علامہ سیوطی اور شیخ محمد بن عبدالوہاب کے نام پر انجینئر مرزا کا دھوکہ: ”ساٹھ سال تک لعنت“ کی حقیقت

فونٹ سائز:
یہ اقتباس مرزا محمد علی انجینئر کے اعتراضات و اشکالات کا تحقیقی جائزہ سے ماخوذ ہے جسے ہارون بن شبیر احمد حفظہ اللہ نے تالیف کیا ہے اور نظرِ ثانی فضیلۃ الشیخ مولانا محمد رفیق طاہر حفظہ اللہ نے کی ہے۔

علامہ سیوطی ومحمد بن عبدالوہاب کے نام پر دھوکہ:

احادیث کی کتابوں سے تو آپ مرزا صاحب کے پیش کردہ دلائل دیکھ چکے، لیکن مرزا صاحب سے کبھی بھی دوغلے پن کا مظاہرہ کیے بغیر رہا نہیں جاتا، لہٰذا آپ اس مسئلے میں ایک بے سند تاریخی روایت علامہ سیوطی رحمہ اللہ کا نام لے کر اکثر بیان کیا کرتے ہیں۔ اس پر مرزا صاحب کی باقاعدہ ایک ویڈیو موجود ہے۔ روایت نقل کرنے سے پہلے مرزا صاحب اپنے معمول کے مطابق اپنا الو سیدھا کرتے ہوئے علامہ سیوطی رحمہ اللہ کی تعریف کے پل باندھتے ہیں، کہ جی وہ انٹرنیشنل بزرگ ہیں، اسلام کے مجدد تھے ……وغیرہ وغیرہ، پھر ان کے حوالے سے بیان کرتے ہیں:

”تو اس (کتاب: تاریخ الخلفاء) میں عمر بن عبدالعزیز والا چیپٹر نکالیں تو یہ بزرگ (علامہ سیوطی) فرماتے ہیں،- کہتے ہیں نہ اکابرین سے بزرگوں سے پوچھ پوچھ کے- انہوں نے باقاعدہ اس عمر بن عبدالعزیز والے چیپٹر میں لکھا ہے: بنوامیہ کے حکمرانوں کا دستور تھا کہ وہ اپنے خطبات میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کی شان میں سب وشتم اور نازیبا الفاظ کہتے (نوٹ: شتم یا نازیبا جیسے الفاظ عربی متن میں موجود نہیں)، مگر آپ رحمہ اللہ نے خلافت سنبھالتے ہی اس کی سختی سے ممانعت فرما دی- ہون اینا نے جلال الدین سیوطی دا نام لینا وی چھڈ دینے، لیکن او بہت وڈا بندے، ایڈا پارا بندے اونوئی اے چھڈ سکدے، اور انٹرنیشنل بندا ہے یہ، صرف subcontinent میں نہیں پوری دنیا میں مانا جاتا ہے- اور اپنے گورنروں کو لکھا کہ ممالک محروسہ میں آئندہ ایسا نہ ہو اور ان کی شان میں جو نازیبا الفاظ استعمال کیے جاتے تھے ان کی جگہ آئندہ سے یہ الفاظ بولے جائیں- سورۃ النحل آیت نمبر-90: إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ وَإِيتَاءِ ذِي الْقُرْبَى وَيَنْهَى عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَرِ وَالْبَغْيِ يَعِظُكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ یہ آیت انہوں نے داخل کی کہ: اللہ تعالیٰ تمہیں حکم دیتا ہے عدل وانصاف کرنے کا احسان کا اور تمہیں برائی اور بے حیائی اور بے ہودگی کے کاموں سے منع کرتا ہے، یہ ہے جس کی وہ تمہیں نصیحت کرتا ہے تا کہ تم متقی بن جاؤ- کیونکہ بے حیائی کر رہے تھے نہ وہ حضرت علی کے بارے میں یعنی یہ نعوذ باللہ نازیبا الفاظ بول کے، چنانچہ تب سے اب تک خطبات کے آخری جملے یہی پڑھے جاتے ہیں۔“

