مضمون کے اہم نکات
آثارِ نبویہ سے حصولِ تبرک
آثارِ نبویہ سے حصولِ تبرک نبی کریم ﷺ کی مشروع تعظیم ہے اور آپ کے ساتھ اظہارِ محبت ہے۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین آپ ﷺ کی حیاتِ طیبہ میں اور بعد از وفات ان سے تبرک حاصل کرتے تھے۔ صحابہ کرام کی اقتدا و پیروی میں تابعین عظام اور تبع تابعین اعلام بھی آثارِ نبویہ سے تبرک حاصل کیا کرتے تھے۔
یاد رہے کہ جن آثار سے اور جس طریقے سے حصولِ تبرک خیر القرون میں تھا، ویسے ہی تبرک کا مسئلہ سمجھنا چاہیے۔ سلف صالحین کی پیروی دراصل حق کی پیروی ہے جو کہ نجاتِ اُخروی کی ضمانت ہے۔ اسلاف کی مخالفت درحقیقت حق کی مخالفت ہے۔ سلف صالحین بہترین امت تھے۔ ان کے دور کو خیر القرون کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ یہ سند انہیں نبی کریم ﷺ نے اپنے مبارک فرمان: ”خیر القرون قرنی“ کے تحت عطا فرمائی تھی۔ ان کے منہج کو سبیل المومنین اور سبیلِ حق سے تعبیر کیا گیا ہے۔ ان کا اتفاقی فہم اجماع کہلاتا ہے، جس پر اللہ تعالیٰ کا ہاتھ ہے اور اس کا اتباع واجب اور مخالفت حرام ہے۔ ان کے منہج وعقیدہ اور اجماع کے ماننے والوں کو اہل سنت والجماعت کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے۔
سلف صالحین ائمہ اہل سنت کا مذہب ہی اسلم، اعلم اور احکم ہے، کیونکہ وہ ورع و تقویٰ اور علم و فضل میں فائق تھے۔ وہ تکلف کے نام سے بھی ناواقف تھے، اس لیے ان کے استنباط و اجتہاد سب پر مقدم ہیں۔ وہ سب سے بڑھ کر نبی کریم ﷺ کی تعظیم کرنے والے تھے، وہ سب سے بڑھ کر محمد رسول اللہ ﷺ کو محبوب رکھتے تھے، وہ سب سے بڑھ کر نبی کریم ﷺ کی سنتوں اور اداؤں کو اپنانے والے تھے، وہ اتباعِ سنت پر حریص تھے۔
سلف صالحین ہمارے اکابر ہیں اور امت میں خیر و برکت اور علم و فضل انہیں کے سبب ہے۔ وہ دیانت اور روایت میں اس قدر موثق بہم ہیں کہ معیارِ حق کا درجہ رکھتے ہیں۔ ہر گمراہی سے بچنے کا ایک ہی حل ہے کہ ان کے دامن کو مضبوطی سے تھام لیا جائے۔ وہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی محبت میں شدید تر تھے، اس لیے شریعت کے معانی و حقائق ان پر کھول دیئے گئے تھے۔ ذیل کی سطور میں صحابہ کرام، تابعین عظام اور تبع تابعین اعلام کی طرف سے آثارِ نبویہ سے حصولِ تبرک کے چند نمونے پیشِ خدمت ہیں:
وضو والے پانی سے تبرک:
سیدنا ابو جحیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
[خرج علينا رسول الله صلى الله عليه وسلم بالهاجرة، فأتي بوضوء فتوضأ، فجعل الناس يأخذون من فضل وضوئه فيتمسحون به، فصلى النبي صلى الله عليه وسلم الظهر ركعتين والعصر ركعتين وبين يديه عنزة .وقال أبو موسى: دعا النبي صلى الله عليه وسلم بقدح فيه ماء، فغسل يديه ووجهه فيه، ومج فيه، ثم قال لهما: اشربا منه وأفرغا على وجوهكما ونحوركما]
