تصویر کشی اور فوٹوگرافی کا شرعی حکم احادیثِ نبویہ کی روشنی میں

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ عبدالعزیز بن عبداللہ بن باز رحمہ اللہ کی کتاب "اسلام میں تصویر کا حکم” سے ماخوذ ہے۔

تصویر کا شرعی حکم

بسم اللہ الرحمن الرحیم

سوال:

تصویر کے حکم میں آپ کا کیا فتویٰ ہے؟ جبکہ اس کی وجہ سے (شوق پورا کرنے کیلئے تصویر میں اتروانے اور بے حیائی کی اشاعت والی) مصیبت عام ہو گئی ہے۔ لوگ اس کام میں پورے پورے منہمک ہو گئے ہیں۔ تسلی بخش جواب سے مستفید فرمائیں کہ جس سے اس کا حرام اور حلال ہونا واضح ہو جائے۔ اللہ ذوالجلال آپ کو اس کا پورا پورا اجر عطا فرمائے۔ (آمین)

جواب:

[الحمد للٰہ وحدہٗ والصلاة والسلام علٰی من لا نبی بعدہٗ أما بعد]

ہر ذی روح چیز کی تصویر بنانے (اور تصویر اتارنے) کے متعلق احادیث مبارکہ کی تمام صحاح، مسانید اور سنن کی کتب میں نبی کریم ﷺ سے بہت ساری حدیثیں بیان ہوئی ہیں جو اس کے حرام ہونے پر دلالت کرتی ہیں۔ چاہے یہ جاندار کوئی بشر ہو یا کوئی اور چیز (جیسے درندے، پرندے اور چوپائے وغیرہ) اسی طرح احادیث مبارکہ میں ان پردوں کے پھاڑ دینے (اتار پھینکنے) کا حکم بھی ہے جن پر تصویریں ہوں اور تصویروں کے مٹا دینے کا حکم ہے۔ آپ ﷺ نے تصویریں بنانے اور اتارنے والوں پر لعنت فرمائی ہے۔ ان احادیث میں یہ بیان بھی ہے کہ بلاشبہ تصویریں بنانے/اتارنے والے قیامت کے دن لوگوں میں سب سے زیادہ سخت عذاب میں ہوں گے۔

اس موضوع سے متعلق صحیح احادیث کو میں اختصار کے ساتھ آپ کے سامنے بیان کرتا ہوں بعض علماء کرام کی ان احادیث کے اوپر کلام و تشریح بھی ذکر کروں گا اور اس مسئلہ میں جو بات درست ہے وہ بھی ان شاء اللہ بیان کروں گا۔ چنانچہ بخاری و مسلم میں: [عن أبی ھریرة رضی اللہ عنہ قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال اللہ تعالٰی: ومن أظلم ممن ذہب یخلق خلقا کخلقی فلیخلقوا ذرة، أو لیخلقوا حبة، أو لیخلقوا سعیرة] سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ فرماتا ہیں اس شخص سے بڑھ کر ظالم کون ہو سکتا ہے جو میری تخلیق کی طرح کسی چیز کی پیدائش کرنے چلا ہو؟ (اگر اس طرح کے لوگ کچھ ایسی ہی صلاحیت کے مالک ہیں) تو انہیں ایک ذرہ ہی پیدا کر کے دکھانا چاہیے یا پھر وہ ایک دانہ یا ایک چھوٹا سا ہال ہی پیدا کر کے دکھائیں (مگر ان کیلئے ایسا کرنا ممکن ہی نہیں) یہ صحیح مسلم کے الفاظ ہیں۔ [صحیح المسلم:2111]

بخاری اور مسلم میں ہے: [عن عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: إن أشد الناس عذابا یوم القیامة المصورون]

(لفظ البخاری) سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے بھی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: بلاشبہ قیامت والے دن لوگوں میں سب سے زیادہ سخت عذاب والے مصورین ہوں گے۔ [صحیح البخاری:5950، صحیح المسلم:2109]

[عن ابن عمر رضی اللہ عنھما قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: إن الذین یصنعون ھٰذہ الصور یعذبون یوم القیامة یقال لھم: أحیوا ما خلقتم]

سیدناعبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: بالتحقیق وہ لوگ جو یہ تصویریں بناتے ہیں قیامت والے دن ان کو عذاب دیا جائے گا اور ان سے کہا جائے گا: جو تم نے تخلیق کی ہے اسے (روح ڈال کر) زندہ کرو۔ (یہ صحیح بخاری کے الفاظ ہیں) [صحیح البخاری:5951، صحیح المسلم:2108]

امام محمد بن اسماعیل رحمہ اللہ نے اپنی صحیح بخاری میں حضرت ابو جحیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا کہ: رسول اللہ ﷺ نے کتے اور خون کی قیمت (لینے) اور گناہ کی کمائی سے منع فرمایا ہے۔ آپ ﷺ نے سود کھانے والے، سود کھلانے والے، بالوں کو گوندنے والی، گندوانے والی اور مصور (تصویر بنانے اور تصویر اتارنے والے) پر لعنت فرمائی ہے۔[عن ابن عباس رضی اللہ عنھما سمعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یقول: من صور صورة في الدنيا كلف يوم القيامة أن ينفخ فيها الروح وليس بنافخ]

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا، آپ ﷺ فرما رہے تھے کہ: جس نے کوئی ایک بھی تصویر دنیا میں بنائی۔ (قیامت والے دن) اسے اس بات کا مکلف بنایا جائے گا کہ وہ اس میں روح داخل کرے مگر (اس کا اس معاملے میں جدوجہد کرنا) بے سود (ہوگا)۔ [صحیح البخاری:5963]

امام مسلم رحمہ اللہ نے نقل کیا ہے کہ سعید بن ابوالحسن رحمہ اللہ (تابعی) بیان کرتے ہیں: ایک آدمی سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور کہنے لگا: میں ایک ایسا آدمی ہوں جو یہ تصویریں (وغیرہ) بناتا ہے۔ ان (تصویروں) کے متعلق مجھے فتویٰ دیجئے، ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میرے قریب آ جاؤ! تو وہ آپ ﷺ کے نزدیک ہو گیا۔ فرمایا: اور قریب آ جاؤ! وہ اور نزدیک ہو گیا تو آپ رضی اللہ عنہ نے اپنا ہاتھ اس کے سر پر رکھا اور فرمایا: کیا میں آپ کو اس چیز سے مطلع نہ کروں جو میں نے رسول اللہ ﷺ سے خود سنی ہے؟ پھر آپ کہنے لگے کہ میں نے نبی مکرم ﷺ سے سنا، آپ ﷺ فرما رہے تھے: ہر مصور (اور فوٹو گرافر) جہنم میں جائے گا اور ہر تصویر کے بدلے جو اس نے بنائی ہوگی ایک جان پیدا کی جائے گی جو اسے وہاں عذاب دے گی۔ ابن عباس رضی اللہ عنہ کہنے لگے کہ: اگر تیرے لیے اس کام کا کرنا لازم ہے تو پھر درختوں اور ایسی چیزوں کی تصویریں بنا لیا کر جن میں جان نہ ہو۔

رسول اللہ ﷺ کے فرمان تک صحیح مسلم کے الفاظ تھے، ابن عباس رضی اللہ عنہ والی اگلی بات امام بخاری رحمہ اللہ نے زائد نقل کی ہے۔ [صحیح البخاری:2225]،[صحیح المسلم:2110]

جامع الترمذی میں بواسطہ ابی زبیر رحمہ اللہ، حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے گھر میں تصویر (جاندار کی فوٹو) رکھنے (اور لٹکانے) سے منع فرمایا ہے اور اس بات سے بھی منع کیا کہ تصویر بنائی جائے (اس حدیث کو امام ترمذی رحمہ اللہ نے حسن صحیح کہا ہے)۔ [سنن ترمذی:1749]

[عن عائشة رضی اللہ عنہا قالت: دخل عنی النبی صلی اللہ علیہ وسلم وقد سترت سہوة لی بقرام فیہ تماثیل فلما رآہ ہتکہ وتلون وجہہٗ وقال: "یا عائشة! أشد الناس عذابا یوم القیامة الذین یضاہون بخلق اللہ”۔ قالت عائشة: فقطعناہ فجعلنا منہ وسادة أو وسادتین]