60 Salo Tak Mola Ali A.S Pr Sab O Shitam Ka Saboot
یہاں سیوطی کی عبارت کو بہت بڑھا چڑھا کر پیش کیا جاتا ہے، اور ان کے متعلق فرمایا: ”لیکن او بہت وڈا بندے، ایڈا پارا بندے اونو ئی اے چھڈ سکدے، اور انٹرنیشنل بندا ہے یہ، صرف subcontinent میں نہیں پوری دنیا میں مانا جاتا ہے“۔ لیکن دوسری طرف مرزا صاحب کا مکروہ چہرہ دیکھنے کے لیے ان کی ویڈیو (علمی و تحقیقی مجلس نمبر 15، دورانیہ 2:40:20 اور علمی وتحقیقی مجلس نمبر 24، دورانیہ 31:00) ملاحظہ فرمائیں۔ خود یہ علامہ سیوطی رحمہ اللہ کو جھوٹی اور بے سند روایات لکھنے والا کہتے ہیں، لیکن یہاں انہی کی کتاب سے اپنے جھوٹے دعوے کے اثبات کے لیے انہی کی غیر معتبر کتاب کا حوالہ دیتے ہیں۔ اور تاریخ کوئی بھی ہو اگر بے سند ہے تو مرزا صاحب اسے کوڑ کباڑ کہتے ہیں۔ یاد رکھیے! انجینئر صاحب ایک منصف مزاج آدمی ہیں، اپنے اصول کبھی نہیں بدلتے، اور آپ مودودی کی کمی صحیح الاسناد روایات کی روشنی میں پوری کر رہے ہیں۔
دوسری بات یہ ہے کہ مرزا صاحب اسے علامہ سیوطی رحمہ اللہ کا قول قرار دے کر بھی بہت بڑا دھوکہ دیتے ہیں، کیوں کہ یہ ان کا اپنا قول ہے ہی نہیں! ضروری نہیں کہ کسی بھی کتاب میں موجود ہر عبارت صاحبِ کتاب کی اپنی بات ہی ہو، یا وہ اسے own بھی کرتا ہو۔ بلکہ وہ محض اس عبارت کا ناقل بھی ہو سکتا ہے۔ اور یہاں معاملہ اسی طرح ہے، کہ علامہ سیوطی اس عبارت سے قبل ”علامہ ذہبی“ کے حوالے سے عمر بن عبد العزیز رحمہ اللہ کے دور کا ایک واقعہ نقل کرتے ہیں، پھر اس کے بعد کہتے ہیں:
وقال غيره: كان بنو أمية يسبون علي بن أبي طالب في الخطبة فلما ولي عمر بن عبد العزيز أبطله، وكتب إلى نوابه بإبطاله، وقرأ مكانه: إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ، الآية [النحل: 90]، فاستمرت قراءتها في الخطبة إلى الآن.
”اور ان (علامہ ذہبی) کے علاوہ کسی نے کہا: بنو امیہ خطبے میں جناب علی رضی اللہ عنہ پر سَب کیا کرتے، پس جب عمر بن عبدالعزیز خلیفہ بنے تو انہوں نے اس عمل کو ختم کر دیا…………“ (تاریخ الخلفاء للسیوطی:182)
تو اس سے بالکل واضح ہوتا ہے کہ وہ صرف اس عبارت کے ناقل ہیں اور یہ ان کا اپنا قول نہیں ہے، لیکن مرزا صاحب لوگوں کی آنکھوں میں دھول جھونکتے ہوئے اسے علامہ سیوطی رحمہ اللہ کا قول قرار دیتے ہیں۔
اب اس کا قائل کون ہے، یا کس کتاب کی طرف اشارہ ہے؟ اس کی صراحت موجود نہیں، لہٰذا یہ قول بلا سند ہونے کی وجہ سے مردود ہے، بلکہ انجینئر صاحب کے انداز سے کہیں تو جعلی اور کوڑ کباڑ ہے۔ یہ تاریخی بے سند روایت ہے اور کسی بھی مؤرخ نے یہ دعویٰ نہیں کیا کہ میں جو روایات نقل کروں گا وہ صحیح ومستند ہوں گی، بلکہ اس میں سچ جھوٹ سب جمع کر دیا جاتا ہے، اس حوالے سے مرزا صاحب کے چند بیانات پیش خدمت ہیں:

