سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی فضیلت میں من گھڑت اور ضعیف روایات
سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
الناس من شجر شتى، وأنا وعلي من شجرة واحدة.
”لوگ مختلف درختوں سے ہیں، میں اور علی ایک ہی درخت سے ہیں۔“
(المعجم الأوسط للطبراني : 263/4)
سند جھوٹی ہے۔
عمرو بن عبد الغفار ”متروک و وضاع“ ہے۔
عبد اللہ بن محمد بن عقیل جمہور کے نزدیک سوء ”الحفظ“ ہونے کی وجہ سے ”ضعیف“ ہے۔
اس کی ایک سند مستدرک حاکم (263/2) میں بھی آتی ہے، جسے امام حاکم رحمہ اللہ نے صحیح الاسناد قرار دیا ہے۔
حافظ ذہبی رحمہ اللہ ان کے تعاقب میں لکھتے ہیں :
لا والله، هارون هالك.
عبد اللہ بن محمد بن عقیل جمہور کے نزدیک ضعیف ہے۔
سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں :
إن النبى صلى الله عليه وسلم كان بعرفة، وعلي تجاهه، فقال: يا على ادن مني، ضع خمسك فى خمسي، يا على خلقت أنا وأنت من شجرة، أنا أصلها وأنت فرعها، والحسن والحسين أغصانها، من تعلق بغصن منها أدخله الله الجنة. زاد ابن زاطيا: يا على لو أن أمتي صاموا حتى يكونوا كالأوتار، ثم أبغضوك لأكبهم الله عز وجل على وجوههم فى النار.
”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم عرفہ میں تھے، علی رضی اللہ عنہ بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے تھے، فرمایا: علی! قریب آئیے۔ اپنی پانچوں انگلیاں میری انگلیوں میں دیجئے۔ علی! میں اور آپ ایک ہی درخت سے پیدا ہوئے ہیں، میں اس کی جڑ ہوں، آپ اس کی شاخ ہیں، حسن اور حسین اس کی ٹہنیاں ہیں۔ جو اس درخت کی کسی ٹہنی سے چمٹ گیا، اللہ تعالیٰ اسے جنت میں داخل کرے گا۔“
(راوی) ابن زاطیا نے یہ الفاظ بھی بیان کیے ہیں :
”اے علی! اگر میری امت بہت زیادہ روزے رکھ کر (اتنے کمزور ہو جائیں کہ) تندی کی ہار کی طرح ہو جائیں، پھر وہ آپ سے بغض رکھیں، تو اللہ عزوجل انہیں منہ کے بل جہنم رسید کر دے گا۔“
(الكامل لابن عدي : 303/6)
جھوٹی روایت ہے۔
عثمان بن عبد اللہ شامی ”متروک و وضاع“ ہے۔
ابن لہیعہ ضعیف، مدلس اور مختلط ہے۔
ابو الزبیر بھی مدلس ہے، سماع کی تصریح نہیں کی۔
سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
أنا وعلي وفاطمة والحسن والحسين يوم القيامة فى قبة تحت العرش.
”میں، علی، فاطمہ، حسن اور حسین روز قیامت عرش کے نیچے ایک خیمے میں ہوں گے۔“
(مجمع الزوائد للهيثمي : 174/9 ، الغرائب الملتقطة لابن حجر : 56/3)
روایت سخت ضعیف ہے۔
جبار بن فلان طائی مجہول ہے۔
ابو اسحاق سبیعی مدلس ہیں، سماع کی تصریح نہیں کی۔
سفیان ثوری بھی مدلس ہیں، سماع کی تصریح نہیں کی۔
سیدنا ابو ذر غفاری رضی اللہ عنہ سے منسوب ہے کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا :
أنا خاتم النبيين، كذلك على وذريته يختمون الأوصياء إلى يوم القيامة.
