مضمون کے اہم نکات
تبرکات کی شرعی حیثیت
قرآن وحدیث پر مبنی عقائد و اعمال کو صحابہ کرام، تابعین عظام اور تبع تابعین وائمہ دین کے فہم کی روشنی میں سمجھنا اور اپنانا اہل سنت واہل حق کا وطیرہ ہے۔ کتنے ہی عقائد و اعمال ایسے ہیں کہ سلف صالحین کے نزدیک وہ کفر وشرک اور بدعت ہیں، لیکن اہل کلام واہل بدعت کے ہاں وہ دین کا درجہ رکھتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ مذہب سلف کی بنیاد قرآن و حدیث پر ہے، جبکہ اہل بدعت کا مزعومہ دین ان کی آرا و خواہشات پر مبنی ہے۔
امام محمد بن وضاح رحمہ اللہ (286ھ) فرماتے ہیں:
[فعليكم بالاتباع لأئمة الهدى المعروفين؛ فقد قال بعض من مضى: كم من أمر هو اليوم معروف عند كثير من الناس كان منكرا عند من مضى ، ومتحبب إليه بما يبغضه عليه ، ومتقرب إليه بما يبعده منه، وكل بدعة عليها زينة وبهجة]
تم پر معروف ائمہ ہدی کی پیروی ضروری ہے۔ بعض اسلاف نے کہا ہے: کتنے ہی معاملات آج لوگوں میں مشہور ہیں، لیکن اسلاف کے ہاں وہ منکر تھے، کتنے ہی امور آج محبوب ہیں، حالانکہ اسلاف کے نزدیک قابل نفرت تھے اور کتنے ہی معاملات آج تقرب الہی کا ذریعہ سمجھے جاتے ہیں، جبکہ اسلاف کے ہاں وہ اللہ سے دوری کا سبب تھے۔ ہر بدعت خوبصورت اور خوش نما ہوتی ہے۔
[البدع والنهي عنها:ص88 ، تحت الحديث:102]
تین فضیلت والے زمانوں کے لوگ یعنی صحابہ کرام، تابعین عظام اور تبع تابعین معیار حق ہیں۔ ان کے فہم و منہج کے مطابق قرآن و حدیث کی پیروی ضروری ہے۔ تبرک ایسے اہم مسئلہ پر بھی ہم فہم سلف کی روشنی میں گفتگو کرتے ہیں۔
تبرک کی تعریف:
علامہ محمد بن صالح عثیمین رحمہ اللہ (1421ھ) فرماتے ہیں:
["تبرك”: تفعل من البركة، والبركة: هي كثرة الخير وثبوته، وهي مأخوذة من البركة بالكسر، والبركة: مجمع الماء، ومجمع الماء يتميز عن مجرى الماء بأمرين:الكثرة والثبوت.
والتبرك: طلب البركة، وطلب البركة لا يخلو من أمرين:
الاول أن يكون التبرك بأمر شرعي معلوم; مثل القرآن، قال تعالى: {كِتَابٌ أَنْزَلْنَاهُ إِلَيْكَ مُبَارَكٌ}(سورۃ ص:29) فمن بركته أن من أخذ به حصل له الفتح، فأنقذ الله بذلك أمما كثيرة من الشرك، ومن بركته أن الحرف الواحد بعشر حسنات، وهذا يوفر للإنسان الوقت والجهد….، إلى غير ذلك من بركاته الكثيرة.
والثانی أن يكون بأمر حسي معلوم; مثل: التعليم، والدعاء، ونحوه; فهذا الرجل يتبرك بعلمه ودعوته إلى الخير; فيكون هذا بركة لأننا نلنا منه خيرا كثيرا.وقال أسيد بن حضير:ما هذه بأول بركتكم يا آل أبي بكر فإن الله يجري على بعض الناس من أمور الخير ما لا يجريه على يد الآخر.
وهناك بركات موهومة باطلة; مثل ما يزعمه الدجالون: أن فلانا الميت الذي يزعمون أنه ولي أنزل عليكم من بركته وما أشبه ذلك; فهذه بركة باطلة، لا أثر لها، وقد يكون للشيطان أثر في هذا الأمر، لكنها لا تعدو أن تكون آثارا حسية، بحيث إن الشيطان يخدم هذا الشيخ; فيكون في ذلك فتنة.
أما كيفية معرفة هل هذه من البركات الباطلة أو الصحيحة؟ فيعرف ذلك بحال الشخص، فإن كان من أولياء الله المتقين المتبعين للسنة المبتعدين عن البدعة; فإن الله قد يجعل على يديه من الخير والبركة ما لا يحصل لغيره.
ومن ذلك ما جعل الله على يد شيخ الإسلام ابن تيمية من البركة التي انتفع بها الناس في حياته وبعد موته. أما إن كان مخالفا للكتاب والسنة، أو يدعو إلى باطل; فإن بركته موهومة، وقد تضعها الشياطين له مساعدة على باطله، وذلك مثل ما يحصل لبعضهم أنه يقف مع الناس في عرفة ثم يأتي إلى بلده ويضحي مع أهل بلده.]
تبرک، برکتہ مادہ سے باب تفعل کا مصدر ہے۔ بھلائی کی کثرت اور اس کے دوام کو برکت کہتے ہیں۔ لفظ برکت، برکتہ سے ماخوذ ہے۔ جو پانی کے تالاب کو کہا جاتا ہے۔ تالاب کا بہتے ہوئے پانی سے دو طرح کا فرق ہوتا ہے؛ ایک زیادہ ہونے سے اور دوسرے ٹھہرنے سے۔ تبرک برکت طلب کرنے کا نام ہے۔ برکت کو طلب کرنا دو طرح سے ہو سکتا ہے؛ ایک تو کسی شرعی معلوم امر سے، جیسے قرآن کریم سے برکت حاصل کرنا، جیسا کہ فرمانِ باری تعالی ہے: [كِتَابٌ أَنْزَلْنَاهُ إِلَيْكَ مُبَارَكٌ] جو کتاب ہم نے آپ کی طرف نازل کی ہے، مبارک ہے۔ یہ اس کتاب کی برکت ہے کہ جو اسے اپنا لیتا ہے، اسے فتح حاصل ہوتی ہے۔ اس کتاب کی وجہ سے اللہ تعالی نے بہت سے لوگوں کو شرک سے بچایا۔ یہ بھی قرآن کریم کی برکت ہے کہ ایک حرف کے بدلے میں دس نیکیاں ملتی ہیں۔ اس سے انسان کے وقت اور محنت دونوں کی بچت ہوتی ہے۔ یوں قرآن مجید کی اور بھی بہت سی برکات ہیں۔ برکت کی دوسری صورت یہ ہوتی ہے کہ کسی حسی معلوم چیز سے برکت حاصل کی جائے، جیسے تعلیم، دعا وغیرہ سے۔ کوئی شخص اپنے علم اور نیکی کی طرف ما طرف دعوت کی وجہ سے متبرک ہے، تو اس سے برکت حاصل ہو گی، کیونکہ ہم اس سے بہت زیادہ بھلائی حاصل کر سکیں گے۔ (مثلاً جب سیدہ عائشہ رضي اللہ عنہا کے ہار گم ہونے پر تیمم کا حکم نازل ہوا، تو سیدنا اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ نے اسی بنا پر کہا تھا: ابوبکر کی آل! یہ کوئی تمہاری پہلی برکت نہیں۔ اللہ تعالیٰ بعض لوگوں کے ہاتھ پر ان امور خیر کو جاری کر دیتا ہے، جو دوسروں کے ہاتھ پر جاری نہیں ہوتے لیکن بہت سی باطل اور وہم و گمان پر مبنی برکات ہیں، جیسے دجال قسم کے لوگ یہ دعوی کرتے ہیں کہ فلاں مردہ، جسے وہ ولی سمجھ رہے ہوتے ہیں، نے تم پر یہ برکت نازل کی ہے، وغیرہ۔
یہ باطل برکت ہے، جس کا کوئی اثر نہیں ہوتا اور بسا اوقات تو شیطان اس معاملہ میں تعاون کرتا ہے، لیکن یہ معاملات حسی آثار سے زیادہ کچھ نہیں ہوتے۔ شیطان اس بزرگ کا نام استعمال کرتا ہے اور وہ اس سلسلہ میں فتنہ بن جاتا ہے۔ رہی یہ بات کہ باطل اور صحیح برکات میں فرق کیسے کیا جائے، تو اس کی پہچان اس شخص کی حالت دیکھ کر ہوگی۔ اگر وہ اللہ تعالیٰ کے متقین اولیاء، سنتِ رسول کے متبعین اور بدعت سے دُور رہنے والے افراد میں سے ہو، تو اللہ تعالیٰ اس کے ہاتھوں میں ایسی خیر و برکت رکھ دیتا ہے، جو دوسروں سے حاصل نہیں ہوتی۔ اس کی مثال وہ برکت ہے، جو اللہ تعالیٰ نے شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کے ہاتھ پر رکھی تھی، جس سے ان کی زندگی اور بعد از وفات لوگ فیض یاب ہو رہے ہیں۔ اگر وہ شخص کتاب وسنت کا مخالف ہو یا باطل کی طرف دعوت دیتا ہو، تو اس کی برکت ایک وہمی امر ہے اور بسا اوقات شیاطین اس کے باطل فعل پر معاونت کے لیے کسی امر کو رونما کرتے ہیں۔ اس کی مثال یہ ہے کہ بعض لوگ دوسروں کے ساتھ عرفہ میں وقوف کرتے بھی پائے گئے، پھر وہ اپنے علاقے میں آکر اہل علاقہ کے ساتھ قربانی کرتے بھی پائے گئے۔
[القول المفید علی کتاب التوحید:1/ 194-195]
شیخ صالح بن عبد العزیز بن محمد بن ابراہیم آل الشیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
[وقال سبحانه: {وَبَارَكْنَا عَلَيْهِ وَعَلَى إِسْحَاقَ} [الصافات: 113] وقال: {وَجَعَلَنِي مُبَارَكًا}[مريم: 31] فالذي يبارك هو الله – جل وعلا -، فلا يجوز للمخلوق أن يقول: باركت على الشيء، أو أبارك فعلكم؛ لأن البركة وكثرة الخير ولزومه، وثباته، إنما ذلك من الذي بيده الأمر، وهو الله عز وجل.وقد دلت النصوص في الكتاب والسنة على أن الأشياء التي أحل الله – جل وعلا – البركة فيها قد تكون أمكنة أو أزمنة؛ وقد تكون مخلوقات آدمية، فهذان قسمان:
القسم الأول: أن الله – تعالى – بارك بعض الأماكن كبيت الله الحرام، وحول بيت المقدس، كما قال سبحانه: {الَّذِي بَارَكْنَا حَوْلَهُ} [الإسراء: 1] ومعنى كون الأرض مباركة: أن يكون فيها الخير الكثير اللازم يعني – أبدا – أن يُتَمَسَّح بأرضها، أو أن يُتَمَسَّح بحيطانها، لأن بركتها لازمة لا تنتقل بالذات، يعني: أنك إذا لامست الأرض، أو دفنت فيها، أو تبركت بها، فإن بركتها لا تنتقل إليك بالذات، وإنما بركتها من جهة المعنى فقط. كذلك بيت الله الحرام هو مبارك لا من جهة ذاته، يعني: ليس كما يعتقد البعض أن من تمسح به انتقلت إليه البركة وإنما هو مبارك من جهة المعنى، يعني: اجتمعت فيه البركة التي جعلها الله في هذه البنية، من جهة: تعلق القلوب بها، وكثرة الخير الذي يكون لمن أرادها، وأتاها، وطاف بها، وتعبد عندها، وكذلك الحجر الأسود هو حجر مبارك، ولكن بركته لأجل العبادة، يعني أن من استلمه تعبدا مطيعا للنبي صلى الله عليه وسلم في استلامه له، وفي تقبيله، فإنه يناله به بركة الاتباع. وقد قال عمر رضي الله عنه لما قبّل الحجر: إني لأعلم أنك حجر لا تنفع ولا تضر فقوله: لا تنفع ولا تضر، يعني لا يجلب لمن قبله شيئا من النفع، ولا يدفع عن أحد شيئا من الضر، وإنما الحامل على التقبيل مجرد الاتِّساء، تعبدا لله، ولذلك قال: ولولا أني رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقبلك ما قبلتك فهذا معنى البركة التي جعلت في الأمكنة. وأما معنى كون الزمان مباركا مثل شهر رمضان، أو بعض أيام الله الفاضلة فيعني: أن من تعبد فيها، ورام الخير فيها، فإنه ينال من كثرة الثواب ما لا يناله في غيرها من الأزمنة.
