کرنا ہو تو کیا رکوع کرنے سے ادا ہو جائے گا؟

جواب:

سجدہ تلاوت بغیر سجدہ کے ادا نہ ہو گا، یہ کہنا کہ رکوع میں سجدہ تلاوت کی نیت کر لینے سے اس کی ادائیگی ہو جائے گی، بے دلیل ہے۔

سوال:

ایک حافظ کی داڑھی مونچھ نہیں آئی، اس کی عمر بیس برس ہے، کیا اس کے پیچھے تراویح جائز ہے؟

جواب:

بلا کراہت جائز ہے۔

سوال:

ایک مسجد میں تراویح کی دو جماعتیں ہو سکتی ہیں؟

جواب:

ایک مسجد میں تراویح کی کئی جماعتیں ہو سکتی ہیں۔

سوال:

تراویح میں تکمیل قرآن کے موقع پر دوبارہ والمفلحون تک پڑھنا کیسا ہے؟

جواب:

بے دلیل ہے۔

سوال:

ایک شخص کی بیوی حافظہ ہے، کیا وہ تراویح اپنی بیوی کی اقتدا میں ادا کر سکتا ہے؟

جواب:

عورت مردوں کی امام نہیں بن سکتی، نہ فرض میں، نہ نفل میں۔ اس پر اہل علم کا اجماع ہے۔
❀ حافظ ابن الجوزی رحمہ اللہ (597ھ) فرماتے ہیں:
تصح إمامة المرأة للرجال في موضع واحد وهو في صلاة التراويح إذا كانت المرأة تحفظ القرآن والرجال لا يحفظون إلا أنها تقف ورائهم
”ایک موقع پر عورت مردوں کی امام بن سکتی ہے، وہ ہے نماز تراویح، یہ اس صورت میں ہے جب عورت کو قرآن کریم حفظ ہو اور مردوں کو حفظ نہ ہو، البتہ وہ مردوں کے پیچھے کھڑی ہو گی۔“
(النساء، ص 190)
یہ حافظ ابن الجوزی رحمہ اللہ کی شاذ رائے ہے۔

سوال:

کیا مسجد میں نماز تراویح کی جماعت میں عورتیں شریک ہو سکتی ہیں؟

جواب:

باپردہ انتظام ہو تو ہو سکتی ہیں۔

سوال:

دکانوں پر تراویح کی امامت کرانا کیسا ہے؟

جواب:

اگر فرائض مسجد کی جماعت سے ادا کر لیے جائیں اور تراویح کی جماعت دکان پر کرالی جائے تو ایسا کرنا جائز ہے۔

سوال:

ایک امام کا آدھی آدھی رکعات تراویح دو مسجدوں میں پڑھانا کیسا ہے؟

جواب:

جائز ہے۔

سوال:

کیا نماز تراویح آٹھ رکعات ایک سلام سے پڑھنا جائز ہے؟

جواب:

جائز نہیں، تراویح دو دو رکعت کر کے پڑھنا مسنون ہے۔

سوال:

کیا تراویح کی ہر چار رکعات کے بعد کوئی مسنون دعا ثابت ہے؟

جواب:

اس موقع پر جتنی دعائیں یا تسبیحات پڑھی جاتی ہیں، یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور تابعین و محدثین سے ثابت نہیں، بلکہ یہ بعض میں جاری ہوئیں۔