2- دین کا کتنا علم حاصل کرنا واجب ہے؟
شریعت اور عقیدے کی رو سے دین سے متعلقہ تمام امور کو جاننا ایک مسلمان کی ذمہ داری ہے۔ ہر مسلمان پر فرض ہے کہ وہ دین کے متعلقہ امور کو اچھی طرح جانتا ہو۔ عقیدے کے موافق و مخالف، عقیدہ کو مکمل کرنے اور نقصان دینے والے تمام امور سے واقف ہو، تاکہ اسے صحیح سالم عقیدہ نصیب ہو۔ اور یہ بھی فرض ہے کہ وہ دین کے عملی احکام بھی جانتا ہو، تاکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے عائد کردہ احکام کی ادائی صاحب بصیرت ہو کر انجام دے اور بصیرت ہی کی بنا پر اللہ تعالیٰ کی حرام کردہ چیزوں کو ترک کرے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
فَاعْلَمْ أَنَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَاسْتَغْفِرْ لِذَنْبِكَ وَلِلْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ [محمد: 19]
”پس جان لے کہ بے شک حقیقت یہ ہے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور اپنے گناہ کی معافی مانگ اور مومن مردوں اور مومن عورتوں کے لیے بھی۔“
اس آیت مبارکہ میں اللہ تعالیٰ نے قول اور عمل سے پہلے علم کا تذکرہ کیا ہے، لہٰذا علم اور عمل دونوں لازم و ملزوم ہیں۔ عمل کے بغیر علم کا کوئی فائدہ نہیں بلکہ الٹا وبال ہے اور یہ (قیامت کے دن) انسان کے خلاف حجت اور دلیل ہوگا۔ اسی طرح علم کے بغیر عمل بھی درست نہیں ہے، کیونکہ یہ جہالت ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ہمیں حکم دیا ہے کہ ہم مغضوب علیہ اور گمراہوں کے راستے و طریقے سے ہر رکعت میں پناہ مانگیں۔ (الفوزان: المنتقیٰ: 18)