روایت میں راوی کا تصرف
دوسرا اشکال: اربابِ اشراق کا یہ تھا کہ روایت میں [قالت وليستا بمغنيتين] یعنی ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: کہ یہ دونوں پیشہ ور گانے والی نہیں تھیں، اس جملہ کے بارے میں اہلِ اشراق کا نقطہٴ نظر یہ ہے، یہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا قول ہی نہیں، یہ بعد کے راویوں کا اپنا قیاس ہے جسے انھوں نے متن میں شامل کر دیا ہے۔ (اشراق:ص30 مارچ2006ء)
ان کی اس فکر کی کجی ہم بحمد اللہ الاعتصام میں واضح کر چکے ہیں، اب تازہ ارشاد جو انھوں نے فرمایا، طول بیانی اور سخن سازی جس میں ہم ان کی مہارت کے معترف ہیں، سے قطع نظر، اس کا خلاصہ یہ ہے کہ ذخیرہٴ حدیث میں اس کی ان گنت مثالیں پائی جاتی ہیں کہ ایک راوی کوئی روایت بیان کرتا ہے اور اس کے متن میں کوئی ایسی بات بھی شامل کر دیتا ہے جس کو وہ بر بنائے وہم اصل روایت کا حصہ سمجھ رہا ہوتا ہے۔ اس صورت میں وہ اگر کسی موقعہ پر اپنے شامل کردہ فقرے کو [قال] یا [قالت] کہہ کر اوپر کے راوی کی طرف منسوب کر دیتا ہے تو اس میں تعجب کی کوئی بات نہیں۔ (اشراق:ص32 ستمبر2006ء)
ہمیں تسلیم ہے کہ ذخیرہٴ حدیث میں ایسی بہت سی مثالیں موجود ہیں، محدثین نے اس نوعیت کی روایات کو ”مدرج“ کی اصطلاح سے متعارف کروایا ہے، اور ادراج کے ثبوت کے لیے اصول و ضوابط مقرر کیے ہیں اور اس نوعیت کی روایات کو مستقل کتابوں میں جمع کر کے ایسی روایات کی نشان دہی کی ہے۔ افسوس ہے کہ ان ضوابط سے منحرف ہو کر بلا دلیل محض اپنی فکر کی ہمنوائی میں کسی جملہ کو مدرج قرار دینا بہت بڑی جسارت ہے۔ محترم جناب عمار خان صاحب ناصر جو اس بحث میں اشراق کے مدد و معاون بنے ہیں اور ماشاءاللہ ”علمی نکات“ سے اسے سہارا دے رہے ہیں، انھی کے جدِ محترم حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدر صاحب رقم طراز ہیں:
محدثین کرام کا ضابطہ ہے کہ جو جملہ حدیث کے ساتھ ہو تو وہ متصل ہی مانا جائے گا اور محض احتمال سے ادراج ثابت نہیں ہو سکتا، اور ادراج کے اثبات کے لیے محدثین نے جو قواعد بیان کیے ہیں وہ یہ ہیں کہ مدرج حصہ کسی دوسری روایت میں الگ آیا ہو، یا راوی صراحت سے بیان کرے کہ یہ مدرج ہے، یا اطلاع پانے والے اماموں میں سے کوئی اس کی تصریح کرے یا اس قول کا آنحضرت ﷺ سے ثابت ہونا محال ہو۔ (تسکین الصدور:ص180)