”جہاں تک تاریخ کا تعلق ہے تو تاریخ دانوں نے بڑی محنت کی، ہمارے بزرگ ہیں لیکن انہی بزرگوں نے ہمیں یہ بات سکھائی کہ بغیر کسی کی سند کے حدیث کو قبول نہ کیا جائے اور حدیث میں سند بھی ملے تب بھی اس کو صحیح اور ضعیف اور موضوع (من گھڑت) کا فرق کرنا ہے، تو جب حدیثیں نہیں لی جائیں گی سند کے بغیر اور سند کی صحت کے بغیر تو اقوال جو واقعہ کربلا کے بارے میں ہیں یا یزید کے بارے میں ہیں یا بنوامیہ کے بارے میں ہیں وہ بغیر سند کے کیسے لیے جا سکتے ہیں؟ ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان نہیں بغیر سند کے قبول کرتے حالانکہ ہمیں کہا جاتا ہے یہ حدیث ہے، تو ہم ان لوگوں کی، ایرے غیرے لوگوں کی باتیں کس طرح بغیر سند کے قبول کر لیں؟ کبھی نہیں کریں گے! یہی ہمارے محدثین رحمہم اللہ نے ہمیں درس دیا ہے۔“

HUSAINIAT aur Yazeediat ka TAHQEEQI Jaizah – 9:27
ایک ویڈیو میں کہتے ہیں:

”تاریخی روایتیں جو ہیں ان کی اسناد کی تحقیق ہونی چاہیے، یہ نہیں ہے کہ کوئی واقعہ بھی اپنے مطلب کا ملا جس میں کسی صحابی کی توہین آئی تو بیان کرنا شروع کر دیا، بغیر اس کے دیکھے کہ یہ ثابت ہے کہ نہیں۔ مثال کے طور پر یہ شیعہ کے جو عام ذاکرین، رافضی جو ذاکرین ہیں جاہل قسم کے، محرم کے دنوں میں وہ بیان کر رہے ہوتے ہیں کہ حضرت عمر نے حضرت فاطمہ کے اوپر دروازہ پھینکا………. اب یہ سٹوری چونکہ مطلب کی تھی لہٰذا وہ اہل تشیع میں جو رافضی ٹائپ کے لوگ ہیں غالی رافضی، انہوں نے لے کے تو بیان کی یہ…………“

Azmat e Sahaba r.a, Radd ul Munafiqeen aur Sunni Shia Ikhtelaf ka Jaizah – 1:37:17
لیکن جب بات آتی ہے خود مرزا صاحب کی تو آپ انہی بعض جاہل شیعہ ذاکرین کی طرح جاہل بن جاتے ہیں، اور اپنے مطلب کے تاریخی واقعات بیان کر کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم پر تنقید بھی کرتے ہیں، تو ان شیعہ رافضی اور جاہل ذاکرین اور مرزا صاحب میں کیا فرق ہے؟
مرزا صاحب تاریخ کی کتابوں کے متعلق ایک سوال کے جواب میں فرماتے ہیں:

”دیکھیں جی جو تاریخ ہے اس میں تو جھوٹ سچ سب کچھ مکس ہے ٹھیک ہے نہ، طبقات ابن سعد ہو یا تاریخ ابن کثیر ہو یا تاریخ ابن جریر ہو امام طبری کی یا تاریخ ابن خلدون ہو یا تاریخِ دمشق ہو ابن عساکر کی، اب اس میں یعنی جھوٹ سچ سب کچھ لکھ دیا گیا ہے، سندیں بیان کر دی گئی ہیں، صحیح ضعیف کے فیصلے کوئی نہیں لگے ہوئے، تو اس لیے ان کی authenticity as such کوئی نہیں رہتی۔ آپ کس طرح اس میں جھوٹ اور سچ میں جو ملاوٹ ہے وہ کس طریقے سے علیحدہ کر سکتے ہیں؟ آپ نہیں کر سکتے، مشکل کام ہے!“