ایک دن دوپہر کے وقت رسول اللہ ﷺ ہمارے ہاں تشریف لائے۔ آپ کے لیے وضو کا پانی حاضر کیا گیا، جس سے آپ ﷺ نے وضو فرمایا۔ لوگ آپ کے وضو کا بچا پانی لے کر اپنے بدنوں پر ملنے لگے۔ آپ ﷺ نے ظہر و عصر کی دو دو رکعتیں ادا فرمائیں۔ آپ ﷺ کے سامنے ایک نیزہ بھی تھا۔ سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے پانی کا پیالہ منگوایا۔ اس سے آپ نے ہاتھ مبارک دھوئے اور اسی پیالے میں منہ دھویا اور کلی فرمائی۔ پھر فرمایا: آپ یہ پانی پی لیں، نیز اپنے چہروں اور سینوں پر ڈال لیں۔
[صحيح البخاري: 187، 188، صحيح مسلم: 503]
سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
[كنت عند النبي صلى الله عليه وسلم وهو نازل بالجعرانة بين مكة والمدينة ومعه بلال، فأتى النبي صلى الله عليه وسلم أعرابي، فقال: ألا تنجز لي ما وعدتني، فقال له: أبشر، فقال: قد أكثرت علي من أبشر، فأقبل على أبي موسى وبلال كهيئة الغضبان، فقال: رد البشرى، فاقبلا أنتما، قالا: قبلنا، ثم دعا بقدح فيه ماء، فغسل يديه ووجهه فيه، ومج فيه، ثم قال: اشربا منه، وأفرغا على وجوهكما ونحوركما، وأبشرا، فأخذا القدح ففعلا، فنادت أم سلمة من وراء الستر: أن أفضلا لأمكما، فأفضلا لها منه طائفة]
میں نبی کریم ﷺ کے پاس تھا اور آپ ﷺ مکہ اور مدینہ کے درمیان جعرانہ مقام پر پڑاؤ ڈالے ہوئے تھے۔ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ بھی آپ کے ہمراہ تھے۔ نبی کریم ﷺ کے پاس ایک دیہاتی شخص آیا اور کہنے لگا: کیا آپ میرے ساتھ کیا ہوا وعدہ پورا نہیں کریں گے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: خوش خبری لو۔ اس نے کہا: آپ مجھے بہت زیادہ خوش خبریاں دے چکے ہیں۔ نبی کریم ﷺ غصے کی حالت میں سیدنا ابو موسیٰ اشعری اور سیدنا بلال رضی اللہ عنہما کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: اس نے خوش خبری واپس کر دی ہے، آپ دونوں اسے قبول کر لیں۔ ہم نے عرض کیا: ہم نے قبول کر لی ہے۔ پھر آپ ﷺ نے ایک پانی والا پیالہ منگوایا اور اس میں اپنے ہاتھوں اور چہرۂ مبارک کو دھویا، نیز اس میں کلی فرمائی۔ پھر فرمایا: آپ دونوں اس پانی کو پییں، اپنے چہروں اور سینوں پر بہائیں اور خوش ہو جائیں۔ دونوں نے پیالہ پکڑا اور ویسا ہی کیا۔ اسی اثنا میں پردے کے پیچھے سے سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے پکار کر کہا: اپنی ماں کے لیے بھی یہ پانی بچانا، چنانچہ انہوں نے کچھ پانی بچا لیا۔
[صحيح البخاري: 4328، صحيح مسلم: 2497]
سیدنا ابو جحیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
[رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم في قبة حمراء من أدم، ورأيت بلالا أخذ وضوء رسول الله صلى الله عليه وسلم، ورأيت الناس يبتدرون ذاك الوضوء، فمن أصاب منه شيئا؛ تمسح به، ومن لم يصب منه شيئا؛ أخذ من بلل يد صاحبه.]