والقسم الثاني: البركة المنوطة ببني آدم، وهي البركة التي جعلها الله جل وعلا في المؤمنين من الناس، وعلى رأسهم: سادة المؤمنين: من الأنبياء والرسل فهؤلاء بركتهم بركة ذاتية، يعني: أن أجسامهم مباركة، فالله جل وعلا هو الذي جعل جسد آدم مباركا وجعل جسد إبراهيم عليه السلام مباركا، وجعل جسد نوح مباركا، وهكذا جسد عيسى، وموسى، عليهم جميعا الصلاة والسلام جعل أجسادهم جميعا مباركة، بمعنى: أنه لو تبرك أحد من أقوامهم بأجسادهم، إما بالتمسح بها، أو بأخذ عرقها، أو التبرك ببعض أشعارهم، فهذا جائز؛ لأن الله جعل أجسادهم مباركة بركة متعدية، وهكذا نبينا محمد بن عبد الله صلى الله عليه وسلم جسده أيضا جسد مبارك؛ ولهذا ورد في السنة أن الصحابة كانوا يتبركون بعرقه، ويتبركون بشعره، وإذا توضأ اقتتلوا على وضوئه، إلى آخر ما ورد في ذلك؛ ذلك أن أجساد الأنبياء فيها بركة ذاتية ينتقل أثرها إلى غيرهم، وهذا مخصوص بالأنبياء والرسل، أما غيرهم فلم يرد دليل على أن من أصحاب الأنبياء والرسل مَن بركتهم بركة ذاتية، حتى أفضل هذه الأمة أبو بكر وعمر، فقد جاء بالتواتر القطعي: أن الصحابة والتابعين والمخضرمين لم يكونوا يتبركون بأبي بكر، وعمر، وعثمان، وعلي، كما كانوا يتبركون بشعر النبي صلى الله عليه وسلم، أو بوضوئه، أو بنخامته، أو بعرقه أو بملابسه، ونحو ذلك، فعلمنا بهذا التواتر القطعي أن بركة أبي بكر وعمر إنما هي بركة عمل، ليست بركة ذات تنتقل كما هي بركة النبي صلى الله عليه وسلم؛ ولهذا جاء في الحديث الذي رواه البخاري في صحيحه أن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «إن من الشجر لَمَا بركته كبركة المسلم فدل هذا: على أن في كل مسلم بركة، وفي البخاري أيضا قول أسيد بن حضير: «ما هذه بأول بركتكم يا آل أبي بكر. فهذه البركة التي أضيفت لكل مسلم وأضيفت لآل أبي بكر، هي: بركة عمل، هذه البركة راجعة إلى الإيمان، وإلى العلم، والدعوة، والعمل. فكل مسلم فيه بركة، وهذه البركة ليست بركة ذات، وإنما هي بركة عمل، وبركة ما معه من الإسلام والإيمان، وما في قلبه من الإيقان والتعظيم لله – جل وعلا – والإجلال له، والاتباع لرسوله صلى الله عليه وسلم، فهذه البركة التي في العلم، أو العمل، أو الصلاح: لا تنتقل من شخص إلى آخر وعليه فيكون معنى التبرك بأهل الصلاح هو الاقتداء بهم في صلاحهم، والتبرك بأهل العلم هو الأخذ من علمهم والاستفادة منه وهكذا، ولا يجوز أن يُتبرك بهم بمعنى أن يُتمسح بهم، أو يُتبرك بريقهم؛ لأن أفضل الخلق من هذه الأمة وهم الصحابة لم يفعلوا ذلك مع خير هذه الأمة أبي بكر، وعمر، وعثمان، وعلي، وهذا أمر مقطوع به.
فمعنى تبرك المشركين: أنهم كانوا يرجون كثرة الخير، ودوام الخير، ولزوم الخير وثبات الخير، بالتوجه إلى الآلهة، وهذه الآلهة يكون منها: الصنم الذي من الحجارة، والقبر من التراب، ويكون منها الوثن والشجر، ويكون منها البقاع المختلفة، كالغار أو عين ماء، أو نحو ذلك، فهذه التبركات المختلفة جميعها تبركات شركية.]
اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: {وَبَارَكْنَا عَلَيْهِ وَعَلَى إِسْحَاقَ} ہم نے ابراہیم اور اسحاق پر برکت نازل کی۔ [الصافات: 113] نیز فرمایا: {وَجَعَلَنِي مُبَارَكًا} مجھے [عیسیٰ علیہ السلام کو] مبارک بنایا۔ [مريم: 31] یعنی برکت دینے والا صرف اللہ تعالیٰ ہے۔ کسی مخلوق کے لیے یہ کہنا جائز نہیں کہ میں نے فلاں چیز کو برکت دی ہے یا میں تمہارے کام کو مبارک کروں گا، کیونکہ برکت، کثرتِ خیر اور لزوم و ثباتِ خیر اسی ذات کے پاس ہے۔ جس کے ہاتھ میں سب معاملات ہیں اور وہ اللہ تعالیٰ کی ذات ہے۔ کتاب وسنت کی نصوص یہ بتاتی ہیں کہ جن چیزوں میں اللہ تعالیٰ نے برکت رکھی ہے، وہ جگہوں کی صورت میں بھی ہیں، وقت کی صورت میں بھی ہیں اور انسانوں کی صورت میں بھی۔ اس کی دو قسمیں ہیں:
پہلی تو یہ کہ اللہ تعالیٰ نے بعض جگہوں کو برکت دی ہے، جیسے بیت اللہ الحرام کو اور بیت المقدس کے ماحول کو، جیسے فرمایا: {الَّذِي بَارَكْنَا حَوْلَهُ} جس کے اردگرد کو ہم نے برکت دی۔ [الإسراء: 1] تو جگہ کے مبارک ہونے سے مراد یہ ہوتی ہے کہ اس میں خیرِ کثیر ہوتی ہے، جو اس میں لازم، یعنی ہمیشہ کے لیے ہوتی ہے۔ اس کا یہ مطلب نہیں ہوتا کہ (برکت کی نیت سے) اس جگہ کی زمین کو چھوا جائے یا اس کی دیواروں کو مس کیا جائے، کیونکہ اس کی برکت اس جگہ کے ساتھ لازم ہوتی ہے، بالذات منتقل نہیں ہوتی۔ اگر آپ اس جگہ کو ہاتھ لگائیں یا اس میں دفن ہو جائیں یا اس سے تبرک حاصل کرنے کی کوشش کریں، تو اس کی برکت آپ کی طرف بالذات منتقل نہیں ہوگی۔ اس کی برکت تو صرف معنوی ہوتی ہے۔ یوں بیت اللہ الحرام مبارک ہے، لیکن معنوی طور پر بالذات نہیں۔ بعض لوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ جو بیت اللہ کو چھوئے گا، اس کی برکت اس پر منتقل ہو جائے گی، یہ خیال درست نہیں، کیونکہ بیت اللہ معنوی طور پر مبارک ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اس عمارت میں اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی کئی برکتیں جمع ہیں، مثلاً دل اس کے ساتھ اٹک جاتے ہیں، جو اس میں آنے کا ارادہ کرتا ہے، آتا ہے اور طواف کرتا ہے اور اس کے پاس عبادت کرتا ہے، اس کو خیرِ کثیر حاصل ہوتی ہے۔ اسی طرح حجرِ اسود مبارک پتھر ہے، لیکن اس کی برکت صرف عبادت کے لیے ہے، یعنی جو اس کو عبادت کے لیے اور نبی کریم ﷺ کی پیروی میں چومتا ہے اور اس کا استلام کرتا ہے، اسے اس بنا پر اتباع کی برکت حاصل ہوگی۔ یہی وجہ ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے جب حجرِ اسود کو چوما تو فرمایا: پتھر ہے، نہ نفع دے سکتا ہے نہ نقصان۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا فرمان یہ بتاتا ہے کہ جو شخص حجرِ اسود کو چومتا ہے، حجرِ اسود نہ اسے نفع کی کوئی صورت دے سکتا ہے نہ اس سے کسی نقصان والی چیز کو دُور کر سکتا ہے۔ اسے چومنے کا باعث صرف اللہ کی عبادت کے لیے نبی کریم ﷺ کی پیروی ہے۔ اسی لیے پھر انہوں نے فرمایا: اگر میں رسولِ اکرم ﷺ کو تجھے چومتے ہوئے نہ دیکھتا، تو میں بھی تجھے نہ چومتا۔ جگہوں میں برکت ہونے کا یہی معنٰی ہے۔ اور کسی وقت، مثلاً ماہِ رمضان یا دیگر فضیلت والے ایام کے مبارک ہونے کا مطلب یہ ہے کہ جو شخص ان دنوں میں عبادت کرے گا اور خیر کا ارادہ کرے گا، وہ باقی اوقات کے مقابلے میں زیادہ ثواب حاصل کرے گا۔
دوسری قسم وہ ہے، جو انسانوں میں ودیعت کی ہے، یہ وہ برکت ہے جسے اللہ تعالیٰ نے مؤمن لوگوں میں رکھ دیا ہے۔ ان لوگوں میں سرفہرست مؤمنوں کے سردار انبیا ورسل ہیں۔ انبیاۓ کرام کی برکت ذاتی ہوتی ہے، یعنی ان کے اجسام برکت والے ہوتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے سیدنا آدم علیہ السلام کے جسم کو مبارک بنایا، سیدنا ابراہیم علیہ السلام کے جسم کو مبارک بنایا، سیدنا نوح علیہ السلام کے جسم کو مبارک بنایا، اسی طرح سیدنا عیسٰی و سیدنا موسیٰ علیہما السلام کے اجسام کو مبارک بنایا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر ان کے کسی امتی نے ان کے اجسام کو چھو کر یا ان کا پسینہ لے کر یا ان کے بالوں سے برکت حاصل کی، تو یہ جائز تھا، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کے اجسام کو ایسی برکت نصیب فرمائی تھی، جو آگے منتقل بھی ہوتی تھی۔ اسی طرح ہمارے نبی محمد بن عبد اللہ ﷺ کا جسم بھی مبارک تھا۔ اسی لیے احادیث میں وارد ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم آپ کے پسینے اور بالوں سے تبرک لیتے تھے۔ جب آپ ﷺ وضو فرماتے، تو وہ آپ کے وضو کا پانی حاصل کرنے میں باہم مقابلہ کرتے تھے۔ اسی طرح آپ ﷺ کے دیگر تبرکات کا معاملہ تھا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ انبیاء کرام کے اجسام میں برکت ذاتی تھی جس کا اثر دوسروں تک منتقل بھی ہوتا تھا۔ لیکن یہ معاملہ انبیاء ورسل کے ساتھ خاص ہے۔ ان کے علاوہ انبیاء کرام کے صحابہ میں سے کسی صحابی کے بارے میں بھی یہ وارد نہیں کہ ان کی برکت ذاتی ہو۔ یہاں تک کہ امتِ محمدیہ علیٰ صاحبہا الصلوٰۃ والسلام کی سب سے بزرگ ہستیاں سیدنا ابوبکر وعمر رضی اللہ عنہما ہیں، ان کے بارے میں بھی تواترِ قطعی سے یہ ثابت ہو چکا ہے کہ صحابہ کرام، تابعین اور مخضرمین (جنہوں نے رسول اللہ ﷺ کا زمانہ پایا، لیکن زیارت نہ کر سکے) سیدنا ابوبکر وعمر اور عثمان وعلی رضی اللہ عنہم سے تبرک نہیں لیتے تھے، جبکہ نبی کریم ﷺ کے بالوں، وضو کے پانی، تھوک، پسینے، لباس وغیرہ سے تبرک لیا جاتا تھا۔ اس تواترِ قطعی سے ہمیں یہ معلوم ہوتا ہے کہ سیدنا ابوبکر وعمر رضی اللہ عنہما کی برکت، عمل والی برکت تھی۔ یہ ذاتی برکت نہیں تھی، جو نبی کریم ﷺ کی برکت کی طرح دوسروں کو منتقل ہوتی ہو۔ اسی لیے صحیح بخاری کی ایک حدیث میں ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ایک درخت کی برکت ایسی ہے جیسے مسلمان کی برکت ہوتی ہے۔ یہ حدیث بتاتی ہے کہ ہر مسلمان میں برکت ہوتی ہے۔ صحیح بخاری ہی میں سیدنا اُسید بن حضیر رضی اللہ عنہ کا یہ قول موجود ہے: (انہوں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا ہار گم ہونے کی وجہ سے آیتِ تیمم کے نزول پر فرمایا:) آلِ ابو بکر! یہ کوئی تمہاری پہلی برکت نہیں۔ یہ وہی برکت ہے، جسے ہر مسلمان کی طرف منسوب کیا گیا ہے اور آلِ ابوبکر کی طرف بھی منسوب کیا گیا ہے۔ یہ عمل والی برکت ہے اور یہی برکت ایمان، علم، دعوت اور عمل کی طرف لے کر جاتی ہے۔ لہٰذا ہر مسلمان میں برکت موجود ہوتی ہے، لیکن یہ برکت ذاتی نہیں ہوتی، بلکہ عمل کی اور مسلمان میں موجود اسلام و ایمان اور اس کے دل میں موجود یقین، اللہ تعالیٰ کی تعظیم، اس کے جلال اور اتباعِ رسول کی برکت ہوتی ہے۔ یہی برکت ہے جو علم، عمل اور نیکی میں ہوتی ہے، یہ ایک شخص سے دوسرے میں منتقل نہیں ہوتی۔ اسی بنا پر نیک لوگوں سے تبرک کا معنیٰ یہ ہے کہ نیکی میں ان کی اقتدا کی جائے، اہل علم سے تبرک کا معنیٰ یہ ہوگا کہ ان سے علم حاصل کیا جائے اور استفادہ کیا جائے۔ ان سے اس طرح تبرک لینا جائز نہیں کہ ان کو چھوا جائے یا ان کے لعاب سے برکت حاصل کرنے کی کوشش کی جائے، کیونکہ اس امت کی سب سے بزرگ ہستیاں صحابہ کرام ہیں، انہوں نے اس امت کی بزرگ ترین ہستیوں ابوبکر، عمر، عثمان اور علی رضی اللہ عنہم سے ایسا تبرک حاصل نہیں کیا اور یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے۔ مشرکین کے تبرک کی یہی صورت تھی کہ وہ اپنے معبودوں کی طرف توجہ کر کے کثرتِ خیر، دوامِ خیر اور لزوم و ثباتِ خیر کی امید کرتے تھے۔ ان کے معبودوں میں پتھر کے بت، مٹی کی قبریں، آستانے، درخت، مختلف جگہیں، جیسے غاریں، چشمے وغیرہ شامل تھے۔ یہ سارے تبرکات شرکیہ ہیں۔
[التمهيد لشرح كتاب التوحيد، ص 124تا127]
شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ (728ھ) فرماتے ہیں:
[وأما قول القائل: نحن في بركة فلان أو من وقت حلوله عندنا حلت البركة. فهذا الكلام صحيح باعتبار باطل باعتبار. فأما الصحيح: فأن يراد به أنه هدانا وعلمنا وأمرنا بالمعروف ونهانا عن المنكر فببركة اتباعه وطاعته حصل لنا من الخير ما حصل فهذا كلام صحيح. كما كان أهل المدينة لما قدم عليهم النبي صلى الله عليه وسلم في بركته لما آمنوا به وأطاعوه فببركة ذلك حصل لهم سعادة الدنيا والآخرة بل كل مؤمن آمن بالرسول وأطاعه حصل له من بركة الرسول بسبب إيمانه وطاعته من خير الدنيا والآخرة ما لا يعلمه إلا الله. و (أيضا إذا أريد بذلك أنه ببركة دعائه وصلاحه دفع الله الشر وحصل لنا رزق ونصر فهذا حق كما قال النبي صلى الله عليه وسلم {وهل تنصرون وترزقون إلا بضعفائكم بدعائهم وصلاتهم وإخلاصهم؟} وقد يدفع العذاب عن الكفار والفجار لئلا يصيب من بينهم من المؤمنين ممن لا يستحق العذاب. ومنه قوله تعالى {وَلَوْلَا رِجَالٌ مُؤْمِنُونَ وَنِسَاءٌ مُؤْمِنَاتٌ} – إلى قوله {لَوْ تَزَيَّلُوا لَعَذَّبْنَا الَّذِينَ كَفَرُوا مِنْهُمْ عَذَابًا أَلِيمًا} فلولا الضعفاء المؤمنون الذين كانوا بمكة بين ظهراني الكفار عذب الله الكفار: وكذلك قال النبي صلى الله عليه وسلم {لولا ما في البيوت من النساء والذراري لأمرت بالصلاة فتقام ثم أنطلق معي برجال معهم حزم من حطب إلى قوم لا يشهدون الصلاة معنا فأحرق عليهم بيوتهم} وكذلك ترك رجم الحامل حتى تضع جنينها. وقد قال المسيح عليه السلام {وَجَعَلَنِي مُبَارَكًا أَيْنَ مَا كُنْتُ} فبركات أولياء الله الصالحين باعتبار نفعهم للخلق بدعائهم إلى طاعة الله وبدعائهم للخلق وبما ينزل الله من الرحمة ويدفع من العذاب بسببهم حق موجود فمن أراد بالبركة هذا وكان صادقا فقوله حق. وأما "المعنى الباطل” فمثل أن يريد الإشراك بالخلق: مثل أن يكون رجل مقبور بمكان فيظن أن الله يتولاهم لأجله وإن لم يقوموا بطاعة الله ورسوله فهذا جهل. فقد كان الرسول صلى الله عليه وسلم سيد ولد آدم مدفون بالمدينة عام الحرة وقد أصاب أهل المدينة من القتل والنهب والخوف ما لا يعلمه إلا الله وكان ذلك لأنهم بعد الخلفاء الراشدين أحدثوا أعمالا أوجبت ذلك وكان على عهد الخلفاء يدفع الله عنهم بإيمانهم وتقواهم لأن الخلفاء الراشدين كانوا يدعونهم إلى ذلك وكان ببركة طاعتهم للخلفاء الراشدين وبركة عمل الخلفاء معهم ينصرهم الله ويؤيدهم. وكذلك الخليل صلى الله عليه وسلم مدفون بالشام وقد استولى النصارى على تلك البلاد قريبا من مائة سنة وكان أهلها في شر. فمن ظن أن الميت يدفع عن الحي مع كون الحي عاملا بمعصية الله فهو غالط. وكذلك إذا ظن أن بركة الشخص تعود على من أشرك به وخرج عن طاعة الله ورسوله مثل أن يظن أن بركة السجود لغيره وتقبيل الأرض عنده ونحو ذلك يحصل له السعادة؛ وإن لم يعمل بطاعة الله ورسوله. وكذلك إذا اعتقد أن ذلك الشخص يشفع له ويدخله الجنة بمجرد محبته وانتسابه إليه فهذه الأمور ونحوها مما فيه مخالفة الكتاب والسنة فهو من أحوال المشركين. وأهل البدع. باطل لا يجوز اعتقاده. ولا اعتماده. والله سبحانه وتعالى أعلم.]