”میں خاتم النبیین ہوں، اسی طرح علی اور اس کی اولاد قیامت تک کے لیے خاتم الاوصیا ہیں۔“
(الأباطيل والمناكير للجوزقاني : 262 ، الموضوعات لابن الجوزي : 377/1)
موضوع و مکذوب روایت ہے۔
حسن بن محمد بن یحییٰ علوی ”کذاب“ ہے۔
حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے ”متہم“ قرار دیا ہے۔
(ميزان الاعتدال : 521/1)
حافظ ذہبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
هذان دالان على كذبه وعلى رفضه.
”یہ دونوں روایتیں اس کی کذب بیانی اور رافضیت پر دلالت کناں ہیں۔“
(ميزان الاعتدال : 521/1)
ابراہیم بن عبد اللہ بن ہمام صنعانی کذاب اور وضاع ہے۔
امام دارقطنی رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
كذاب يضع الحديث.
”جھوٹا تھا، حدیثیں گھڑتا تھا۔“
(الضعفاء والمتروكون : 21)
امام ابن عدی رحمہ اللہ نے منکر الحدیث کہا ہے۔
(الكامل في ضعفاء الرجال : 273/1)
امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
يروي عن عبد الرزاق المقلوبات الكثيرة التى لا يجوز الاحتجاج لمن يرويها لكثرتها.
”امام عبد الرزاق رحمہ اللہ سے بکثرت ایسی الٹ پلٹ روایتیں بیان کرتا ہے، جن سے حجت پکڑنا جائز نہیں ہے۔“
(كتاب المجروحين : 118/1)
حافظ ابن الجوزی رحمہ اللہ (الموضوعات : 377/1) نے اسے من گھڑت قرار دیا ہے۔
حافظ سیوطی رحمہ اللہ کہتے ہیں :
موضوع، العلوي منكر الحديث رافضي، وإبراهيم متروك.
من گھڑت ہے، اس میں حسن بن محمد بن یحییٰ علوی منکر الحدیث رافضی ہے اور ابراہیم بن عبد اللہ بن ہمام صنعانی متروک ہے۔
(اللآلي المصنوعة : 329/1)
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے منسوب ہے کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا :
أنا خاتم الأنبياء، وأنت يا على خاتم الأولياء.
”اے علی! میں خاتم الانبیا ہوں اور آپ خاتم الاولیاء ہیں۔“
(تاريخ بغداد للخطيب : 78/12 ، تاریخ ابن عساکر : 254/44)
من گھڑت روایت ہے۔
حافظ خطیب بغدادی رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
هذا الحديث موضوع من عمل القصاص، وضعه عمر بن واصل، أو وضع عليه، والله أعلم.
”یہ حدیث قصہ گو لوگوں کی گھڑت ہے۔ اسے عمر بن واصل نے خود گھڑا ہے یا اس پر گھڑی گئی ہے۔“ واللہ اعلم !
حافظ ابن الجوزی رحمہ اللہ نے اسے الموضوعات (398/1) میں ذکر کیا ہے۔
حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے مکذوب یعنی جھوٹی کہا ہے۔
(المغني في الضعفاء : 475/2)
عمر بن واصل صوفی کی توثیق ثابت نہیں۔
محمد بن سوار بصری کی توثیق درکار ہے۔
عبید اللہ بن لولو کی توثیق درکار ہے۔
حسن بصری رحمہ اللہ کثیر التدلیس ہیں، سماع کی تصریح نہیں کی۔
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے بھی منسوب ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا :
أنت خاتم الأولياء كما أنا خاتم النبيين.
”آپ خاتم الاولیاء ہیں، جیسے میں خاتم النبیین ہوں۔“
جھوٹ ہے، اس کا کوئی اتہ پتہ نہیں۔ یہ ہمارے دور کی گھڑت ہے۔
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
أنا شجرة، وفاطمة حملها، وعلي لقاحها، والحسن والحسين تمرتها، والمحبون أهل البيت ورقها، من الجنة حقا حقا.
