حج کے احکامات، ترک حج کی ممانعت اور حجر اسود کی عظمت

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ حسین بن مبارک الموصلی کی عربی کتاب الاوامر والنواهي سے ماخوذ ہے جس کا اُردو ترجمہ محمد سرور گوہر صاحب نے احکامات و ممنوعات کے نام سے کیا ہے۔

حج کے متعلق احکامات

① سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا:
من حج لله عزوجل فلم يرفث و لم يفسق رجع كيوم ولدته أمه
”جس شخص نے اللہ عزوجل کی رضا کے لیے حج کیا اور اس دوران فسق و فجور کا ارتکاب نہ کیا تو وہ (گناہوں سے پاک ہو کر) اس روز کی طرح لوٹتا ہے، جس روز اس کی والدہ نے اسے (گناہوں سے پاک) جنم دیا تھا“۔
بخاری، کتاب الحج 1521۔ مسلم، كتاب الحج 1350۔
② سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
تابعوا بين الحج والعمرة فإنهما ينفيان الذنوب والفقر كما ينفي الكير خبث الحديد والذهب والفضة وليس لحجة مبرورة ثواب إلا الجنة
”حج اور عمرہ کرتے رہا کرو اس لیے کہ وہ گناہوں اور فقر و محتاجی کو ایسے مٹا دیتے ہیں جیسے بھٹی لوہے، سونے اور چاندی کی میل کچیل ختم کر دیتی ہے۔ حج مبرور کی جزا جنت ہے“۔
ترمذى، كتاب الحج عن رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم 810۔ روایت صحیح ہے۔
③ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
من أراد الحج فليتعجل
”جو شخص حج کرنے کا ارادہ کرے تو وہ جلدی کرے“۔
ابوداؤد، کتاب المناسك 1732۔

ترک حج کی ممانعت

① سیدنا علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
من ملك راحلة و زادا تبلغه إلى بيت الله الحرام ، ولم يحج فلا عليه أن يموت يهوديا أو نصرانيا، وذلك أن الله تعالى يقول : ﴿ وَلِلَّهِ عَلَى النَّاسِ حِجُّ الْبَيْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ إِلَيْهِ سَبِيلًا﴾
”جس شخص کے پاس سواری اور اس قدر زادِ راہ ہو جو اسے بیت اللہ الحرام تک پہنچا دے اور وہ پھر بھی حج نہ کرے تو پھر اللہ کو اس کی کوئی پروا نہیں کہ وہ یہودی بن کر فوت ہو یا عیسائی بن کر۔ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: (جو لوگ راستے کی استطاعت رکھتے ہوں ان پر اللہ کے لیے حج کرنا فرض ہے)“۔
ترمذی الحج، حدیث 812۔ اس کی سند میں بلال بن عبداللہ مجہول ہے اور حارث حدیث میں ضعیف ہے۔ نصب الرايه للزيلعي: 410/4۔

حجر اسود کی عظمت اور اس کے متعلق احکامات

① سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجر اسود کے متعلق فرمایا:
والله ليبعثنه الله يوم القيامة له عينان يبصر بهما ولسان ينطق به يشهد على من استلمه بحق
”اللہ کی قسم! اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اسے دو آنکھوں کے ساتھ اٹھائے گا پس وہ ان کے ساتھ دیکھے گا اور زبان کے ساتھ اٹھائے گا اور جس نے اسے حق کے ساتھ چوما ہوگا اس کے متعلق گواہی دے گا“۔
ترمذي ، كتاب الحج ، حدیث 961۔ اس کی سند حسن ہے۔