نیکی کا حکم دینے اور برائی سے روکنے کا ثواب
دین کی نشر و اشاعت کا ایک شعبہ امر بالمعروف و نہی عن المنکر بھی ہے، یعنی نیکی کا حکم دینا اور برائی سے روکنا۔ لہذا اسے یہاں اس عظیم کام کی اور اس کے حاملین کے چند ایک فضائل بیان کیے جاتے ہیں:
﴿التَّائِبُونَ الْعَابِدُونَ الْحَامِدُونَ السَّائِحُونَ الرَّاكِعُونَ السَّاجِدُونَ الْآمِرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَالنَّاهُونَ عَنِ الْمُنكَرِ وَالْحَافِظُونَ لِحُدُودِ اللَّهِ ۗ وَبَشِّرِ الْمُؤْمِنِينَ﴾
”وہ ایسے ہیں جو توبہ کرنے والے، عبادت کرنے والے، حمد کرنے والے، روزہ رکھنے والے، رکوع اور سجدہ کرنے والے، نیک باتوں کی تعلیم کرنے والے، اور بری باتوں سے باز رکھنے والے اور اللہ کی حدوں کا خیال رکھنے والے ہیں۔ اور ایسے مؤمنین کو آپ خوش خبری سنا دیجیے۔“
(9-التوبة:112)
اس آیت مقدسہ میں اللہ تعالیٰ نے اپنے مؤمن و کامیاب بندوں کی صفات بیان فرمائی ہیں۔ انہی صفات میں سے ایک امر بالمعروف و نہی عن المنکر بھی ہے۔ اور ایسے مؤمنین کے لیے جنت کی بشارت ہے:
﴿وَلْتَكُن مِّنكُمْ أُمَّةٌ يَدْعُونَ إِلَى الْخَيْرِ وَيَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنكَرِ ۚ وَأُولَٰئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ﴾
”تم میں سے ایک جماعت ایسی ہونی چاہیے جو بھلائی کی طرف بلائے، اور نیک کاموں کا حکم کرے، اور برے کاموں سے روکے اور یہی لوگ فلاح و نجات پانے والے ہیں۔“
(3-آل عمران:104)
﴿كُنتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَتَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنكَرِ وَتُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ ۗ وَلَوْ آمَنَ أَهْلُ الْكِتَابِ لَكَانَ خَيْرًا لَّهُم ۚ مِّنْهُمُ الْمُؤْمِنُونَ وَأَكْثَرُهُمُ الْفَاسِقُونَ﴾
”تم بہترین امت ہو جو لوگوں کے لیے ہی پیدا کی گئی ہے کہ تم نیک باتوں کا حکم کرتے ہو اور بری باتوں سے روکتے ہو، اور اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھتے ہو اگر اہل کتاب بھی ایمان لاتے تو ان کے لیے بہتر تھا، ان میں ایمان والے بھی ہیں لیکن اکثر تو فاسق ہیں۔“
(3-آل عمران:110)
ان آیات میں بھی اللہ تعالیٰ نے امر بالمعروف و نہی عن المنکر کرنے والے کی خیریت اور فلاح بیان کی ہے۔ یعنی کہ امر بالمعروف ۔۔ کوئی معمولی کام نہیں، بلکہ نجات کے امور میں سے ہے۔ اور جو اسے معمولی سمجھتے ہوئے اس پر عمل کرنے سے گریزاں ہیں یا دوسروں کو تو عمل کرنے کی دعوت دیتے لیکن ان پر عمل کرنے سے تہی دامن ہیں تو ایسے لوگوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:
﴿لُعِنَ الَّذِينَ كَفَرُوا مِن بَنِي إِسْرَائِيلَ عَلَىٰ لِسَانِ دَاوُودَ وَعِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ ۚ ذَٰلِكَ بِمَا عَصَوا وَّكَانُوا يَعْتَدُونَ. كَانُوا لَا يَتَنَاهَوْنَ عَن مُّنكَرٍ فَعَلُوهُ ۚ لَبِئْسَ مَا كَانُوا يَفْعَلُونَ.﴾
”بنی اسرائیل کے کافروں پر داؤد اور عیسیٰ بن مریم کی زبانی لعنت کی گئی اس وجہ سے کہ وہ نافرمانیاں کرتے تھے اور حد سے آگے بڑھ جاتے تھے۔ آپس میں ایک دوسرے کو برے کاموں سے جو وہ کرتے تھے روکتے نہ تھے، جو کچھ بھی یہ کرتے تھے یقیناً وہ بہت برا تھا۔“
(5-المائدة:78،79)
عن أبى سعيد الخدري رضى الله عنه قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: من رأى منكم منكرا فليغيره بيده ، فإن لم يستطع فبلسانه ، فإن لم يستطع فبقلبه وذلك أضعف الإيمان
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”جو شخص تم میں سے کسی برائی کو (ہوتے) دیکھے، تو اسے اپنے ہاتھ سے روک دے۔ اگر (ہاتھ سے روکنے کی) طاقت نہیں ہے تو زبان سے (اس کی برائی کو واضح کرے) اگر اس کی بھی طاقت نہ ہو تو دل سے (اسے برا جانے) اور یہ ایمان کا کمزور ترین درجہ ہے۔“
صحیح مسلم، كتاب الإيمان، باب بيان كون النهي عن المنكر من الإيمان، رقم: 177.
اس حدیث سے واضح ہوا کہ امر بالمعروف ۔۔ ایمان میں سے ہے۔ جو شخص امر بالمعروف ۔۔ پر عمل پیرا ہے، وہ ایمان کے اعلیٰ درجہ پر ہے۔ اور در حقیقت امر بالمعروف۔۔ کرنے والا لوگوں کا بڑا خیر خواہ ہوتا ہے۔ اور خیر خواہی کا تقاضا ہے کہ نقصان دہ امور سے خبر دار اور سودمند امور کی طرف رہنمائی کی جائے۔
عن ابن مسعود رضى الله عنه ، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: ما من نبي بعثه الله فى أمة قبلي ، إلا كان له من أمته حواريون وأصحاب يأخذون بسنته ويقتدون بأمره، ثم إنها تخلف من بعدهم خلوف، يقولون ما لا يفعلون، ويفعلون مالا يؤمرون ، فمن جاهدهم بيده فهو مؤمن ، ومن جاهدهم بقلبه فهو مؤمن ، ومن جاهدهم بلسانه فهو مؤمن ، وليس وراء ذلك من الإيمان حبة خردل
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”مجھ سے پہلے اللہ نے جو نبی بھی بھیجا، اس کے اس کی امت میں سے حواری اور ساتھی ہوتے، جو اس کی سنت پر عمل اور اس کے حکم کی اقتدا کرتے، پھر ان کے بعد ایسے ناخلف لوگ پیدا ہوئے جو ایسی باتیں کہتے جو وہ کرتے نہیں تھے، اور وہ کام کرتے تھے جن کا انہیں حکم نہیں دیا جاتا تھا۔ پس جو شخص ان سے ہاتھ سے جہاد کرے گا، وہ مؤمن ہے، اور جو ان سے دل کے ساتھ جہاد کرے گا، وہ مؤمن ہے، جو ان سے اپنی زبان سے جہاد کرے گا، وہ مؤمن ہے اور اس کے علاوہ رائی کے دانے کے برابر بھی ایمان کا (درجہ) نہیں۔“
صحیح مسلم، كتاب الإيمان، باب بيان كون النهي عن المنكر من الإيمان، رقم: 50 .