مولانا صفدر صاحب نے جو کچھ فرمایا: اصولِ حدیث کی کتابوں میں اس کی تفصیل موجود ہے، اس اصول کی روشنی میں کیا یہ حصہ کسی دوسری روایت میں الگ طور پر آیا ہے؟ قطعاً نہیں۔ کسی راوی یا محدث نے تصریح کی ہے کہ یہ فلاں راوی کی غلطی سے حدیث میں درج ہو گیا ہے؟ بالکل نہیں۔ بلکہ گیارہ سو سال سے تمام محدثین اور اہلِ علم اسے صحیح تسلیم کر کے اس سے استدلال کرتے رہے، مگر اب اہلِ اشراق پر یہ راز فاش ہوا ہے کہ یہ تو راوی کی غلطی سے حدیث میں درج ہو گیا ہے۔
اسی ضمن میں محترم عمار صاحب نے اپنی بات میں رنگ بھرتے ہوئے راقم کی ایک عبارت کو اپنی موافقت میں نقل کیا کہ توضیح الکلام میں ایک روایت پر تبصرہ کرتے ہوئے (توضیح الکلام:ص124 ج1) راقم نے لکھا ہے:
بعض اہلِ علم نے ان الفاظ کو صرف اس بنا پر صحیح باور کر لیا ہے کہ یہ صحیح بخاری میں ہیں، مگر یہ صحیح نہیں، جب کہ صحیح بخاری و مسلم میں شیخین ایسی حدیث کو بھی لے آتے ہیں جو مقصود کے اعتبار سے تو صحیح ہوتی ہے یعنی (من حیث المجموع) اگرچہ کوئی ٹکڑا اس کا ان کے معیارِ صحت کے مطابق نہیں ہوتا، بلکہ اس میں بعض رواة کا وہم ہوتا ہے، صحیحین کا غائر نظر سے مطالعہ کرنے والے حضرات کے لیے یہ بات نئی نہیں۔
اس عبارت سے ان کا مقصد یہ ہے کہ جب راقم نے صحیحین میں بعض راویوں کے وہم کو تسلیم کیا ہے تو زیرِ بحث روایت میں راوی کے وہم سے انکار کیوں ہے؟
مگر ہمیں افسوس ہے کہ محترم عمار صاحب نے ہمارے موقف کی صحیح ترجمانی نہیں کی، صحیح بخاری میں جس وہم کا راقم نے ذکر کیا، کیا وہ راقم کا بتلایا ہوا فہم ہے یا اس وہم کا اشارہ خود امام بخاری، امام بیہقی، علامہ ابنِ قیم اور علامہ زیلعی رحمہ اللہ نے کیا ہے؟ اس طرح صحیحین میں بعض راویوں کا وہم ذکر کرنا بھی ہیچ مداں کی نشاندہی نہیں بلکہ محدثینِ سابقین رحمہ اللہ نے کی ہے؟
سخن شناس نئی دلبرا خطا ایں جا است
اپنی بات بلکہ اپنے فیصلے کو مستحکم کرنے کے لیے یہ بھی فرمایا گیا کہ: کسی حدیث کی صحت وضعب کو طے کرنے کا معیار نقدِ روایت کے اصول ہیں یا ائمہٴ فن کے اقوال، آخر ائمہٴ فن کس بنیاد پر کسی روایت کی صحت و ضعف کا فیصلہ فرماتے ہیں؟ اگر ان کے فیصلوں کی بنیاد وحی والہام کی بجائے دلائل وشواہد پر ہوتی ہے تو دلائل کی روشنی میں ان کی رائے سے اختلاف کیوں نہیں کیا جا سکتا؟
علامہ سیوطی رحمہ اللہ لکھتے ہیں: ابن الصباغ نے کہا ہے کہ اگر راوی اضافہ بیان کرے، جب کہ اس کے بغیر روایت کرنے والے راوی ایک ایسی جماعت ہوں جن کا وہم میں مبتلا ہو جانا بعید از قیاس ہو یا ان جیسے راویوں کا اس جیسی بات کو نقل کرنے سے غافل رہ جانا عادتاً ممکن نہ ہو تو زیادت ناقابلِ اعتبار قرار پائے گی۔ ابن السمعانی نے بھی یہی بات کہی ہے اور اس پر اتنا اضافہ کیا ہے کہ وہ بات ایسی ہو کہ اس کو نقل کرنے کے محرکات اور دواعی بھی کافی پائے جاتے ہوں۔ ہم نے اسی اصول پر ہشام کی روایت میں ابو اسامہ کے اضافہ کردہ جملے [قالت وليستا بمغنيتين] کو ابو اسامہ کا وہم قرار دیا ہے۔ (اشراق:ص34 ستمبر2006ء)