میں نے رسول اللہ ﷺ کو ایک سرخ چمڑے کے خیمے میں دیکھا۔ میں نے یہ بھی دیکھا کہ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ آپ کو وضو کروا رہے تھے۔ وہاں موجود ہر صحابی نبی کریم ﷺ کے وضو والا پانی حاصل کرنے کے لیے ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کر رہا تھا۔ اگر کسی کو تھوڑا سا بھی پانی مل جاتا تو وہ اسے اپنے اوپر مل لیتا اور اگر کوئی پانی نہ حاصل کر پاتا، تو وہ اپنے ساتھی کے ہاتھ کی تری ہی حاصل کر لیتا۔
[صحيح البخاري: 376، صحيح مسلم: 503]
دستِ مبارک سے تبرک:
سیدنا ابو جحیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
[خرج رسول الله صلى الله عليه وسلم بالهاجرة إلى البطحاء، فتوضأ، ثم صلى الظهر ركعتين، والعصر ركعتين، وبين يديه عنزة، قال شعبة: وزاد فيه عون، عن أبيه أبي جحيفة، قال: كان يمر من ورائها المرأة، وقام الناس، فجعلوا يأخذون يديه، فيمسحون بها وجوههم، قال: فأخذت بيده، فوضعتها علىٰ وجهي، فإذا هي أبرد من الثلج، وأطيب رائحة من المسك.]
نبی کریم ﷺ دوپہر کے وقت سفر کے ارادے سے نکلے۔ بطحا نامی جگہ پر پہنچ کر آپ ﷺ نے وضو کیا اور ظہر و عصر کی نماز دو دو رکعت ادا کی۔ آپ ﷺ کے سامنے ایک چھوٹا سا نیزہ (بطورِ سترہ) گڑا ہوا تھا۔ عون نے اپنے والد ابو جحیفہ سے اس روایت میں یہ الفاظ زیادہ بیان کیے ہیں کہ سیدنا ابو جحیفہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اس نیزہ کے آگے سے عورت گزر رہی تھی۔ پھر صحابہ کرام آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ کے مبارک ہاتھ کو تھام کر اپنے چہروں پر ملنے لگے۔
ابو جحیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے بھی نبی کریم ﷺ کے دستِ مبارک کو اپنے چہرے پر رکھا۔ وہ برف سے زیادہ ٹھنڈا اور کستوری سے زیادہ خوشبودار تھا۔
[صحيح البخاري: 3553]
سیدنا انس بن مالک بیان کرتے ہیں:
[كان رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا صلى الغداة؛ جاء خدم المدينة بآنيتهم فيها الماء، فما يؤتىٰ بإناء إلا غمس يده فيها، فربما جاءوه في الغداة الباردة، فيغمس يده فيها.]
رسول اللہ ﷺ جب نمازِ فجر ادا فرما لیتے، تو مدینہ منورہ کے خادم برتن لے کر آتے، جن میں پانی ہوتا تھا۔ وہ جو بھی برتن لاتے، آپ ﷺ اس میں اپنا دستِ مبارک ڈبو دیتے تھے۔ بسا اوقات تو وہ موسمِ سرما میں صبح کے وقت آپ کے پاس آ جاتے تھے تو آپ ﷺ اس میں اپنا ہاتھ مبارک ڈبو دیا کرتے تھے۔
[صحيح مسلم: 2324]
◈ ذیال بن عبید بن حنظلہ رحمۃ اللہ علیہ، صحابیِ رسول، سیدنا حنظلہ رضی اللہ عنہ کے حوالہ سے بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ ان کے والد نے نبی کریم ﷺ سے ان (سیدنا حنظلہ رضی اللہ عنہ) کے لیے دُعا کی درخواست کی۔
[قال حنظلة: فدنا بي إلى النبي صلى الله عليه وسلم، فقال: إن لي بنين ذوي لحى، ودون ذٰلك، وإن ذا أصغرهم، فادع الله له، فمسح رأسه، وقال: بارك الله فيك، أو بورك فيه، قال ذيال: فلقد رأيت حنظلة يؤتىٰ بالإنسان الوارم وجهه، أو بالبهيمة الوارمة الضرع، فيتفل علىٰ يديه، ويقول: بسم الله، ويضع يده علىٰ رأسه، ويقول علىٰ موضع كف رسول الله صلى الله عليه وسلم، فيمسحه عليه، وقال ذيال: فيذهب الورم.]
