مضمون کے اہم نکات
سوال:
حاملہ عورت کے روزہ کے بارے میں کیا کہتے ہیں؟
جواب:
سیدنا انس بن مالک کعبی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إن الله وضع عن المسافر الصوم وشطر الصلاة وعن الحبلى والمرضع
”اللہ تعالیٰ نے مسافر کو روزہ اور نماز کا نصف معاف کر دیا ہے، اسی طرح حاملہ اور دودھ پلانے والی کو بھی۔“
(سنن النسائي: 2315، وسنده حسن)
اس حدیث کو امام ترمذی رحمہ اللہ نے حسن اور امام ابن خزیمہ رحمہ اللہ (2044) نے صحیح کہا ہے۔
یاد رہے کہ اس حدیث میں صرف روزہ اور نماز کے وقتی طور پر معاف ہونے کا ذکر ہے، قضا دینی ہے یا نہیں، حدیث کا ظاہر اس بارے میں خاموش ہے، اس لیے فہم صحابہ سے اس کا معنی متعین کیا جائے گا۔
❀ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے حاملہ کے بارے میں پوچھا گیا جسے اپنے بچے کے نقصان کا خطرہ ہے، فرمایا:
”وہ روزہ چھوڑ دے، اس کے بدلے میں ایک مسکین کو ایک ’مد‘ (تقریباً نصف کلوگرام) گندم دے دے۔“
(السنن الكبرى للبيهقي: 4/230، وسنده صحيح)
❀ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے ایک حاملہ نے روزے کے بارے میں پوچھا تو فرمایا:
أفطري وأطعمي عن كل يوم مسكينا ولا تقضي
”روزہ چھوڑ دیں اور ہر دن کے بدلے ایک مسکین کو کھانا کھلا دیں، قضا نہ دیں۔“
(سنن الدارقطني: 1/207، ح: 2363، وسنده صحيح)
❀ نافع رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی بیٹی ایک قریشی کے نکاح میں تھیں، وہ حاملہ تھیں، رمضان میں اس نے پیاس محسوس کی تو آپ نے اسے حکم دیا کہ روزہ چھوڑ دیں، ہر روزے کے بدلے میں ایک مسکین کو کھانا کھلا دیں۔
(سنن الدارقطني: 1/207، ح: 2364، وسنده صحيح)
❀ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرمانِ باری تعالیٰ ﴿وَعَلَى الَّذِينَ يُطِيقُونَهُ فِدْيَةٌ﴾ (البقرة: 184) کی تفسیر میں فرماتے ہیں:
ثبتت للحبلى والمرضع
”یہ آیت حاملہ اور دودھ پلانے والی کے لیے ثابت (غیر منسوخ) رکھی گئی ہے۔“
(سنن أبي داود: 2317، وسنده صحيح)
❀ سعید بن جبیر رحمہ اللہ حاملہ اور دودھ پلانے والی جو اپنے بچے کے حوالے سے خائف ہو، کے بارے میں فرماتے ہیں کہ روزہ نہ رکھیں، ہر روزے کے بدلے میں ایک مسکین کو کھانا کھلا دیں، چھوڑے ہوئے روزے کی قضا بھی ان دونوں پر نہیں ہے۔
(مصنف عبد الرزاق: 4/216، ح: 7555، وسنده صحيح)
سعید بن مسیب رحمہ اللہ (تفسیر طبری: 2758، وسندہ حسن) اور عکرمہ رحمہ اللہ (تفسیر طبری: 2748، وسندہ صحیح) کا بھی یہی موقف ہے۔
تنبیہ:
بعض اہل علم کہتے ہیں کہ حاملہ اور مرضعہ فدیہ کے ساتھ روزے کی قضا بھی دیں گی، اس مؤقف پر کوئی دلیل معلوم نہیں ہو سکی۔
الحاصل:
حاملہ اور دودھ پلانے والی دونوں روزہ نہ رکھیں، ہر روزے کے بدلے ایک مسکین کو کھانا کھلا دیں، ان پر قضا نہیں۔