”میں درخت ہوں، فاطمہ اس کا پھل یا ٹہنی ہے، علی اس کا شگوفہ ہے، حسن و حسین اس کا پھل ہیں اور اہل بیت سے محبت کرنے والے اس کے پتے ہیں۔ یہ سب جنت میں ہوں گے، یہ بات حق ہے، حق ہے۔“
(تاریخ ابن عساکر : 168/14)
باطل روایت ہے۔
موسیٰ بن نعیمان غیر معروف ہے۔
نصر بن شعیب کی توثیق نہیں۔
ابن جریج مدلس ہیں، سماع کی تصریح نہیں کی۔
حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے اسے ”موضوع“ کہا ہے۔
(تلخيص الموضوعات ص : 153)
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے منسوب ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
أنا المنذر وعلي الهادي، بك يا على يهتدي المهتدون.
”میں منذر (عذاب الٰہی سے خبردار کرنے والا) ہوں، علی راہنما ہیں۔ اے علی! آپ کے طفیل لوگ ہدایت پائیں گے۔“
(معجم ابن الأعرابي : 2328 ، التلخيص الحبير لابن حجر : 401/1)
جھوٹی روایت ہے۔
حسن بن حسین عرفی متروک ہے۔
معاذ بن مسلم مجہول ہے۔
عطاء بن سائب مختلط ہے۔
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے منسوب ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
أنا ميزان العلم، وعلي كفتاه، والحسن والحسين خيوطه، وفاطمة علاقته، والأئمة من أمتي عموده، توزن فيه أعمال المحبين لنا والمبغضين لنا.
”میں علم کا ترازو ہوں، علی اس کے پلڑوں کی طرح ہے، حسن و حسین اس کی رسیاں ہیں، فاطمہ اس کا دستہ ہے اور میری امت کے ائمہ اس ترازو کی عمودی سلاخیں ہیں، اس میں ہم سے محبت کرنے والوں اور ہم سے بغض رکھنے والوں کے اعمال کا وزن ہو گا۔“
(الغرائب الملتقطة لابن حجر : 78/3)
جھوٹی روایت ہے۔
ابوالفتح عبد الرزاق بن مردک اور یوسف بن عبد اللہ دونوں کے حالات زندگی نہیں ملے۔
حسین بن صدقہ مجہول ہے۔
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے منسوب ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
إنما رفع الله القطر فى بني إسرائيل بسوء رأيهم فى أنبيائهم، وأن الله عز وجل يرفع القطر عن هذه الأمة ببغضهم على بن أبى طالب.
”اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل میں اس وجہ سے بارش روک لی کہ انہوں نے اپنے انبیائے کرام کے بارے میں برا عقیدہ رکھا۔ اللہ تعالیٰ اس امت سے بارش اس وقت روک لے گا، جب وہ علی بن ابی طالب سے بغض رکھیں گے۔“
(تاریخ ابن عساکر : 282/42)
سند ضعیف ہے۔
امام عبد الرزاق رحمہ اللہ مدلس ہیں، سماع کی تصریح نہیں کی۔
امام زہری رحمہ اللہ بھی مدلس ہیں، سماع کی تصریح نہیں کی۔
امام ابن عدی رحمہ اللہ نے اس حدیث کو منکر و موضوع کہا ہے۔
(الكامل في ضعفاء الرجال : 208/3 ، 541/6)
سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے منسوب ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
ثلاث من كن فيه فليس مني ولا أنا منه؛ بغض على بن أبى طالب، ونصب لأهل بيتي، ومن قال : الإيمان كلام.
”جس میں تین چیزیں پائی گئیں، تو اس کا میرے ساتھ کوئی تعلق نہیں اور نہ میرا اس کے ساتھ کوئی تعلق ہے، علی بن ابی طالب کا بغض، میرے اہل بیت سے دشمنی، یہ کہنے والا کہ ایمان محض کلمہ شہادت کے اقرار کا نام ہے۔“
(الشريعة للآجري : 1544، الطيوريات للسلفي : 885، تاریخ ابن عساکر : 284/42)
سند ضعیف و منکر ہے۔
ابو یزید عکلی کے حالات زندگی نہیں مل سکے۔
عباد بن یعقوب رواجنی کے متعلق امام ابن عدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
روى أحاديث أنكرت عليه فى فضائل أهل البيت.