سیدنا حنظلہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: پھر وہ مجھے نبی کریم ﷺ کے پاس لے گئے اور عرض کیا: میرے کچھ بیٹے جوان اور کچھ کم عمر ہیں۔ یہ ان میں سب سے چھوٹا ہے۔ آپ اس کے لیے اللہ سے دعا کر دیجیے۔ آپ ﷺ نے ان کے سر پر ہاتھ مبارک پھیر کر فرمایا: اللہ تعالیٰ تمہیں برکت دے۔ ذیال کہتے ہیں: میں نے دیکھا کہ سیدنا حنظلہ بن حزیم رضی اللہ عنہ کے پاس کوئی سوجے ہوئے چہرے والا آدمی لایا جاتا یا سوجے ہوئے تھنوں والا کوئی جانور، تو وہ اپنے ہاتھوں پر اپنا لعاب لگاتے اور بسم اللہ کہہ کر اس کے سر پر ہاتھ رکھ دیتے اور رسول اللہ ﷺ کی مبارک ہتھیلی کی جگہ کو اس پر پھیرتے۔ اس سے ورم ختم ہو جاتا۔
[مُسند الإمام أحمد: 20665، دلائل النبوة للبيهقي: 214/6، وسندهٗ صحيحٌ]
◈ سیدنا ابو زید انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے انہیں اپنے قریب کر کے اپنا مبارک ہاتھ ان کے سر اور ڈاڑھی پر پھیرا، پھر یہ دُعا کی: [اللهم جمله، وأدم جماله.]
الہی! انہیں خوبصورتی عطا فرما اور ان کے حسن و جمال کو دوام بخش دے۔
راوی کہتے ہیں کہ انہوں نے 100 سال سے زائد عمر پائی، مگر اس وقت بھی ان کے سر اور ڈاڑھی کے صرف چند بال سفید ہوئے تھے۔ ان کا چہرہ صاف اور روشن رہا اور تادمِ آخر ایک ذرہ برابر شکن بھی چہرے پر نمودار نہیں ہوئی تھی۔
[مُسند الإمام أحمد: 20733، دلائل النبوة للبيهقي: 211/6، وسندهٗ صحيحٌ]
امام بیہقی رحمہ اللہ نے اس کی سند کو ”صحیح متصل“ قرار دیا ہے۔
سیدنا سائب بن یزید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
[ذهبت بي خالتي إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم، فقالت: يا رسول الله، إن ابن أختي وجع، فمسح رأسي ودعا لي بالبركة، ثم توضأ، فشربت من وضوئه، وقمت خلف ظهره، فنظرت إلىٰ خاتم النبوة بين كتفيه، مثل زر الحجلة.]
میری خالہ مجھے نبی کریم ﷺ کی خدمت میں لے گئیں اور گزارش کی: اللہ کے رسول! میرا بھانجا بیمار ہے۔ آپ ﷺ نے میرے سر پر ہاتھ مبارک پھیرا اور برکت کے لیے دعا کی۔ پھر آپ ﷺ نے وضو کیا، تو میں نے آپ ﷺ کے وضو کا پانی پیا۔ بعد ازاں میں آپ ﷺ کے پیچھے کھڑا ہو گیا۔ میں نے آپ کے کندھوں کے مابین چکور کے انڈے کی مثل مہرِ نبوت دیکھی۔
[صحيح البخاري: 5670، صحيح مسلم: 2345]
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں:
[إن رسول الله صلى الله عليه وسلم كان إذا اشتكىٰ؛ يقرأ علىٰ نفسه بالمعوذات وينفث، فلما اشتد وجعه؛ كنت أقرأ عليه وأمسح بيده رجاء بركتها.]
