قربانی کی فضیلت سے متعلق ضعیف اور موضوع روایات کی تحقیق

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ فاروق رفیع صاحب کی کتاب قُربانی، عقیقہ اور عشرہ زی الحجہ سے ماخوذ ہے۔

قربانی کی اہمیت و فضیلت

قربانی سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی عظیم سنت، رسول مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا دائمی عمل اور اہل اسلام کا اجماعی مسئلہ ہے، لہذا ہر صاحب استطاعت کے لیے قربانی کرنا مستحب فعل ہے۔

قربانی کی فضیلت میں ضعیف روایات:

قربانی کی اہمیت کے متعلق کچھ سخت ضعیف اور موضوع قسم کی روایات منقول ہیں، جنھیں بیان کرنے سے گریز کرنا چاہیے، البتہ ان کا ضعف وغیرہ بیان کرنا مقصود ہو تو ایسی روایات کا بیان کرنا درست ہے، تاکہ لوگوں میں مروجہ ضعیف روایات کا خاتمہ ہو سکے اور بلا تحقیق ضعیف اور موضوع روایات بیان کرنے والوں کا باب بند ہو جائے، قربانی کی اہمیت و فضیلت کے بارے میں ضعیف اور من گھڑت روایات درج ذیل ہیں:
① سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
ما عمل آدمي من عمل يوم النحر أحب إلى الله من إهراق الدم، إنه لتأتي يوم القيامة بقرونها وأشعارها وأظلافها، وإن الدم ليقع من الله بمكان قبل أن يقع من الأرض، فطيبوا بها نفسا
”یومِ نحر کو انسان نے خون بہانے سے بہتر کوئی عمل نہیں کیا جو اللہ تعالیٰ کو اس سے محبوب ترین ہو، بلاشبہ وہ قربانی کا جانور، روزِ قیامت اپنے سینگ، بال اور کھریاں لے کر (بطور ثبوت قربانی) حاضر ہوگا اور قربانی کا خون زمین پر گرنے سے پہلے ہی وہ خون اللہ کے ہاں قبولیت کے درجہ تک پہنچ جاتا ہے، سو اس قربانی سے دلی خوشی محسوس کرو۔“
ضعيف جداً جامع ترمذي، أبواب الأضاحي، باب ما جاء في فضل الأضحية : 2493 – سنن ابن ماجه أبواب الأضاحي، باب ثواب الأضحية : 3126- سنن بيهقي : 261/9 – مستدرك حاكم : 221/4، 222 – الضعيفة : 526- سليمان بن یزید متروک راوی ہے۔
② سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے استفسار کیا:
يا رسول الله! ما هذه الأصاحي؟ قال: سنة أبيكم إبراهيم، قالوا: فما لنا فيها يا رسول الله؟ قال: بكل شعرة حسنة، قالوا: فالصوف يا رسول الله؟ قال: بكل شعرة من الصوف حسنة
”یا رسول اللہ! یہ قربانیاں کیا ہیں؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ تمھارے والد سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی سنت ہیں۔“ انھوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہمارے لیے ان میں کیا اجر ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تمھارے لیے ہر بال کے عوض نیکی ہے۔“ انھوں نے پوچھا: ”قربانی کی اون میں کیا اجر ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اون کے ہر بال کے بدلے نیکی ہے۔“
موضوع : مسند أحمد : 368/4 ، 19302 ۔ سنن ابن ماجه، أبواب الأضاحي، باب ثواب الأضحية : 3127۔ مستدرك حاكم : 389/2- الضعيفة : 527 – سنن بيهقي : 261/9 – طبرانی کبیر : 4935۔
یہ روایت من گھڑت ہے، اس کی سند میں عائذ اللہ مجاشعی منکر الحدیث اور ابو داود نفیع بن حارث متروک ہے اور یحیی بن معین نے اسے کذاب کہا ہے۔
③ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
ما أنفقت الورق فى شيء أفضل من نحيرة فى يوم عيد
”روزِ عید قربانی سے افضل کوئی رقم خرچ نہیں ہوئی۔“
ضعيف جداً : سنن دار قطنی : 4815 – سنن بیهقی : 261/9 – طبرانی کبیر : 10735 – الضعيفة : 524 –
