قربانی کے جانور کی آنکھ اور کان کے عیوب کا حکم

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ فاروق رفیع صاحب کی کتاب قُربانی، عقیقہ اور عشرہ زی الحجہ سے ماخوذ ہے۔

کان اور آنکھ کا عیوب سے پاک ہونا

قربانی کے جانور کی آنکھوں اور کانوں کا جملہ عیوب سے پاک ہونا صحتِ قربانی کی شرط ہے۔
① سیدنا علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
أمرنا رسول الله صلى الله عليه وسلم أن نستشرف العين والأذن
”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ ہم (قربانی کے جانور کی) آنکھ اور کان خوب اچھی طرح دیکھ لیں۔“
حسن: سنن نسائي، كتاب الضحايا، الشرقاء وهى مشقوقة الأذن: 4381۔ مصنف عبدالرزاق: 13437۔ سنن دارمی: 1951۔ صحیح ابن خزیمہ: 2914۔ مسند أحمد: 105/1۔ (جمیہ بن عدی حسن درجے کا راوی ہے )۔
② سیدنا علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
أمرنا رسول الله صلى الله عليه وسلم أن نستشرف العين والأذن ولا نضحي بعوراء ولا مقابلة ولا مدابرة ولا خرقاء ولا شرقاء
”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ ہم (قربانی کے جانور کے) آنکھ اور کان اچھی طرح دیکھیں اور ہم کانا، ایسا جانور جس کے کان آگے سے کٹ کر لٹکے ہوں، ایسا جانور جس کے کان پیچھے سے کٹ کر لٹکے ہوں، ایسا جانور جس کے کان طول و عرض میں پھٹے ہوں اور ایسا جانور جس کے کان میں گول سوراخ ہو، قربانی نہ کریں۔“
حسن: سنن أبي داود، كتاب الضحايا، باب ما يكره من الضحايا: 2804۔ جامع ترمذي، أبواب الأضاحي، باب ما يكره من الأضاحي: 1498۔ سنن نسائی، كتاب الضحايا، المدابرة وهي ما قطع من مؤخر أذنها: 4378۔ مسند أحمد: 108/1۔ مستدرک حاکم: 224/4۔
مذکورہ کتب میں ابو اسحاق سبیعی کا عنعنہ ہے۔ ابو اسحاق سبیعی مدلس راوی ہیں۔ مدلس راوی کا عنعنہ ضعف حدیث کی علامت ہے ، لیکن مستدرک حاکم (224/40) میں ہے قیس بن ربیع بیان کرتے ہیں :
قلت لأبى إسحاق : سمعته من شريح، قال : حدثني ابن أشوع عنه
میں نے ابو اسحاق سبیعی سے پوچھا تو نے یہ حدیث شریح بن نعمان سے سنی ہے۔ انھوں نے بیان کیا، مجھے یہ حدیث ابن اشوع نے شریح سے بیان کی ہے۔ ابن اشوع کا نام سعید بن عمرو بن اشوع ہمدانی ہے، لہذا اس توضیح سے ابو اسحاق سبیعی کی تدلیس کا ازالہ ہو گیا ہے۔ شریح بن نعمان صدوق راوی ہے۔

فوائد:

① قربانی کے جانور کی آنکھیں کانا پن اور اندھا پن سے سلامت ہوں اور قربانی کے جانور کے انتخاب کے لیے آنکھ کے امراض کی خوب تحقیق کرنی چاہیے اور صحتِ قربانی کے لیے جانور کا کانا پن اور اندھا پن سے سالم ہونا لازم ہے۔
② قربانی کے جانور کے کان کٹے ہوئے اور پھٹے ہوئے نہیں ہونے چاہئیں اور نہ کانوں میں سوراخ ہوں، چنانچہ جس جانور کے کان کٹے ہوں، پھٹے ہوں یا ان میں سوراخ ہوں ایسے جانور کی قربانی درست نہیں، البتہ ایسا جانور جس کے کانوں پر رگڑ یا ایسا زخم ہے جس سے کان چرا، کٹا یا پھٹا نہیں اور نہ ہی اس سے کان میں سوراخ ہوا ہے، ایسے جانور کی قربانی جائز ہے۔