History Books of Islam- Tareekhi Kitabon mein Zaeef Ahadith & Riwayat
جن کتابوں کے انجینئر صاحب نے نام لیے ہیں، یہ علامہ سیوطی رحمہ اللہ کی ”تاریخ الخلفاء“ سے کئی صدیوں پہلے کی کتابیں ہیں، تو پھر سیوطی کی بیان کردہ بے سند روایت کا کیا حال ہو گا؟ مرزا صاحب کہتے ہیں: ”ان میں اسانید بیان کر دی گئی ہیں صحیح ضعیف کے فیصلے نہیں ہوئے، لہٰذا سچ اور جھوٹ میں فرق کرنا بڑا مشکل ہے“ تو مرزا صاحب! جو آپ علامہ سیوطی کے حوالے سے پیش کر رہے ہیں وہاں تو اس کی سند تک موجود نہیں!
آپ ہمیں علامہ سیوطی رحمہ اللہ کا نام لے کر ایک بے سند جھوٹی روایت بطور ثبوت پیش کرتے ہیں، جبکہ خود علامہ سیوطی رحمہ اللہ اسناد کی اہمیت بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
قَالَ ابْنُ الْمُبَارَكِ: الْإِسْنَادُ مِنَ الدِّينِ، لَوْلَا الْإِسْنَادُ لَقَالَ مَنْ شَاءَ مَا شَاءَ، أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ۔
وَقَالَ سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ: حَدَّثَ الزُّهْرِيُّ يَوْمًا بِحَدِيثٍ ، فَقُلْتُ: هَاتِهِ بِلَا إِسْنَادٍ، فَقَالَ الزُّهْرِيُّ: أَتَرْقَى السَّطْحَ بِلَا سُلَّمٍ۔
وَقَالَ الثَّوْرِيُّ: الْإِسْنَادُ سِلَاحُ الْمُؤْمِنِ۔
”امام عبداللہ بن مبارک رحمہ اللہ نے فرمایا: سندیں دین کا حصہ ہیں، اگر اسناد نا ہوں تو کوئی بھی شخص جو چاہے کہہ دیتا! اسے امام مسلم رحمہ اللہ نے نقل کیا۔ امام سفیان بن عیینہ رحمہ اللہ نے بیان کیا کہ ایک دن امام زہری رحمہ اللہ نے حدیث بیان کی تو میں نے کہا: اسے بغیر سند کے بیان کیجیے! امام زہری رحمہ اللہ نے فرمایا: کیا تم بغیر سیڑھی کے چھت پر چڑھنا چاہتے ہو؟ اور امام سفیان الثوری رحمہ اللہ نے فرمایا: اسناد مؤمن کا ہتھیار ہیں۔“ (تدریب الراوی:605/2)
اب اس کے بعد ہم انہی کی بیان کردہ بے سند روایت کو کس طرح معتبر جان سکتے ہیں؟
افسوس در افسوس کہ مرزا صاحب کی بیان کردہ اس جھوٹی تاریخی روایت میں بھی نہ تو حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کا ذکر موجود ہے، اور نہ ہی یہ کہ انہوں نے اس کا حکم دیا، نہ ہی گالیوں یا لعنتوں کا تذکرہ ہے، اور نہ ہی ساٹھ سال کا! جبکہ مرزا صاحب کا مدعا کیا ہے؟ پتہ نہیں کون جاہل ہیں جو مرزا صاحب کے ان حوالوں پر مطمئن ہوئے بیٹھے ہیں، اور انہیں اپنا امام مانتے ہیں۔
انجینئر صاحب! اپنے مطلب کے لیے تو آپ نے امام سیوطی رحمہ اللہ کو بڑھا چڑھا کر بیان کر دیا، لیکن ہمیں اچھی طرح معلوم ہے کہ آپ یہ سب بس اپنی جھوٹی دلیل میں وزن پیدا کرنے کے لیے کرتے ہیں کہ جس کی جو بات اپنے مطلب کی لگی وہ سب سے بڑا امام، محدث اور مجتہد ہے۔ اور یہ بہت بڑا انسان صرف مرزا صاحب کے مفاد کی حد تک ہی بڑا ہوتا ہے، اور اس نے جو مثبت پہلو بیان کیا ہوتا ہے وہ کبھی بھی بیان نہیں کرتے بلکہ صرف چن چن کر اپنے مطلب کی چیزیں لیتے ہیں کہ جس سے ان صحابہ کرام رضی اللہ عنہم پر طعن کیا جا سکے۔ تو آیئے امام سیوطی رحمہ اللہ کی اسی کتاب ”تاریخ الخلفاء“ میں جو کچھ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے حق اور فضائل میں موجود ہے ملاحظہ فرمائیں:
وعن علي قال: لا تكرهوا إمرة معاوية، فإنكم لو فقدتموه لرأيتم الرءوس تندر عن كواهلها۔