کسی کا یہ کہنا کہ ہم فلاں کی برکت میں ہیں یا اس کے ہمارے پاس آنے کے وقت سے ہمارے پاس برکت نازل ہونا شروع ہو گئی ہے؛ یہ کلام ایک اعتبار سے درست اور ایک اعتبار سے باطل ہے۔ صحیح اس طرح ہے کہ اس سے مراد یہ ہو؛ اس نے ہماری رہنمائی کی، ہمیں دین سکھایا، ہمیں نیکی کا حکم دیا اور برائی سے منع کیا، یوں اس کی پیروی و اطاعت کی برکت سے ہمیں یہ بھلائی حاصل ہو گئی ہے۔ یہ کلام درست ہے، جیسا کہ اہل مدینہ کے پاس نبی کریم ﷺ تشریف لائے، جب وہ آپ ﷺ پر ایمان لائے اور آپ کی اطاعت کی، تو اس عمل کی برکت سے انہیں دنیا و آخرت کی سعادت حاصل ہو گئی۔ بلکہ جو شخص بھی رسولِ کریم ﷺ پر ایمان لاتا ہے اور آپ کی اطاعت کرتا ہے، اسے ایمان واطاعت کی وجہ سے دنیا و آخرت کی بے انتہا بھلائی کی صورت میں آپ ﷺ کی برکت حاصل ہو گی۔ اسی طرح جب یہ مراد ہو کہ کسی شخص کی دُعا وصلاح کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے شر کو ختم کر دیا اور ہمیں رزق و نصرت حاصل ہو گئی، تو یہ بھی درست ہے، جیسا کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: تمہاری مدد صرف تمہارے کمزوروں کی دُعا، نماز اور ان کے اخلاص کی وجہ سے کی جاتی ہے۔ کبھی اللہ تعالیٰ کفار وفجار سے عذاب اس لیے ٹال دیتا ہے کہ ان کے درمیان رہنے والے مؤمنین کو یہ عذاب نہ پہنچ جائے، جو اس کے مستحق نہیں۔ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کا بھی مدعا ہے: [وَلَوْلَا رِجَالٌ مُّؤْمِنُونَ وَنِسَاءٌ مُّؤْمِنَاتٌ لَّمْ تَعْلَمُوهُمْ أَن تَطْؤُوهُمْ فَتُصِيبَكُم مِّنْهُم مَّعَرَّةٌ بِغَيْرِ عِلْمٍ لِّيُدْخِلَ اللَّهُ فِي رَحْمَتِهِ مَن يَشَاءُ لَوْ تَزَيَّلُوا لَعَذَّبْنَا الَّذِينَ كَفَرُوا مِنْهُمْ عَذَابًا أَلِيمًا] اگر ایسے مسلمان مرد اور مسلمان عورتیں نہ ہوتیں جن کو تم جانتے نہ تھے کہ اگر تم انہیں پامال کر دیتے تو تمہیں ان کی طرف سے بے خبری میں نقصان پہنچ جاتا (تو بھی تمہیں فتح ہو جاتی مگر تاخیر) اس لیے (ہوئی) کہ اللہ تعالیٰ اپنی رحمت میں جسے چاہے داخل کر لے۔ اور اگر دونوں فریق الگ الگ ہو جاتے تو ان میں سے کافروں کو ہم دردناک عذاب سے دوچار کرتے۔ (الفتح: 25)
یعنی اگر مکہ میں کفار کے درمیان کمزور مؤمن موجود نہ ہوتے، تو اللہ تعالیٰ کفار پر عذاب نازل فرماتا۔ اسی طرح رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: اگر گھروں میں عورتیں اور بچے نہ ہوتے، تو میں حکم دیتا، نماز کی اقامت کہی جاتی، پھر میں اپنے ساتھ ایسے مردوں کو لے کر، جن کے پاس لکڑیوں کے گٹھے ہوتے، ان لوگوں کی طرف چلتا جو ہمارے ساتھ نماز میں حاضر نہیں ہوتے اور میں ان کے گھروں کو جلا دیتا۔ اسی طرح آپ ﷺ (زنا کرنے والی) حاملہ عورت کو اس وقت تک رجم کرنے سے رُک گئے جب تک اس نے بچے کو نہیں جن لیا۔ عیسٰی علیہ السلام نے فرمایا: [وَجَعَلَنِیْ مُبٰرَکًا اَیْنَ مَا کُنْتُ] میں جہاں بھی ہوں، اللہ نے مجھے مبارک بنایا ہے۔ (مریم:31) چنانچہ اولیاء اللہ کی برکات اس اعتبار سے ہوتی ہیں کہ وہ مخلوق کو اطاعتِ الہی کی طرف دعوت دیتے ہیں، ان کے لیے دُعا کرتے ہیں اور ان کے سبب اللہ کی رحمت کا نزول ہوتا ہے اور وہ عذاب سے بچتے ہیں۔ یہ صورت برحق اور موجود ہے۔ جو سچا شخص برکت سے یہ مراد لیتا ہے، اس کی بات برحق ہے۔ رہا برکت کا غلط معنیٰ، تو وہ یہ ہے کہ اس کے ذریعے مخلوق کو اللہ تعالیٰ کے ساتھ شریک ٹھہرایا جائے، جیسے کوئی بزرگ کسی جگہ دفن ہو اور اس کے بارے میں یہ گمان کیا جائے کہ اللہ تعالیٰ اس کی وجہ سے وہاں کے لوگوں کو دوست رکھتا ہے، اگرچہ وہ اللہ و رسول کی اطاعت بجا نہ بھی لاتے ہوں۔ یہ اعتقاد جہالت پر مبنی ہے۔ رسول اللہ ﷺ اولادِ آدم کے سردار تھے۔ آپ ﷺ مدینہ منورہ میں دفن تھے، لیکن حادثہٴ حرہ کی صورت میں اہل مدینہ اس قتل و لوٹ مار اور خوف کا شکار ہوئے، جس کا علم اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کو نہیں۔ یہ سانحہ اس لیے پیش آیا کہ خلفائے راشدین کے بعد اہل مدینہ نے ایسے اعمال ایجاد کر لیے تھے، جن کی بنا پر اس حادثہ کا پیش آنا ضروری ہو گیا تھا۔ خلفائے راشدین کے دور میں اللہ تعالیٰ نے ان کے ایمان وتقویٰ کی وجہ سے اہل مدینہ کو عذاب سے بچایا ہوا تھا، کیونکہ خلفا لوگوں کو ایمان وتقویٰ کی طرف دعوت دیتے تھے۔ خلفا کی اطاعت کی برکت اور خود خلفا کے عمل کی وجہ سے اللہ تعالیٰ ان کی نصرت و تائید کرتا تھا۔ اسی طرح خلیل اللہ ابراہیم علیہ السلام شام میں مدفون ہیں، اس کے باوجود نصاریٰ ان علاقوں پر تقریباً سو سال تک قابض رہے ہیں۔ اہل شام اس دوران بہت مصیبت میں تھے۔ لہٰذا جو شخص یہ سمجھتا ہے کہ کوئی مرنے والی ہستی کسی زندہ شخص کو گناہ گار ہونے کے باوجود عذاب سے بچاتی ہے، وہ غلطی پر ہے۔ اسی طرح جب کوئی شخص یہ اعتقاد رکھے کہ کسی ہستی کی برکت اسے حاصل ہوتی ہے، جو اس ہستی کو اللہ کے ساتھ شریک کرتا ہے اور اللہ و رسول کی اطاعت چھوڑ دیتا ہے، مثلاً وہ یہ سمجھے کہ غیر اللہ کو سجدہ، غیر اللہ کے پاس زمین کو بوسہ دینا وغیرہ سعادت کا سبب بنتا ہے، اگرچہ وہ اللہ و رسول کی اطاعت نہ بھی کرے، نیز وہ غیر اللہ اس کے لیے سفارش کرے گا اور اپنی محبت اور انتساب کی وجہ سے اسے جنت میں داخل کرائے گا، تو ایسے کتاب وسنت کے مخالف امور مشرکین و اہل بدعت کا پیشہ ہیں۔ یہ باطل امور ہیں، جن پر اعتقاد و اعتماد جائز نہیں، واللہ سبحانہ وتعالیٰ اعلم۔
[مجموع الفتاویٰ : 11/ 113تا115]
شیخ الاسلام رحمہ اللہ کا نبی ﷺ کے متعلق اظہارِ عقیدت بھی ملاحظہ فرمائیں:
[والنبي صلى الله عليه وسلم يجب علينا أن نحبه حتى يكون أحب إلينا من أنفسنا وآبائنا وأبنائنا وأهلنا وأموالنا ونعظمه ونوقره ونطيعه باطنا وظاهرا ونوالي من يواليه ونعادي من يعاديه. ونعلم أنه لا طريق إلى الله إلا بمتابعته صلى الله عليه وسلم. ولا يكون وليا لله بل ولا مؤمنا ولا سعيدا ناجيا من العذاب إلا من آمن به واتبعه باطنا وظاهرا. ولا وسيلة يتوسل إلى الله عز وجل بها إلا الإيمان به وطاعته. وهو أفضل الأولين والآخرين وخاتم النبيين والمخصوص يوم القيامة بالشفاعة العظمى التي ميزه الله بها على سائر النبيين صاحب المقام المحمود واللواء المعقود لواء الحمد آدم فمن دونه تحت لوائه. وهو أول من يستفتح باب الجنة {فيقول الخازن: من أنت؟ فيقول: أنا محمد. فيقول بك أمرت أن لا أفتح لأحد قبلك}. وقد فرض على أمته فرائض وسن لهم سننا مستحبة فالحج إلى بيت الله فرض والسفر إلى مسجده والمسجد الأقصى للصلاة فيهما والقراءة والذكر والدعاء والاعتكاف مستحب باتفاق المسلمين. وإذا أتي مسجده فإنه يسلم عليه ويصلى عليه. ويسلم عليه في الصلاة ويصلى عليه فيها.]