ابراہیم بن يزيد خوزی ضعیف اور متہم بالکذب راوی ہے۔
④ سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
من ضحى طيبة بها نفسه، محتسبا لأضحيته، كانت له حجابا من النار
”جس نے خوش دلی اور طلبِ ثواب کی نیت سے اپنی قربانی ذبح کی وہ روزِ قیامت اس کے لیے جہنم سے حجاب بنے گی۔“
موضوع : طبراني كبير : 2670 ـ الضعيفة : 529۔
اس کی سند میں سلیمان بن عمر و نخعی کذاب اور احادیث گھڑنے والا ہے۔
⑤ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
يا أيها الناس! ضحوا واحتسبوا بدمائها، فإن الدم وإن وقع فى الأرض، فإنه يقع فى حرز الله عز وجل
”لوگو! قربانی کرو اور ان کے خون سے طلبِ ثواب کی نیت رکھو، اس لیے کہ بلاشبہ خون زمین پر گرتا ہے، لیکن وہ اللہ کی پناہ میں محفوظ ہو جاتا ہے۔“
موضوع : طبراني أوسط : 8554- الضعيفة : 530 ۔ یہ روایت من گھڑت ہے، اس کی سند میں عمرو بن حصین عقیلی متروک ہے۔
⑥ سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
يا فاطمة قومي إلى أضحيتك فاشهديها، فإنه يغفر لك عند أول قطرة تقطر من دمها كل ذنب عملتيه، وقولى : قُلْ إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ لَا شَرِيكَ لَهُ ۖ وَبِذَٰلِكَ أُمِرْتُ وَأَنَا أَوَّلُ الْمُسْلِمِينَ : قال عمران : قلت يا رسول الله ! هذا لك ولأهل بيتك خاصة : فأهل ذاك أنتم : أم للمسلمين عامة ، قال : لا بل للمسلمين عامة
”اے بیٹی! قربانی کی طرف اٹھو اور ذبح کرنے کے مرحلے میں قربانی کے پاس حاضر ہو، اس لیے کہ اس کے خون کا پہلا قطرہ گرنے کے وقت تیرے تمام گناہ بخش دیے جائیں گے جو گناہ تو نے کیے ہیں، اور اس وقت یہ کلمات کہو: ”بلاشبہ میری نماز، میری قربانی، میری زندگی اور میری موت اللہ کے لیے ہے، جو تمام جہانوں کا رب ہے، اس کے سوا کوئی شریک نہیں اور میں یہی حکم دیا گیا ہوں اور میں فرماں برداروں میں سے ہوں۔“ سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! قربانی سے گناہوں کی تلافی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل بیت کے لیے خاص ہے، کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اہل بیت سمیت اس کے اہل ہیں، یا یہ (گناہوں کی مغفرت) عام ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ اہل بیت کے ساتھ خاص نہیں بلکہ تمام مسلمانوں کے لیے ہے۔“
ضعيف : مستدرك حاكم : 222/4 ، سنن بیهقی : 239/5، طبرانی کبیر : 15002 ، طبراني أوسط : 2609۔
ثابت بن ابی صفیہ ابوحمزہ ثمالی راوی ہے۔
⑦ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سے کہا:
يا فاطمة قومي فاشهدي أضحيتك، أما إن لك بأول قطرة تقطر من دمها مغفرة لكل ذنب، أما إنه يجاء بها يوم القيامة بلحومها ودمائها سبعين ضعفا حتى توضع فى ميزانك
”اے فاطمہ! اٹھو اپنی قربانی کے پاس حاضر ہو، بلاشبہ اس کے خون کا پہلا قطرہ گرنے پر تیرے تمام گناہوں کی مغفرت ہے اور روزِ قیامت قربانی اپنے گوشت اور خون سے ستر گنا (موٹی بنا کر) لائی جائے گی حتیٰ کہ تیرے میزان میں رکھ دی جائے گی۔“
ضعيف جدا : سنن بيهقي : 283/9۔
عمرو بن خالد قرشی متروک راوی ہے اور محمد بن علی بن حسین عن آباء سے روایت کرتا ہے، یہ آباہ مجہول ہیں۔

خلاصہ :

قربانی کی فضیلت و اہمیت کے متعلق تمام روایات ضعیف ہیں۔ ابن عربی رحمہ اللہ ترمذی کی شرح میں لکھتے ہیں: ”قربانی کی فضیلت میں کوئی بھی حدیث صحیح نہیں ہے۔“
تحفة الأحوذى : 62/5۔