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے بیان کرتی ہیں کہ نبی ﷺ میرے ہاں (حجرے میں) داخل ہوئے اور میں نے آپ کے آنے سے قبل زینت کیلئے حجرے کی سامنے والی دیوار پر سرخ رنگ کے ایک بھاری کپڑے کا پردہ لٹکا رکھا تھا جس پر مورتیں بنی ہوئی تھیں۔ جب آپ ﷺ نے اسے دیکھا تو آپ کا چہرہ مبارک (غصے کی وجہ سے) متغیر (سرخ) ہو گیا۔ اس پردے کو اتار پھینکا اور فرمایا:عائشہ! قیامت والے دن سب لوگوں سے زیادہ سخت عذاب ان کو ہو گا جو اللہ رب العالمین کی تخلیق کے ہم شکل تیار کرتے ہیں۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ہم نے اس پردے کو کاٹ ڈالا اور اس کے ایک یا دو تکیے بنا لیے۔ [صحیح المسلم:2107، بترقيم محمد فؤاد عبد الباقي:92]

(اس حدیث کو مسلم نے روایت کیا ہے، امام بخاری رحمہ اللہ نے بھی اس حدیث کو اپنی صحیح البخاری میں درج کیا ہے، جس میں آپ ﷺ بیان کرتی ہیں کہ: رسول اللہ ﷺ ایک سفر سے واپس تشریف لائے اور میں نے (آپ ﷺ کے آنے سے قبل) اپنے گھر کی سامنے والی دیوار پر۔۔الخ (اس روایت میں بعد والے)۔

باقی وہی الفاظ ہیں جو صحیح مسلم کے ہیں سوائے ان کلمات کے: [وتلون وجہہٗ] اور آپ کا چہرہ مبارک (غصے کی وجہ سے) متغیر ہو گیا۔ [صحیح البخاری:5954]

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ ایک سفر سے واپس تشریف لائے اور میں نے (آپ کی آمد سے قبل زینت کے طور پر) گھر میں ایک غالیچہ لٹکا رکھا تھا جس پر (جانداروں کی) تصویریں بنی ہوئی تھیں۔ آپ ﷺ نے مجھے حکم دیا کہ میں اسے اتار دوں۔ چنانچہ میں نے اتار دیا۔ [صحیح المسلم:2107(13)]

(اس حدیث کو امام بخاری رحمہ اللہ نے بیان کیا ہے اور اس میں [سترت] کی بجائے [علقت] آیا ہے۔ اور لٹکائے گئے پردے کی کیفیت (غالیچہ) بھی آ گئی ہے۔ پھر یہ کہ آپ ﷺ نے خود اتارنے کی بجائے اسے اتارنے کا حکم مجھے (سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو) دیا۔ [صحیح البخاری:5955]

امام مسلم رحمہ اللہ نے بھی اس حدیث کو روایت کیا ہے۔ مگر اس اثر کے الفاظ یہ ہیں: میں نے اپنے (گھر کے) دروازے پر ایک غالیچہ لٹکا رکھا تھا جس پر پروں والے گھوڑے کی تصویر بنی ہوئی تھی۔ آپ ﷺ نے مجھے حکم دیا تو میں نے اسے اتار پھینکا۔

[عن القاسم بن محمد، عن عائشة (رضي اللہ عنہا) أنها أخبرته، أنها اشترت نمرة فيها تصاوير، فلما رآها رسول اللہ صلى اللہ عليه وسلم قام على الباب فلم يدخل، فعرفت على وجهه الكراهية، قالت: يا رسول اللہ! أتوب إلى اللہ وإلى رسوله ماذا أذنبت؟ قال: ما بال هذه النمرة؟ قالت اشتريتها لك لتقعد عليها وتوسدها فقال رسول اللہ صلى اللہ عليه وسلم: إن أصحاب هذه الصور يعذبون يوم القيامة ويقال لهم أحيوا ما خلقتم وقال: إن البيت الذي فيه الصور لا تدخله الملائكة]

قاسم بن محمد سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں: آپ رضی اللہ عنہا نے اسے بتلایا کہ انہوں نے ایک گدی خریدا جس پر تصویریں تھیں۔ جب اسے نبی کریم ﷺ نے دیکھا تو آپ دروازے پر ہی کھڑے ہو گئے اور اندر داخل نہ ہوئے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے نبی ﷺ کے چہرہ پر ناگواری کو بھانپ لیا،گزارش کی اے اللہ کے رسول! میں کون سا گناہ کر بیٹھی ہوں؟ (آپ مجھے بتلائیے تو سہی اگر ایسی بات ہے تو) میں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول (ﷺ) کی طرف رجوع کرتی ہوں (جو حکم ہوگا اس پر عمل کروں گی) آپ نے فرمایا: اس غالیچے کا کیا قصہ ہے؟ (یہ کیسے گھر میں آیا؟) تو ام المومنین رضی اللہ عنہا کہنے لگیں میں نے اسے آپ کے لیے خریدا ہے تاکہ آپ اس پر تشریف رکھا کریں اور اس کا تکیہ بنا لیا کریں۔تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: بلاشبہ اس طرح کی تصویریں بنانے والوں کو قیامت والے دن عذاب دیا جائے گا۔ اور ان سے کہا جائے گا جو تم نے تخلیق کیا تھا اسے زندہ کرو۔ مزید آپ نے فرمایا کہ بلاشبہ جس گھر میں (جاندار) تصویریں ہوں اس گھر میں فرشتے داخل نہیں ہوتے۔ [صحیح البخاری:5957]،[صحیح المسلم:2107]

امام مسلم رحمہ اللہ نے ابن ماجشون کی روایت میں ان الفاظ کا اضافہ نقل کیا ہے: سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرمانے لگیں: اسے لے کر میں نے چھوٹے چھوٹے دو تکیے اس کے بنا دیے۔ چنانچہ آپ ﷺ گھر میں ان پر کہنی کے ساتھ ٹیک لگا کر بیٹھ جایا کرتے تھے۔ [صحیح المسلم:2107]

[عن ابن عباس رضی اللہ عنھما قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: لا تدخل الملائكة بيتا فيه كلب ولا صورة]

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس گھر میں کتا یا (کسی جاندار کی) تصویر ہو اس میں فرشتے داخل نہیں ہوتے۔ [صحیح البخاری:3225]،[صحیح المسلم:2106]

امام مسلم رحمہ اللہ نے حضرت زید بن خالد سے اور انہوں نے حضرت ابوطحہ سے مرفوعاً یوں بیان کیا ہے کہ نبی مکرم ﷺ نے فرمایا: جس گھر میں مورتیں یا کتا ہو اس میں فرشتے داخل نہیں ہوتے۔ [صحیح المسلم:2106]

صحیح بخاری میں  سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بھی نبی کریم ﷺ سے اسے بیان کرتے ہیں کہ سیدنا جبریل علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا: بلاشبہ ہم کسی ایسے گھر میں داخل نہیں ہوتے کہ جس میں کتا یا (کسی جاندار کی) تصویر ہو۔ امام مسلم رحمہ اللہ نے حضرت عائشہ اور حضرت میمونہ رضی اللہ عنہما سے اسی طرح کی حدیث نقل کی ہے۔ [صحیح البخاری:3227]

امام مسلم نے ابوالہیّاج الاسدی سے بھی ایک روایت نقل کی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ مجھے سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کیا میں آپ کو اس کام پر مامور نہ کروں جس پر مجھے رسول اللہ ﷺ نے حکم دے کر (کسی علاقے کی طرف) بھیجا تھا؟ وہ یہ ہے کہ تو کسی (جاندار کی) تصویر کو مٹائے بغیر اور کسی اونچی قبر کو زمین کے برابر کیے بغیر (سوائے ایک دو بالشت کے) نہ چھوڑ۔ [صحیح المسلم:969]

امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے بڑی جید سند کے ساتھ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے نقل کیا ہے کہ نبی کریم ﷺ نے سیدنا عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ کو فتح مکہ والے ایام میں کہ جب آپ وادی بطحاء میں تھے حکم دیا: عمر رضی اللہ عنہ کعبہ کے پاس جائیں اور اس میں ہر تصویر کو مٹا دیں۔ چنانچہ اللہ کے نبی ﷺ تب تک مسجد حرام میں داخل ہی نہیں ہوئے جب تک کہ اس سے ہر تصویر کو مٹا نہیں دیا گیا۔ [ابوداؤد:4156]