سوال:
روزے کی حالت میں تمباکو نوشی کا کیا حکم ہے؟
جواب:
تمباکو نوشی سے بالاتفاق روزہ ٹوٹ جاتا ہے۔
سوال:
بیوی کے پاس بیٹھنے سے انزال ہو جائے تو روزے کا کیا حکم ہے؟
جواب:
اس سے روزہ نہیں ٹوٹتا۔
سوال:
روزے دار کے سامنے اگر بتی جلانا کیسا ہے؟
جواب:
جائز ہے، اس سے روزے پر کچھ خلل واقع نہیں ہوتا۔
سوال:
عورت نے قصداً روزہ توڑ دیا، پھر اسے فوراً حیض آ گیا تو کیا حکم ہے؟
جواب:
عورت روزہ توڑنے پر گناہ گار ہوئی، اسے توبہ و استغفار کرنی چاہیے، نیز اس پر روزے کی قضا واجب ہے، کفارہ نہیں۔
سوال:
روزے دار نے بیوی سے جماع کیا مگر انزال نہ ہوا تو کفارہ لازم ہوگا؟
جواب:
انزال ہو یا نہ ہو، حالت روزہ میں دخول سے کفارہ لازم ہو جاتا ہے۔
سوال:
ایک شخص نے رمضان کا قضا روزہ رکھا ہے اور بیوی سے جماع کر لیا، کیا کفارہ لازم ہوگا؟
جواب:
رمضان کی قضا میں رکھا جانے والا روزہ فرض ہے اور ہر فرض روزہ میں جماع کرنے سے کفارہ لازم آئے گا۔
سوال:
نفلی روزے میں بیوی سے جماع کر لیا تو کیا حکم ہے؟
جواب:
روزہ ٹوٹ گیا، اس پر کفارہ نہیں، البتہ قضا مستحب ہے، واجب نہیں۔
سوال:
ایک شخص نے نذر کا روزہ رکھا ہے اور بیوی سے جماع کر لیا تو کیا حکم ہے؟
جواب:
اگر نذر یہ مانی تھی کہ کسی دن روزہ رکھے گا، دن یا تاریخ کو خاص نہیں کیا تھا تو جماع کی صورت میں اس پر کفارہ لازم نہیں، البتہ قضا واجب ہے اور اگر دن یا تاریخ کو خاص کیا تھا تو اس پر کفارہ اور قضا دونوں واجب ہیں۔
سوال:
کیا لواطت سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے؟
جواب:
لواطت زنا ہے، بلکہ زنا سے زیادہ سنگین جرم ہے۔ اس سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے، قضا و کفارہ بھی لازم ہوتا ہے۔
❀ علامہ حسین بن محمود مظہری حنفی رحمہ اللہ (727ھ) فرماتے ہیں:
الزنا في اللغة عبارة عن المجامعة في الفرج على وجه الحرام ويدخل في الزنى اللواطة وإتيان البهائم
”لغت میں زنا حرام ذریعے سے عورت کی شرمگاہ میں مجامعت کو کہتے ہیں، البتہ زنا میں لواطت اور چوپایوں کے ساتھ حرام کاری بھی آ جاتی ہے۔“
(المفاتيح في شرح المصابيح: 1/96)
سوال:
حالت روزہ میں کسی بزرگ کا تھوک تبرک کے طور پر چاٹ لیا تو کیا حکم ہے؟
جواب:
جہاں تک تعلق ہے بزرگ کے تھوک سے تبرک کا تو وہ جائز نہیں۔ تبرک صرف نبی سے حاصل کیا جا سکتا ہے، غیر نبی سے تبرک حاصل کرنا جائز نہیں۔
اگر کوئی روزہ دار قصداً بزرگ کا تبرک چاٹ لے تو اس کا روزہ ٹوٹ جائے گا، اس پر قضا واجب ہے، نیز توبہ و استغفار بھی کرے۔
سوال:
ایک شخص نے چاند دیکھ کر روزہ رکھا مگر دوسرے لوگوں نے نہیں مانا تو اس نے بھی توڑ دیا تو کیا حکم ہے؟
جواب:
