یوم عاشوراء کے روزے، شعبان کے روزوں اور سوموار و جمعرات کے روزے کے احکامات

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ حسین بن مبارک الموصلی کی عربی کتاب الاوامر والنواهي سے ماخوذ ہے جس کا اُردو ترجمہ محمد سرور گوہر صاحب نے احکامات و ممنوعات کے نام سے کیا ہے۔

یوم عاشوراء (دس محرم) کے روزے کے احکامات

① سیدنا ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دس محرم کے روزے کے متعلق دریافت کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
يكفر السنة الماضية
”اس سے گزشتہ سال کے گناہ معاف ہو جاتے ہیں۔“
مسلم، کتاب الصيام 1162۔ ترمذی، کتاب الصوم 752۔
② سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دس محرم کا روزہ رکھا اور اس کا روزہ رکھنے کا حکم فرمایا۔
بخاری کتاب الصوم 2004۔ مسلم، كتاب الصيام 1130/1128۔
③ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما ہی بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لئن بقيت إلى قابل لأصومن التاسع
”اگر میں آئندہ سال زندہ رہا تو میں نو محرم کو (بھی) روزہ رکھوں گا۔“
مسلم كتاب الصيام 1134۔ ابو داؤد، کتاب الصوم 2445۔
وضاحت: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہودیوں کی مخالفت کی وجہ سے نو محرم کا روزہ رکھنے کا ارادہ فرمایا۔ کیونکہ یہودی بھی دس محرم کا روزہ رکھتے تھے۔ دوسری بات یہ بھی ہو سکتی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دس محرم کا ایک روزہ رکھنے کی بجائے نو محرم کا بھی روزہ ساتھ ملا لیا ہو۔ واللہ اعلم

شعبان کے روزوں کے احکامات

① سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم شعبان سے زیادہ کسی اور ماہ کے روزے نہیں رکھتے تھے کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پورا شعبان روزے رکھتے تھے۔ اور ایک روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم شعبان میں کم روزے رکھتے تھے۔
بخاری، کتاب الصوم 1970۔ مسلم، كتاب الصيام 176/1156۔
② سیدنا ابن ملحان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں ایامِ بیض (چاند کی تیرہ، چودہ اور پندرہ تاریخ) کے روزے رکھنے کا حکم فرمایا کرتے تھے۔
ابو داؤد, کتاب الصوم 2449۔ ابن ماجه، کتاب الصيام 1707۔ روایت حسن ہے۔
③ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سفر و حضر میں بھی ایامِ بیض کے روزے نہیں چھوڑتے تھے۔
نسائی، کتاب الصيام 4 / 198 – 199۔ الصحيحة للألباني 580۔
نوٹ: چاند کی تیرہ، چودہ اور پندرہ تاریخ کو ایامِ بیض اس لیے کہتے ہیں کہ ان کی راتیں خوب روشن ہوتی ہیں۔ کیونکہ ان راتوں میں چاند پوری رات آب و تاب کے ساتھ چمکتا دمکتا ہے۔

سوموار اور جمعرات کا روزہ رکھنا

① سیدنا ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوموار کے روزے کے متعلق پوچھا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
ذلك يوم ولدت فيه ، ويوم بعثت فيه ، وأنزل على فيه
”یہ وہ دن ہے جس روز میں پیدا ہوا، اسی روز مجھے نبوت عطا ہوئی اور اسی روز مجھ پر وحی نازل ہوئی۔“
مسلم، كتاب الصيام 197/1162۔ مسند احمد، باقی مسند الانصار 297/5۔
② سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
تعرض الأعمال يوم الإثنين والخميس فأحب أن يعرض عملي وأنا صائم
”سوموار اور جمعرات کے دن اعمال پیش کیے جاتے ہیں، اس لیے میں پسند کرتا ہوں کہ میرے عمل پیش ہوں تو میں روزے سے ہوں۔“
ترمذي، كتاب الصوم 747۔ روایت صحیح ہے۔
③ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سوموار اور جمعرات کے دن روزہ رکھنے کی کوشش کیا کرتے تھے۔
ترمذی، کتاب الصوم 745۔ ابن ماجه، کتاب الصيام 1739۔ روایت حسن ہے۔