بلا شبہ کسی روایت کو پرکھنے اور اس پر صحت و ضعف کا حکم لگانے کے اصول ہیں اور انھی اصولوں کی بنا پر محدثین رحمہ اللہ نے کسی حدیث پر صحت و ضعف کا حکم لگایا ہے، اور یہ حکم لگانے والوں میں بعض وہ ہیں جن کا حزم واحتیاط اور ان کا تتبع سب کے ہاں مسلم ہے، پھر تنہا ان کے حکم پر ہی کیا موقوف، متاخرین نے بھی انھی اصولوں کے تحت ان روایات کا مزید جائزہ لیا اور ان کی موافقت کی۔ متقدمین کی نگاہوں میں ذخیرہٴ احادیث تھا، ایک ایک روایت کی متعدد اسانید انھیں ازبر تھیں اور یوں لاکھوں احادیث کے وہ حافظ تھے، جیسا کہ تاریخ و تراجم کی کتابوں میں محفوظ ہے۔
اس کے برعکس چند مطبوعہ کتابوں کی ورق گردانی سے ان سابقینِ محدثین کے فیصلے کے خلاف فیصلہ دینا خودسری ہے اور بقول شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمہ اللہ [سبیل المؤمنین] سے انحراف ہے۔ علامہ انور شاہ صاحب کشمیری رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
[وليعلم أن تحسين المتأخرين وتصحيحهم لا يوازى تحسين المتقدمين فإنهم كانوا أعرف بحال الرواة لقرب عهدهم بهم، فكانوا يحكمون ما يحكمون به بعد تثبت تام ومعرفة جزئية، أما المتأخرون فليس عندهم من أمرهم غير الأثر بعد العين، فلا يحكمون إلا بعد مطالعة أحوالهم في الأوراق، وأنت تعلم أنه كم من فرق بين المجرب والحكيم، وما يغنى السواد الذى فى البياض عند المتأخرين عما عند المتقدمين من العلم على أحوالهم كالعيان، فإنهم أدركوا الرواة بأنفسهم فاستغنوا عن التساؤل والأخذ عن أفواه الناس، فهؤلاء أعرف الناس فبهم العبرة]
یہ بات خوب جان لیں کہ متاخرین کی تحسین اور تصحیح متقدمین کی تحسین و تصحیح کے برابر نہیں کیونکہ متقدمین قربِ عہد کی بنا پر راویوں کے احوال زیادہ جانتے تھے، وہ جو بھی فیصلہ فرماتے پورے احتیاط اور اس کی جزئیات کو معلوم کرنے کے بعد فیصلہ فرماتے تھے۔ (متاخرین کی طرح) وہ اوراق میں لکھے ہوئے راویوں کے احوال دیکھ کر فیصلہ نہیں کرتے تھے۔ اور تمھیں معلوم ہے ایک تجربہ کار اور حکیم کے مابین کیا فرق ہے۔ متقدمین کے پاس راویوں کو براہِ راست پرکھنے کا جو علم تھا اس کے مقابلے میں متاخرین کے نزدیک کتابوں میں لکھا ہوا علم فائدہ نہیں دیتا، کیونکہ متقدمین کو براہِ راست راویوں سے سابقہ پڑا ہے وہ کسی اور سے پوچھنے اور سوال کرنے سے مستغنی تھے، وہی راویوں کو سب سے زیادہ جاننے والے تھے لہٰذا انھی کی بات قابلِ اعتبار ہے۔ (فیض الباری: ص414 ج4)