نبی کریم ﷺ سے اس قدر محبت ہم پر فرض ہے کہ آپ ﷺ ہمیں ہماری جانوں، ہمارے آباء واجداد، ہماری اولادوں، ہمارے اہل وعیال اور ہمارےاموال سے بڑھ کر محبوب ہو جائیں۔ اسی طرح آپ ﷺ کی تعظیم و توقیر، آپ کی ظاہری و باطنی اطاعت، آپ سے محبت رکھنے والوں سے محبت اور آپ کی دشمنی کرنے والوں سے دشمنی بھی ہم پر فرض ہے۔ نیز ہمیں معلوم ہونا چاہیے کہ آپ ﷺ کی پیروی کے علاوہ اللہ تعالیٰ کے تقرب کا کوئی راستہ نہیں۔ کوئی بندہ ولی تو کیا، مؤمن اور سعید و ناجی بھی نہیں ہو سکتا، جب تک آپ پر ایمان نہ لائے اور ظاہری و باطنی طور پر آپ ﷺ کا فرمانبردار نہ بن جائے۔ اللہ تعالیٰ کے تقرب کا کوئی وسیلہ آپ پر ایمان اور آپ کی اطاعت و فرمانبرداری کے سوا نہیں۔ آپ ﷺ پہلے لوگوں اور بعد والوں سب سے افضل اور خاتم النبیین ہیں۔ قیامت کے دن شفاعتِ عظمیٰ بھی آپ کے ساتھ خاص ہو گی، جس کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے آپ کو تمام انبیا پر برتری دی ہے۔ آپ مقامِ محمود پر فائز ہوں گے اور لواء الحمد آپ کے ہاتھ میں ہو گا، جس کے نیچے آدم علیہ السلام سے لے کر قیامت تک کے تمام (مُوحد) لوگ ہوں گے۔ آپ ﷺ ہی سب سے پہلے وہ شخص ہوں گے، جو جنت کا دروازہ کھٹکھٹائیں گے تو دربان پوچھے گا: آپ کون ہیں؟ آپ ﷺ فرمائیں گے: میں محمد ہوں۔ اس پر دربان عرض کرے گا: آپ وہی وہ شخصیت ہیں جن کے بارے میں مجھے حکم دیا گیا ہے کہ آپ کے علاوہ کسی کے لیے میں دروازہ نہ کھولوں۔ آپ ﷺ نے اپنی امت کے لیے بہت سے فرائض و مستحب سنن مقرر کی ہیں۔ مثلاً بیت اللہ کا حج فرض ہے، جبکہ مسجدِ نبوی اور مسجدِ اقصیٰ کی طرف نماز، قرآت، ذکر، دعا اور اعتکاف کی نیت سے سفر سب مسلمانوں کے ہاں بالاتفاق مستحب ہے۔ جب کوئی مسلمان آپ ﷺ کی مسجد میں جاتا ہے، تو آپ پر درود و سلام بھیجتا ہے، نیز ہر نماز میں بھی درود و سلام کا ہدیہ پیش کرتا ہے۔‘‘
[مجموع الفتاویٰ : 27/ 320-321]
نبی کریم ﷺ کی تعظیم و تکریم اور آپ ﷺ سے برکت حاصل کرنا کمالِ ایمان کی نشانی اور انتہائی محبتِ نبوی کا ثبوت ہے۔ جس چیز کو نبی کریم ﷺ کی ذاتِ بابرکت سے کسی قسم کا علاقہ اور واسطہ ہو، خواہ وہ آپ ﷺ کے بال مبارک ہوں، جبہ مبارک ہو، عصا مبارک ہو، نعلین شریفین ہوں، اس سے تبرک لینا مشروع اور جائز ہے۔ ان آثار کی تعظیم و تکریم درحقیقت نبی کریم ﷺ کی ذاتِ بابرکت سے محبت کا اظہار ہے۔ اس حقیقت سے کسی مسلمان کو انکار کی مجال نہیں۔
آثار سے تبرک، خاصۂ نبوی ہے:
خوب یاد رہے کہ آثار سے تبرک ہمارے نبی پاک ﷺ کا خاصہ ہے۔ کسی اور شخصیت کو آپ ﷺ کی ذاتِ گرامی پر قیاس کر کے اس کے آثار سے تبرک کا جواز پیش کرنا کسی بھی صورت درست نہیں، کیونکہ مخلوق میں آپ ﷺ جیسا کوئی نہیں۔
اگر آپ ﷺ کی ذاتِ گرامی پر کسی ولی یا صالح شخص کو قیاس کر کے اس کے آثار سے تبرک لینا جائز ہوتا، تو سلف صالحین، یعنی صحابہ کرام، تابعینِ عظام اور ائمہ دین ضرور ایسا کرتے، کیونکہ وہ قرآن و حدیث کے تقاضوں کو بخوبی پورا کرتے تھے اور قرآن و حدیث کے مفاہیم و معانی اور مطالب کو سب سے بڑھ کر جاننے والے تھے۔
علامہ شاطبی رحمہ اللہ (790ھ) فرماتے ہیں:
[أن الصحابة رضي الله عنهم بعد موته صلى الله عليه وسلم لم يقع من أحد منهم شيء من ذلك بالنسبة إلى من خلفه، إذ لم يترك النبي صلى الله عليه وسلم بعده في الأمة أفضل من أبي بكر الصديق رضي الله عنه، فهو كان خليفته، ولم يفعل به شيء من ذلك، ولا عمر بن الخطاب، وهو كان أفضل الأمة بعده، ثم كذلك عثمان بن عفان، ثم علي بن أبي طالب، ثم سائر الصحابة الذين لا أحد أفضل منهم في الأمة، ثم لم يثبت لواحد منهم من طريق صحيح معروف أن متبركا تبرك به على أحد تلك الوجوه أو نحوها، بل اقتصروا فيهم على الاقتداء بالأفعال والأقوال والسير التي اتبعوا فيها النبي صلى الله عليه وسلم، فهو إذا إجماع منهم على ترك تلك الأشياء.]
صحابہ کرام نے آپ کی وفات کے بعد آپ کے علاوہ کسی کے لیے یہ (تبرک) مقرر نہ کیا، کیونکہ آپ ﷺ کے بعد امت میں سب سے افضل سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ تھے اور آپ ﷺ کے بعد خلیفہ بھی تھے۔ ان کے ساتھ اس طرح کا کوئی معاملہ نہیں کیا گیا۔ نہ سیدنا عمر سے کوئی اس طرح کا تبرک لیا گیا۔ وہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے بعد امت میں سب سے افضل تھے، پھر سیدنا عثمان اور سیدنا علی رضی اللہ عنہما اور دوسرے صحابہ کرام تھے، کسی صحابی کے بارے میں باسندِ صحیح ثابت نہیں کہ کسی صحابی یا تابعی نے ان کے ساتھ تبرک والا ایسا سلسلہ جاری کیا ہو، بلکہ انہوں (دیگر صحابہ و تابعین) نے نبی کریم ﷺ کے اتباع پر مبنی اقوال و افعال اور طریقہ کار میں پہلوؤں کی پیروی پر اکتفا کیا، لہٰذا یہ ان کی طرف سے تبرک بالآثار کو ترک کرنے پر اجماع ہے۔ (الاعتصام: 302/2-303)
حافظ ابن رجب رحمہ اللہ (795ھ) فرماتے ہیں:
[وكذلك التبرك بالآثار فإنما كان يفعله الصحابة رضي الله عنهم مع النبي صلى الله عليه وسلم ولم يكونوا يفعلونه مع بعضهم ببعض ولا يفعله التابعون مع الصحابة، مع علو قدرهم.]
اسی طرح آثار کے ساتھ تبرک کا معاملہ ہے۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نبی کریم ﷺ کے آثار کے ساتھ تبرک لیا کرتے تھے، لیکن آپس میں وہ ایسا نہیں کرتے تھے، نہ ہی تابعینِ کرام، صحابہ کرام کے آثار کے ساتھ تبرک لیتے تھے، حالانکہ ان کی قدر و منزلت بہت بلند تھی۔
[الحكم الجديرة، ص 46]
علامہ عبد الرحمن بن حسن رحمہ اللہ (1285ھ) فرماتے ہیں:
[وأما ما ادعاه بعض المتأخرين من أنه يجوز التبرك بآثار الصالحين فممنوع من وجوه: منها: أن السابقين الأولين من الصحابة ومن بعدهم لم يكونوا يفعلون ذلك مع غير النبي صلي الله عليه وسلم، لا في حياته ولا بعد موته، ولو كان خيرا لسبقونا إليه، وأفضل الصحابة أبو بكر وعمر وعثمان وعلي رضي الله عنهم. وقد شهد لهم رسول الله صلي الله عليه وسلم فيمن شهد له بالجنة; وما فعله أحد من الصحابة والتابعين مع أحد من هؤلاء السادة.]
بعض متاخرین جو صالحین کے آثار سے تبرک لینے (کے جواز) کا دعویٰ کرتے ہیں، تو یہ کئی وجہ سے ممنوع ہے؛ ایک تو اس لیے کہ سلفِ صالحین، صحابہ و تابعین نبی کریم ﷺ کے علاوہ کسی کے آثار سے تبرک نہیں لیتے تھے، نہ آپ ﷺ کی زندگی میں نہ آپ ﷺ کی وفات کے بعد۔ اگر یہ نیکی کا کام ہوتا، تو سلف ہم سے پہلے ضرور اس کام کو کر چکے ہوتے۔ صحابہ کرام میں سے بزرگ ترین ہستیاں ابوبکر وعمر اور عثمان وعلی رضی اللہ عنہم، جو ان صحابہ میں شامل تھے، جنہیں آپ ﷺ نے جنت کی بشارت دی تھی، ان بزرگ ترین ہستیوں کے آثار سے بھی کسی نے تبرک نہیں لیا۔
(فتح المجید شرح کتاب التوحید، ص146)
علامہ نواب صدیق حسن خان رحمہ اللہ (1307ھ) فرماتے ہیں:
[لا يجوز أن يقاس أحد من الأمة علىٰ رسول الله صلى الله عليه وسلم، ومن ذٰلك الذي يبلغ شأنه؟ قد كان له صلى الله عليه وسلم في حال حياته خصائص كثيرة، لا يصلح أن يشاركه فيها غيره.]
امت میں کسی کو رسول اللہ ﷺ پر قیاس کرنا جائز نہیں۔ کون ہے جو آپ ﷺ کی شان کو پہنچ سکے؟ حیاتِ مبارکہ میں آپ ﷺ کو بہت سے خصائص حاصل تھے، جن میں آپ ﷺ کے ساتھ کوئی شریک نہیں ہو سکتا۔
[الدّین الخالص:250/2]
شیخ عبدالعزیز بن عبداللہ بن باز رحمہ اللہ (1420ھ) فرماتے ہیں:
[وأما التبرك بشعره صلى الله عليه وسلم وعرقه ووضوئه، فلا حرج في ذلك كما تقدم لأنه عليه الصلاة والسلام أقر الصحابة عليه ولما جعل الله فيه من البركة، وهي من الله سبحانه، وهكذا ما جعل الله في ماء زمزم من البركة حيث قال صلى الله عليه وسلم عن زمزم: «إنها مباركة وإنها طعام طعم وشفاء سقم. والواجب على المسلمين الاتباع والتقيد بالشرع، والحذر من البدع القولية والعملية ولهذا لم يتبرك الصحابة رضي الله عنهم بشعر الصديق رضي الله عنه، أو عرقه أو وضوئه ولا بشعر عمر أو عثمان أو علي أو عرقهم أو وضوئهم. ولا بعرق غيرهم من الصحابة وشعره ووضوئه لعلمهم بأن هذا أمر خاص بالنبي صلى الله عليه وسلم ولا يقاس عليه غيره في ذلك، وقد قال الله عز وجل: {وَالسَّابِقُونَ الْأَوَّلُونَ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ وَالَّذِينَ اتَّبَعُوهُمْ بِإِحْسَانٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْهُ وَأَعَدَّ لَهُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِي تَحْتَهَا الْأَنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا أَبَدًا ذَلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ}]
رسول اللہ ﷺ کے بالوں، پسینے اور وضو کے پانی سے تبرک لینے میں کوئی حرج نہیں، جیسا کہ بیان ہو چکا ہے، کیونکہ آپ ﷺ نے صحابہ کرام کے اس عمل پر رضامندی ظاہر فرمائی اور اس میں برکت موجود ہے، جو کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوتی ہے۔ اسی طرح وہ برکت جو آبِ زمزم میں اللہ تعالیٰ نے رکھی ہے، رسول اللہ ﷺ نے اس کے بارے میں فرمایا: یہ بابرکت پانی ہے، بھوک کے لیے کھانا اور بیماری کے لیے شفا ہے۔ مسلمانوں پر ضروری ہے کہ وہ شریعت کی پیروی و پابندی کریں اور قولی و عملی بدعات سے اجتناب کریں۔ یہی وجہ ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے بالوں، پسینے اور وضو کے پانی سے تبرک نہیں لیا، نہ سیدنا عمر، سیدنا عثمان اور سیدنا علی رضی اللہ عنہم اور دوسرے صحابہ کرام کے ساتھ ایسا معاملہ کیا، کیونکہ انہیں معلوم تھا کہ یہ تبرک نبی کریم ﷺ کے ساتھ خاص ہے اور اس سلسلے میں کسی کو بھی آپ ﷺ پر قیاس نہیں کیا جا سکتا۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے صحابہ کرام کے بارے میں فرمایا: {وَالسَّابِقُونَ الْأَوَّلُونَ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ وَالَّذِينَ اتَّبَعُوهُمْ بِإِحْسَانٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْهُ وَأَعَدَّ لَهُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِي تَحْتَهَا الْأَنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا أَبَدًا ذَلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ}
مهاجرین اور انصار میں سے اسلام میں سبقت کرنے والوں اور جنہوں نے اچھے طریقے سے ان کی پیروی کی، سے اللہ راضی ہو گیا اور وہ اللہ سے راضی ہو گئے، نیز اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے باغات تیار کئے ہیں، جن کے نیچے سے نہریں بہہ رہی ہیں، وہ ہمیشہ ان میں رہیں گے۔ یہی بڑی کامیابی ہے۔ (التوبۃ:100)
(مجموع فتاوى(ابن باز): 9/121)
نیز فرماتے ہیں:
[لا نعلم شيئا في هذا إلا ما ثبت عنه صلى الله عليه وسلم أن الله جعل في جسمه وعرقه ومس جسده بركة خاصة به عليه الصلاة والسلام، ولا يقاس عليه غيره من العلماء وغيرهم، وما يفعله بعض الناس من التبرك ببعض الناس فهو غلط لا وجه له، وليس عليه دليل، إنما هذا خاص بالنبي صلى الله عليه وسلم؛ لأن الله جعل في عرقه بركة، وفي ريقه وفي وضوئه وفي شعره عليه الصلاة والسلام؛ ولهذا وزع شعره بين الناس في حجة الوداع، وأمر الصحابة أن يأخذوا من فضل وضوئه ومن عرقه عليه الصلاة والسلام لما جعل الله فيه من البركة، ولا يقاس عليه غيره؛ ولهذا لم يتبرك الصحابة بالصديق ولا بعمر ولا بعثمان ولا بعلي وهم أفضل الناس بعد الأنبياء، فدل ذلك على أن هذا خاص بالنبي صلى الله عليه وسلم، أما ما يفعله بعض الناس من التبرك ببعض العلماء أو ببعض العباد أو ببعض جدران الكعبة أو بكسوة الكعبة، فكل هذا لا أصل له، بل يجب منعه.]