”اس نے اہل بیت کے فضائل میں منکر احادیث بیان کی ہیں۔“
(الكامل في ضعفاء الرجال : 559/5)
سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے منسوب ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
حق على بن أبى طالب على هذه الأمة كحق الوالد على ولده.
”علی بن ابی طالب کا حق اس امت پر وہی ہے، جو ایک والد کا اپنے بیٹے پر ہوتا ہے۔“
(تاریخ ابن عساکر : 307/42)
جھوٹی روایت ہے۔
سلیمان بن ربیع متروک ہے۔
کادح بن رحمہ ”کذاب“ ہے۔
زیاد بن منذر کوفی ”کذاب“ ہے۔
ابو الزبیر مکی ”مدلس“ ہیں۔
(ميزان الاعتدال للذهبي : 483/5)
اس کی دوسری سند (الکامل لابن عدی : 243/5 ، کتاب المجروحین لابن حبان : 122/2 وغیرہما) بھی جھوٹی ہے۔
عیسیٰ بن عبد اللہ علوی ”متروک و وضاع“ ہے۔
اس کی تیسری سند (تاریخ ابن عساکر : 308/42 عن عمار) بھی ”ضعیف“ ہے۔
اس میں ابو رافع اسماعیل بن رافع انصاری ”ضعیف الحدیث“ ہے۔
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے منسوب ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
ذكر على عبادة.
”ذکر علی عبادت ہے۔“
(تاریخ ابن عساکر : 356/42)
سخت ضعیف ہے۔
حسن بن صابر منکر الحدیث ہے۔
ابو العباس فضل بن یوسف قصبانی مجہول الحال ہے۔
حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ نے اس روایت کو ضعیف قرار دیا ہے۔
(البداية والنهاية : 93/11)
سیدنا ابو لیلیٰ غفاری رضی اللہ عنہ سے منسوب ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
ستكون من بعدي فتنة، فإذا كان ذلك، فالزموا على بن أبى طالب، فإنه أول من يراني، وأول من يصافحني يوم القيامة، وهو معي فى السماء الأعلى، وهو الفارق بين الحق والباطل.
”عنقریب میرے بعد ایک بہت بڑا فتنہ نمودار ہو گا، اس وقت علی بن ابی طالب کو لازم پکڑ لینا۔ روز قیامت مجھے دیکھنے والے اور مجھ سے مصافحہ کرنے والے علی سب سے پہلے آدمی ہوں گے۔ وہ میرے ساتھ آخری آسمان پر ہوں گے۔ وہ حق و باطل میں فرق کرنے والے ہیں۔“
(معرفة الصحابة لأبي نعيم : 6974)
جھوٹی روایت ہے۔
اسحاق بن بشر ابو یعقوب ”کذاب و وضاع“ ہے۔
ابراہیم بن سلیمان بن علی حمصی کے حالات زندگی نہیں ملے۔
حسن بصری رحمہ اللہ مدلس ہیں۔
اس روایت کی اور بھی سندیں ہیں، جن میں ”کذاب اور متروک“ راوی ہیں۔
ابن الجوزی رحمہ اللہ (الموضوعات : 344/1) نے ”موضوع“ کہا ہے۔
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے منسوب ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
عنوان صحيفة المؤمن حب على بن أبى طالب.
