مضمون کے اہم نکات
سوال:
روزہ کا کفارہ کیا ہے؟
جواب:
روزے کا کفارہ یہ ہے کہ ایک غلام کو آزاد کرے، اگر اس کی استطاعت نہیں تو دو ماہ کے لگاتار روزے رکھے، اگر اس کی طاقت نہیں تو ساٹھ مساکین کو کھانا کھلائے۔
سوال:
کفارہ کی قیمت مساکین کو دے دینا کیسا ہے؟
جواب:
جائز ہے۔
سوال:
ایک گھر میں آگ لگ گئی، کچھ افراد نے روزے توڑ دیے تو کیا حکم ہے؟
جواب:
ان پر قضا واجب ہے۔
سوال:
اگر کفارہ میں کسی غریب طالب علم کو دو ماہ تک کھانا کھلا دے تو کفارہ ادا ہو جائے گا یا نہیں؟
جواب:
ادا ہو جائے گا۔
سوال:
روزے کے کفارہ کی رقم مسجد یا مدرسہ کی تعمیر میں لگانا کیسا ہے؟
جواب:
درست نہیں، مدرسہ کے طلبا کو کھانا کھلایا جائے۔
سوال:
کیا روزہ کا کفارہ توبہ و استغفار سے معاف ہوگا یا نہیں؟
جواب:
کفارہ ادا کرنا ضروری ہے، توبہ سے معاف نہ ہوگا۔
سوال:
اگر کفارہ ادا کرنے کی طاقت نہ ہو تو کیا کرے؟
جواب:
جب فراخی ہو تو کفارہ ادا کر دے۔
سوال:
کیا قرض لے کر روزے کا کفارہ ادا کیا جا سکتا ہے؟
جواب:
جی ہاں۔
سوال:
کفارہ کا کھانا دس مسکینوں کو چھ دن کھلانا کیسا ہے؟
جواب:
جائز ہے۔
سوال:
کفارہ کا کھانا نابالغ بچے کھائیں تو ادا ہو جائے گا؟
جواب:
کفارہ کا کھانا نابالغ غریب و مسکین بچے کھائیں تو ادا ہو جائے گا۔
سوال:
اگر کوئی شخص کفارہ میں ایک ماہ کے روزے رکھے اور تیس مسکینوں کو کھانا کھلائے تو اس طرح کفارہ ادا ہو جائے گا؟
جواب:
اس طرح کفارہ ادا نہ ہوگا۔ وہ دو ماہ کے لگاتار روزے رکھے، اس کی استطاعت نہ ہو تو ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلائے۔
سوال:
اگر کفارہ کے روزے رکھ رہا تھا کہ درمیان میں بیماری کی وجہ سے ایک روزہ چھوٹ گیا تو کیا کفارہ میں روزوں کی گنتی دوبارہ سے شروع کرے گا یا ادھر سے ہی؟
جواب:
کفارہ کے روزے دو ماہ مسلسل رکھنا ضروری ہیں، البتہ اگر عذر یعنی بیماری یا سفر کی وجہ سے کوئی روزہ چھوٹ جائے تو کوئی حرج نہیں، بقیہ روزے پورے کرے گا اور اگر بغیر عذر روزہ چھوڑے تو کفارہ شروع سے ادا کرنا ہوگا۔
سوال:
کفارہ کے روزوں کے درمیان بقر عید آ گئی تو کیا کرے؟
جواب:
عید اور ایام تشریق کے دنوں میں روزے چھوڑ دے، کیونکہ ان دنوں میں روزے رکھنا جائز نہیں، اس کے بعد بقیہ روزے رکھ لے۔
سوال:
ایام تشریق میں نفلی روزہ رکھنا کیسا ہے؟
جواب:
ایام تشریق میں نفلی روزہ رکھنا جائز نہیں۔
نبیٰشہ ہزلی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
أيام التشريق أيام أكل وشرب
”ایام تشریق کھانے پینے کے دن ہیں۔“
(صحيح مسلم: 1141)
❀ حافظ ابن الجوزی رحمہ اللہ (597ھ) فرماتے ہیں:
اتفق العلماء على أنه لا يجوز أن يتطوع بصومها
”اہل علم کا اتفاق ہے کہ ایام تشریق میں نفلی روزہ رکھنا جائز نہیں۔“
(كشف المشكل: 2/131)
تنبیہ:
عیدین کے دن بھی نفلی روزہ رکھنا ممنوع ہے۔
❀ حافظ ابن الجوزی رحمہ اللہ (597ھ) فرماتے ہیں:
اتفق العلماء على أنه لا يجوز لأحد أن يتطوع بالصوم في يومي العيد
”اہل علم کا اتفاق ہے کہ کسی کے لیے عیدین کے دن نفلی روزہ رکھنا جائز نہیں۔“
(كشف المشكل: 3/128)
سوال:
ساٹھ مسکینوں کو دو وقت کھانا کھلانا ہے یا ایک وقت؟
جواب:
ایک وقت درمیانے درجہ کا کھانا کھلانا ہے۔