ہمارے علم میں آثار سے تبرک کے بارے میں صرف وہی چیز ہے، جو نبی کریم ﷺ سے ثابت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کے جسم، پسینے اور بدن کو چھونے میں خاص برکت رکھی تھی۔ اس سلسلے میں آپ ﷺ کے علاوہ دیگر علما وغیرہ کو آپ ﷺ پر قیاس نہیں کیا جا سکتا۔ بعض لوگ جو کچھ بزرگ ہستیوں کے آثار سے تبرک لیتے ہیں، وہ غلط کام ہے، جس کی کوئی وجہ جواز نہیں، نہ اس پر کوئی دلیل ہے۔ ایسا کرنا نبی کریم ﷺ کے ساتھ خاص ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کے بال، لعاب، وضو کے پانی اور بالوں میں برکت رکھی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ حجتہ الوداع کے موقع پر آپ ﷺ کے بال مبارک لوگوں میں تقسیم کیے گئے، نیز آپ ﷺ نے صحابہ کرام کو حکم فرمایا کہ وہ آپ ﷺ کے وضو کے بچے ہوئے پانی اور پسینے کو لیں، کیونکہ اس میں اللہ تعالیٰ نے برکت رکھی تھی۔ اس معاملے میں کسی اور کو آپ ﷺ پر قیاس نہیں کیا جا سکتا۔ یہی وجہ تھی کہ صحابہ کرام نے سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے آثار سے تبرک نہیں لیا، نہ سیدنا عمر، سیدنا عثمان اور سیدنا علی رضی اللہ عنہم کے ساتھ ایسا کیا گیا، حالانکہ یہ ہستیاں انبیا کے بعد سب سے بزرگ ترین ہستیاں تھیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ تبرک نبی کریم ﷺ کے ساتھ خاص تھا۔ کچھ لوگ جو بعض علما، بعض عابدوں، کعبہ کی بعض دیواروں یا غلافِ کعبہ سے تبرک لیتے ہیں، اس کی کوئی دلیل نہیں، بلکہ اس سے روکنا ضروری ہے۔
(مجموع فتاوى(ابن باز): 28/ 285-286)
حجر اسود اور آثارِ صالحین سے تبرک:
ڈاکٹر محمد طاہر القادری بریلوی صاحب لکھتے ہیں:
جیسے مناسکِ حج ادا کرتے ہوئے حجرِ اسود، رکنِ یمانی اور مقامِ ابراہیم سے برکت کا حصول شرک نہیں، تو کسی پیغمبر یا ولی سے واسطہ تیمن یا واسطہ تبرک شرک کیسے ہو گا؟ اگر ایک پتھر کو واسطہ بنا لینا جائز ہو اور انبیا و اولیا کو واسطہ بنانا نا جائز اور شرک تصور کیا جائے، تو یہ حقیقی تصورِ دین کے خلاف ہے۔
[تبرک کی شرعی حیثیت، ص 19]
الحمد للہ! ہم نے تبرک مشروع اور تبرک ممنوع کی وضاحت کر دی ہے۔ حجر اسود کو بوسہ دینا، رکنِ یمانی کو چھونا اور مقامِ ابراہیم پر نماز ادا کرنا شرعاً جائز ہے۔ یہ سب کچھ قرآن و حدیث کی پیروی میں کیا جاتا ہے۔ ان اعمال کا اپنا خاص موقع ومحل ہے۔ طواف کے علاوہ حجر اسود کو بوسہ دینا اور رکنِ یمانی کو چھونا جائز نہیں، کیونکہ یہ عبادت ہے اور عبادت کا موقع و محل متعین کرنے کا اختیار صرف رسول اللہ ﷺ کو ہے۔ رہا یہ کہنا کہ حجر اسود کو بوسہ اس لیے دیا جاتا ہے، رکنِ یمانی کو چھوا اس لیے جاتا ہے اور مقامِ ابراہیم پر نماز کی ادائیگی اس لیے کی جاتی ہے کہ اس سے تبرک حاصل کیا جائے، تو یہ غلط فہمی ہے۔ جسے دُور کیا جانا ضروری ہے۔ حجر اسود، رکنِ یمانی اور مقامِ ابراہیم کو واسطہ تیمن و تبرک بنانا صحابہ و تابعین اور ائمہ دین سے ثابت نہیں۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے حجر اسود کو چومتے ہوئے واضح طور پر یہ اعلان کر دیا تھا کہ اطاعتِ رسول کے علاوہ اسے چھونے کا اور کوئی مقصد نہیں، ملاحظہ فرمائیں:
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ حجر اسود کے پاس آئے، اسے بوسہ دیا اور فرمایا:
[إني أعلم أنك حجر، لا تضر ولا تنفع، ولولا أني رأيت النبي صلى الله عليه وسلم يقبلك؛ ما قبلتك.]
بلا شبہ میں جانتا ہوں کہ تُو ایک پتھر ہے، نہ نفع دیتا ہے نہ نقصان۔ اگر میں نے نبی کریم ﷺ کو تجھے بوسہ دیتے ہوئے نہ دیکھا ہوتا، تو میں تجھے بوسہ نہ دیتا۔
[صحیح البخاری:1597،صحیح مسلم:1270]
کیا سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے اس فرمان کو جان کر بھی کوئی یہ کہہ سکتا ہے کہ حجرِ اسود کو تبرک کی نیت سے چوما جاتا ہے؟
اسلافِ امت حجرِ اسود کو بوسہ دیتے تھے، رکنِ یمانی کو چھوتے تھے اور مقامِ ابراہیم پر نماز ادا کرتے تھے، لیکن تبرک کی نیت سے نہیں، بلکہ پیرویِ رسول ﷺ کی نیت سے ایسا کرتے تھے۔ پھر یہی اسلاف رسول اللہ ﷺ کے علاوہ کسی اور کے آثار سے تبرک حاصل نہیں کرتے تھے، بلکہ وہ اس چیز سے قطعاً ناواقف تھے۔ رہے آثارِ رسول ﷺ، تو ان سے تبرک کا ثبوت شریعت میں موجود ہے اور اسلافِ امت اس پر عمل پیرا تھے۔
علامہ احمد بن عبداللہ طبری رحمہ اللہ (694ھ) فرماتے ہیں:
[إنما قال ذلك لأن الناس كانوا حديثي عهد بعبادة الأصنام، فخشي عمر رضي الله تعالى عنه أن يظن الجهال بأن استلام الحجر هو مثل ما كانت العرب تفعله، فأراد عمر رضي الله تعالى عنه أن يعلم أن استلامه لا يقصد به إلا تعظيم الله عز وجل، والوقوف عند أمر نبيه صلى الله عليه وسلم، وأن ذلك من شعائر الحج التي أمر الله بتعظيمهما، وأن استلامه مخالف لفعل الجاهلية في عبادتهم الأصنام، لأنهم كانوا يعتقدون أنها تقربهم إلى الله زلفى، فنبه عمر على مخالفة هذا الاعتقاد، وأنه لا ينبغي أن يعبد إلا من يملك الضرر والنفع، وهو الله جل جلاله.]
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے یہ بات اس لیے فرمائی کہ لوگ نئے نئے بتوں کی عبادت کو چھوڑ کر آئے تھے۔ آپ کو خدشہ ہوا کہ کہیں جاہل لوگ یہ نہ سمجھ بیٹھیں کہ حجر اسود کو چومنے کا عمل عربوں کے (دورِ جاہلیت والے) عمل کی طرح ہے۔ آپ نے اس بات سے خبردار کرنا چاہا کہ ان کے حجر اسود کو چومنے کا مقصد صرف اللہ تعالیٰ کی تعظیم اور فرمانِ نبوی کی پیروی ہے، نیز یہ ان شعائرِ حج میں سے ہے، جن کی تعظیم کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے اور حجر اسود کو چومنا دورِ جاہلیت والی بتوں کی عبادت کے بالکل خلاف ہے، کیونکہ مشرکین یہ اعتقاد رکھتے تھے کہ بت ان کو اللہ تعالیٰ کے قریب کرتے ہیں۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے تنبیہ فرمائی کہ اس اعتقاد کی مخالفت کی جائے اور یہ بتایا کہ عبادت صرف اسی کی جائز ہے، جو نفع و نقصان کا مالک ہو اور ایسی ذات صرف اللہ تعالیٰ ہی کی ہے۔
(عمدة القاري للعيني الحنفي:240/9)
علامہ ملا علی قاری حنفی رحمہ اللہ (1014ھ) فرماتے ہیں:
[فيه إشارة منه رضي الله عنه إلى أن هذا أمر تعبدي، فنفعل، وعن علته لا نسأل.]
اس میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اس بات کی طرف اشارہ فرما رہے ہیں کہ حجر اسود کو چومنا ایک تعبدی (عبادت کے لیے جاری کیا گیا) حکم ہے۔ ہم اسے بجا لائیں گے، لیکن اس کی علت کے بارے میں سوال نہیں کریں گے۔
(مرقاة المفاتيح:213/3)
علامہ شمس الدین افغانی رحمہ اللہ (1420ھ) فرماتے ہیں:
[دليل على أن الحجر الأسود إذا لا ينفع ولا يضر، وأن تقبيله على خلاف القياس لمجرد التعبد لله عزوجل، لا لأجل التبرك به، فما ظنك بأحجار القبور وأشجارها؟ فلا يقاس عليه تقبيل غيره من الأحجار والأشجار، وفي كلام عمر رضي الله عنه إشارة إلى أن تقبيل الحجر لأجل الخوف والطمع والتعظيم؛ فيه خوف الوقوع في الشرك، فلهذا نبه الناس بأنه لا يضر ولا ينفع، وهذا دليل على أن الصحابة كانوا يهتمون بأمر التوحيد وحماية حماۃ وسد ذرائع الشرك.]
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا یہ فرمان اس بات کی دلیل ہے کہ حجر اسود نفع و نقصان نہیں دیتا، نیز باقی پتھروں کو چھوڑ کر اسے چومنا صرف اللہ عزوجل کی عبادت کے لیے ہے، نہ کہ اس سے برکت حاصل کرنے کی نیت سے۔ (جب حجر اسود کا یہ معاملہ ہے، تو اب) قبروں کے پتھروں اور درختوں کے بارے میں کیا خیال ہے؟ حجر اسود کو چومنے پر دیگر حجر و شجر کو قیاس نہیں کیا جا سکتا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے کلام میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ حجر اسود کو اگر خوف، لالچ اور تعظیم کی نیت سے چوما جائے، تو اس صورت میں شرک میں واقع ہونے کا خدشہ پیدا ہو جائے گا، اسی لیے انہوں نے لوگوں کو اس بات کی وضاحت فرما دی کہ یہ نفع و نقصان نہیں دیتا۔ یہ واقعہ دلیل ہے کہ صحابہ کرام توحید کے حکم، عقیدے کی حفاظت اور شرک کے اسباب کو ختم کرنے کا بہت اہتمام کرتے تھے۔
(جُهُود علماء الحنفية في إبطال عقائد القبورية:656/2-658)
نیز فرماتے ہیں:
[إذا لا يجوز تقبيل الحجر الأسود، واستلامه والتمسح به لأجل التبرك به والاستشفاء به، فكيف يجوز التبرك بالقبور، وأحجارها، وأشجارها، وخرقها، وزيوتها، وشموعها، ونحوها؟ وفي ذلك عبرة للقبورية عامة، والديوبندية التبليغية خاصة! فلو كان التبرك بهذه الأشياء جائزا لكان الحجر الأسود أولى وأحرى وأليق، لأنه مسته أيدي الأنبياء والمرسلين، والصحابة والتابعين، والأولياء والصالحين.]
جب حجر اسود کو تبرک اور شفا کے حصول کی خاطر چومنا اور چھونا جائز نہیں، تو قبروں، ان کے پتھروں، درختوں، کپڑوں، تیل، شمعوں وغیرہ سے تبرک اور شفا کا حصول کیسے جائز ہوا؟ اس میں قبر پرستوں کے لیے عموماً اور تبلیغی دیوبندیوں کے لیے خصوصاً عبرت ہے۔ اگر قبروں اور ان کے متعلقات سے تبرک جائز ہے، تو حجر اسود اس کے زیادہ لائق ہے، کیونکہ اسے انبیا و مرسلین، صحابہ و تابعین اور اولیا و صالحین کے ہاتھوں نے چھوا ہوا ہے۔
(جهود علماء الحنفية في إبطال العقائد القبورية:652/2-659)
شیخ محمد بن صالح عثیمین رحمہ اللہ (1421ھ) فرماتے ہیں:
[أي حجر كان حتى الصخرة التي في بيت المقدس، فلا يتبرك بها، وكذا الحجر الأسود لا يتبرك به، وإنما يتعبد لله بمسحه وتقبيله اتباعا للرسول صلى الله عليه وسلم، وبذلك تحصل بركة الثواب، ولهذا قال عمر رضي الله عنه: إني لأعلم أنك حجر لا تضر ولا تنفع، ولولا أني رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقبلك؛ ما قبلتك، فتقبيله عبادة محضة، خلافا للعامة، يظنون أن به بركة حسية، ولذلك إذا استلمه بعض هؤلاء؛ مسح على جميع بدنه تبركا بذلك.]