اسی طرح امام ابوداؤد الطیالسی نے اپنی مسند میں سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ سے نقل کیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ: میں بیت اللہ میں نبی ﷺ کے پاس آیا، آپ ﷺ نے کچھ تصویریں دیکھیں۔ مجھ سے پانی کا ایک ڈول منگوایا۔ میں وہ لے آیا۔ آپ ﷺ انہیں پانی سے مٹاتے جاتے اور فرماتے جاتے تھے: اللہ اس قوم کو برباد کرے! جسے پیدا نہیں کر سکتے اس کی تصویریں بنانے لگتے ہیں۔ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ اس روایت کی اسناد جید درجہ کی ہیں۔ پھر فرمایا کہ: عمر بن شبہ، عبدالرحمن بن مہران سے اور وہ عبداللہ بن عباس کے آزاد کردہ غلام عمیر سے اور وہ حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ بیت اللہ میں داخل ہوئے اور آپ ﷺ نے مجھے حکم دیا تو میں پانی کا (بھرا ہوا) ڈول لے کر آیا۔ آپ ﷺ ایک کپڑا بھگونے لگے اور اسے تصویروں پر مارنے لگے۔ ساتھ میں یہ بھی فرماتے جاتے: اللہ اس قوم کو ہلاک کرے! جسے پیدا نہیں کر سکتے اس کی تصویریں بنانے لگتے ہیں۔ [مسند أبي داود الطيالسي:657(659)]

امام بخاری رحمہ اللہ نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ہے کہ: بلاشبہ نبی کریم ﷺ گھر میں ہر اس چیز کو کہ جس پر (جانداروں کی) تصاویر ہوتیں توڑ کر ہی چھوڑتے۔ اس حدیث پر امام صاحب نے [باب نقض الصور] سے تصویریں توڑنے (خراب کرنے) کا باب عنوان باندھا ہے۔ [صحیح البخاری:5952]

[وفي الصحيحين عن بسر بن سعيد عن زيد بن خالد، عن أبي طلحة أن النبي صلى اللہ عليه وسلم قال: إن الملائكة لا تدخل بيتا فيه صورة]

بخاری، مسلم میں بسر بن سعید سے کہ وہ زید بن خالد سے اور وہ سیدنا ابوطحہ سے روایت کرتے ہیں: نبی ﷺ نے فرمایا: بلاشبہ فرشتے اس گھر میں داخل ہی نہیں ہوتے کہ جس میں کوئی تصویر ہو۔ [صحیح البخاری:5949]،[صحیح المسلم:2106]

پہلے راوی حدیث بسر بن سعید کہتے ہیں کہ زید بن خالد کو بخار ہو گیا اور ہم ان کی عیادت کو چلے گئے۔ کیا دیکھتے ہیں کہ ان کے دروازے پر ایک پردہ اور اس پر تصویر۔ میں نے ام المومنین میمونہ بنت حارث رضی اللہ عنہا کے سوتیلے بیٹے عبداللہ الخولانی سے (کہ جو اس وقت وہاں موجود تھے) کہا کیا زید بن خالد نے ہمیں (درس کے) پہلے ہی دن تصویروں کے بارے میں نہیں بتایا تھا؟ تو عبیداللہ کہنے لگے جب وہ یہ بیان کر رہے تھے تو کیا تو نے یہ بات نہیں سنی [الا رقما في ثوب] مگر کسی کپڑے میں دھاریاں، بخاری اور مسلم کی ہی ایک اور روایت میں کہ جو عمرو بن الحارث سے مروی ہے اور انہوں نے اسے بکیر بن الاشج سے اور بکیر نے بسر سے نقل کی ہے کہ: میں نے عبیداللہ الخولانی سے کہا: کیا زید بن خالد نے ہم سے تصویروں سے متعلق حدیث بیان نہیں کی؟ تو وہ کہنے لگے: اس نے رسول اللہ ﷺ کی یہ بات بھی تو بیان کی تھی۔ [إلا رقما في ثوب] مگر کسی کپڑے میں دھاریاں۔ کیا تو نے یہ نہیں سنا؟ میں نے کہا: نہیں۔ تو عبیداللہ کہنے لگے: کیوں نہیں انہوں نے اس کا ذکر ضرور کیا تھا۔ (مگر تو نے دھیان نہیں دیا) [صحیح البخاری:3226]،[صحیح المسلم:2106]

مسند احمد اور سنن النسائی میں عبیداللہ بن عبداللہ سے مروی ہے کہ وہ ابوطلحہ انصاری کے ہاں ان کی عیادت کیلئے آئے۔ وہاں سیدنا سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ کو موجود پایا۔ ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے ایک آدمی کو اپنے نیچے بچھوی چادر نیچے سے کھینچ نکالنے کا کہا۔ تو سہل ان سے کہنے لگے: اسے کیوں نکلواتے ہو؟ ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے کہا یہ اس لیے کہ اس میں تصویریں ہیں۔ اور جہاں تک مجھے یقینی علم ہے رسول اللہ ﷺ نے ان کے متعلق منع فرمایا ہے۔ سہل بن حنیف کہنے لگے: کیا آپ ﷺ نے یہ نہیں فرمایا: [إِلَّا رَقْمًا فِي ثَوْبٍ]مگر کسی کپڑے میں دھاریاں؟ ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے کہا: کیوں نہیں؟ (نبی ﷺ نے ایسا ہی فرمایا ہے) مگر میرے نفس کے لیے اس سے دوری ہی زیادہ پاکیزہ ہے۔ اس کی سند جید درجہ کی ہے۔ انہی الفاظ کے ساتھ امام ترمذی رحمہ اللہ نے بھی اسے روایت کیا ہے اور حکم لگایا ہے کہ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ [سنن النسائي: 5349]،[ مسند أحمد: 15979]

ایک اور حدیث امام ابوداؤد، امام نسائی اور امام ترمذی رحمہ اللہ نے جید سندوں کے ساتھ روایت کی ہے:

[عن أبي هريرة رضي اللہ عنه قال: قال رسول اللہ صلى اللہ عليه وسلم: أتاني جبريل فقال لي: أتيتك البارحة فلم يمنعني أن أكون دخلت إلا أنه كان على الباب تماثيل، وكان في البيت قرام ستر فيه تماثيل وكان في البيت كلب، فمر برأس التمثال الذي في البيت يقطع فيصير كهيئة الشجرة، ومر بالستر فليقطع فليجعل منه وسادتان منبوذتان توطآن، ومر بالكلب فليخرج۔ ففعل رسول اللہ صلى اللہ عليه وسلم وإذا الكلب لحسن أو حسين كان تحت نضد لهما فأمر به فأخرج]

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جبریل (علیہ الصلوٰۃ والسلام میرے پاس آئے اور مجھے کہنے لگے: گزشتہ شب میں آپ کے پاس آیا تھا مگر آپ کے دروازے پر مورتوں کی وجہ سے کہ جو لٹکائے گئے پردے پر بنی ہوئی تھیں  میں اندر داخل نہ ہوا۔ اسی طرح ایک سرخ پردے پر تصویریں بنی ہوئی تھیں اور گھر میں ایک کتا بھی تھا۔ گھر میں جتنی بھی مورتیں ہیں ان کے سر کاٹنے کا حکم دیں کہ وہ درخت کی شکل و صورت والی ہو جائیں۔ اور پردے کو بھی کاٹ ڈالنے کا حکم دیں اس سے دو تکیے بنا لیے جائیں کہ جو نیچے رکھنے کے کام آئیں۔ کتے کو گھر سے باہر نکالنے کا حکم دیں۔ چنانچہ رسول اللہ ﷺ نے ایسا ہی کیا۔ (راوی کہتا ہے) کہ یہ کتا سیدنا حسن یا سیدنا حسین رضی اللہ عنہما کا تھا جو ان کی چارپائی کے نیچے بیٹھا ہوا تھا تو رسول اللہ ﷺ نے اسے باہر نکالنے کا حکم دیا اور اسے نکال دیا گیا۔

یہ سنن ابی داؤد کے الفاظ ہیں اور ترمذی کے الفاظ بھی کچھ ایسے ہی ہیں۔ [سنن أبي داود: 4158]،[جامع الترمذي: 2806]،[سنن النسائي: 5367]

البتہ نسائی کے الفاظ یوں ہیں۔

[استأذن جبريل على النبي صلى اللہ عليه وسلم فقال: أدخل، فقال: كيف أدخل وفي بيتك ستر فيه تصاوير، فإما أن تقطع رءوسها أو تجعله بساطا يوطأ، فإنا ومعشر الملائكة لا ندخل بيتا فيه تصاوير]

سیدنا جبریل علیہ السلام نے نبی کریم ﷺ سے گھر میں داخل ہونے کی اجازت طلب کی۔ آپ ﷺ نے فرمایا: تشریف لائیں۔ جبریل علیہ السلام کہنے لگے: کیسے داخل ہوں جبکہ آپ کے گھر میں ایک پردہ لٹکا ہوا ہے جس پر تصویریں ہیں۔ یا تو آپ ان تصویروں کے سر کاٹ ڈالیں یا اس کا نیچے بچھانے والا بچھونا بنا لیں۔ ہم فرشتوں کی جماعت اس گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں تصویریں ہوں۔ [سنن النسائي: 5365]