”اور حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ نے فرمایا: حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی امارت کو ناپسند مت کرو، کیوں کہ اگر تم لوگوں نے انہیں کھو دیا تو سروں کو دھڑوں سے جدا ہوتے ہوئے دیکھو گے۔“ (تاریخ الخلفاء:149)
وقال إبراهيم بن ميسرة: ما رأيت عمر بن عبد العزيز ضرب أحدًا في خلافته، غير رجل واحد تناول من معاوية، فضربه ثلاثة أسواط۔
”ابراہیم بن میسرہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے کبھی نہیں دیکھا کہ جناب عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے اپنی خلافت میں کسی کو مارا ہو، سوائے ایک شخص کے جس نے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں زبان درازی کی تھی تو آپ نے اسے تین کوڑے لگائے۔“ (تاریخ الخلفاء:177)
اس کی سند تاریخ دمشق:211/59 میں موجود ہے، شیخ غلام مصطفیٰ ظہیر حفظہ اللہ نے اسے حسن قرار دیا: (دفاع صحابہ:513)
وأخرج ابن عساكر عن الشعبي قال: دهاة العرب أربعة: معاوية، وعمرو بن العاص، والمغيرة بن شعبة، وزياد۔
”اور امام ابن عساکر رحمہ اللہ نے امام شعبی رحمہ اللہ کا قول نقل کیا کہ: عرب میں چار صاحب بصیرت شخصیات ہیں، سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ، سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ، حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ اور زیاد (بن ابی سفیان)۔“ (تاریخ الخلفاء:155)
تاریخ ابن عساکر:182/19 اور العلل ومعرفة الرجال لأحمد: 1772 میں ہے: ”اس امت میں چار صاحب بصیرت ہیں…………“ جناب غلام مصطفیٰ امن پوری حفظہ اللہ نے فرمایا ”سندہ صحیح“ (دفاع صحابہ:502)
اور علامہ سیوطی رحمہ اللہ نے جناب معاویہ رضی اللہ عنہ کے متعلق فرمایا:
وكان يضرب بحلمه المثل، وقد أفرد ابن أبي الدنيا وأبو بكر بن أبي عاصم تصنيفًا في حلم معاوية۔
”اور آپ رضی اللہ عنہ کے حلم کی مثالیں دی جاتی ہیں، اور امام ابن ابی الدنیا رحمہ اللہ وابوبکر بن ابی عاصم رحمہ اللہ نے آپ کے حلم پر باقاعدہ کتاب لکھی۔“ (تاریخ الخلفاء:149)
اور فرمایا:
وكان من الموصوفين بالدهاء، والحلم، وقد ورد في فضله أحاديث قلما ثبتت۔
”آپ رضی اللہ عنہ عقلمندی اور حلم جیسے اوصاف سے متصف تھے، اور آپ کے فضائل میں احادیث وارد ہوئی ہیں جن میں کچھ احادیث ہی صحیح ثابت ہیں۔“ (تاریخ الخلفاء:149)
لیکن مرزا صاحب تو حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے بغض میں ان کے تمام فضائل کو جھٹلاتے ہوئے کہتے ہیں کہ یہ سب جھوٹی اور من گھڑت احادیث ہیں۔ تو یہاں آپ کو علامہ سیوطی رحمہ اللہ بہت بڑے بزرگ، امام اور مجدد کیوں نہیں لگتے؟ ان کے بیان کردہ ایک بے سند اور جھوٹے واقعے (جس میں حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کا ذکر بھی نہیں) کو تو آپ بڑا جھوم کر بیان کرتے ہیں جس کے متعلق انہوں نے بھی صحیح ہونے کا دعویٰ نہیں کیا، لیکن جہاں اسی امام، محدث اور اسلام کے بہت بڑے مجدد نے اسی کتاب میں جو باتیں اور اقوال حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے حق میں نقل فرمائے جو کہ صحیح اسانید کے ساتھ موجود ہیں، تو آپ کو وہ سب نظر ہی نہیں آتا، آخر ان صحیح وثابت روایات کو چھوڑ کر علامہ سیوطی رحمہ اللہ کی نقل کردہ ایک جھوٹی روایت کی مشہوری کرائی جاتی ہے تو کیا یہ دوغلہ پن نہیں؟ کیا یہ کتمانِ حق نہیں؟ کیا یہ بغض معاویہ نہیں؟ کیا یہ ان بعض جہلاء شیعہ ذاکرین کا طرزِ عمل نہیں جو بقول مرزا صاحب صحابہ پر تنقید کرنے کے لیے تاریخ کے جھوٹے واقعات بیان کرتے ہیں؟ مرزا صاحب یہ سب طعنے دوسروں کو دیتے ہیں لیکن خود کبھی آئینہ نہیں دیکھتے۔