مگر ہم نے تو عرض کیا کہ روایت زیرِ بحث کو متقدمین میں کیا متاخرین، سوائے اہلِ اشراق کے، سب صحیح تسلیم کرتے رہے ہیں اور جس اصول پر آج عملِ جراحی شروع ہوا ہے وہ آخر ان کے پیشِ نظر بھی تھا یا نہیں؟
پھر جہاں تک اس اصول کا ذکر ہے جسے تدریب الراوی (ص246 ج1) کے حوالے سے علامہ ابنِ صباغ سے نقل کیا گیا ہے، تو اس بارے میں بھی اہلِ اشراق نے بڑا گھپلا کیا ہے، اور اس کی محترم عمار صاحب سے قطعاً توقع نہ تھی، پہلے تو یہی دیکھیے کہ علامہ ابو نصر ابن الصباغ جن کا نام عبد السيد بن محمد بن عبد الواحد ہے وہ 477ھ میں فوت ہوئے، پانچویں صدی ہجری کے وہ معروف شافعی فقیہ ہیں، ابن السمعانی ان سے بھی متاخر ہیں۔ محترم عمار صاحب کو آخر پانچویں صدی ہجری میں بیان کیا ہوا اصول ہی کیوں نظر آیا؟ کیا اسی تدریب الراوی میں کوئی اور اصول بیان نہیں ہوا کہ انھوں نے اسی کو نقل کرنے کی زحمت فرمائی ہے۔
جب کہ امرِ واقعہ یہ ہے کہ اسی تدریب الراوی میں سب سے پہلے یہ بیان ہوا ہے کہ جمہور فقہاء اور محدثین مطلقاً ثقہ کی زیادت کو قبول کرتے ہیں، بلکہ ابنِ طاہر نے تو اس پر اتفاق کا دعویٰ کر دیا ہے۔ کاش محترم عمار صاحب نے اس حوالے سے اپنے دادا جان حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدر صاحب ہی سے دریافت کر لیا ہوتا کہ یہ مسئلہ کیا ہے، ان جیسے بحاث اور ناقد سے یہ توقع تو نہیں کہ وہ اپنے دادا جان کے فیصلے سے بے خبر ہوں گے، تاہم عرض ہے کہ انھوں نے دو اڑھائی صفحات میں متعدد حوالے نقل کر کے، جن میں تدریب الراوی کا بھی حوالہ ہے، فرمایا ہے: محدثینِ کرام، فقہائے عظام اور اربابِ اصول کا یہ اتفاقی، اجماعی اور طے شدہ قاعدہ ہے کہ جب راوی ثقہ اور حافظ ہو اور وہ زیادت کرے تو مطلقاً اس کی روایت مقبول ہے۔ (احسن الکلام:ص196 ج1، ط دوم)
ہماری طرح ممکن ہے جنابِ محترم عمار صاحب کو دادا جان کے اس دعویٰ ”اتفاق و اجماع“ سے اختلاف ہو، لیکن اس سے یہ بات تو ظاہر ہو گئی کہ علامہ ابنِ صباغ اور ابنِ السمعانی کے برعکس رائے رکھنے والے کون اور کتنے ہیں۔
مزید یہ کہ تدریب الراوی کی اس بحث میں علامہ سیوطی نے مختلف اقوال نقل کرنے کے بعد بالآخر شیخ الاسلام حافظ ابنِ حجر رحمہ اللہ سے نقل کیا ہے:[والمنقول عن أئمة الحديث المتقدمين كابن مهدي ويحيى القطان وأحمد وابن معين وابن المديني والبخاري وأبي زرعة وأبي حاتم والنسائي والدارقطني وغيرهم اعتبار الترجيح فيما يتعلق بالزيادة المنافية بحيث يلزم من قبولها رد الرواية الأخرى]
