نیت سے متعلقہ احکامات
① سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا:
إنما الأعمال بالنيات، وإنما لكل امرئ ما نوى، فمن كانت هجرته إلى الله ورسوله فهجرته إلى الله ورسوله، ومن كانت هجرته لدنيا يصيبها، أو امرأة ينكحها فهجرته إلى ما هاجر إليه
”تمام اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے، ہر شخص کے لیے وہی کچھ ہے جس کی وہ نیت کرتا ہے۔ پس جس شخص کی ہجرت اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ہو تو اس کی ہجرت اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ہے۔ پس جو شخص دنیا کمانے یا کسی عورت سے نکاح کرنے کے لیے ہجرت کرتا ہے تو اس کی ہجرت اسی کے لیے ہے جس کے پیش نظر اس نے ہجرت کی“۔
بخاری، کتاب بدء الوحى: 1. مسلم، كتاب الامارة: 1907/155.
② سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لا هجرة بعد الفتح، ولكن جهاد ونية، وإذا استنفرتم فانفروا
”فتح (مکہ) کے بعد ہجرت نہیں، لیکن جہاد اور نیت و اخلاص باقی ہے۔ جب تم سے نکلنے کا مطالبہ کیا جائے تو پھر نکلو“۔
بخاری، کتاب المناقب: 3900. مسلم، کتاب الامارة: 1864/86.
③ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا:
إذا أنزل الله بقوم عذابا أصاب العذاب من كان فيهم ثم بعثوا على أعمالهم
”جب اللہ کسی قوم پر عذاب نازل کرتا ہے تو عذاب اس پوری قوم کو اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے۔ پھر لوگ اپنے اعمال کے مطابق اٹھائے جائیں گے“۔
بخاري، کتاب الفتن: 7108 . مسلم، كتاب الجنة وصفة نعيمها و اهلها: 2879/84.
④ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، ہم ایک غزوہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شریک تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إن بالمدينة لرجالا ما سرتم مسيرا ولا قطعتم واديا إلا كانوا معكم، حبسهم المرض
”مدینہ میں کچھ ایسے لوگ ہیں کہ تم جہاں سے بھی گزرے اور تم نے جس بھی وادی کو عبور کیا تو وہ تمہارے ساتھ ہی تھے۔ بس مرض نے انہیں روک رکھا (کہ وہ تمہارے ساتھ شریک نہیں ہو سکے)“۔
اور ایک روایت میں ہے:
إلا شركوكم فى الأجر
”مگر وہ اجر میں تمہارے ساتھ شریک ہیں“۔
مسلم، كتاب الامارة: 1911/159. ابن ماجه، كتاب الجهاد: 2764.
خیر خواہی کے متعلق احکامات
① سیدنا تمیم داری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
الدين النصيحة
”دین خیر خواہی و اخلاص کا نام ہے“۔
ہم نے عرض کیا: ”اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم؟ کس کے ساتھ؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لله ولكتابه ولرسوله ولأئمة المسلمين وعامتهم
”اللہ کے لیے، اس کی کتاب کے لیے، اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے، مسلمانوں کے حکمرانوں اور عام مسلمانوں کے لیے“۔
مسلم، کتاب الایمان: 55/95.
② سیدنا جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ”میں نے نماز قائم کرنے، زکوٰۃ ادا کرنے اور ہر مسلمان سے خیر خواہی کرنے کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی“۔
بخاری: 57. مسلم: 56/97
③ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لا يؤمن أحدكم حتى يحب لأخيه ما يحب لنفسه
”تم میں سے کوئی شخص مومن نہیں ہو سکتا، حتیٰ کہ وہ اپنے بھائی کے لیے وہی کچھ پسند کرے جو وہ اپنے لیے پسند کرتا ہے“۔
بخاری، کتاب الایمان: 13. مسلم، کتاب الايمان: 45/71.
نیکی کا ارادہ کرنے سے متعلق احکامات
① سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
من هم بحسنة فلم يعملها كتب له حسنة، ومن هم بحسنة فعملها كتبت بعشرة إلى سبعمائة ضعف، ومن هم بسيئة فلم يعمل * ها كتب له حسنة، ومن هم بسيئة فعملها كتبت له سيئة
”جو شخص نیکی کا ارادہ کرے لیکن اسے کر نہ سکے تو اس کے لیے ایک نیکی لکھ دی جاتی ہے۔ اور جو شخص نیکی کا ارادہ کرے اور اسے کر لے تو اس کے لیے دس سے سات سو گنا تک لکھ دیا جاتا ہے۔ اور جو شخص برائی کا ارادہ کرے لیکن اس کا ارتکاب نہ کرے تو بھی اس کے لیے ایک نیکی لکھ دی جاتی ہے۔ اور جو شخص برائی کا ارادہ کرے اور اس کا ارتکاب بھی کر لے تو اس کے لیے ایک برائی لکھ دی جاتی ہے“۔
مسلم، کتاب الايمان: 130/206. مسند احمد، مسند ابی هریره رضی الله عنہ: 314/2، حدیث: 7215.
② سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ ہی بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
يقول الله تعالى: إذا هم عبدي بسيئة فلا تكتبوها عليه فإن عملها فاكتبوها عليه سيئة، وإذا هم بحسنة فلم يعملها فاكتبوها حسنة فإن عملها فاكتبوها عشرة
”اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: جب میرا بندہ کسی برائی کا ارادہ کرے تو اسے اس کے خلاف نہ لکھو، اگر اس کا ارتکاب کر لے تو پھر اس کے خلاف ایک برائی لکھو۔ اور جب وہ نیکی کا ارادہ کرے اور اسے نہ کر سکے تو اس کے حق میں ایک نیکی لکھ دو، اور اگر وہ نیکی کر لے تو اس کے لیے دس گنا لکھ دو“۔
مسلم، کتاب الايمان: 130/206. مسند احمد، مسند ابی هریره رضی الله عنہ: 314/2، حدیث: 7215.