اطاعت رسولﷺ کی اہمیت قرآن و حدیث کی روشنی میں

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ ارشاد اللہ مان کی کتاب حق کی تلاش سے ماخوذ ہے۔

سنت کو مضبوطی سے پکڑنے کا بیان:

جو شخص عقیدے اور عمل میں سنت نبوی ﷺ پر عمل کرتا ہے اور خلفائے راشدین کے طریقہ پر چلتا ہے وہ کامیاب ہے۔ اور جو انسان بدعتی ہے اور اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت پر صبر نہیں کرتا اور خلفائے راشدین کے طریقے پر نہیں چلتا، بلکہ اللہ اور اس کے رسول کی مقرر کردہ حدود سے باہر نکل جاتا ہے، وہ ناکام ہے۔ یادر ہے کہ سنت کی تین قسمیں ہیں:

[1] سنت قولی:

(یعنی) رسول اللہ ﷺ کا زبانی ارشاد مبارک سنت قولی کہلاتا ہے۔ مثلاً آپ کا فرمان: کھانا کھانے سے پہلے بسم اللہ پڑھو۔

[مسلم، كتاب الأشربة، باب آداب الطعام والشراب و أحكامهما:2022]

[2] سنت عملی:

رسول اللہ ﷺ کے عمل مبارک کو سنت عملی کہتے ہیں۔ جیسے صحابہ کرام رضي اللہ عنہم فرماتے ہیں: جب ہم نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو رسول اللہ ﷺ ہماری صفیں درست فرماتے اور جب ہم سیدھے کھڑے ہو جاتے تو پھر اللہ اکبر کہہ کر نماز شروع فرماتے۔ [أبو داود، كتاب الصلوة، باب تسوية الصفوف:665]

[3] سنت تقریری:

رسول اللہ ﷺ کی موجودگی میں جو کام کیا گیا ہو اور آپ ﷺ نے خاموشی اختیار فرمائی ہو یا اس پر اظہار پسندیدگی کیا ہو، اسے سنت تقریری کہتے ہیں۔ مثلاً رسول اللہ ﷺ نے ایک آدمی کو صبح کی نماز کے بعد دو رکعتیں پڑھتے دیکھا تو فرمایا صبح کی نماز تو دو رکعت ہے۔ اس آدمی نے جواب دیا میں نے فرض نماز سے پہلے دو رکعتیں نہیں پڑھی تھیں لہذا اب پڑھی ہیں۔

رسول اللہ ﷺ یہ جواب سن کر خاموش ہو گئے (یعنی اس کی اجازت دے دی)۔ [أبو داود، كتاب التطوع باب من فاتته متى يقضيها:1267]

سنت کی یہ تینوں قسمیں ایک ہی مرتبے کی ہیں اور شریعت میں حجت کا درجہ رکھتی ہیں، کیونکہ:

[1] دین کے معاملہ میں رسول اللہ ﷺ کے حکم کی اطاعت فرض ہے۔ (الأنفال:20)،(النور:56)،(النساء:80)

[2] رسول اللہ ﷺ کی اطاعت اور اتباع کامیابی کی ضمانت ہے۔ (النور:52،51)

[3] اللہ اور رسول اللہ ﷺ کے حکم کے مطابق کیسے اعمال کا پورا پورا اجر و ثواب ملے گا۔ (الحجرات:14)

[4] گناہوں کی مغفرت رسول اللہ ﷺ کی اتباع کے ساتھ مشروط ہے۔ (آل عمران:31)

[5] اللہ اور رسول ﷺ کی اطاعت کرنے والے لوگ قیامت کے دن نبیوں، صدیقوں، شہیدوں اور نیک لوگوں کے ساتھ ہوں گے۔ (النساء:69)

[6] اللہ اور رسول ﷺ اللہ پر ایمان لانے کے باوجود بعض لوگ عملاً اللہ اور رسول ﷺ کا حکم نہیں مانتے، ایسے لوگ مومن نہیں۔ (النساء:61)

[7] اللہ اور رسول ﷺ کی اطاعت نہ کرنے کا نتیجہ باہمی انتشار اور لڑائی جھگڑے ہیں۔ (الأنفال:46)

[8] اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی نافرمانی گمراہی ہے۔ (الأحزاب:36)

[9] اللہ اور اس کے رسولﷺ کی نافرمانی کرنے والے اپنے عمل کے خود جواب وہ ہوں گے: (المائدة:92)

[10] اللہ اور رسول ﷺ کی نافرمانی کرنے کی سزا جہنم اور رسوا کر کی نافرمانی کرنے کی سزا جہنم اور رسوا کن عذاب ہے۔ (الفتح:17)

[11] سنت کی اتباع کرنے والوں کو رسول اللہ ﷺ نے جنت کی خوشخبری دی ہے۔

[بخاری، کتاب الاعتصام بالكتاب والسنة، باب الإقتداء بسنن رسول اللهﷺ:7280]

[12] رسول اللہ ﷺ کی اطاعت اور فرماں برداری اللہ کی اطاعت اور فرماں برداری ہے۔ (النساء:80،64)

[13] امت میں اختلافات کے وقت آپ ﷺ کی سنت پر مضبوطی سے جمے رہنا ہی نجات کا باعث ہوگا۔

[أبو داود، كتاب السنة ، باب في لزوم السنة:4607]

[14] وہ عمل قابل ثواب ہے جو سنت رسول ﷺ کے مطابق ہو۔ جس نے رسول اللہ ﷺ کی سنت سے منہ موڑا اس کا آپ ﷺ سے کوئی تعلق نہیں۔ [بخاری، کتاب النکاح باب الترغيب في النكاح:5073]

[15] سنت کا علم ہو جانے کے بعد اس پر عمل نہ کرنے والے لوگوں کو رسول اللہ ﷺ نے نا فرمان کہا۔

[مسلم، کتاب الصيام، باب جواز الصوم والفطر في شهر رمضان للمسافر في غير معصية …… الخ:1114]

یہاں دو سوال پیدا ہوتے ہیں:

[1] کیا توحید کے بغیر انسان مسلمان کہلا سکتا ہے؟ قرآن تو یہی کہتا ہے کہ جس کے پاس توحید نہیں وہ مسلمان نہیں ہے۔

[2]  کیا اطاعت رسول ﷺ کے بغیر محبت رسول ﷺ کے دعوی کے کوئی معنی ہیں؟ اطاعت رسول ﷺ کے بغیر محبت رسول ﷺ کا دعویٰ بے معنی ہے۔