کہ متقدمین ائمہٴ حدیث جیسا کہ امام عبدالرحمن بن مہدی، امام یحییٰ بن سعید قطان، امام احمد، امام یحییٰ بن معین، امام علی بن مدینی، امام بخاری، امام ابو زرعہ، امام ابو حاتم، امام نسائی، امام دارقطنی رحمہم اللہ وغیرہ سے منقول ہے کہ جو زیادت (دوسری روایات کے) منافی ہے اس میں ترجیح کا اعتبار ہے، بایں طور کہ اس کے قبول کرنے سے دوسری روایت کی تردید لازم آتی ہو۔ (تدریب:ص246 ج1)
(یعنی) اگر وہ زیادت دوسری روایات کے منافی ہے تو مقبول نہیں اگر منافی نہیں تو وہ مقبول ہے، یہ ہے متقدمین محدثین رحمہ اللہ کا فیصلہ، جماعت کے مقابلے میں ایک کی روایت میں خطا کا بلا شبہ احتمال ہے، مگر یہ تب ہے جب وہ احفظ اور ثبت نہ ہو اور اس کی زیادتی دوسری روایت کے منافی ہو، اسی اصول کے مطابق محدثین نے ابو اسامہ کی روایت کو قبول کیا اور اسے صحیح قرار دیا، انھوں نے کوئی بے اصولی نہیں کی، یہ بھی بایں طور کہ ابو اسامہ مطبوعہ کتابوں میں ہمیں تنہا نظر آتا ہے، احادیث تو محفوظ ہیں مگر ان کے تمام طرق محفوظ نہیں، پھر ابو اسامہ حماد بن اسامہ تو وہ ہیں جن کے بارے میں امام احمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: [أبو أسامة ثقة ما كان رواه عن هشام] ابو اسامہ ثقة ہیں، جس قدر وہ ہشام سے روایات بیان کرتے ہیں۔
انھوں نے یہ بھی فرمایا: کہ ابو اسامہ سے بڑھ کر ہشام سے روایت کرنے اور اس سے بہتر روایت کرنے والا کوئی نہیں ہے۔ (شرح العلل لابن رجب:ص680 ج2)
ہشام سے روایت کرنے میں ان کے اختصاص کا یہ عالم تھا کہ وہ ان سے چھ سو احادیث بیان کرتے تھے، ستر کے قریب وہ روایات ہیں جو بخاری اور مسلم میں ہیں۔ امام احمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: [كان ثبتاً ما كان أثبته لا يكاد يخطئ] ابو اسامہ ثبت تھے، وہ اس قدر ثبت تھے کہ خطا نہیں کرتے تھے۔
امام احمد رحمہ اللہ ہی سے ان کے اور امام ابو عاصم الضحاک بن مخلد جیسے ثقہ و ثبت کے بارے میں دریافت کیا گیا تو انھوں نے فرمایا:
ابو اسامہ تو ابو عاصم جیسے سو ہوں ان سے بھی ثبت ہیں، ابو اسامہ ضابط تھے صحیح الکتاب تھے۔
گویا امام ابو اسامہ احادیث لکھتے تھے، وہ خود بھی ثبت اور ان کی کتاب بھی صحیح تھی وہ خود فرماتے ہیں: میں نے اپنی ان انگلیوں سے ایک لاکھ احادیث لکھی ہیں۔ ملاحظہ ہو: (التہذیب: ص3،2 ج3، السیر:ص278 ج9، التذکرہ:ص321 ج1) وغیرہ۔ لہٰذا جب وہ ثقہ اور ثبت، ہشام سے روایت کرنے میں پیش پیش، اور صحیح الکتاب تھے، ان کی روایت میں یہ جملہ کسی بھی روایت کے معارض و مخالف نہیں، انھی وجوہ کی بنا پر محدثینِ کرام نے ان کی بیان کردہ اس روایت پر اعتماد کیا، لیکن چونکہ اربابِ اشراق کے لیے یہ جملہ سوہانِ روح ہے اسی لیے وہ اسے صحیح تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں، بلکہ محدثین کے فیصلے کو اصول سےانحراف تصور کرتے ہیں، حالانکہ امرِ واقعہ یہ ہے کہ محدثین نے اسے صحیح کہنے میں اپنے کسی اصول سے انحراف نہیں کیا۔ پانچویں صدی میں علامہ ابن الصباغ کے قول کو محدثین کا فیصلہ اور اصول قرار دینا بجائے خود درست نہیں۔
ایک اور گھپلا
یہی نہیں اس سے بھی عجیب تر بات یہ ہے کہ محترم عمار صاحب فرماتے ہیں کہ:
ہمارے بیان کیے ہوئے اصول ہی کے تحت ام المؤمنین کی زیرِ بحث روایت میں ایک دوسرے راوی کے بیان کردہ اضافے پر ہماری تنقید سے راقم نے اتفاق کیا ہے، اسحاق بن راشد نے ابنِ شہاب زہری سے روایت میں دوسرے تلامذہ کے خلاف یہ اضافہ کیا ہے کہ ابو بکر نے دونوں لونڈیوں کو برا بھلا کہا اور ان کے دف پھاڑ دیے۔ اس حوالے سے راقم نے عرض کیا تھا کہ:اسحاق بن راشد گو ثقہ ہیں تاہم امام زہری سے روایت کرنے میں ان کے کچھ اوہام ہیں، اور یہ روایت بھی اسحاق بن راشد نے امام زہری سے ہی بیان کی ہے۔
اسی عبارت کو محترم عمار صاحب نے اپنی موافقت میں پیش کرتے ہوئے فرمایا: ہمارا سوال یہ ہے کہ کیا کسی ثقہ راوی کے ہاں کچھ اوہام کے پائے جانے سے یہ لازم آتا ہے کہ اس کی نقل کردہ روایات اور زیادات بالکل قابلِ اعتبار نہ رہیں؟ خود مولانا محترم (راقم) نے ہشام بن عروہ کے عراقی تلامذہ کی روایات میں بعض اوہام کے پائے جانے کا اعتراف کرنے کے باوجود ان کا دفاع کیا ہے۔ الخ (اشراق:ص35-36 ستمبر2006ء)
یہاں پہلے یہ تو دیکھیے کہ اسحاق بن راشد ثقہ و صدوق ہیں، مگر امام زہری رحمہ اللہ کی روایات میں ان کے کچھ اوہام ہیں، حتیٰ کہ امام یحییٰ بن معین نے تو فرمایا ہے: [ليس هو في الزهري بذاك]
امام محمد بن یحییٰ الذہلی رحمہ اللہ، جن کا امام زہری رحمہ اللہ کی روایات میں اختصاص محدثین کے ہاں معروف ہے، فرماتے ہیں:
[هو مضطرب الحديث في حديث الزهري] اسی طرح امام نسائی رحمہ اللہ نے فرمایا ہے کہ اسحاق کی زہری سے روایات قوی نہیں، [ليس بذاك القوی] (التہذیب: ص230 ج1، مقدمہ فتح الباری:ص389، تحفة الاشراف:ص28 ج12)
امام زہری رحمہ اللہ سے اسحاق کی روایات میں کلام کے باعث ہی امام بخاری رحمہ اللہ نے تنہا اسحاق عن الزہری کی سند سے کوئی روایت نہیں لی، حافظ ابنِ حجر رحمہ اللہ نے بھی لکھا ہے: [غالب ما أخرج له البخاري ما شاركه فيه غيره عن الزهري وهى مواضع يسيرة]
امام بخاری رحمہ اللہ نے زہری سے اس کی جتنی روایات بیان کی ہیں۔ ان میں دوسرے اس کے شریک ہیں اور وہ چند مقامات ہیں۔ (ہدی الساری:ص389)
