كتاب الذكر والدعاء
ذکر کے حلقے قائم کرنا
① سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إذا مررتم برياض الجنة فارتعوا
”جب تم جنت کے باغوں میں سے گزرو تو سیر ہو کر کھا پی لیا کرو“۔
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا:
”اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم! جنت کے باغوں سے کیا مراد ہے؟“
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
حلق الذكر
”ذکر کے حلقے“۔
ترمذی، کتاب الدعوات 3509، 3510؛ مسند احمد 150/3 روایت ضعیف ہے۔ اس کی سند میں حمید بن قیس مجہول الحال ہے اور محمد بن ثابت راوی ضعیف ہے۔
دعا اور اس کے آداب
① سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
ينزل ربنا كل ليلة إلى سماء الدنيا حين يبقى ثلث الليل الآخر فيقول : من يدعوني فأستجيب له ، من يسألني فأعطيه ، من يستغفرني فأغفر له
”ہمارا رب ہر رات جب رات کا آخری تہائی حصہ باقی رہ جاتا ہے آسمانِ دنیا پر نزول فرماتا ہے اور کہتا ہے: کون ہے جو مجھ سے دعا کرے تاکہ میں اس کی دعا قبول کروں، کون ہے جو مجھ سے مانگے تاکہ میں اسے عطا کروں، کون ہے جو مجھ سے مغفرت طلب کرے تاکہ میں اسے بخش دوں“۔
بخاری، کتاب صلاة المسافرين وقصرها 1145. مسلم، کتاب الجمعة 758. ابو داؤد، کتاب الصلاة 1315۔
② سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ ہی سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
من سره أن يستجيب الله له عند الشدائد والكرب فليكثر الدعاء فى الرخاء
”جو شخص یہ پسند کرتا ہے کہ سختیوں اور تکلیفوں کے وقت اللہ اس کی دعائیں قبول فرمائے تو اسے چاہیے کہ وہ فراخی و خوش حالی میں کثرت سے دعا کرے“۔
ترمذی، کتاب الدعوات 3382 روایت حسن ہے۔ دیکھئے الصحيحة للألباني رحمه الله نمبر 593۔
③ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ ہی سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
أقرب ما يكون العبد من ربه وهو ساجد فأكثروا الدعاء
”بندہ سجدے کی حالت میں اپنے رب کے سب سے زیادہ قریب ہوتا ہے، پس (اس حالت میں) کثرت سے دعا کیا کرو“۔
مسلم، کتاب الصلاة 482؛ ابو داؤد، کتاب الصلاة 8757۔
④ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ ہی بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
ادعوا الله وأنتم موقنون بالإجابة ، واعلموا أن الله لا يستجيب دعاء من قلب غافل لاه
”قبولیت کا یقین رکھتے ہوئے اللہ سے دعا کرو، اور جان لو کہ اللہ غافل اور لاپروا دل سے کی جانے والی دعا قبول نہیں فرماتا“۔
ترمذی، کتاب الدعوات 3479 روایت ضعیف ہے۔ اس کی سند میں صالح المری ضعیف الحدیث ہے۔
⑤ سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
الدعاء هو العبادة
”دعا ہی عبادت ہے“۔
ابو داؤد، کتاب الصلاة 1479؛ ترمذی، کتاب الدعوات 2969 روایت صحیح ہے۔
⑥ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ پسند تھا کہ تین بار دعا کی جائے اور تین بار مغفرت طلب کی جائے (یعنی دعا و استغفار کا کلمہ تین تین بار کہا جائے)۔
ابو داؤد، کتاب الصلاة 1524 روایت صحیح ہے۔
⑦ سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی شخص کا ذکر کرتے تو اس کے لیے دعا کرتے لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم ابتدا اپنے آپ سے کرتے تھے۔
ترمذی، کتاب الدعوات 3385؛ ابو داؤد، کتاب الحروف والقراءات 3984۔
مسلمان بھائی کی عدم موجودگی میں دعا کرنا
① سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا:
ما من عبد مسلم يدعو لأخيه بظهر الغيب إلا قال الملك : ولك بمثل
”جب کوئی مسلمان بندہ اپنے مسلمان بھائی کے لیے اس کی عدم موجودگی میں دعا کرتا ہے تو فرشتہ کہتا ہے: تجھے بھی اسی جیسا ملے“ (یعنی وہ ویسی ہی دعا اس دعا کرنے والے کے لیے کرتا ہے)۔
مسلم، کتاب الذکر والدعاء والتوبة والاستغفار 2732۔
② سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ ہی سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے:
دعوة المرء المسلم لأخيه بظهر الغيب مستجابة ، عند رأسه ملك موكل كلما دعا لأخيه بخير قال الملك الموكل به : آمين ولك بمثل
”بندے کی وہ دعا جو وہ اپنے مسلمان بھائی کے لیے اس کی عدم موجودگی میں کرتا ہے قبول ہوتی ہے۔ اس کے سر کے پاس ایک فرشتہ مقرر ہوتا ہے، جب بھی وہ اپنے بھائی کے لیے دعائے خیر کرتا ہے تو وہ مقرر فرشتہ کہتا ہے: آمین! اور تیرے لیے بھی اسی کے مثل ہے“۔
مسلم، کتاب الذکر والدعاء والتوبة والاستغفار 2733۔
③ سیدنا عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
أسرع الدعاء إجابة دعوة غائب لغائب
”جو دعا کسی کی عدم موجودگی میں کی جائے وہ سب سے جلد قبول ہوتی ہے“۔
ابو داؤد، کتاب الصلاة 1535؛ ترمذی، کتاب البر والصلة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛ بخاری فی الأدب المفرد 623 اپنے شواہد کے ساتھ حسن ہے۔