”مومن کے صحیفے کا عنوان ہے علی بن ابی طالب سے محبت۔“
(تاریخ بغداد للخطيب : 410/4 ، تاریخ ابن عساکر : 230/5)
جھوٹی روایت ہے۔
ابراہیم بن عبد اللہ بن مہران کے حالات زندگی نہیں مل سکے۔
ابوالفرج احمد بن محمد بن جوری عکبری وضاع ہے۔
قدامہ بن نعمان کے بارے میں حافظ ذہبی رحمہ اللہ لکھتے ہیں :
لا يعرف، والخبر باطل، ثم إن سنده مظلم إليه.
”یہ غیر معروف ہے، روایت باطل ہے، پھر اس راوی تک سند بھی مظلم ہے۔“
(ميزان الاعتدال : 386/3)
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے منسوب ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
علي بن أبى طالب باب حطة، من دخل فيه كان مؤمنا، ومن خرج منه كان كافرا.
”علی بن ابی طالب مغفرت کا دروازہ ہے، جو اس میں داخل ہو گیا، وہ مومن ہے اور جو اس سے نکل گیا، وہ کافر ہے۔“
(الغرائب الملتقطة لابن حجر : 764/5)
سخت ضعیف ہے۔
حسین بن حسن اشقر ”منکر الحدیث“ ہے۔
قاضی شریک بن عبد اللہ مدلس ہیں، نیز آخری عمر میں حافظہ خراب ہو گیا تھا۔
اعمش مدلس ہیں۔
اس روایت کو حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے باطل کہا ہے۔
(ميزان الاعتدال : 532/1)
حافظ سخاوی رحمہ اللہ نے ”ضعیف جداً“ کہا ہے۔
(المقاصد الحسنة : 170/1)
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے منسوب ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
علي بن أبى طالب يزهر فى الجنة ككوكب الصبح لأهل الدنيا.
”علی بن ابی طالب جنت میں ایسے روشن ہیں، گویا صبح کا ستارہ دنیا والوں کے لیے روشن ہو۔“
(العلل المتناهية لابن الجوزي : 250/1)
سند سخت ضعیف ہے۔
ابراہیم بن محمد بن ابی یحییٰ اسلمی متروک ہے۔
یحیی بن حسین بن قاسم کی توثیق نہیں ملی۔
حافظ ابن الجوزی رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
هذا حديث لا يصح عن رسول الله صلى الله عليه وسلم.
”یہ حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت نہیں۔“
سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے منسوب ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
علي بن أبى طالب أعلم الناس بالله والناس حبا وتعظيما لأهل لا إله إلا الله.
”علی بن ابی طالب اللہ تعالیٰ اور لوگوں کے متعلق سب سے زیادہ علم رکھنے والے ہیں، کیونکہ وہ لا إله إلا الله پڑھنے والوں سے محبت کرتے ہیں اور ان کی تعظیم کرتے ہیں۔“
(الغرائب الملتقطة لابن حجر : 771/5)
جھوٹی روایت ہے۔
یحییٰ بن ہاشم بن کثیر غسانی کذاب ہے۔
جعفر بن محمد بن حسین جزار کے حالات زندگی نہیں مل سکے۔
محمد بن حسین کے حالات بھی نہیں مل سکے۔
حسن بن ابی جعفر جفری ضعیف ہے۔
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے منسوب ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
علي مني مكان رأسي من بدني .
”علی رضی اللہ عنہ کا میرے ساتھ وہی تعلق ہے، جو میرے سر کا میرے بدن کے ساتھ ہے۔“
(الغرائب الملتقطة لابن حجر : 773/5)
روایت سخت ضعیف ہے۔
حسین بن حسن اشقر متروک ہے۔
قیس بن ربیع جمہور کے نزدیک ضعیف ہے۔
سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ سے منسوب ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
علي باب علمي، ومبين لأمتي ما أرسلت به من بعدي، حبه إيمان وبغضه نفاق والنظر إليه رأفة .