؎ پرواز ہے دونوں کی اسی ایک فضا میں
کرگس کا جہاں اور ہے شاہیں کا جہاں اور
عن أبى سعيد الخدري رضى الله عنه عن النبى صلى الله عليه وسلم قال: إياكم والجلوس فى الطرقات ، فقالوا : يا رسول الله ! مالنا بد من مجلسنا ، نتحدث فيها ، قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : فإذا أبيتم إلا المجلس فأعطوا الطريق حقه، قالوا: وما حقه؟ قال: غض البصر ، وكف الأذى ، ورد السلام ، والأمر بالمعروف ، والنهي عن المنكر
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”تم راستوں میں بیٹھنے سے بچو! صحابہ نے عرض کیا، یا رسول اللہ! ہمارے لیے ان مجلسوں کے بغیر چارہ نہیں، ہم وہاں بیٹھ کر باتیں کرتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر تم نے وہاں ضرور بیٹھنا ہی ہے تو تم راستے کو اس کا حق دو۔“ صحابہ رضی اللہ عنہم نے کہا، یا رسول اللہ! راستے کا حق کیا ہے؟ آپ نے فرمایا: ”نگاہوں کو پست رکھنا، تکلیف دہ چیزوں کو راستے سے ہٹا دینا (یا خود تکلیف پہنچانے سے باز رہنا) سلام کا جواب دینا، نیکی کی تلقین کرنا اور برائی سے روکنا۔“
صحيح بخاري كتاب المظالم، باب أفنية الدور والجلوس على الصعدات ، رقم: 2465 – صحیح مسلم، کتاب اللباس، باب النهي عن الجلوس في الطرقات، رقم: 2121.
عن حذيفة رضي الله عنه عن النبى صلى الله عليه وسلم قال: والذي نفسي بيده! لتأمرن بالمعروف، ولتنهون عن المنكر ، أو ليوشكن الله أن يبعث عليكم عقابا منه ، ثم تدعونه فلا يستجاب لكم
سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، تم ضرور ضرور نیکی کا حکم کرو اور ضرور ضرور برائی سے روکو، ورنہ قریب ہے کہ اللہ تعالیٰ تم پر اپنی طرف سے کوئی عذاب بھیج دے، پھر تم اس سے دعائیں کرو گے لیکن وہ قبول نہیں کی جائیں گی۔“
سنن ترمذي، أبواب الفتن، باب ماجاء في الأمر بالمعروف والنهي عن المنكر، رقم: 2169- سلسلة الصحيحة، رقم: 2868.
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”اولاد آدم میں سے ہر انسان کو تین سو ساٹھ جوڑوں پر پیدا کیا گیا ہے۔ پس جس نے اللہ اکبر، الحمد للہ، لا الہ الا اللہ، سبحان اللہ، استغفر اللہ کہا، لوگوں کے راستے سے کوئی پتھر یا کانٹا یا ہڈی کو ہٹایا، نیکی کا حکم دیا اور برائی سے روکا، یہ عمل اس نے (جسم کے) تین سو ساٹھ جوڑوں کی تعداد کے برابر کیے تو وہ اس روز اس حال میں شام کرے گا کہ اس نے یقیناً اپنے آپ کو نار جہنم سے بچا لیا ہو گا۔“
صحیح مسلم، کتاب الزكاة ، رقم : 1007 .
ائمہ محدثین کا امر بالمعروف و نہی عن المنکر پر بڑی تندہی سے عمل کرتے تھے۔ جیسا کہ شجاع بن الولید کہتے ہیں:
”میں نے امام سفیان رحمہ اللہ کے ساتھ سفر کیا تو سفیان رحمہ اللہ چلتے پھرتے اپنی زبان سے لوگوں کو نیکی کا حکم دیتے اور برائی سے منع کرتے تھے۔“
سیر اعلام النبلاء: 259/7 .
اس طرح سفیان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
”جب کسی شخص کے پڑوسی اس کی تعریف پر رطب اللسان ہوں تو ایسا (حقیقت میں) برا ہے، اس لیے کہ وہ بسا اوقات انھیں برائی کرتے دیکھتا ہے تو منع نہیں کرتا، بلکہ خندہ پیشانی سے ان سے ملاقات کرتا ہے۔“
سیر اعلام النبلاء: 278/6