کوئی بھی پتھر ہو، خواہ بیت المقدس میں موجود صخرہ ہو، اس سے تبرک نہیں لیا جا سکتا۔ یہی معاملہ حجر اسود کا ہے، اس سے بھی برکت حاصل نہیں کی جا سکتی۔ اسے چھو کر اور اس کو بوسہ دے کر رسول اللہ ﷺ کی پیروی میں صرف اللہ تعالیٰ کی عبادت کی جاتی ہے، اسی سے ثواب کی صورت میں برکت حاصل ہوتی ہے۔ اسی لیے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا تھا: میں جانتا ہوں کہ تُو ایک پتھر ہے، تُو نہ نفع دے سکتا ہے نہ نقصان۔ اگر میں نے رسول اللہ ﷺ کو تجھے بوسہ دیتے ہوئے نہ دیکھا ہوتا، تو میں تجھے بوسہ نہ دیتا۔ چنانچہ حجر اسود کو چومنا صرف ایک عبادت ہے۔ عام لوگوں کا اعتقاد اس کے خلاف ہے، وہ سمجھتے ہیں کہ اس پتھر میں حسی برکت ہے، یہی وجہ ہے کہ جب وہ اسے چھوتے ہیں تو تبرک کی نیت سے اپنے سارے جسم پر ہاتھ پھیرتے ہیں۔
(القول المفيد على كتاب التوحيد:196/1)
علامہ عبد الرحمن بن ناصر سعدی رحمہ اللہ (1376ھ) فرماتے ہیں:
[إن العلماء اتفقوا على أنه لا يشرع التبرك بشيء من الأشجار والأحجار والبقع والمشاهد وغيرها، فإن هذا التبرك غلو فيها، وذلك يتدرج به إلى دعائها وعبادتها، وهذا هو الشرك الأكبر، — وهذا عام في كل شيء، حتى مقام إبراهيم وحجرة النبي صلى الله عليه وسلم وصخرة بيت المقدس وغيرها من البقع الفاضلة، وأما استلام الحجر الأسود وتقبيله، واستلام الركن اليماني من الكعبة المشرفة؛ فهذا عبودية لله وتعظيم لله وخضوع لعظمته، فهو روح التعبد، فهذا تعظيم للخالق وتعبد له، وذلك تعظيم للمخلوق وتأله له، فالفرق بين الأمرين كالفرق بين الدعاء لله الذي هو إخلاص وتوحيد، والدعاء للمخلوق الذي هو شرك وتنديد.]
علماۓ کرام کا اس بات پر اتفاق ہے کہ کسی بھی شجر و حجر اور جگہ و مقام وغیرہ سے تبرک لینا جائز نہیں، کیونکہ یہ تبرک میں غلو ہے اور یہ تبرک بالتدریج ان چیزوں کو پکارنے اور ان کی عبادت کرنے کی طرف لے جاتا ہے جو کہ شرکِ اکبر ہے۔ یہ اصول ہر چیز کے لیے عام ہے، حتیٰ کہ مقامِ ابراہیم، حجرۂ نبوی، بیت المقدس کے پتھر جیسی فضیلت والی جگہوں کے لیے بھی۔ رہا حجرِ اسود کو چھونا اور چومنا، نیز کعبہ مشرفہ کے رکنِ یمانی کو چھونا، تو یہ اللہ تعالیٰ کی عبادت و تعظیم ہے اور اس کی عظمت کے سامنے جھک جانے کا نام ہے۔ یہی عبادت کی روح ہے۔ یہ خالق کی تعظیم و عبادت ہے، جبکہ دیگر پتھروں اور مقامات کو چھونا مخلوق کی تعظیم و عبادت ہے۔ دونوں کے درمیان فرق وہی ہے جو خالق اور مخلوق کو پکارنے کے درمیان ہے۔ اللہ تعالیٰ کو پکارنا اخلاص و توحید ہے، جبکہ مخلوق کو (مافوق الاسباب) پکارنا شرک اور ساجھی بنانا ہے۔
(القول السديد:ص51)
ڈاکٹر عبداللہ بن عبدالعزیز بن حماد جبرین رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
[قول عمر هذا صريح في أن تقبيل الحجر الأسود إنما هو اتباع للنبي صلى الله عليه وسلم، فالمسلم يفعله تعبدا لله تعالى، واقتداء بخير البرية صلى الله عليه وسلم، وليس من باب التبرك في شيء.]
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا یہ فرمان اس بات میں صریح ہے کہ حجر اسود کو چومنا صرف نبی کریم ﷺ کے اتباع کے لیے ہے۔ مسلمان صرف اللہ تعالیٰ کی عبادت اور خیر البشر ﷺ کی پیروی میں ایسا کرتا ہے۔ اس کا تبرک کے مسئلے سے کسی قسم کا کوئی تعلق نہیں۔
(تسهيل العقيدة الإسلامية:ص311)
شیخ صالح بن عبدالعزیز آل الشیخ حفظہ اللہ فرماتے ہیں:
[كذلك الحجر الأسود هو حجر مبارك، ولكن بركته لأجل العبادة، يعني أن من استلمه تعبدا مطيعا للنبي صلى الله عليه وسلم في استلامه له، وفي تقبيله، فإنه يناله به بركة الاتباع.] اسی طرح حجر اسود مبارک پتھر ہے، لیکن اس کی برکت عبادت کی وجہ سے ہے، یعنی جو اسے عبادت کی نیت سے نبی کریم ﷺ کی پیروی میں چومے گا، وہ اس عمل کی وجہ سے اتباع کی برکت حاصل کر لے گا۔
(التمهيد في شرح كتاب التوحيد، ص 124-125)
دیگر اشیا کو بوسہ دینے کی شرعی حیثیت:
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے اس فرمان سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ صرف اسی چیز کو بوسہ دینا مشروع اور جائز ہوتا ہے، جس کے لیے شریعتِ اسلامیہ نے اجازت دی ہو۔ جن چیزوں کو بوسہ دینے کی شریعت میں گنجائش نہ ہو، انہیں حجرِ اسود پر قیاس کرنا بدعت ہے۔
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ (852ھ) فرماتے ہیں:
[قال شيخنا في شرح الترمذي: فيه كراهية تقبيل ما لم يرد الشرع بتقبيله.]
ہمارے شیخ (ابو الفضل بن الحسین) جامع ترمذی کی شرح میں فرماتے ہیں: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے اس فرمان سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ جس چیز کو چومنے کے بارے میں شریعت کی کوئی دلیل وارد نہ ہوئی ہو، اسے چومنا مکروہ ہے۔
[فتح الباري:463/3]
ایک جھوٹی روایت:
ایک روایت میں ہے کہ جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے یہ فرمایا: إني أعلم أنك حجر، لا تضر ولا تنفع.
بلاشبہ میں جانتا ہوں کہ تُو ایک پتھر ہے، تُو نہ نفع دیتا ہے نہ نقصان۔
تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے جواب میں فرمایا: بلى، يا أمير المؤمنين، إنه يضر وينفع.
کیوں نہیں، امیر المومنین! یہ تو نفع اور نقصان دیتا ہے۔
[المستدرك للحاكم:457/1، أخبار مكة للأزرقي:323/1، شعب الإيمان للبيهقي:3749]
یہ جھوٹی روایت ہے۔ ابو ہارون عبدی متروک اور کذاب ہے۔
حافظ ذہبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
[الأكثر على تضعيفه أو تركه.]
اکثر محدثین کرام نے اسے ضعیف یا متروک قرار دیا ہے۔
[میزان الاعتدال:173/3]
حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
[مضعف عند الأئمة.]
ائمہ محدثین کے ہاں یہ ضعیف قرار دیا گیا ہے۔ (تفسیر ابن کثیر:21/3)
لہٰذا مفتی احمد یار خان نعیمی بریلوی صاحب کا یہ کہنا بے دلیل اور باطل ہے:
سنگ اسود نفع و نقصان پہنچانے والا ہے۔ (جاء الحق:375/1)
رکنِ یمانی سے تبرک:
دوران طواف رکن یمانی کا استلام (ہاتھ سے چھونا) سنت ہے، لیکن اسے بوسہ دینا جائز نہیں، کیونکہ نبی کریم ﷺ نے بوسہ صرف حجر اسود کو دیا ہے۔
علامہ برکوی حنفی رحمہ اللہ (981ھ) فرماتے ہیں:
[اتفق العلماء على أنه لا يستلم ولا يقبل إلا الحجر الأسود، وأما الركن اليماني؛ فالصحيح أنه يستلم ولا يقبل.]
اہل علم کا اتفاق ہے کہ چھونا اور چومنا صرف حجر اسود کے ساتھ خاص ہے۔ رہا رکن یمانی تو اس کے بارے میں صحیح بات یہی ہے کہ اسے چھوا جائے گا، چومانہیں جائے گا۔
[زيارة القبور:ص52]
شیخ محمد بن صالح عثیمین رحمہ اللہ (1421ھ) فرماتے ہیں:
[مع الأسف، إن بعض الناس اتخذوا من العبادات نوعا من التبرك فقط؛ مثل ما يشاهد من أن بعض الناس يمسح الركن اليماني، ويمسح به وجه الطفل وصدره، وهذا معناه أنهم جعلوا مسح الركن اليماني من باب التبرك لا التعبد، وهذا جهل، وقد قال عمر في الحجر: إني أعلم أنك حجر لا تضر ولا تنفع، ولولا أني رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقبلك؛ ما قبلتك.]
افسوس کی بات ہے کہ بعض لوگوں نے عبادات کو صرف تبرک کی ایک قسم بنا لیا ہے، جیسے دیکھا گیا ہے کہ بعض لوگ رکنِ یمانی کو چھوتے ہیں اور پھر بچوں کے چہرے اور سینے پر ہاتھ پھیرتے ہیں۔ اس کا معنی یہ ہے کہ انہوں نے رکنِ یمانی کو عبادت کی بجائے تبرک کے لیے چھونا شروع کر دیا ہے۔ یہ جہالت ہے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے حجرِ اسود کے بارے میں فرمایا تھا: میں جانتا ہوں کہ تُو ایک پتھر ہے، نہ تُو نفع دیتا ہے نہ نقصان۔ اگر میں نے رسول اللہ ﷺ کو تجھے چومتے ہوئے نہ دیکھا ہوتا، تو میں تجھے نہ چومتا۔
[القول المفيد على كتاب التوحيد:181/1]
فائدہ:
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ انہوں نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ کعبتہ اللہ کا طواف کیا۔ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کعبتہ اللہ کے چاروں کونوں کو ہاتھ سے چھوتے تھے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے ان سے فرمایا: آپ کعبتہ اللہ کے (دو شامی) کونوں کو کیوں چھوتے ہیں؟ نبی کریم ﷺ تو انہیں نہیں چھوتے تھے۔ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا: ليس شيء من البيت مهجورا. بیت اللہ کی کوئی چیز بھی چھوڑنے کے قابل نہیں۔
اس پر سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے یہ آیت تلاوت فرمائی: [لَقَدۡ کَانَ لَکُمۡ فِیۡ رَسُوۡلِ اللّٰہِ اُسۡوَۃٌ حَسَنَۃٌ] تمہارے لیے رسول اللہ ﷺ کی سیرت میں اسوہ حسنہ ہے۔ (الأحزاب:21) یہ سن کر سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: صدقت. آپ نے بالکل سچ کہا ہے۔
[مسند الإمام أحمد:217/1، شرح معاني الآثار للطحاوي:184/2]
سند ضعیف ہے۔ حصیف بن عبدالرحمن ضعیف ہے۔
مقامِ ابراہیم سے تبرک:
طوافِ کعبہ کے بعد مقامِ ابراہیم پر دو رکعتیں ادا کی جاتی ہیں۔
اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: [وَ اتَّخِذُوۡا مِنۡ مَّقَامِ اِبۡرٰہٖمَ مُصَلًّی] تم مقامِ ابراہیم کو جائے نماز بناؤ۔ (البقرة:125)
یہ نبی کریم ﷺ کی سنت بھی ہے۔
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں:
[قدم النبي صلى الله عليه وسلم، فطاف بالبيت سبعا، وصلى خلف المقام ركعتين.]
نبی کریم ﷺ تشریف لائے، بیت اللہ کے سات چکر لگائے اور مقامِ ابراہیم کے پیچھے دو رکعتیں ادا کیں۔ (صحیح البخاری:1627)
مقامِ ابراہیم پر دو رکعتیں ادا کرنے میں سب سے بڑی حکمت یہ ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کا حکم ہے اور نبی کریم ﷺ کی سنت ہے، لیکن بعض لوگوں کا اعتقاد کچھ اور ہی ہے۔
ایک صاحب لکھتے ہیں:
مقامِ ابراہیم وہ پتھر ہے، جس پر کھڑے ہو کر حضرت خلیل علیہ السلام نے کعبہ کی تعمیر کی۔ ان کے قدم پاک کی برکت سے اس پتھر کا یہ درجہ ہوا ہے کہ دنیا بھر کے حاجی اس کی طرف سر جھکاتے ہیں۔
[جاء الحق از احمد یار خان نعیمی بریلوی:373/1، فتاویٰ رضویہ از احمد رضا خان بریلوی:398/21]
یہ غلو پر مبنی بات ہے، کیونکہ صحابہ کرام و تابعین عظام اور ائمہ دین سے ایسی کوئی بات ثابت نہیں۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے حجرِ اسود کو چومتے ہوئے یہ بات بالکل واضح کر دی تھی کہ اس میں کوئی ذاتی برکت نہیں، لیکن احمد یار خان بریلوی صاحب اس میں بھی ذاتی برکت کے قائل ہیں۔ یہی معاملہ انہوں نے حجرِ اسود کے ساتھ کیا ہے۔ کیا ان لوگوں کو سلف صالحین سے زیادہ علم ہے؟ اگر مقامِ ابراہیم میں کوئی ذاتی برکت ہوتی، تو صحابہ و تابعین اور ائمہ دین ضرور اس کے بارے میں ہمیں بتا دیتے۔
سلف صالحین نے تو مقامِ ابراہیم کو چھونے اور بوسہ دینے کو بدعت قرار دیا ہے۔
حافظ نووی رحمہ اللہ (676ھ) فرماتے ہیں:
[لا يقبل مقام إبراهيم، ولا يستلمه، فإنه بدعة.]