اس باب میں ان مذکورہ احادیث کے علاوہ بہت ساری دوسری حدیثیں بھی ہیں۔ اور یہ احادیث مبارکہ اور اس مفہوم میں وارد دوسری حدیثیں ہر ذی روح کی تصویر کو حرام کرنے کی کھلم کھلا دلالت کر رہی ہیں۔ مصوری اور فوٹوگرافی کا یہ عمل ان کبیرہ گناہوں میں سے ہے جن پر جہنم کے عذاب کی وعید سنائی گئی ہے۔ یہ حکم تصویروں کی تمام اقسام پر لاگو ہوگا چاہے کسی تصویر کا سایہ ہو یا نہ ہو۔ اور یہ بات بھی برابر ہے کہ تصویر چاہے دیوار پر ہو یا پردے پر چاہے قمیض، لباس پر ہو یا آئینے پر چاہے کتاب، کاپی پر ہو یا ان کے علاوہ کسی اور چیز پر سب کا حکم ایک جیسا ہے اس لیے کہ نبی ﷺ نے سایہ دار اور غیر سایہ دار چیز کے درمیان فرق نہیں کیا اور نہ ہی اس کے درمیان کہ تصویر پردے پر ہو یا کسی اور چیز پر بلکہ آپ ﷺ نے مصور اور فوٹوگرافر پر لعنت فرمائی ہے۔ اور اس بات کی خبر دی ہے کہ فوٹوگرافر اور مصورین قیامت والے دن سب لوگوں سے زیادہ سخت عذاب میں ہوں گے۔ اور ہر مصور جہنم میں جائے گا۔ اس حکم کا اطلاق عمومی ہے اور اس میں سے کسی چیز کو آپ ﷺ نے مستثنیٰ نہیں کیا۔ اس عموم کی تائید اس واقعہ سے بھی ہوتی ہے کہ جب آپ ﷺ نے تصویر کو اس پردے پر دیکھا جو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے حجرہ (کمرہ) میں تھا تو آپ ﷺ نے اسے اتار پھینکا اور آپ ﷺ کا چہرہ مبارک غصے کی وجہ سے متغیر ہو گیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: قیامت والے دن سب لوگوں سے زیادہ سخت عذاب ان کو ہوگا جو اللہ رب العالمین کی تخلیق کے ہم شکل تیار کرتے ہیں۔

جب آپ ﷺ نے اس پردے کو دیکھا تو ایک دوسری حدیث میں آپ ﷺ نے یوں فرمایا: بالتحقیق یہ تصویریں بنانے والوں کو قیامت کے دن عذاب دیا جائے گا اور ان سے کہا جائے گا: جو تم نے پیدا کیا اسے زندہ بھی کرو۔ تو یہ اور اس طرح کے دوسرے الفاظ وعید کے عموم میں پوری صراحت سے پردوں اور ان جیسی دوسری چیزوں پر تصویریں بنانے والے مصور کو شامل کر رہے ہیں۔ جہاں تک سیدنا ابوطلحہ انصاری رضی اللہ عنہ اور سیدنا سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ کی حدیث میں آپ ﷺ کے اس فرمان: مگر کسی کپڑے میں دھاریاں، کا تعلق ہے تو یہ استثناء ان تصویروں کا ہے جو فرشتوں کے دخول کیلئے مانع ہیں نہ کہ مصوری اور فوٹوگرافی کا۔

اور یہ حدیث کے سیاق و سباق سے واضح ہے۔ اس سے مراد یہ ہے کہ جب کسی کپڑے اور چادر پر دھاریاں ہوں تو اسے نیچے بچھایا جائے اور حقیر جانا جائے۔ اسی طرح سے حقیر تکیہ کی مثال ہے۔ جیسا کہ پیچھے گزرنے والی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی حدیث میں آپ ﷺ کا پردے کو کاٹ کر تکیے بنانے کا عمل اس کی واضح دلیل ہے۔

اسی طرح گزشتہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ والی حدیث اور جبریل علیہ الصلوٰۃ والسلام کا نبی کریم ﷺ سے یہ کہنا، گھر میں جو مورت ہے اس کے سر کو قطع کرنے کا حکم دیں کہ وہ درخت کی شکل و صورت والی ہو جائے اور پردے کو بھی کاٹ ڈالنے کا حکم دیں کہ اس سے دو تکیے بنا لیے جائیں جو نیچے رکھنے کے کام آئیں۔ اور نبی ﷺ نے یہ کر لیا۔ بھی اس بات کی دلیل ہے۔ کسی کپڑے میں دھاریوں والے استثنا کو عام لٹکائے جانے والے کپڑے یا دروازے پر لٹکائے جانے والے پردے یا دیوار پر لٹکائے گئے کپڑے اور اسی طرح سے دوسرے پردوں پر محمول کرنا جائز نہیں۔ اس لیے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا والی احادیث اس طرح کے پردوں کی پوری صراحت سے ممانعت کرتی ہیں۔ اور جیسا کہ ان کے متن کا ذکر کرتے وقت اوپر گزر چکا ہے ایسی چیزوں کے اتار پھینکنے اور زائل کر دینے کے وجوب پر یہ حدیثیں دلالت کرتی ہیں۔

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ والی حدیث صراحت کرتی ہے کہ اس طرح کے تصویروں والے پردے فرشتوں کے داخلے پر مانع ہیں۔ مگر یہ کہ انہیں بچھا لیا جائے یا اس پر بنی مورت کا سر کاٹ دیا جائے تو وہ درخت کی طرح ہو جائے گی۔ رسول اللہ ﷺ کی احادیث مبارکہ ایک دوسرے سے ہرگز نہیں ٹکراتیں بلکہ وہ تو ایک دوسرے کی تصدیق کرتی ہیں۔ اور جب ان احادیث کے درمیان معقول وجہ کے ساتھ مفہوم کو اکٹھا کرنا ممکن ہو کہ اگر اس میں بے راہ روی اختیار نہ جا رہی ہو تو ترجیح کو مقدم رکھنا ضروری ہوتا ہے جیسا کہ اصول حدیث اور اس کی اصطلاحات کی رو سے یہ بات طے شدہ ہے۔ الحمد للہ جیسا کہ ہم نے یہاں ذکر کیا ہے یہاں بھی دونوں باتوں کو اکٹھا کرنا ممکن ہے۔

حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے فتح الباری شرح صحیح بخاری میں مذکورہ بالا احادیث مبارکہ میں تطبیقی جمع کو ترجیح دی ہے۔ انہوں نے امام خطابی رحمہ اللہ کا قول نقل کرتے ہوئے کہا ہے: وہ تصویر کہ جس کی وجہ سےجب وہ کسی گھر میں ہو اس گھر میں فرشتے داخل نہیں ہوتے۔ اس کی موجودگی کو حرام نہیں کرتا۔ جبکہ اس کا شمار ان تصویروں میں ہو کہ جن کے سر قطع نہ کیے گئے ہوں یا انہیں حقیر نہ جانا گیا ہو۔

امام خطابی رحمہ اللہ نے یہ بھی کہا ہے:بلاشبہ ایک مصور(فوٹوگرافر) کی سزا بہت بڑی ہے اس لیے کہ اللہ کے سوا ان تصویروں کی پوجا کی جاتی تھی۔ اور آج بھی کی جاتی ہے۔ اور اس لیے بھی کہ ان کی طرف نگاہ ڈالنا فتنے میں مبتلا کر دیتا ہے۔ بلکہ بعض نفس تو ان کی طرف پورے پورے مائل ہو جاتے ہیں۔

امام نووی رحمہ اللہ نے صحیح مسلم کے باب: کسی بھی جاندار کی تصویر کشی کے حرام ہونے، ہر اس کپڑے وغیرہ کے استعمال کے حرام ہونے کہ جسے گدا وغیرہ بنا کر حقیر نہ بنایا گیا ہو اور فرشتوں کا اس گھر میں داخل نہ ہونے کہ جس میں تصویر یا کتا ہومیں لکھا ہے:ہماری جماعت اور دیگر علماء نے کہا ہے کہ: ہر جاندار کی تصویر کشی سخت حرام ہے۔ اور یہ فعل کبیرہ گناہوں میں سے ہے۔ اس لیے کہ احادیث مبارکہ میں اس پر سخت عذاب کی وعید سنائی گئی ہے۔ اور تصویر کا بنانا اس کی حقارت کیلئے ہو یا کسی نفع کیلئے اس حرمت والے حکم میں برابر ہے۔ چنانچہ مصوری ہر حال میں حرام ہے۔ اس لیے کہ اس کام میں اللہ تعالیٰ کی تخلیق کا ہم شکل تیار کرنا ہے۔ تصویر چاہے کپڑے پر ہو چاہے بچھونے یا چٹائی پر چاہے درہم و دینار، روپے پیسے اور کسی کرنسی نوٹ پر ہو یا کسی برتن پر چاہے کسی دیوار یا بورڈ وغیرہ پر ہو اس حرام کے حکم میں سب برابر ہیں۔ (شرح صحیح مسلم للنووی:ج 14، ص81)