رسول اللہ ﷺ جب بیمار ہوتے تو معوذات پڑھ کر اپنے اوپر پھونکتے۔ جب (مرض الموت میں) آپ ﷺ کی بیماری شدت اختیار کر گئی، تو میں معوذات پڑھ کر آپ پر پھونکتی اور برکت کی خاطر آپ ﷺ ہی کا دستِ مبارک آپ کے جسمِ اطہر پر پھیرتی۔
(صحيح البخاري: 5016، صحيح مسلم: 2192)
توشہ دان میں کھجوروں کا ذخیرہ اور تبرک:
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
[أتيت النبي صلى الله عليه وسلم بتمرات، فقلت: يا رسول الله، ادع الله فيهن بالبركة، فضمهن، ثم دعا لي فيهن بالبركة، فقال لي: خذهن واجعلهن في مزودك هٰذا، أو في هٰذا المزود، كلما أردت أن تأخذ منه شيئا؛ فأدخل يدك فيه، فخذه ولا تنثره نثرا، فقد حملت من ذٰلك التمر كذا وكذا من وسق في سبيل الله، فكنا نأكل منه ونطعم، وكان لا يفارق حقوي، حتىٰ كان يوم قتل عثمان؛ فإنه انقطع.]
میں کچھ کھجوریں لے کر نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: اللہ کے رسول! ان میں برکت کے لیے دعا کیجیے۔ آپ ﷺ نے انہیں اکٹھا کر میرے لیے ان میں برکت کی دعا فرمائی اور فرمایا: انہیں لے لیجیے اور اپنے اس توشہ دان میں رکھ لیجیے۔ جب بھی ان میں سے کچھ لینا چاہیں، تو اس میں اپنا ہاتھ ڈال کر لے لیجیے گا، انہیں مکمل طور پر باہر نہ نکالیے گا۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے: میں نے ان میں سے کتنے ہی وسق (ایک وسق تقریباً 126 کلو گرام کا ہوتا ہے) کھجور اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کیں۔ ہم خود اس میں سے کھاتے تھے اور کھلاتے بھی تھے اور یہ توشہ دان میری کمر سے الگ نہیں ہوتا تھا، حتیٰ کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت کے دن وہ ٹوٹ کر گر گیا۔
[مُسند الإمام أحمد: 8628، سنن الترمذي: 3839، دلائل النبوة للبيهقي: 109/6، وسندهٗ حسنٌ]
امام ترمذی رحمہ اللہ نے اس حدیث کو ”حسن غریب“ کہا ہے، امام ابن حبان رحمہ اللہ نے (6532) نے ”صحیح“ قرار دیا ہے۔
تنبیہ:
ایک روایت ان الفاظ سے بھی مروی ہے:
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک جنگ میں سینکڑوں کی تعداد میں صحابہ کرام موجود تھے، جن کے کھانے کے لیے کچھ نہ تھا۔ اس وقت میرے ہاتھ میں ایک توشہ دان تھا، جس میں چند کھجوریں تھیں۔ نبی کریم ﷺ کے استفسار پر میں نے عرض کیا: میرے پاس کچھ کھجوریں ہیں۔ فرمایا: لے آیئے۔ میں وہ توشہ دان لے کر حاضرِ خدمت ہوا اور کھجوریں گنتی کیں، تو وہ کل اکیس (تاریخ دمشق کی روایت کے مطابق سات) کھجوریں تھیں۔ آپ ﷺ نے اس توشہ دان پر اپنا مبارک ہاتھ رکھ کر فرمایا: دس آدمیوں کو بلایئے، میں دس کو بلا لایا۔ انہوں نے کھائیں اور خوب سیر ہو کر چلے گئے۔ اسی طرح اگلے دس آدمیوں نے بھی خوب سیر ہو کر کھجوریں کھائیں۔ یہاں تک کہ سارے لشکر نے کھجوریں کھا لیں۔ پھر بھی کچھ کھجوریں میرے پاس توشہ دان میں باقی بچ گئیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ابو ہریرہ! جب آپ اس توشہ دان سے کھجوریں نکالنا چاہیں، تو ہاتھ ڈال کر اس سے نکال لینا، لیکن توشہ دان مت انڈیلنا۔