کوئی مسلمان مقامِ ابراہیم کو نہ چوم سکتا ہے، نہ اسے (تبرک کی نیت سے) چھو سکتا ہے، یہ بدعت ہے۔ (الإيضاح في مناسك الحج والعمرة:ص392)
علامہ ابن قیم رحمہ اللہ (751ھ) فرماتے ہیں:
[لقد أنكر السلف التمسح بحجر المقام الذي أمر الله أن يتخذ منه مصلى.]
سلف صالحین نے اس مقام کے پتھر کو بوسہ دینے کا ردّ کیا ہے، جس پر نماز پڑھنے کا اللہ تعالیٰ نے حکم فرمایا ہے۔ (إغاثة اللهفان:212/1)
علامہ برکوی حنفی رحمہ اللہ (981ھ) فرماتے ہیں:
[لقد أنكر السلف التمسح بحجر المقام الذي أمر الله أن يتخذ منه مصلى.]
سلف صالحین نے اس مقام کے پتھر کو بوسہ دینے کا ردّ کیا ہے، جس کے پاس نماز پڑھنے کا اللہ تعالیٰ نے حکم فرمایا ہے۔ (زيارة القبور:ص52)
لہذا یہ کہنا سراسر خطا ہے کہ مقامِ ابراہیم پر نماز اس لیے پڑھی جاتی ہے کہ وہاں موجود پتھر پر سیدنا ابراہیم علیہ السلام کے قدم پڑے تھے۔
بعض لوگ اس طرح کی کارروائی سے انبیاے کرام اور اولیاے عظام کی قبروں پر عبادت کے لیے جواز کا دروازہ کھولنا چاہتے ہیں اور باور یہ کرانا چاہتے ہیں کہ انبیا و اولیا جہاں جہاں قدم رکھیں، وہ جگہ اس درجہ مبارک ہو جاتی ہے کہ وہاں عبادت کرنا روا ہو جاتی ہے۔ یوں ان کا منشا پورا ہو جاتا ہے۔ بت پرستی کا بنیادی سبب یہی بنا کہ پہلے پہل بزرگوں کی تصاویر بنا کر ان کی یاد کو تازہ کیا۔ پھر قبروں سے فیض اور تبرک کی غرض سے ان کی طرف متوجہ ہوئے۔ اس کے بعد قبر پرستی میں مبتلا ہو گئے۔
سیدہ مریم علیہا السلام کے حجرہ سے تبرک:
ڈاکٹر محمد طاہر القادری بریلوی صاحب ’’حجرہٴ مریم علیہا السلام سے حضرت زکریا علیہ السلام کا تبرک‘‘ کے عنوان سے لکھتے ہیں:
حضرت زکریا علیہ السلام نے جب حضرت مریم علیہا السلام کے حجرے میں بے موسم پھلوں کو دیکھا، تو اسی جگہ کھڑے ہو کر نماز پڑھی اور اللہ تعالیٰ سے دُعا کی۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: [ہُنَالِکَ دَعَا زَکَرِیَّا رَبَّہٗ ۚ قَالَ رَبِّ ہَبۡ لِیۡ مِنۡ لَّدُنۡکَ ذُرِّیَّۃً طَیِّبَۃً ۚ اِنَّکَ سَمِیۡعُ الدُّعَآءِ] اسی جگہ زکریا (علیہ السلام) نے اپنے رب سے دُعا کی، عرض کیا: میرے مولا! مجھے اپنی جناب سے پاکیزہ اولاد عطا فرما۔ بے شک تُو ہی دُعا کا سننے والا ہے۔ (آل عمران:38) اس سے ثابت ہوا کہ حضرت زکریا علیہ السلام کا واسطہٴ تبرک و تیمن اور واسطہٴ توسل اختیار کرنا شرک نہ تھا۔ اگر ایسا ہوتا، تو اللہ رب العزت خصوصیت کے ساتھ قرآن میں اس کا ذکر نہ فرماتا، کیونکہ الفاظِ ربانی یوں ہیں: [ہُنَالِکَ دَعَا زَکَرِیَّا رَبَّہٗ] یعنی اسی جگہ زکریا نے اپنے رب سے دُعا کی۔
[تبرک کی شرعی حیثیت:ص40]
ڈاکٹر صاحب کا دعویٰ یہ ہے کہ اس جگہ کو متبرک جان کر سیدنا زکریا علیہ السلام نے وہاں دُعا کی تھی، لیکن متقدمین ائمہ مفسرین کچھ اور ہی کہتے ہیں۔ آئیے ان سے اس آیت کی صحیح تفسیر
جان کر یہ فیصلہ کرتے ہیں کہ قادری صاحب کا یہ دعویٰ سچا ہے یا جھوٹا۔
مفسرِ امام سدی رحمہ اللہ (127ھ) مذکورہ آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں:
[لما رأى زكريا من حالها ذلك، يعني فاكهة الصيف في الشتاء، وفاكهة الشتاء في الصيف؛ قال: إن ربا أعطاها هذا في غير حينه لقادر على أن يرزقني ذرية طيبة، ورغب في الولد، فقام فصلى، ثم دعا ربه سرا، فقال: رَبِّ اِنِّیۡ وَہَنَ الۡعَظۡمُ مِنِّیۡ وَ اشۡتَعَلَ الرَّاۡسُ شَیۡبًا وَّ لَمۡ اَکُنۡۢ بِدُعَآئِکَ رَبِّ شَقِیًّا (مريم: 4).]
جب سیدنا زکریا علیہ السلام نے یہ صورتِ حال دیکھی، یعنی گرمی میں سردی کے پھل اور سردی میں گرمی کے پھل، تو کہنے لگے: جس رب نے بغیر موسم کے یہ پھل مہیا کیے ہیں، یقیناً وہ مجھے بھی پاکیزہ اولاد عطا کرنے پر قادر ہے۔ یہ سوچ کر زکریا علیہ السلام کو اولاد میں رغبت ہوئی۔ وہ کھڑے ہوئے اور نماز پڑھی۔ پھر اپنے رب سے سرگوشی کرتے ہوئے دُعا کی: [رَبِّ اِنِّیۡ وَہَنَ الۡعَظۡمُ مِنِّیۡ وَ اشۡتَعَلَ الرَّاۡسُ شَیۡبًا وَّ لَمۡ اَکُنۡۢ بِدُعَآئِکَ رَبِّ شَقِیًّا] رب! بلاشبہ میری ہڈیاں کمزور ہو چکی ہیں اور سر بڑھاپے کی وجہ سے سفید ہو چکا ہے، لیکن میرے رب! میں تجھ سے دُعا کر کے محروم نہیں رہوں گا۔ (مريم:4)
[تفسیر الطبری:3/188-189، وسندہ حسن]
امام محمد بن جریر طبری رحمہ اللہ (310ھ) فرماتے ہیں:
[أما قوله: هنالك دعا زكريا ربه؛ فمعناه: عند ذلك أي عند رؤية زكريا ما رأى عند مريم من رزق الله الذي رزقها، وفضله الذي آتاها من غير تسبب أحد من الآدميين في ذلك لها، ومعاينته عندها الثمرة الرطبة التي لا تكون في حين رؤيته إياها عندها في الأرض؛ طمع في الولد مع كبر سنه من المرأة العاقر، فرجا أن يرزقه الله منها الولد مع الحال التي هما بها، كما رزق مريم على تخليها من الناس ما رزقها من ثمرة الصيف في الشتاء، وثمرة الشتاء في الصيف، وإن لم يكن مثله مما جرت بوجوده في مثل ذلك الحين العادات في الأرض، بل المعروف في الناس غير ذلك، كما أن ولادة العاقر غير الأمر الجارية به العادات في الناس، فرغب إلى الله جل ثناؤه في الولد، وسأله ذرية طيبة.]
اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان کہ [ہُنَالِکَ دَعَا زَکَرِیَّا رَبَّہٗ] اسی وقت زکریا نے اپنے رب کو پکارا، تو اس کا معنی یہ ہے کہ جب زکریا علیہ السلام نے مریم علیہا السلام کے پاس اللہ تعالیٰ کا دیا ہوا رزق اور فضل دیکھا، جو انہیں بغیر کسی آدمی کے سبب سے ملا تھا، نیز یہ دیکھا کہ ان کے پاس ایسے تازہ پھل تھے، جو اس وقت زمین پر موجود نہ تھے، تو باوجود بڑھاپے اور اپنی اہلیہ کے بانجھ ہونے کے، انہیں اولاد میں رغبت ہوئی۔ انہیں یہ امید ہو گئی کہ اللہ تعالیٰ انہیں اور ان کی اہلیہ کو اسی حالت میں اولاد دے گا، جیسے مریم علیہا السلام کو خلوت کے دوران گرمی میں سردیوں کے پھل اور سردی میں گرمیوں کے پھل عنایت فرمائے۔ اگرچہ یہ کام اس وقت زمین میں معمول کا نہ تھا، بلکہ یہ لوگوں کے ہاں دستور کے خلاف تھا۔ اسی طرح بانجھ عورت کا ماں بننا بھی لوگوں میں معروف نہ تھا۔ اسی لیے سیدنا زکریا علیہ السلام نے اولاد کے لیے اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع فرمایا اور نیک اولاد کا سوال کیا۔
[تفسیر الطبری:188/3-189]
اس سے معلوم ہوا کہ سیدنا زکریا علیہ السلام نے جب اللہ تعالیٰ کی قدرت کی نشانیوں کو دیکھا، تو ان میں یہ داعیہ پیدا ہوا کہ میں بھی اللہ تعالیٰ کے سامنے اپنی خواہش رکھوں۔ اس لیے انہوں نے وہیں اللہ تعالیٰ سے دُعا شروع کر دی اور اپنی دُعا کے وسیلے سے اپنی حاجت طلب کی، لیکن ڈاکٹر صاحب اسے جگہ کے تبرک اور وسیلے کی طرف لے گئے ہیں۔ سلف صالحین کے خلاف ان کی یہ تفسیر مقبول نہیں ہو سکتی۔
بعض لوگ قرآن و حدیث کو سلف صالحین کے فہم کے مطابق نہیں سمجھتے، لیکن ہمارا عقیدہ ہے کہ اگر کوئی انسان قرآن و حدیث کو صحابہ کرام اور سلف صالحین کے فہم کے مطابق نہ سمجھے، تو وہ باؤلے کتے کی طرح آوارہ ہو جاتا ہے۔ اسے اپنے ہوش و حواس پر قابو نہیں رہتا اور پھر وہ کچھ بکنا شروع کر دیتا ہے جو اسے کفر و شرک کے در پر لا کھڑا کرتا ہے۔ جو لوگ فہم سلف کو درخورِ اعتنا نہیں سمجھتے، وہ دراصل قرآن و حدیث کو اپنی ذاتی آرا کا تختہٴ مشق بنانا چاہتے ہیں۔
سیدنا موسیٰ و سیدنا ہارون علیہما السلام کے آثار سے تبرک:
ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
[وَ قَالَ لَہُمۡ نَبِیُّہُمۡ اِنَّ اٰیَۃَ مُلۡکِہٖۤ اَنۡ یَّاۡتِیَکُمُ التَّابُوۡتُ فِیۡہِ سَکِیۡنَۃٌ مِّنۡ رَّبِّکُمۡ وَ بَقِیَّۃٌ مِّمَّا تَرَکَ اٰلُ مُوۡسٰی وَ اٰلُ ہٰرُوۡنَ تَحۡمِلُہُ الۡمَلٰٓئِکَۃُ ؕ اِنَّ فِیۡ ذٰلِکَ لَاٰیَۃً لَّکُمۡ اِنۡ کُنۡتُمۡ مُّؤۡمِنِیۡنَ]
اور ان کے نبی نے ان سے کہا بے شک اس کے بادشاہ ہونے کی نشانی یہ ہے کہ تمھارے پاس وہ صندوق آجائے گا جس میں تمھارے رب کی طرف سے ایک تسلی ہے اور اس میں سے چند باقی ماندہ چیزیں ہیں جو موسیٰ کی آل اور ہارون کی آل نے چھوڑا تھا، فرشتے اسے اٹھائے ہوئے ہوں گے، بے شک اس میں تمھارے لیے یقینا ایک نشانی ہے، اگر تم مومن ہو۔ [البقرۃ:248]
اس آیت کریمہ سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ صندوق، جسے فرشتے اٹھا کر بنی اسرائیل کے پاس لائے تھے، اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی نشانی تھی۔ اس قوم کے لوگ اسے ہر وقت اپنے ساتھ رکھتے اور اسے دیکھ کر سکون اور راحت حاصل کرتے تھے۔ اس صندوق میں کیا تھا؟ اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے، کیونکہ یہ غیب کی بات ہے۔ قرآن و حدیث نے اس بارے میں ہماری رہنمائی نہیں کی۔ اگر اس کو جاننے میں ہمارے لیے کوئی خیر ہوتی، تو اللہ تعالیٰ ہمیں اس سے آگاہ فرما دیتے۔
مفتی احمد یار خان نعیمی بریلوی صاحب (1971ء) لکھتے ہیں:
اس آیت کی تفسیر میں تفسیر خازن (182/1) وروح البیان (386/1) وتفسیر مدارک (205/1) اور جلالین (ص 50) وغیرہم نے لکھا ہے کہ تابوت ایک شمشاد کی لکڑی کا صندوق تھا، جس میں انبیا کی تصاویر (یہ تصویریں کسی انسان نے نہ بنائی تھیں، بلکہ قدرتی تھیں)، ان کے مکانات شریفہ کے نقشے اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کا عصا اور ان کے کپڑے اور آپ کے نعلین شریف اور حضرت ہارون علیہ السلام کا عصا اور ان کا عمامہ وغیرہ تھا۔ بنی اسرائیل جب دشمن سے جنگ کرتے، تو برکت کے لیے اس کو سامنے رکھتے تھے۔ جب خدا سے دُعا کرتے، تو اس کو سامنے رکھ کر دُعا کرتے تھے۔ بخوبی ثابت ہوا کہ بزرگان کے تبرکات سے فیض لینا ان کی عظمت کرنا طریقہ انبیا ہے۔
[جاء الحق:370/1، بدر الأنوار في آداب الآثار، المندرج في فتاوى الرضوية:398/2، 414]
یہ کہنا کہ اس صندوق میں تصاویر تھیں، یہ تھا، وہ تھا، بالکل بے دلیل باتیں ہیں، نیز بنی اسرائیل کا دشمن سے جنگ کرتے ہوئے اس سے برکت حاصل کرنا بھی بے ثبوت بات ہے۔ یہ معلومات کہاں سے حاصل ہوئیں؟ اس ضمن میں وہب بن منبہ رحمہ اللہ کا ایک قول ہے، جو کہ ثابت نہیں ہے۔
قول یوں ہے:
[كانوا لا يلقاهم عدو، فيقدمون التابوت ويزحفون به معهم؛ إلا هزم الله ذلك العدو.]