”علی رضی اللہ عنہ میرے علم کا دروازہ ہے، میرے بعد میری امت کو دین اسلام کی وضاحت کرنے والا ہے۔ علی رضی اللہ عنہ کی محبت ایمان ہے، اس سے بغض نفاق ہے اور اس کی طرف دیکھنا باعث شفقت ہے۔“
(الغرائب الملتقطة لابن حجر : 774/5)
جھوٹی روایت ہے۔
محمد بن عبداللہ بن محمد بن عبید اللہ ابو فضل کوفی وضاع ہے۔ احمد بن عبید ثقفی کے حالات زندگی نہیں ملے۔
محمد بن علی بن خلف کو امام ابن عدی رحمہ اللہ نے منکر الحدیث کہا ہے۔
موسیٰ بن جعفر بن ابراہیم بن محمد بن علی کے حالات نہیں ملے۔ عبد المہیمن بن عباس ضعیف ہے۔
سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے منسوب ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
فَإِمَّا نَذْهَبَنَّ بِكَ فَإِنَّا مِنْهُمْ مُنْتَقِمُونَ . نزلت فى على بن أبى طالب أنه ينتقم من الناكثين والقاسطين بعدي
”یہ آیت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے بارے میں نازل ہوئی، کیونکہ وہ میرے بعد دین سے پھر جانے والوں اور ظلم و جور کرنے والوں سے نمٹیں گے۔“
(سورۃ الزخرف : 41 ، الغرائب الملتقطة لابن حجر : 1060/5)
جھوٹی ہے۔
ابو عمرو یحییٰ بن علاء بجلی وضاع ہے۔
بشر بن ابی عمرو بن علاء مجہول ہے۔
ابن عامر کون ہے؟ معلوم نہیں۔
ابن رجاء کا تعین نہیں ہوسکا!
سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ سے منسوب ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
أعلم أمتي من بعدي على بن أبى طالب عليه السلام .
”میرے بعد علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سب سے بڑے عالم ہیں۔“
(الغرائب الملتقطة لابن حجر : 120/2 ، كنز العمال للهندي : 53/6 ، المناقب للخوارزمي : 49 ، مقتل الخوارزمي : 43/1)
من گھڑت روایت ہے۔
محمد بن عبداللہ ہاشمی سے مراد اگر محمد بن عبداللہ بن عبدالمطلب ہاشمی ہے، تو یہ مجہول ہے۔
(تقريب التهذيب لابن حجر : 6033)
نجیح بن ابراہیم بن محمد بن عبداللہ قاضی بھی مجہول الحال ہے، اسے صرف امام ابن حبان رحمہ اللہ نے (الثقات : 9/ 220) میں ذکر کیا ہے، نیز ”یغرب“ کہا ہے۔
مسلمہ بن قاسم ضعیف نے ”ضعیف“ کہا ہے۔
(لسان الميزان لابن حجر : 149/6)
ابونعیم ضرار بن صرد متروک الحدیث ہے، امام یحییٰ بن معین رحمہ اللہ نے ”کذاب“ کہا ہے۔
(الجرح والتعديل لابن أبي حاتم : 465/4 ت : 2045)
امام بخاری رحمہ اللہ (الضعفاء الكبير للعقيلي : 12 222 وسندہ صحیح) اور امام نسائی رحمہ اللہ (الضعفاء والمتروكون : 310) نے ”متروک الحدیث“ کہا ہے۔
امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
كان فقيها عالما بالفرائض إلا أنه يروي المقلوبات عن الثقات حتى إذا سمعها من كان داخلا فى العلم شهد عليه بالجرح والوهن .
”یہ علم وراثت کا بڑا عالم تھا، مگر ثقہ راویوں سے الٹ پلٹ روایتیں بیان کرتا تھا، جب علم حدیث کا عالم اسے سنتا تو گواہی دیتا یہ مجروح اور کمزور ہے۔“
(كتاب المجروحين : 380/1)
امام ترمذی رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
رأيته (يعني البخاري) يضعف صرار بن صرد .