جہاں تک کسی درخت یا اونٹوں کے کجاوں اور قیام گاہوں کا تعلق ہے تو ایسی تصویروں میں اگر کسی جاندار کی فوٹو یا ہاتھ کی بنی ہوئی تصویر نہ ہو تو یہ حرام نہیں۔ البتہ مصور اور فوٹوگرافر کا کسی جاندار کی فوٹو اور تصویر بنانا کہ جسے دیوار کے ساتھ لٹکایا جاتا ہو یا پہننے والے کسی کپڑے پر اسے بنا دے یا پگڑی وغیرہ پر کہ جس کی تحقیر نہ کی جا رہی ہو تو یہ حرام ہے۔ اگر یہ تصویر کسی بچھونے پر ہو کہ جسے نیچے بچھایا جاتا ہو یا تکیے اور سرہانے پر ہو کہ جس کی تحقیر کی جاتی ہو تو یہ حرام نہیں ہے۔ ان سب مسائل کے اندر اس بات میں کوئی فرق نہیں کہ اس تصویر شدہ چیز کا سایہ ہو یا نہ ہو سب برابر ہیں۔

اس مسئلے میں ہمارے مذہب کا یہ خلاصہ تھا۔ اور اسی مفہوم میں صحابہ کرام (رضوان اللہ علیہم اجمعین) تابعین کرام، تبع تابعین، امام ثوری، امام مالک اور امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ اجمعین کا مسلک و مذہب ہے۔ کچھ سلف علماء کرام کا یہ کہنا ہے کہ:جس چیز کا سایہ ہو اس کی تصویر کشی سے منع کیا جانا چاہیے اور جس کا سایہ نہ ہو اس کی تصویر بنانے میں کوئی حرج نہیں۔ یہ باطل مسلک و مذہب ہے اس لیے کہ جس تصویر والے پردے پر نبی کریم ﷺ نے ناپسندیدگی ظاہر فرمائی بلاشبہ اس کی مذمت کی گئی ہے حالانکہ اس تصویر کا سایہ نہ تھا۔ ہر تصویر سے متعلق باقی احادیث مبارکہ کا حکم بھی یہی ہے۔ (واللہ اعلم بالصواب)

حافظ ابن حجر رحمہ اللہ، امام نووی رحمہ اللہ کے اس خلاصہ کلام کو ذکر کرنے کے بعد بیان کرتے ہیں کہ: اس مسئلے میں میرا کہنا یہ ہے: امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ نے سیدناعلی رضی اللہ عنہ سے یہ جو حدیث بیان کی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: تم میں سے کوئی بھی شخص مدینہ منورہ کی طرف سفر کرے تو اس میں ہر بت کو توڑ دے اور ہر تصویر کو مٹا دے۔ یہ حکم سایہ دار اور غیر سایہ دار سب کیلئے قوید ہے۔ اس حدیث میں یہ بھی ہے: جو شخص (منع کرنے کے باوجود) اس مصوری والے کام کی طرف دوبارہ پلٹ آیا تو اس نے شریعت محمدیہ (علی صاحبہا التحیۃ والسلام) کے ساتھ کفر کیا۔

(شیخ ابن باز رحمہ اللہ فرماتے ہیں) میں کہتا ہوں: جو شخص مذکورہ بالا احادیث مبارکہ پر غور و فکر کرے اس پر تصویروں کے حرام ہونے والا حکم واضح ہو جائے گا۔ اور جس طرح کے اوپر وضاحت آ چکی ہے سایہ دار اور غیر سایہ دار میں کوئی فرق نظر نہیں آئے گا۔

اگر یہ کہا جائے: سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے زید بن خالد کی حدیث میں بیان ہوا تھا کہ زید بن خالد سے اس حدیث کو بیان کرنے والے راوی حضرت بسر بن سعید رحمہ اللہ نے کہا: زید بن خالد کو بخار چڑھا اور ہم ان کی عیادت کو گئے تو کیا دیکھتے ہیں کہ ان کے دروازے پر ایک پردہ اور اس پر ایک تصویر تو اس اثر کا ظاہر اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ حضرت زید ایسے پردوں کے لٹکانے کو جائز سمجھتے تھے جن پر تصویریں ہوں۔ تو اس کا جواب یہ ہے کہ: سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی درج بالا احادیث مبارکہ اور انہی کے مفہوم میں وارد دوسری احادیث و آثار ان پردوں کے لٹکانے کی حرمت پر دلالت کرتی ہیں، جن پر تصویریں بنی ہوئی ہوں۔ اور ان کے اتار پھینکنے کے وجوب پر دلالت کرتی ہیں کہ انہیں اتار دو۔ پھر یہ کہ اس طرح کے تصویروں والے پردے فرشتوں کو وہاں داخل ہونے سے منع کرتے ہیں۔ اور جب رسول اللہ ﷺ سے صحیح احادیث ثابت ہو جائیں تو تمام دنیا کے سب لوگوں میں سے کسی شخص کے قول و فعل کے ساتھ انہیں ٹکرانا جائز نہیں۔ اور مومن آدمی کیلئے ہر اس بات پر عمل کرنا اور سنت کی اتباع کرنا واجب ہے جس پر اس کے پاس دلائل آ جائیں۔ اسی طرح ہر اس بات کو ٹھکرا دینا اس پر واجب ہے جو ان دلائل کی مخالفت کرے۔ جیسے اللہ ذوالجلال فرماتا ہے کہ: [وَ مَاۤ اٰتٰىکُمُ الرَّسُوۡلُ فَخُذُوۡہُ وَ مَا نَہٰىکُمۡ عَنۡہُ فَانۡتَہُوۡا] جو چیز (حکم، طریقہ، سنت) تمہیں اللہ کا رسول دے وہ لے لو اور جس سے منع کرے اس سے باز رہو۔ (سورۃ الحشر: 7) دوسرے مقام پر فرمایا کہ: [قُلۡ اَطِیۡعُوا اللّٰہَ وَ اَطِیۡعُوا الرَّسُوۡلَ ۚ فَاِنۡ تَوَلَّوۡا فَاِنَّمَا عَلَیۡہِ مَا حُمِّلَ وَ عَلَیۡکُمۡ مَّا حُمِّلۡتُمۡ ؕ وَ اِنۡ تُطِیۡعُوۡہُ تَہۡتَدُوۡا ؕ وَ مَا عَلَی الرَّسُوۡلِ اِلَّا الۡبَلٰغُ الۡمُبِیۡنُ] کہہ دو کہ: اللہ کی فرمانبرداری کرو اور رسول اللہ ﷺ کے حکم پر چلو۔ اگر منہ موڑو گے تو رسول پر اس چیز کا ادا کرنا ہے جو ان کے ذمے ہے اور تم پر اس چیز کا ادا کرنا ہے جو تمہارے ذمے ہے (یعنی عمل کرنا) اور اگر تم ان کے فرمان پر چلو گے تو (رشد و ہدایت کا) سیدھا راستہ پا لو گے۔ رسول اللہ ﷺ کے ذمے تو صرف (احکام الہی کا) صاف صاف پہنچا دینا ہے۔ (سورۃ النور: 54)

اس آیت میں اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے اس شخص کو جو رسول اللہ ﷺ کی اطاعت کرے، گا رشد و ہدایت کی ضمانت دی ہے۔

اور اللہ ذوالجلال کا فرمان ہے کہ: [فَلۡیَحۡذَرِ الَّذِیۡنَ یُخَالِفُوۡنَ عَنۡ اَمۡرِہٖۤ اَنۡ تُصِیۡبَہُمۡ فِتۡنَۃٌ اَوۡ یُصِیۡبَہُمۡ عَذَابٌ اَلِیۡمٌ] جو لوگ رسول اللہ ﷺ کے حکم کی مخالفت کرتے ہیں ان کو ڈر جانا چاہیے کہ ایسا نہ ہو ان پر کوئی آفت آن پڑے یا کوئی دردناک قسم کا عذاب ان پر نازل ہو۔ (سورۃ النور:63)