بنی اسرائیل کو جب دشمن سے پالا پڑتا، تو وہ تابوت کو آگے کر دیتے اور دشمن سے دو بدو لڑائی شروع کر دیتے، اللہ تعالیٰ ضرور اس دشمن کو شکست دیتا تھا۔
[تاريخ الطبري:468/1]
یہ قول جھوٹا ہے۔
① محمد بن حمید رازی ضعیف و متروک ہے۔
② محمد بن اسحاق کا عنعنہ ہے۔
③ محمد بن اسحاق کو یہ روایت بیان کرنے والا نامعلوم و مجہول ہے۔
علامہ اشرف علی تھانوی دیوبندی صاحب مذکورہ آیت کے تحت لکھتے ہیں:
اس آیت میں اصل ہے آثارِ صالحین سے برکت حاصل کرنے کی ۔
[بیان القرآن: 145]
حالانکہ اس آیت میں تو تذکرہ موسیٰ اور ہارون علیہما السلام کے آثار کا ہے، بزرگانِ دین کے تبرکات سے فیض کیسے ثابت کر لیا گیا؟ ہم تفصیل کے ساتھ یہ بات ذکر کر چکے ہیں کہ انبیاے کرام کے آثار سے تبرک شریعت کی روشنی میں جائز و ثابت ہے، جبکہ دیگر صالحین کے آثار سے تبرک مشروع نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ خیر القرون میں ایک انسان بھی اولیا و صالحین کے آثار سے تبرک حاصل نہیں کرتا تھا۔
انوکھی بات:
اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
[سُبۡحٰنَ الَّذِیۡۤ اَسۡرٰی بِعَبۡدِہٖ لَیۡلًا مِّنَ الۡمَسۡجِدِ الۡحَرَامِ اِلَی الۡمَسۡجِدِ الۡاَقۡصَا الَّذِیۡ بٰرَکۡنَا حَوۡلَہٗ لِنُرِیَہٗ مِنۡ اٰیٰتِنَا ؕ اِنَّہٗ ہُوَ السَّمِیۡعُ الۡبَصِیۡرُ]
وہ (ذات) پاک ہے جو ایک رات اپنے بندے کو مسجدِ الحرام (یعنی خانہٴ کعبہ) سے مسجدِ اقصیٰ (یعنی بیت المقدس) تک، جس کے گرداگرد ہم نے برکتیں رکھی ہیں، لے گئی تاکہ ہم اسے اپنی (قدرت کی) نشانیاں دکھائیں۔ بیشک وہ سننے والا (اور) دیکھنے والا ہے۔ (بني إسرائيل:1)
ڈاکٹر محمد طاہر القادری بریلوی صاحب اس آیت کے تحت لکھتے ہیں:
مسجدِ اقصیٰ کے گردونواح کو انبیاے کرام کا مسکن ہونے کی وجہ سے بابرکت بنا دیا۔
(تبرک کی شرعی حیثیت:ص28)
حالانکہ اللہ نے یہ بات نہیں بتائی کہ مسجدِ اقصیٰ کے اردگرد کو بابرکت کیوں بنایا گیا؟
اس کی دلیل ڈاکٹر صاحب نے یوں دی ہے:
علامہ قرطبی اور علامہ شوکانی کے قول کے مطابق بابرکت ہونے کی بڑی وجہ مزاراتِ انبیا ہیں۔ (تبرک کی شرعی حیثیت:ص29)
یہ علامہ قرطبی اور شوکانی رحمہ اللہ پر بہتان ہے۔ دونوں شخصیات نے قطعاً ایسا نہیں کہا۔
علامہ ابو عبداللہ قرطبی رحمہ اللہ (671ھ) فرماتے ہیں:
[قيل: بمن دفن حوله من الأنبياء والصالحين.]
اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ برکت اردگرد دفن انبیا و صالحین کی وجہ سے ہے۔
[تفسير القرطبي:212/10]
یعنی علامہ قرطبی رحمہ اللہ نے تو کسی مجهول انسان کی بات کو بصیغہٴ تمریض بیان کیا ہے۔ یہ قرآن کی تفسیر کیسے بن گئی؟
خیر القرون میں سے کوئی بھی قبورِ انبیا و صالحین سے تبرک کا قائل و فاعل نہیں تھا۔ کیا صحابہ و تابعین اور ائمہ دین کو قرآنِ کریم کی یہ آیت سمجھ میں نہ آئی تھی؟ دین کو سمجھنے کے لیے سلف صالحین کا فہم ہی اسلم و احکم ہے۔
قمیصِ یوسف علیہ السلام سے تبرک:
یوسف علیہ السلام کے قصے میں قرآنِ کریم نے ان کے یہ الفاظ نقل فرمائے ہیں:
[اِذۡہَبُوۡا بِقَمِیۡصِیۡ ہٰذَا فَاَلۡقُوۡہُ عَلٰی وَجۡہِ اَبِیۡ یَاۡتِ بَصِیۡرًا]
میری یہ قمیص لے جاؤ اور اسے میرے والد کے چہرے پر ڈال دو، وہ بینا ہو جائیں گے۔ (يوسف:93)
اس کے بعد فرمانِ الہی ہے:
[فَلَمَّاۤ اَنۡ جَآءَ الۡبَشِیۡرُ اَلۡقٰىہُ عَلٰی وَجۡہِہٖ فَارۡتَدَّ بَصِیۡرًا]
جب خوشخبری دینے والا آیا اور اس نے قمیص کو ان (یعقوب علیہ السلام) کے چہرے پر ڈالا، تو وہ بینا ہو گئے۔ (يوسف:96)
اس واقعے سے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی جاتی ہے کہ سیدنا یوسف علیہ السلام کی قمیص سے تبرک لیتے ہوئے اسے سیدنا یعقوب علیہ السلام کے چہرہٴ مبارک پر ڈالا گیا تھا، لہذا نیک لوگوں کے آثار سے تبرک لینا جائز ہوا۔
حالانکہ یوسف علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ کے حکم پر ایسا کیا تھا اور یہ پیغمبر کا معجزہ ہے۔ پھر بھی اگر یہی اصرار کیا جائے کہ یہ قمیص کا تبرک ہی تھا، تو ہم تفصیل سے یہ بات ذکر کر چکے ہیں کہ انبیا کے آثار سے تبرک جائز و مشروع ہے، لیکن امتیوں کو انبیا پر قیاس نہیں کیا جا سکتا۔
سیدنا صالح علیہ السلام کی اونٹنی کے کنویں سے تبرک:
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ لوگ نبی کریم ﷺ کی معیت میں ’’حجر‘‘ کی سرزمین میں اترے، اس کے کنویں سے پانی نکالا اور اس سے آٹا گوندھا۔ نبی کریم ﷺ نے انہیں حکم فرمایا کہ اس وادی کے کنویں سے جو پانی نکالا ہے، اسے پھینک دو اور گوندھا ہوا آٹا اونٹوں کو کھلا دو۔
[أمرهم أن يستقوا من البئر التي كانت تردها الناقة.]
نیز انہیں فرمایا کہ وہ اس کنویں سے پانی لیں، جس پر سیدنا صالح علیہ السلام کی اونٹنی پانی پیتی تھی۔
(صحیح البخاری: 3379، صحیح مسلم: 2981)
اس سے بعض لوگ استدلال کرتے ہیں کہ سیدنا صالح علیہ السلام کی اونٹنی کے پانی پینے کی وجہ سے وہ کنواں متبرک ہو گیا تھا اور آپ ﷺ نے اس سے تبرک لینے کے لیے وہاں سے پانی لینے کا حکم فرمایا تھا۔
لیکن یہ بات نہایت غلط ہے، کیونکہ نبی کریم ﷺ کی ذات خود متبرک تھی۔ آپ ﷺ کے ہوتے ہوئے کسی اور نبی سے تبرک لینا بھی توہین ہے، چہ جائیکہ کسی اور نبی کی اونٹنی کے کنویں کے پانی سے تبرک لیا جائے۔
اصل بات یہ ہے کہ یہ منحوس وادی عذابِ الہی کا شکار ہو گئی تھی۔ ظاہر ہے کہ اس کے پانی پر بھی اس کا اثر ہوا تھا، جو صحت کے لیے نقصان دہ تھا۔ البتہ جس کنویں سے سیدنا صالح علیہ السلام کی اونٹنی پانی پیتی تھی، اس کا معاملہ مختلف تھا۔
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ (852ھ) فرماتے ہیں:
[في الحديث كراهية الاستسقاء من بيار ثمود، ويلتحق بها نظائرها من الآبار والعيون التي كانت لمن هلك بتعذيب الله تعالى على كفره.]
اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ قومِ ثمود کے کنوؤں سے پانی پینا مکروہ ہے۔ وہ کنویں اور چشمے بھی اسی حکم میں ہیں، جن کا تعلق ان لوگوں سے تھا، جو اپنے کفر پر اللہ تعالیٰ کے عذاب کی وجہ سے ہلاک ہوئے۔ (فتح الباري:380/6)
اس معاملے کا تعلق تبرک سے ہے ہی نہیں بلکہ یہ خیال کرنا کہ وہ پانی مبارک تھا، کیونکہ صالح علیہ السلام کی اونٹنی وہ پانی پیتی تھی، بلا دلیل ہے اور کسی کی بلا دلیل بات قبول نہیں ہوتی۔
لہذا حافظ نووی رحمہ اللہ (شرح مسلم:112/18) اور علامہ قرطبی رحمہ اللہ (الجامع لاحکام القرآن:ج10 ص47) کی طرف سے مذکورہ حدیث سے صالحین کے آثار سے تبرک لینے کے جواز کا استدلال درست نہیں۔
حیات مبارکہ کے ساتھ خاص تبرک:
یہاں یہ بھی ذہن نشین رہے کہ تبرک کی کئی صورتیں نبی کریم ﷺ کی حیات مبارکہ تک محدود تھیں، جیسا کہ آپ ﷺ کے جسد اقدس، دست مبارک، آپ ﷺ کے بچے ہوئے پانی، پسینہ مبارک، لعاب دہن، ناخن مبارک، وغیرہ سے تبرک آپ ﷺ کی حیات مبارکہ تک ہی ہو سکتا تھا۔
بعد از وفات نبی کریم ﷺ سے تبرک:
بعد از وفات نبی کریم ﷺ سے تبرک کی دو صورتیں ہی باقی رہ گئی ہیں:
① رسول اللہ ﷺ پر ایمان لانا اور آپ ﷺ کی اطاعت و فرمانبرداری اختیار کر کے خیر کثیر، اجر عظیم اور سعادت دارین حاصل کرنا۔
شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ (728ھ) فرماتے ہیں:
[كان أهل المدينة لما قدم عليهم النبي صلى الله عليه وسلم في بركته لما آمنوا به وأطاعوه؛ فببركة ذلك حصل لهم سعادة الدنيا والآخرة، بل كل مؤمن آمن بالرسول وأطاعه حصل له من بركة الرسول بسبب إيمانه وطاعته من خير الدنيا والآخرة ما لا يعلمه إلا الله.]
جب اہل مدینہ کے پاس نبی کریم ﷺ تشریف لائے اور وہ آپ ﷺ پر ایمان لا کر مطیع و فرمانبردار بن گئے، تو اس کی برکت سے انہیں دنیا و آخرت کی سعادت نصیب ہوئی، بلکہ جو بھی شخص رسول کریم ﷺ کی ذاتِ بابرکت پر ایمان لاتا ہے اور آپ کی اطاعت کرتا ہے، اسے اس ایمان و اطاعت کے سبب رسول اللہ ﷺ کی برکت دنیا و آخرت کی ان بھلائیوں کی صورت میں نصیب ہوتی ہے، جنہیں اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ (مجموع الفتاویٰ:113/11)
② نبی کریم ﷺ کی وفات کے بعد تبرک کی دوسری صورت رسول اللہ ﷺ کے آثارِ مبارکہ، جیسے عصا مبارک، بال مبارک، نعلین شریفین، جبہ مبارک وغیرہ سے تبرک کا حصول تھی۔