عقائد اہل السنۃ والجماعۃ
سوال: قرآن مجید میں نبی کریم ﷺ کو خطاب کے الفاظ آئے ہیں؛ کیا ان آیات کی بنیاد پر ہم بھی عام حالات میں ’’یا رسول اللہ ﷺ‘‘ کہہ سکتے ہیں؟
جواب: اللہ تعالیٰ جس کو چاہے خطاب کرے، وہ سنوانے پر قادر ہے۔ فرمایا: [یُسۡمِعُ مَنۡ یَّشَآءُ ۚ وَ مَاۤ اَنۡتَ بِمُسۡمِعٍ مَّنۡ فِی الۡقُبُوۡرِ] بے شک اللہ جس کو چاہتا ہے سناتا ہے اور آپ قبر والوں کو نہیں سنا سکتے۔ (فاطر:22)
جب اللہ سنانے پر قادر ہے تو اس نے ان چیزوں سے خطاب بھی کیا ہے۔ زمین و آسمان سے بھی خطاب کیا ہے: [یٰۤاَرۡضُ ابۡلَعِیۡ مَآءَکِ وَ یٰسَمَآءُ اَقۡلِعِیۡ] اے زمین! اپنا پانی نگل لے اور اے آسمان! تھم جا۔ (هود:44)
سب انسانوں سے:[يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ] کہہ کر خطاب کیا۔ (البقرة:21)
[يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ كَفَرُوْا] کہہ کر کفار سے خطاب کیا۔ (التحريم:7)
[يٰۤاِبْلِيْسُ] کہہ کر شیطان سے خطاب کیا۔ (ص:75)
چونکہ اللہ سے کوئی چیز مخفی نہیں، وہ جس کو چاہے خطاب کرے، وہ تو ہر ایک کو دیکھتا اور اس کی سنتا ہے۔ مگر ہم نہ یہ قدرت رکھتے ہیں کہ اپنی آواز انھیں پہنچا سکیں اور نہ وہ جواب دینے پر قادر ہیں، لہذا اس میں دلیل نہیں ہے۔
سوال: تشہد میں نبی کریم ﷺ کو سلام کے الفاظ کہے جاتے ہیں؛ کیا یہ اس بات کی دلیل ہے کہ نماز کے باہر بھی ’’یا رسول اللہ ﷺ‘‘ کہنا جائز ہے؟
جواب: سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ ہم میں زندہ تھے تو ہم (اَلسَّلَامُ عَلَيْكَ اَيُّهَا النَّبِيُّ) کہتے تھے۔ لیکن جب آپ وفات پا گئے تو ہم (اَلسَّلَامُ عَلَی النَّبِیِّ) کہتے ہیں۔ [بخاری، کتاب الاستئذان، باب الأخذ باليدين: 6265]
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما تشہد میں (اَلسَّلَامُ عَلَی النَّبِیِّ وَ رَحْمَةُ اللّٰهِ وَ بَرَكَاتُهٗ) پڑھتے تھے۔
[مؤطا إمام مالك، كتاب الصلاة، باب التشهد في الصلاة: 54]
دراصل تشہد میں خطاب کا صیغہ اس لیے استعمال کیا جاتا ہے کہ صحابہ فرماتے ہیں ہمیں رسول اللہ ﷺ تشہد کی یہ دعا اس طرح یاد کرواتے تھے جس طرح قرآن کی کوئی سورت۔ اس لیے قرآن میں جہاں خطاب کے الفاظ آتے ہیں انھیں اسی طرح پڑھا جاتا ہے، لہذا یہ دعا بھی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے اسی طرح جاری رکھی۔ معلوم ہوا کہ صحابہ کا عقیدہ یہی تھا کہ آپ ﷺ وفات کے بعد نہیں سنتے۔ سلف میں جو لوگ خطاب کے قائل تھے وہ بھی ندا اور استغاثہ لغیراللہ کو شرک شمار کرتے ہیں۔ وہ تاویل کرتے ہیں کہ ہم حکم کے مطابق الفاظ استعمال کرتے ہیں، ہم ندا لغیراللہ کے قائل نہیں ہیں۔
سوال: قبرستان جا کر اہلِ قبور کو سلام کہا جاتا ہے۔ اگر مردے عام طور پر زندوں کی بات نہیں سنتے تو پھر انہیں سلام کے الفاظ سے خطاب کیوں کیا جاتا ہے؟
جواب: صرف خطاب کرنا سننے کی دلیل نہیں ہے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ حجرِ اسود کو خطاب کر کے کہتے ہیں: اے حجرِ اسود! تو ایک پتھر ہے، نفع و نقصان تیرے اختیار میں نہیں ہے۔ اگر میں نے نبی اکرم ﷺ کو تجھے بوسہ دیتے ہوئے نہ دیکھا ہوتا تو تجھے کبھی بوسہ نہ دیتا۔ کیا یہ بات دلیل ہے کہ پتھر سنتے ہیں؟ معلوم ہوا کہ صرف خطاب سننے کی دلیل نہیں ہے۔