”میں نے دیکھا کہ امام بخاری رحمہ اللہ ضرار بن صرد کو ضعیف قرار دیتے تھے۔“
(سنن الترمذي : 828)
امام ابن عدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
هو فى جملة من ينسبون إلى التشيع بالكوفة .
”یہ کوفی شیعہ ہے۔“
(الکامل في ضعفاء الرجال : 101/4)
امام ابو حاتم رازی رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
صاحب قرآن وفرائض صدوق يكتب حديثه ولا يحتج به روى حديثا عن معتمر عن أبيه عن الحسن عن أنس عن النبى صلى الله عليه وسلم فى فضيلة لبعض الصحابة ينكرها أهل المعرفة بالحديث .
”یہ صاحب قرآن اور صاحب فرائض ہے، سچا ہے، اس کی حدیث لکھی جائے، البتہ اس نے عن معتمر عن ابیہ عن حسن عن انس رضی اللہ عنہ عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سند سے بعض صحابہ رضی اللہ عنہم کے فضائل بیان کئے ہیں، ان سے دلیل نہیں لی جائے گی۔ حدیث کی معرفت رکھنے والے محدثین نے ان روایات کو منکر قرار دیا ہے۔“
(الجرح والتعديل لابن أبي حاتم : 465/4-466)
نیز جمہور نے ضعیف اور متروک کہا ہے۔
سیدنا واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ سے منسوب ہے :
خرجت أنا أريد عليا فقيل لي : هو عند رسول الله صلى الله عليه وسلم، فأممت إليه فأجدهم فى حظيرة من قصب ورسول الله صلى الله عليه وسلم وعلي وفاطمة وحسن وحسين قد جمعهم تحت ثوب فقال : اللهم إنك جعلت صلواتك ورحمتك ومغفرتك ورضوانك على وعليهم.
”میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے ملاقات کے ارادے سے نکلا، تو مجھے کسی نے بتایا کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ہیں۔ میں ان کی طرف گیا۔ میں نے کچھ لوگوں کو بانس کے باڑے میں دیکھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ، سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا، سیدنا حسن رضی اللہ عنہ اور سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کو ایک کپڑے کے نیچے جمع کیا اور فرمایا: اے اللہ! تو نے اپنی بخشش، رحمت، مغفرت اور رضوان میرے اور ان پر کی ہے۔“
(المعجم الكبير للطبراني : 95/22)
سند سخت ضعیف ہے۔
یزید بن ربیعہ رجبی متروک ہے۔
مغیرہ بن فروہ ابوالازہر مجہول الحال ہے، اسے صرف ابن حبان رحمہ اللہ نے الثقات میں ذکر کیا ہے۔
واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ سے سماع کا مسئلہ بھی ہے۔
فائدہ :
بعض کہتے ہیں کہ آیت : مَرَجَ الْبَحْرَيْنِ يَلْتَقِيَانِ سے مراد سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا ہیں اور آیت :يَخْرُجُ مِنْهُمَا اللُّؤْلُؤُ وَالْمَرْجَانُ سے مراد سیدنا حسن رضی اللہ عنہ اور سیدنا حسین رضی اللہ عنہ ہیں۔
یہ تفسیر نہیں تحریف والحاد ہے۔
شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ (728ھ) فرماتے ہیں :
التفسير بمثل هذا طريق للملاحدة على القرآن والطعن فيه .
”اس طرح کی تفسیر ملحدین کرتے ہیں، یہ قرآن کریم میں طعن ہے۔“
(منهاج السنة : 245/7)
علامہ زرکشی رحمہ اللہ (794ھ) فرماتے ہیں :
أما التأويل المخالف للآية والشرع فمحظور لأنه تأويل الجاهلين مثل تأويل الروافض .
”آیت اور شریعت کے مخالف تفسیر کرنا حرام ہے، کیونکہ یہ جاہلوں کی تفسیر ہے، جیسا کہ روافض نے مذکورہ بالا آیات کی من چاہی تفسیر کی ہے۔“
(البرهان في علوم القرآن : 152/2)