دین کی آسانی، نیک اعمال پر دوام اور کم گوئی کی فضیلت

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ حسین بن مبارک الموصلی کی عربی کتاب الاوامر والنواهي سے ماخوذ ہے جس کا اُردو ترجمہ محمد سرور گوہر صاحب نے احکامات و ممنوعات کے نام سے کیا ہے۔

دین آسان ہے

① سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إن الدين يسر، ولن يشاد الدين أحد إلا غلبه، فسددوا وقاربوا، وأبشروا، واستعينوا بالغدوة والروحة وشيء من الدلجة
”بے شک دین بہت آسان ہے، جو شخص دین میں سختی کرے گا تو دین اس پر غالب آ جائے گا اس لیے میانہ روی اختیار کرو (اعتدال کے ساتھ) قریب رہو اور خوش ہو جاؤ۔ صبح، دوپہر کے بعد اور کچھ رات میں عبادت کرنے سے مدد حاصل کرو“۔
البخارى كتاب الایمان (39) مسلم، كتاب صفة القيامة والجنة والنار (5036).

نیک اعمال پر ہمیشگی

① سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا گیا: اللہ کو کون سا عمل زیادہ پسند ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
أدومه وإن قل
”جس پر دوام اختیار کیا جائے، خواہ وہ قلیل ہو“۔
بخاری، کتاب الصوم (1987). مسلم، کتاب صلوة المسافرين وقصرها (783) ابوداؤد، کتاب الصلوة (1370).
② سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا ہی سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
عليكم بما تطيقون، فوالله لا يمل الله حتى تملوا، وإن أحب العمل إلى الله أدومه وإن قل
رک جاؤ ”تم اپنے ذمہ صرف وہی کام رکھو جس کی تم طاقت رکھتے ہو۔ اللہ کی قسم! اللہ (ثواب دینے سے) نہیں اکتاتا، تم ہی (عبادت کرتے کرتے) اکتا جاؤ گے۔ اور اللہ کو سب سے زیادہ محبوب عمل وہ ہے جس پر دوام اختیار کیا جائے خواہ وہ قلیل ہو اور آپ جو عمل کرتے اس کو مسلسل کرتے رہتے“۔
بخاری کتاب الایمان (39) مسلم، كتاب الصيام (783).
③ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں، بنو اسد قبیلے کی ایک عورت میرے پاس بیٹھی ہوئی تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:من هذه ؟
”یہ کون ہے؟“
میں نے کہا: فلاں عورت ہے وہ رات بھر سوتی نہیں، اور اس کی کثرتِ نماز کا تذکرہ کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
مه، عليكم من الأعمال ما تطيقون، فإن الله لا يمل حتى تملوا، وكان أحب الدين إليه ما دام عليه صاحبه
”رک جاؤ تم اپنے ذمے صرف وہی کام لو جو کر سکتے ہو۔ اس لیے کہ اللہ (ثواب دیتے ہوئے) نہیں اکتاتا حتیٰ کہ تم اکتا جاؤ۔ اللہ کو سب سے زیادہ محبوب کام وہ ہے جس کے کرنے والا اس پر ہمیشگی اختیار کرے“۔
بخاري، كتاب الايمان (43) . مسلم، كتاب الصيام (783).
نكاح كرنا سنت هے
④ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، تین آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عبادت کے متعلق پوچھنے کے لیے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواجِ مطہرات کے گھر تشریف لائے۔ جب انہیں بتایا گیا تو گویا انہوں نے اسے کم محسوس کیا اور کہا: ”نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ہماری کیا نسبت! ان کے تو اگلے پچھلے تمام گناہ معاف کر دیے گئے ہیں“۔ ان میں سے ایک نے کہا: ”جہاں تک میرا تعلق ہے تو میں پوری رات نماز پڑھا کروں گا“۔ دوسرے نے کہا: ”میں ہمیشہ روزہ رکھا کروں گا، کبھی افطار نہیں کروں گا“۔ تیسرے نے کہا: ”میں عورتوں سے کنارہ کش رہوں گا، کبھی شادی نہیں کروں گا“۔
پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور فرمایا:
أنتم الذين قلتم كذا وكذا؟ أما والله إني لأخشاكم لله وأتقاكم له، لكني أصوم وأفطر، وأصلي وأرقد، وأتزوج النساء، فمن رغب عن سنتي فليس مني
”تم ہی وہ لوگ ہو جنہوں نے ایسے ایسے کہا ہے۔ سن لو! اللہ کی قسم! میں تم سے زیادہ اللہ کے بارے میں خشیت اور تم سے زیادہ اس کا تقویٰ رکھتا ہوں۔ لیکن میں (نفلی) روزہ رکھتا ہوں اور افطار بھی کرتا ہوں، نماز پڑھتا ہوں اور رات کو سوتا بھی ہوں، اور میں نے شادیاں بھی کی ہیں؛ پس جس نے میری سنت سے اعراض کیا وہ مجھ سے نہیں“۔
بخاری، کتاب النكاح: 5063. مسلم، کتاب النكاح: 1401.

کم گوئی ایمان کا حصہ ہے

① سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
الحياء والعي شعبتان من الإيمان، والبداء والبيان شعبتان من النفاق
”شرم و حیا اور کم گوئی ایمان کے دو حصے ہیں جبکہ بدکلامی و بداخلاقی اور کثرتِ کلام نفاق کے دو حصے ہیں“۔
ترمذي، كتاب البر والصلة: 2027. مسند احمد، باقی مسند الانصار: 5/269، روایت صحیح ہے.