انجینئر صاحب آپ یہ جھوٹ بولنا چھوڑ دیں کہ میں ان صحابہ سے بغض نہیں رکھتا بلکہ میں تو صرف غلطی بیان کرتا ہوں، کیونکہ آپ غلطی نہیں بیان کرتے بلکہ جھوٹے الزامات ان کی طرف منسوب کرتے ہیں، اور کیا صرف غلطی بیان کرنے ہی کا نام حق گوئی ہے؟ اگر حق گوئی ہی مقصود ہوتی تو مثبت پہلو بھی بیان کیا جاتا، بلکہ آپ تو الٹا ہمیں مثبت پہلو بیان کرنے پر ناصبی قرار دیتے ہیں۔
اور رہی بات علامہ محمد بن عبدالوہاب رحمہ اللہ کی (جس کا مرزا صاحب نے اسی ویڈیو میں دوسرے نمبر پر حوالہ دیا ہے) تو اس کا بھی وہی معاملہ ہے، انہوں نے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کا نام تک نہیں لیا، نہ ہی کہا کہ یہ سب ان کے دور میں ہوتا تھا۔ اور جو ”ساٹھ سال“ والی روایت نقل کی تو اس کی سند کہاں ہے؟ کیا انہوں نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ میں کوئی بھی تاریخی روایت اس کے صحیح ثابت ہونے کے ساتھ ہی نقل کروں گا؟ اور علامہ محمد بن عبدالوہاب رحمہ اللہ تو جناب سیوطی رحمہ اللہ سے بھی بعد کے ہیں، تو جب آپ متقدمین محدثین کی لکھی گئی تاریخ کو غیر معتبر اور جھوٹی قرار دیتے ہیں، اور کہتے ہیں کہ ان مؤرخین نے ان روایات پر صحیح اور معتبر ہونے کا حکم نہیں لگایا تو آپ کس منہ کے ساتھ علامہ سیوطی رحمہ اللہ اور محمد بن عبدالوہاب رحمہ اللہ کی بیان کردہ بے سند تاریخی روایت ہمیں بطور ثبوت پیش کرتے ہیں؟
مرزا صاحب نے علامہ محمد بن عبدالوہاب رحمہ اللہ کی کتاب سے ایک جھوٹا تاریخی حوالہ تو لے کر بیان کر دیا جس کی صحت کا دعویٰ انہوں نے بالکل نہیں کیا، لیکن اسی کتاب میں انہوں نے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ پر بکواس کرنے والوں کے متعلق جو نقل کیا ہے وہ بھی ذرا سن لیں:
وأجمع أهل السنة على السكوت عما شجر بين الصحابة رضي الله عنهم، ولا يقال فيهم إلا الحسنى فمن تكلم في معاوية أو غيره من الصحابة فقد خرج عن الإجماع۔
”اور اہل سنت کا اس پر اجماع ہے کہ صحابہ رضی اللہ عنہم کے باہمی اختلافات کے معاملے میں سکوت اختیار کیا جائے، اور ان کے بارے میں صرف اچھی بات کرنی چاہیے، پس جس نے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ یا کسی بھی صحابی کا برائی سے ذکر کیا تو وہ اجماع سے خارج ہو گیا۔“ (مختصر سیرۃ الرسول:317)
اب بتایئے کیا مرزا صاحب اہل سنت کے منہج اور اجماع پر ہیں یا رافضیوں کے طریقہ پر؟ بہر حال انجینئر صاحب کا دعویٰ یہ تھا کہ اگر مودودی صاحب نے تاریخی روایات جمع کی ہیں تو کیا حرج ہے ہم نے وہ سب کچھ احادیث کی کتب سے ثابت کر کے وہ کمی بھی پوری کر دی ہے، لیکن ہم نے مرزا صاحب کے پیش کردہ تمام دلائل اول تا آخر آپ کے سامنے رکھ دیے ہیں، کسی ایک میں بھی آپ کے جھوٹے دعوے کے مطابق کوئی دلیل نہیں ہے، پھر آپ عادت سے مجبور ہو کر ایسی غیر مستند تاریخی روایات بھی پیش کرتے ہیں جو خود مرزا صاحب کے نزدیک بھی کبھی جھوٹی اور جعلی تاریخ قرار پاتی تھیں، لیکن آج سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے بغض اور مخالفت میں وہ بھی مستند اور قابل حجت ہیں۔ خلاصہ کلام یہی ہے کہ مرزا صاحب کا یہ دعویٰ بھی ایک جھوٹا افسانہ ہی ہے جس کی کوئی حقیقت نہیں، اور یہ سب صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے دشمنوں کی سازشیں ہیں۔

❀❀❀