وسیلہ کا مطلب اللہ کی رضاء والے اعمال کرنا ہے
یعنی اگر تم اسے اس طرح نہ پکارو جس طرح اس نے حکم دیا ہے کہ اس کی اطاعت کرو اور اس کی عبادت کرو اور اس کے رسولوں کی اتباع کرو تو پھر وہ تمہاری پرواہ تک نہ کرے گا۔ گویا عمل ہی وہ وسیلہ ہے جس کا حکم رب کریم نے دیتے ہوئے فرمایا:
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَابْتَغُوا إِلَيْهِ الْوَسِيلَةَ
”اے لوگو جو ایمان لائے ہو اللہ سے ڈرو اور اس کی جناب میں باریابی کا ذریعہ تلاش کرو۔“
(5-المائدة:35)
ابن عباس رضی اللہ عنہما، مجاہد عطاء اور افراء رضی اللہ عنہ جیسے مفسرین نے لکھا ہے کہ وسیلہ سے مراد قرب ہے۔ قتادہ رضی اللہ عنہ کا کہنا ہے: ”جن اعمال سے اللہ راضی ہوتا ہے ان پر عمل کر کے اس کا قرب حاصل کرو۔“
ابو عبید رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ:
توسلت اليه کے معنی تقرب کے ہیں۔ یعنی میں نے اس کا قرب حاصل کرنے کی کوشش کی۔
عبدالرحمن بن زید کا قول یہ ہے کہ:
تحب اور تقرب الي الله کی صورت صرف ایک ہی ہے اور وہ یہ کہ اس کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کی جائے۔