ممکن ہے سیدنا زید رضی اللہ عنہ کو اس تصویر کی خبر ہی نہ ہو جو پردے پر تھی یا وہ احادیث مبارکہ آپ تک پہنچی ہی نہ ہوں کہ جو تصویروں والے پردوں کو لٹکانے کی حرمت پر دلالت کرتی ہیں اور آپ رضي اللہ عنہ نے نبی کریم ﷺ کے اس فرمان کہ: مگر کپڑے پر دھاریاں کے ظاہر کو لے لیا۔تو اس معاملے میں وہ لاعلمی کی بنا پر عذر والے شمار ہوں گے۔ اور ان کی بات کو دلیل کے طور پر نہیں لیا جا سکتا۔ جہاں تک ایسی صحیح احادیث کا تعلق ہے کہ جو تصویروں والے پردوں کی حرمت پر دلالت کرتی ہوں ان کا علم ہو جانے کے بعد ان کی مخالفت کے لیے شریعت میں کوئی عذر قابل قبول نہیں۔ جب بھی کوئی آدمی ان صریح اور صحیح احادیث کی مخالفت کی مخالفت اپنی نفسانی خواہش کی پیروی کرتے ہوئے کرے یا لوگوں میں سے کسی کی تقلید کرتے ہوئے کرے تو وہ اللہ رب العالمین کے غضب اور اس کی پکڑ کا مستحق ٹھہرتا ہے۔ اس بات کا ڈر ہے کہ اس کا دل ٹیڑھا راستہ اختیار کر لے اور وہ کسی فتنے میں مبتلا ہو جائے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے ایک فرمان میں اس بات سے متنبہ کیا ہے فرمایا: جو لوگ رسول اللہ ﷺ کے حکم کی مخالفت کرتے ہیں ان کو ڈر جانا چاہیے کہ ایسا نہ ہو ان پر کوئی آفت آن پڑے۔ ایک اور مقام پر فرمایا کہ: [فَلَمَّا زَاغُوۡۤا اَزَاغَ اللّٰہُ قُلُوۡبَہُمۡ] تو جب ان لوگوں نے کجروی اختیار کی اللہ نے بھی ان کے دل ٹیڑھے کر دیے۔ (سورہ الصف:5)

اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان بھی اسی ضمن میں ہے فرمایا: [فَاَعۡقَبَہُمۡ نِفَاقًا فِیۡ قُلُوۡبِہِمۡ] تو اللہ تعالیٰ ان کے دلوں میں (اُس کجروی کی وجہ سے) نفاق ڈال دیا۔ (جس کا انجام کفر سے بھی برا ہے) (سورہ التوبہ:77)

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث میں یہ رہنمائی گزر چکی ہے کہ تصویر کا سر جب کاٹ دیا جائے تو اس کا گھر میں رہنے دینا جائز ہے۔ اس لیے کہ اس کی شکل ایک درخت کی مانند ہو جاتی ہے۔ یہ وضاحت اس بات کی دلیل ہے کہ درخت وغیرہ کی تصویر (کہ جن میں روح نہ ہو) جائز ہے۔ جیسا کہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی روایت میں ہے کہ جسے امام بخاری و مسلم رحمہ اللہ نے اپنی کتب میں درج کیا ہے صراحت کے ساتھ یہ بات گزر چکی ہے۔ حدیث مذکورہ سے اس بات کا استدلال بھی لیا جا سکتا ہے کہ تصویر کے سر کے علاوہ جسم کے باقی حصے کو کاٹنا (جیسا کہ نیچے والا آدھا دھڑ وغیرہ) کافی نہیں ہوگا اور نہ ہی اس کا استعمال جائز ہے۔ فرشتوں کے داخلے کی ممانعت بھی اس سے زائل نہیں ہوتی۔ اس لیے کہ نبی کریم ﷺ نے تصویروں کے مٹا دینے اور اتار پھینکنے کا حکم دیا ہے۔ اور آپ ﷺ نے بتا دیا ہے کہ تصویریں فرشتوں کو داخل ہونے سے روکتی ہیں سوائے ان کے جنہیں حقیر اور ذلیل سمجھا گیا ہو۔ یا جن کے سر مٹا دیے یا کاٹ دیے گئے ہوں۔ اب جو شخص ان دونوں حالتوں کے بغیر گھر میں تصویر رکھنے کے جواز کا دعویٰ کرتا ہو اس پر لازم ہے کہ قرآن وسنت سے ٹھوس دلائل پیش کرے۔ نبی کریم ﷺ نے جو خبر دی ہے کہ تصویر کا جب سر کاٹ دیا جاتا ہے تو اس کا باقی حصہ ایک درخت کی مانند ہوتا ہے یہ اس بات کی دلیل ہے کہ اس کے باقی رہنے کا جواز ذی روح چیزوں کی حالت سے خارج ہے اور اس کی مشابہت جمادات سے ہو جاتی ہے۔ اور تصویر کا جب نچلے والا حصہ کاٹ دیا جائے اور اس کے سر کو باقی رکھا جائے تو پہلی صورت کے درست ہونے کا سبب نہ رہا، اور دونوں حالتیں برابر ہو گئیں۔ پھر اس لیے بھی پہلی حالت دوسری حالت سے مختلف ہے کہ چہرہ ہی تو پیدائش میں یا تصویر کے اندر دوسروں سے انوکھا ہونے کی پہچان ہے جبکہ باقی جسم میں یہ صلاحیتیں نہیں۔ تو جو شخص اللہ اور اس کے رسول ﷺ سے اس بات کا مطلب اور مفہوم سمجھ لے اس کے لیے اس سے ہٹ کر کوئی قیاس اجتہاد کرنا جائز نہیں ہے۔

حق کے متلاشی شخص پر اس سے یہ واضح ہو جاتا ہے کہ کسی جاندار کے سر اور اس سے نچلے حصے کی تصویر حرام ہونے اور اس سے منع میں شامل ہے۔ کیونکہ پیچھے گزرنے والی تمام صحیح احادیث اس سارے مفہوم و مضمون کو شامل ہیں اور کسی شخص کے لیے جائز نہیں کہ ان احادیث مبارکہ کے عموم کو سوائے اس کے کہ جسے شارع علیہ السلام نے مستثنیٰ کیا ہو وہ خود سے کوئی چیز مستثنیٰ کرے۔

مصوری، فوٹوگرافی، تصویر کشی اور تصویروں کے لٹکانے، لگانے اور رکھنے میں اس بات کے اندر کوئی فرق نہیں ہے چاہے کسی مجسمے کی ہو یا بت کی صورت میں کوئی مجسمہ ہو یا کسی جاندار کی تصویر کسی پردے، کپڑے، چادر، کاغذ یا گتے وغیرہ پر ہو۔ چاہے جاندار چیزوں میں سے عام انسانوں کی ہو یا بادشاہوں، حاکموں، بڑے آفیسروں اور علماء کی ہو،اس حکم میں سب برابر ہیں اور کوئی فرق نہیں۔

بلکہ حکام اور علماء کی تصویریں تو حرام ہونے میں دوسروں سے زیادہ سخت ہیں اس لیے کہ ان کی ذریعے تکریم و تعظیم اور ان کی پوجا پاٹ میں یہ فتنہ دوسروں کی نسبت زیادہ خطرے کا باعث ہے۔

ان کی تصویریں مجلس گاہوں، چوکوں، چوراہوں، سڑکوں اور دفاتر وغیرہ پر نصب کرنا اور لٹکانا شرک کے بڑے وسائل میں شمار ہوتا ہے اور یہ اللہ رب العالمین کے سوا اربابِ صور کی پوجا ہے۔