اس سے امام بخاری رحمہ اللہ کے تتبع اور احتیاط کی تائید ہوتی ہے، اسی بنا پر راقم نے عرض کیا تھا، اسحاق کی روایت میں [فسبهما وخرق دفيهما] کے الفاظ محلِ نظر ہیں، کیونکہ اسحاق بن راشد کے علاوہ امام زہری کے باقی تلامذہ میں سے کسی سے بھی یہ الفاظ یا اس نوعیت کی بات منقول نہیں، جس میں دف پھاڑنے کا ذکر ہو۔ کسی ثقہ راوی کے ہاں کچھ اوہام پائے جانے سے بلا شبہ اس کی تمام روایات ناقابلِ اعتبار نہیں ہوتیں، لیکن ثقہ راوی جب ایسے راوی سے روایت کرے، جس سے روایت کرنے میں محدثین نے اس پر کلام کیا ہو اور وہ اس سے روایت کرنے میں یا کوئی زیادت ذکر کرنے میں منفرد ہو تو اس کا تفرد قابلِ قبول نہیں ہو گا۔
امام زہری رحمہ اللہ سے اسحاق بن راشد کی روایت پر ہمارے اس کلام کے تناظر میں، ابو اسامہ حماد بن اسامہ کی ہشام سے زیرِ بحث روایت میں ابو اسامہ کے تفرد پر کلام کرنا قطعاً درست نہیں، اس لیے کہ ابو اسامہ گو کوفی راوی ہیں، مگر ہم بالدلیل واضح کر آئے ہیں کہ ہشام کے عراق جانے کے بعد اس کی تمام روایات میں وہم کا دعویٰ بے بنیاد ہے، ان کی زیادہ سے زیادہ انھی روایات میں کلام ہے جو انھوں نے دوسری یا تیسری بار جانے پر بیان کی تھیں، جب کہ امام مسلم رحمہ اللہ، امام احمد رحمہ اللہ، امام دارقطنی رحمہ اللہ ان جیسی روایات کو طبیعت کے مختلف ہونے پر محمول کرتے ہیں، جب انبساط اور اطمینان کی صورت ہوتی تو ہشام اس کی پوری سند ذکر کرتے اور جب طبیعت غیر مطمئن ہوتی تو ارسال کرتے۔ اور یہ صرف ہشام ہی نہیں دوسرے ثقات بھی ایسا کرتے ہیں، جیسا کہ امام مسلم رحمہ اللہ نے مثالیں دے کر اسے واضح کیا ہے۔
اس لیے ایسی چند روایات کی بنا پر نہ ان کی معنعن روایات پر اعتراض درست ہے اور نہ انھیں متغیر و مدلس ہی کہا جا سکتا ہے۔
ابو اسامہ کو ہشام کے ساتھ جو اختصاص حاصل تھا اور امام احمد رحمہ اللہ نے اس حوالے سے جو کچھ فرمایا ہے، قارئینِ کرام اسے پڑھ آئے ہیں کہ ابو اسامہ سے بڑھ کر ہشام سے اچھی روایات بیان کرنے والا اور کوئی نہیں، ان کی ہشام سے بیان کی ہوئی حدیثِ ،،افک،، کی امام احمد رحمہ اللہ نے تحسین فرمائی اور فرمایا: [جوده وجوده] یعنی اسے اسامہ نے بہت خوب صورتی، بہت خوب صورتی سے بیان کیا۔ اسی طرح ہشام سے حضرت زبیر رضی اللہ عنہ کے ترکہ کی روایت کے بارے میں فرمایا: کہ کس اچھے طریقے اور مکمل طور پر ابو اسامہ نے اسے بیان کیا ہے۔ (شرح العلل لابن رجب:ص680 ج2)
ہشام سے ابو اسامہ کی روایات کے بارے میں امام احمد رحمہ اللہ کی ان وضاحتوں کے بعد کوئی عقل مند کہہ سکتا ہے کہ ابو اسامہ عراقی ہیں، ہشام کی عراق میں بیان کردہ روایات مخدوش ہیں اور ان میں وہم پایا جاتا ہے، لہٰذا ابو اسامہ کی یہ روایت بھی ان کے وہم کا نتیجہ ہے۔