اگر اسے یقین ہے کہ اس نے چاند دیکھا ہے تو اسے روزہ نہیں توڑنا چاہیے تھا، اگر توڑ دیا تو اس پر قضا واجب ہے۔
سوال:
تیسویں روزے دن کے وقت چاند دیکھا تو روزہ توڑ دیا، کیا بعد میں اس کی قضا واجب ہے؟
سوال:
غیر روزہ دار شوہر نے روزہ دار بیوی سے جماع کیا تو کیا حکم ہے؟
جواب:
بیوی پر قضا واجب ہے، کفارہ نہیں۔
سوال:
حالت روزہ میں بے ہوش ہو گیا تو لوگوں نے پانی پلا دیا، بعد میں ہوش آیا تو کیا اس کا روزہ ٹوٹ گیا؟
جواب:
اس کا روزہ ختم ہو گیا، اس پر قضا واجب ہے۔
سوال:
رمضان کے روزے میں دن کو سخت بخار ہو گیا تو کیا روزہ توڑ سکتا ہے؟
جواب:
توڑ سکتا ہے، قضا ہے، کفارہ نہیں۔
سوال:
ایک شخص کو بھولنے کی بیماری ہے، روزے کی حالت میں وہ بہت کچھ کھا پی لیتا ہے مگر اسے بعد میں یاد آتا ہے کہ میں روزے سے ہوں تو کیا حکم ہے؟
جواب:
وہ روزہ جاری رکھے۔ بھول کر کھانے پینے سے روزہ نہیں ٹوٹتا۔
سوال:
کیا سفر میں روزہ رکھنا یا چھوڑنا اختیاری ہے؟
جواب:
جی ہاں۔
❀ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں:
”حمزہ اسلمی رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دوران سفر روزہ رکھنے کے متعلق پوچھا، فرمایا: مرضی ہے، روزہ رکھنا چاہیں رکھ لیں، چھوڑنا چاہیں چھوڑ دیں۔“
(صحيح البخاري: 1943، صحيح مسلم: 1121)
سوال:
اگر سفر میں روزہ توڑنا پڑے تو کیا حکم ہے؟
جواب:
توڑ سکتا ہے، اگر فرض روزہ ہے تو اس کی قضا ضروری ہے اور اگر نفل ہے تو اس کی قضا مستحب ہے۔
سوال:
ایک شخص کو معلوم نہ تھا کہ بیوی سے جماع کرنے سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے، وہ ایک عرصہ تک جماع کرتا رہا، بعد میں معلوم ہوا تو کیا حکم ہے؟
جواب:
جب تک معلوم نہ تھا وہ معذور ہے، اس پر قضا یا فدیہ واجب نہیں۔
سوال:
جس روزہ دار نے ایک دن میں کئی مرتبہ بیوی سے جماع کیا تو اس پر کتنی بار کفارہ لازم ہوگا؟
جواب:
روزہ دار ایک دن میں جتنی مرتبہ بھی بیوی سے جماع کر لے، بہر حال اس پر ایک کفارہ ہی واجب ہوگا۔
❀ حافظ ابن عبد البر رحمہ اللہ (463ھ) فرماتے ہیں:
أجمعوا على أن ليس على من وطئ مرارا في يوم واحد إلا كفارة واحدة
”اہل علم کا اجماع ہے کہ جو ایک دن میں کئی مرتبہ جماع کر لے، اس پر ایک ہی کفارہ واجب ہوگا۔“
(الاستذكار: 3/318)
سوال:
لگاتار دو روزوں میں بیوی سے جماع کیا، کتنے کفارے لازم ہوئے؟
جواب:
دو کفارے ادا کرے گا۔
سوال:
رمضان میں رات کے کتنے وقت میں بیوی سے جماع کیا جا سکتا ہے؟
جواب:
غروب آفتاب سے طلوع فجر تک جماع کی اجازت ہے۔
فرمان باری تعالیٰ ہے:
أُحِلَّ لَكُمْ لَيْلَةَ الصِّيَامِ الرَّفَثُ إِلَىٰ نِسَائِكُمْ
”روزوں کی رات تمہارے لیے بیویوں سے جماع کرنا حلال کر دیا گیا ہے۔“
(البقرة: 187)
رات کا اطلاق غروب آفتاب سے طلوع فجر تک ہوتا ہے۔