جیسا کہ یہ فتنہ نوح علیہ السلام کی قوم میں پیدا ہوا اور وہ لوگ اپنے پانچ بزرگوں کی تصویریں بنا کر ان کے ذریعے شرک میں ڈوبتے چلے گئے۔ دورِ جاہلیت میں تصویروں کی اللہ کے علاوہ بہت زیادہ تعظیم اور پوجا کی جاتی تھی۔ حتیٰ کہ اللہ ذوالجلال نے اپنے آخری نبی سیدنا محمد ﷺ کو مبعوث فرمایا۔ تو آپ ﷺ نے بتوں کو توڑ دیا اور تصویروں کو مٹا دیا۔ اللہ تعالیٰ نے اس عمل کے ذریعے شرک اور اس کے وسائل کو ختم کر دیا۔ تو جو شخص بھی کسی جاندار کی تصویر کشی اور فوٹوگرافی کرتا ہے یا اسے نصب کرتا ہے یا اس کی تعظیم و توقیر کرتا ہے، وہ کفار کے ساتھ ان کے اس عمل میں مشابہت اختیار کرتا ہے۔ اور وہ لوگوں کے لیے شرک اور اس کے وسائل کا دروازہ کھول دیتا ہے۔ اور جو شخص تصویر بنانے کا حکم دے (آرڈر کرے) یا اس معاملے میں راضی ہواپنی یا کسی اور کی تصویر بنوانے میں اس کا حکم مصور اور فوٹوگرافر کی طرح ممانعت اور عذاب کی وعید میں ایک جیسا ہو گا اس لیے کہ کتاب و سنت اور اہل علم کے کلام میں یہ بات طے شدہ ہے: معصیت و نافرمانی اور ان میں رضامندی اس معاملے کی تحریم میں برابر ہیں۔ اسی طرح اس معصیت و نافرمانی والا فعل بھی حرام ہوتا ہے۔ اللہ ذوالجلال کا فرمان ہے: [وَ اِذَا رَاَیۡتَ الَّذِیۡنَ یَخُوۡضُوۡنَ فِیۡۤ اٰیٰتِنَا فَاَعۡرِضۡ عَنۡہُمۡ حَتّٰی یَخُوۡضُوۡا فِیۡ حَدِیۡثٍ غَیۡرِہٖ ؕ وَ اِمَّا یُنۡسِیَنَّکَ الشَّیۡطٰنُ فَلَا تَقۡعُدۡ بَعۡدَ الذِّکۡرٰی مَعَ الۡقَوۡمِ الظّٰلِمِیۡنَ] اور جب تم ایسے لوگوں کو دیکھو جو ہماری آیتوں کے بارے میں بیہودہ بکواس کر رہے ہیں تو ان سے الگ ہو جاؤ یہاں تک کہ وہ دوسری باتوں میں مصروف ہو جائیں۔ اور اگر شیطان تمہیں یہ بات بھلا دے تو یاد آنے پر ظالم لوگوں کے ساتھ نہ بیٹھو۔ (الانعام:68)

ایک اور مقام پر اللہ نے یوں فرمایا ہے: [وَ قَدۡ نَزَّلَ عَلَیۡکُمۡ فِی الۡکِتٰبِ اَنۡ اِذَا سَمِعۡتُمۡ اٰیٰتِ اللّٰہِ یُکۡفَرُ بِہَا وَ یُسۡتَہۡزَاُ بِہَا فَلَا تَقۡعُدُوۡا مَعَہُمۡ حَتّٰی یَخُوۡضُوۡا فِیۡ حَدِیۡثٍ غَیۡرِہٖۤ ۫ۖ اِنَّکُمۡ اِذًا مِّثۡلُہُمۡ]

اور اللہ نے (اے ایمان والو!) تم پر اپنی کتاب میں یہ حکم نازل فرمایا ہے کہ جب تم سنو: اللہ کی آیات سے انکار ہو رہا ہے اور ان کی ہنسی اڑائی جا رہی ہے تو جب تک وہ لوگ دوسری باتیں نہ کرنے لگیں ان کے پاس مت بیٹھو ورنہ تم بھی انہی جیسے ہو جاؤ گے۔ (سورۃ النساء:140)

آیات مذکورہ اس بات کی دلیل ہیں کہ جو شخص کسی برائی، بے حیائی کے مقام پر موجود ہو اور برائی کرنے والوں سے منہ نہ موڑے تو وہ بھی انہی کی طرح ہے۔ تو اس صورت میں جب برائی سے انکار کرنے کی قدرت رکھنے والا وہاں سے کوچ کر جانے والا اس کے منع کرنے سے خاموشی اختیار کرنے پر برا کام کرنے والے کے برابر ہو سکتا ہے تو برائی کا آرڈر حکم دینے والا یا اس پر اپنی رضامندی ظاہر کرنے والا، خاموش رہنے والے سے جرم میں بڑا کیوں نہیں ہو سکتا؟ ہو سکتا ہے اور ہر حال میں اس سے بُرا ہے۔ وہ اس بات کا زیادہ مستحق ہے کہ برائی کرنے والے کے (سزا میں) برابر ہو جائے۔ اس موضوع پر بے شمار دلائل کتابوں میں موجود ہیں۔ جو ان کا متلاشی ہو وہ انہیں وہاں پا سکتا ہے۔

آغاز میں کیے گئے سوال کے جواب میں جو احادیث مبارکہ اور اہل علم کی وضاحتیں ہم نے بیان کی ہیں ان سے حق کی جستجو رکھنے والے کے لیے واضح ہو جائے گا کہ کتابوں، رسالوں، اخبارات اور مجلات میں جاندار چیزوں کی تصویریں لوگوں کا بہت بڑی کثرت سے چھاپنا بڑی واضح غلطی اور ظاہر باہر نافرمانی ہے۔ جو اپنے آپ کی اصلاح کرنا چاہتا ہو اس پر ان سے بچنا واجب ہے۔ اور جو کچھ وہ کر چکا اس سے بھی توبہ کرنے کے بعد اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے مسلمان بھائیوں کو اس گناہ کے انجام اور اللہ کے عذاب سے انہیں ڈرائے جو کچھ اوپر ذکر کیا جا چکا ہے۔ ان دلائل کی روشنی میں حق کے متلاشی کے لیے یہ بھی واضح ہو جاتا ہے کہ جن تصویروں کی طرف اشارہ کیا جا چکا ہے ان کا ان کی اصلی حالت میں باقی رہنا جائز نہیں ہے۔ بلکہ ان کا سر کاٹ دینا یا انہیں مٹا دینا واجب ہے۔ ہاں! اگر کسی چٹائی وغیرہ پر یہ تصویریں ہوں کہ جہاں انہیں پیروں تلے روندا جاتا ہو یا ان کی تحقیر کی جاتی ہو تو ایسی صورت میں ان کا باقی رہنے میں کوئی حرج نہیں۔ جیسا کہ سیدہ عائشہ رضي اللہ عنہا اور سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی مذکورہ احادیث میں اس پر دلیل گزر چکی ہے۔

البتہ چھوٹی بچیوں کیلئے جاندار چیزوں کی شکل پر بنائی گئی گڑیوں کے لینے میں علماء نے اختلاف کیا ہے کہ وہ جائز ہیں یا نہیں۔ بخاری اور مسلم میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے ثابت ہے، آپ فرماتی ہیں کہ: میں اللہ کے نبی ﷺ کے ہاں گڑیوں سے کھیلا کرتی تھی۔ میرے ساتھ میرے سہیلیاں بھی کھیلتی تھیں۔ جب رسول اللہ ﷺ گھر میں داخل ہوتے تو وہ آپ سے چھپ جاتیں۔ آپ انہیں چھپنے والی جگہوں سے نکال کر میری طرف لے آتے اور وہ میرے ساتھ دوبارہ کھیلنے لگ جاتیں۔ [صحيح البخاري: 6130]،[ صحيح مسلم: 2440]

جس سے ثابت ہوا کہ آپ جانداروں کے ہم شکل کھلونوں کے ساتھ کھیلنے سے منع نہیں فرماتے تھے۔

اسی بنا پر حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے فتح الباری میں لکھا ہے: اس حدیث سے بچیوں کے گڑیوں کے ساتھ کھیلنے کیلئے جواز کی دلیل لی جاتی ہے اور تصویریں لینے بنانے کی عام نہی سے اس جواز کو تخصیص حاصل ہے۔

اس بات کو قاضی عیاض رحمہ اللہ نے جزم کے ساتھ لیا ہے۔ اور اس مسلک کو جمہور سے نقل کیا ہے۔ ان سب نے بچیوں کیلئے گڑیاں خریدنے کی اجازت دی ہے تاکہ وہ بچپن میں ہی ان کے ساتھ کھیل کر بچوں کی دیکھ بھال کا طریقہ اور گھر کے کام کاج سیکھ سکیں۔ حافظ ابن حجر کہتے ہیں کہ بعض علماء گڑیوں کے ساتھ کھیلنے کو منسوخ مانتے ہیں۔ اسی مسئلے کی طرف ابن بطال رحمہ اللہ بھی مائل ہیں اور انہوں نے ابن ابی زید کے ذریعے امام مالک رحمہ اللہ سے نقل کیا ہے: وہ اس بات کو ناپسند جانتے تھے کہ آدمی اپنی بچی کیلئے گڑیا خریدے۔ [فتح الباری لابن حجر: 10/527]