مزید برآں ہشام کی ایسی روایات کے بارے میں بیان کرنے والے یہ بھی بتلاتے ہیں کہ ہشام کے اس آخری دور میں ان سے روایت کرنے والے وکیع، ابنِ نمیر اور محاضر ہیں اور یہ روایت تو ہشام سے ابو اسامہ بیان کرتے ہیں، اس اعتبار سے بھی ہشام کی اس روایت میں کلام سراسر بے اصولی پر مبنی ہے، لہٰذا جب ابو اسامہ کی ہشام سے روایات معتبر اور صحیح ہیں تو ابو اسامہ کے تفرد کو اسحاق بن راشد عن الزہری میں اسحاق کے تفرد پر قیاس کرنا علم و فن کی کوئی خدمت نہیں، کیونکہ یہاں تو محدثینِ کرام نے سرے سے اس کی امام زہری رحمہ اللہ سے روایات کو کمزور اور ان میں اس کا وہم بتلایا ہے، اس لیے زہری رحمہ اللہ سے دوسرے ثقات کے مقابلے میں اس کا تفرد قابلِ قبول کیوں کر ہو سکتا ہے۔ امام بخاری رحمہ اللہ کا اسلوب بجائے خود اس کا مؤید ہے کہ انھوں نے إسحاق عن الزهري کی وہی روایات لی ہیں جن میں اس کی متابعت پائی جاتی ہے، اور وہ بھی چند ایک۔ جیسا کہ حافظ ابنِ حجر رحمہ اللہ نے بھی اس کی وضاحت کی ہے۔ شیخ صالح بن حامد الرفاعی حفظہ اللہ نے ایک مستقل کتاب [الثقات الذين ضعفوا في بعض شيوخهم] کے عنوان سے لکھی ہے جس میں انھوں نے ان راویوں کا ذکر کیا ہے جو ثقہ ہیں، مگر وہ اپنے بعض شیوخ سے روایت کرنے میں ضعیف قرار دیے گئے ہیں، اس میں انھوں نے اسحاق بن راشد کا بھی ذکر کیا ہے اور خلاصہٴ کلام جو ذکر کیا وہ یہ ہے:
[إن إسحاق بن راشد ثقة وقد ثبت سماعه من الزهري ، لكن في حديثه عن الزهري بعض الوهم كما قال ابن حجر، لذلك لا يقبل من حديثه عن الزهري إلا ما وافقه عليه غيره]
اسحاق بن راشد ثقہ ہیں اور ان کا زہری سے سماع ثابت ہے لیکن اس کی زہری سے حدیث میں کچھ وہم ہے جیسا کہ ابنِ حجر رحمہ اللہ نے کہا ہے، اس لیے زہری سے ان کی انھی روایات کو قبول کیا جائے گا جن میں دوسرے راوی نے اس کی موافقت کی ہو۔ (الثقات:ص200)
مگر کیا ابو اسامہ حماد بن اسامہ کے بارے میں بھی کسی نے کہا ہے کہ اس کی ہشام سے روایات میں وہم پایا جاتا ہے، بلکہ اس کی ہشام سے روایات کو تو احسن و اجود کہا گیا ہے، مگر افسوس ہے محترم عمار صاحب دونوں کو ایک ہی تراز و میں رکھ کر فرماتے ہیں کہ اسحاق کا تفرد قبول نہیں تو ابو اسامہ کا قبول کیوں ہے؟ فوا أسفا
ہماری ان گزارشات سے یہ بات نصف النہار کی طرح واضح ہو گئی ہے کہ صحیح بخاری و مسلم میں ابو اسامہ عن ہشام کی یہ روایت صحیح اور بے غبار ہے، یہ حکم کسی خوش فہمی یا تقلید کی بنا پر نہیں، بلکہ دلائل و براہین پر مبنی ہے۔