امام داؤدی رحمہ اللہ نے اس بات کو ترجیح دی ہے کہ گڑیا کے ساتھ بچی کا کھیلنا منسوخ ہو چکا ہے۔ ابن حبان رحمہ اللہ نے چھوٹی بچیوں کے گڑیوں کے ساتھ کھیلنے کی اجازت والے مسئلے کی ترجمانی کی ہے۔ آدمی کا اپنی بیوی کیلئے گڑیوں کے ساتھ کھیلنے کو مباح جاننے میں امام نسائی رحمہ اللہ نے بھی ان کی تائید کی ہے۔ اور انہوں نے کم عمری بچپن کی قید بھی نہیں لگائی۔ اس بہرحال نظر ہے۔ امام بیہقی رحمہ اللہ احادیث مبارکہ بیان کرنے کے بعد لکھتے ہیں کہ: تصویریں، فوٹو اور ان سے مشابہ کھلونے وغیرہ لینے سے روکا گیا ہے۔ اور یہ نہی عام ہے۔ احتمال یہ ہے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کیلئے اس معاملے میں اجازت تصویر کشی کی حرمت سے پہلے تھی اور اسی بات کو امام جوزی رحمہ اللہ نے پورے جزم کے ساتھ اختیار کیا ہے۔ حتیٰ کہ انہوں نے اس موضوع سے متعلق کہا: امام ابوداؤد اور امام نسائی رحمہ اللہ نے ایک دوسری سند کے باتھ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے نقل کیا ہے۔ آپ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ: رسول اللہ ﷺ غزوہ تبوک یا جنگ خیبر سے واپس تشریف لائے۔آگے انہوں نے وہ پردہ اتار پھینکنے والی حدیث بیان کی جس میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اپنے دروازے پر تصویروں والا پردہ لٹکا رکھا تھا۔ آپ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ: نبی کریم ﷺ نے پردے کے ایک طرف ان کی گڑیاں دیکھیں تو پوچھا: عائشہ! یہ کیا ہے؟ انہوں نے کہا: میری گڑیاں ہیں۔ آپ بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ان کھلونوں میں ایک گھوڑا دیکھا جس کے دو پر لگے ہوئے تھے۔ آپ ﷺ نے فرمایا:یہ کیا ہے؟ میں نے کہا: "ایک گھوڑا ہے” تو آپ ﷺ نے فرمایا: گھوڑا اور اس کے دو پر؟۔ کبھی گھوڑے کے بھی پر ہوتے ہیں؟ میں نے کہا: کیا آپ ﷺ نے یہ بات نہیں سنی کہ سلیمان علیہ السلام کے پاس پروں والا ایک گھوڑا تھا؟ رسول اللہ ﷺ یہ بات سن کر ہنس دیے۔ [سنن أبي داود: 4932]

امام جوزی رحمہ اللہ یہ ساری بات نقل کرنے کے بعد فرماتے ہیں کہ: امام خطابی رحمہ اللہ اس حدیث کے متعلق کہتے ہیں: گڑیوں کے ساتھ کھیلنا ان تمام تصویروں کی طرح غفلت اختیار کرنے کی مانند نہیں ہے کہ جن سے متعلق وعید آئی ہے۔ بلکہ آپ ﷺ نے تو اس میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو اجازت دی تھی اس لیے کہ آپ رضی اللہ عنہا اس وقت بالغ نہ تھیں۔ (فتح الباری لابن حجر: 10/527)

ابن حجر رحمہ اللہ کہتے ہیں: اس مسئلے میں پورے جزم کے ساتھ یہ بات کہنا ٹھیک نہیں اس میں بھی نظر ہے، مگر احتمال ہے اس بات کا۔ اس لیے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا جنگ خیبر کے موقع پر چودہ برس کی تھیں یا تو چودہ سال پورے کر لیے تھے یا کچھ دن باقی یا کچھ ایام اوپر تھے۔ البتہ غزوہ تبوک میں آپ رضی اللہ عنہا قطعی طور پر بالغ ہو چکی تھیں۔ جیسا کہ آپ ﷺ کی بعض روایات سے ثابت ہے۔تو جس نے جنگ خیبر سے واپسی والی بات کو اختیار کیا ہے اس کے قول کو ترجیح دی جائے گی۔ اور جو مسلک امام خطابی رحمہ اللہ نے نقل کیا ہے یہ بات اس کے ساتھ ملا دی جائے گی۔ اس لیے کہ تعارض سے یہ زیادہ بہتر ہے۔ (ابن حجر رحمہ اللہ کا مقصود کلام ختم ہوا)۔ (فتح الباری لابن حجر: 527/10-528)

جو حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے ذکر کیا ہے جب آپ نے اسے جان لیا تو احتیاط اسی میں ہے کہ جانداروں کی ہم شکل گڑیوں وغیرہ کے لینے کو ترک کر دیا جائے۔ اس لیے کہ اس کے جائز ہونے میں شک ہے۔ اس احتمال کی بنا پر کہ ممکن ہے نبی کریم ﷺ کا سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو مجسمہ کھلونوں کی اجازت دینا، تصویروں کے مٹانے والے حکم سے پہلے ہو۔ تو یہ اجازت ان احادیث مبارکہ کے ذریعے منسوخ ہو چکی ہو جن میں تصویروں کے مٹا دینے اور محو کرنے کا حکم آیا ہے سوائے سر بریدہ تصویروں کے یا جن کی تحقیر کی گئی ہو۔ جیسا کہ امام بیہقی رحمہ اللہ نے اس بات کو اختیار کیا ہے اور امام ابن جوزی نے بھی۔ ابن بطال رحمہ اللہ بھی اسی طرف مائل نظر آتے ہیں۔ اور احتمال اس بات کا ہے کہ یہ نہی سے خاص کیا گیا ہے جیسا کہ جمہور علماء نے مشق والی مصلحت کی بنا پر بچیوں کیلئے گڑیوں کا خریدنا جائز قرار دیا ہے اس لیے کہ گڑیوں کے ساتھ کھیلنے میں ان مجسموں اور تصویروں کی اہانت ہے۔

مذکورہ بالا احتمال اور کھلونوں وغیرہ کے لعب و شراء کے حلال ہونے میں شک کی بنا پر اسے ترک کر دینا ہمارے نزدیک زیادہ احتیاط کی بات ہے۔ مجسم تصویروں کے بقاء والے بتوں کو جڑ سے کاٹ پھینکنے کی خاطر بچیوں کی مشق کیلئے جانداروں کی تماثیل و تصاویر اور مجسموں کے علاوہ بے جان اشیاء کی یہ چیزیں اختیار کرنی چاہییں۔ اور رسول اللہ ﷺ کے اس فرمان پر عمل کرتے ہوئے ایسا کرنا چاہیے آپ ﷺ نے فرمایا: اس بات کو اختیار کرو جس میں شک نہ ہو اور جس کے حلال ہونے میں شک ہو اسے چھوڑ دو۔ اس ضمن میں سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ کی حدیث بخاری اور مسلم میں درج ہے کہ جس میں نبی کریم ﷺ نے فرمایا: [إِنَّ الْحَلَالَ بَيِّنٌ وَالْحَرَامَ بَيِّنٌ وَبَيْنَهُمَا أُمُورٌ مُشْتَبِهَاتٌ لَا يَعْلَمُهُنَّ كَثِيرٌ مِّنَ النَّاسِ فَمَنِ اتَّقَى الشُّبُهَاتِ فَقَدِ اسْتَبْرَأَ لِدِينِهِ وَعِرْضِهِ وَمَنْ وَقَعَ فِي الشُّبُهَاتِ وَقَعَ فِي الْحَرَامِ كَالرَّاعِي يَرْعَى حَوْلَ الْحِمَى يُوشِكُ أَنْ يَقَعَ فِيهِ]

یقیناً حلال بھی واضح ہے اور حرام بھی۔ (قرآن و حدیث میں بیان کر دیے گئے ہیں) اور ان دونوں کے درمیان کچھ مشتبہ چیزیں ہیں جنہیں بہت سے لوگ نہیں جانتے۔ جو شخص شبہات سے بچ گیا اس نے اپنا دین اور اپنی عزت بچالی۔ اور جو مشتبہ چیزوں اور کاموں میں جا پڑا وہ حرام میں جا داخل ہوا۔ جیسا کہ ایک چرواہا جو ممنوعہ چراگاہ کے ارد گرد مویشی چراتا ہے۔ قریب ہے کہ وہ اس میں جا پڑے۔ (یعنی اس کے جانور اس چراگاہ میں گھس جائیں اور وہ گنہگار ہو جائے)۔ [صحيح البخاري: 52]

(واللہ اعلم بالصواب)

وصلی اللہ علی نبینا محمد وعلی آلہ و صحبہ وبارک وسلم

عبدالعزیز بن عبداللہ بن باز رحمہ اللہ