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نبی کریم ﷺ کے زمانے میں اس سے کھجوریں کھاتا رہا۔ پھر سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے دور اور بعد میں سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت میں بھی کھجوریں کھاتا رہا، حتیٰ کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے پورے عہدِ خلافت تک وہ کھجوریں میرے استعمال میں رہیں۔ جب سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ شہید ہو گئے، تو میرا سارا مال و متاع گھر سے چوری ہو گیا، جس میں توشہ دان بھی شامل تھا۔ میں کیا بتاؤں کہ میں نے اس سے کتنی کھجوریں کھائی ہوں گی، کم و بیش دو وسق (252 کلو گرام) سے زیادہ۔
[الشريعة للآجري: 1060، فوائد تمام: 1766، دلائل النبوة للبيهقي: 110/6]
سند ضعیف ہے۔
① ابو منصور ازدی مجہول ہے۔
② اس کا سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے سماع معلوم نہیں۔
اس کی دوسری سند بھی ضعیف ہے۔ سہل بن زیاد کی توثیق نہیں مل سکی۔
نبی کریم ﷺ کے پاؤں مبارک سے تبرک:
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک صحابی نے نبی کریم ﷺ سے اپنی اونٹنی کی سست رفتاری کی شکایت کی۔ آپ ﷺ نے اپنے مبارک پاؤں سے اونٹنی کو ٹھوکر لگائی۔
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
[فوالذي نفسي بيده، لقد رأيتها تسبق القائد.]
اس ذات کی قسم! جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، میں نے دیکھا کہ اس کے بعد ایسی تیز ہو گئی کہ کسی کو آگے نہیں نکلنے دیتی تھی۔
[السنن الكبرى للبيهقي: 14354، وسندهٗ صحيح]
اس حدیث کو امام ابو عوانہ رحمہ اللہ (4145) نے ”صحیح“، اور امام حاکم رحمہ اللہ (2/173) نے بخاری ومسلم کی شرط پر ”صحیح“، قرار دیا ہے، حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے موافقت کی ہے۔
نبی کریم ﷺ کے مبارک قدم کی برکت سے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کا اونٹ بھی تیز ہو گیا تھا، چنانچہ حدیث میں ہے:
[ضربه برجله، ودعا له، فسار سيرا لم يسر مثله]
نبی کریم ﷺ نے اپنے پاؤں مبارک سے ٹھوکر مار کر اس کے لیے دُعا فرمائی: وہ یکدم ایسا تیز ہو گیا کہ اس سے پہلے کبھی ایسا نہ تھا۔
[مُسند الإمام أحمد:14195، صحيح مسلم : 715]
نبی کریم ﷺ نے سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما سے فرمایا:
آپ کے اونٹ کا کیا حال ہے؟ عرض کیا:
[بخير، قد أصابته بركتك.]
بہتر ہے۔ اسے آپ کی برکت حاصل ہوئی ہے۔
[صحيح البخاري: 2967، صحيح مسلم: 715]
تنبیہ: سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے:
[إن النبي صلى الله عليه وسلم كان إذا مشى على الصخر غاصت قدماه فيه وأثرت.]
نبی کریم ﷺ جب پتھریلی زمین پر چلتے، تو آپ ﷺ کے پاؤں مبارک اس میں دھنس جاتے اور وہاں نشان پڑ جاتے۔
[تبرک کی شرعی حیثیت از ڈاکٹر طاہر القادری، ص 76]
جھوٹی اور بے اصل روایت ہے۔
علامہ محمد عبد الرؤف مناوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
[لم أقف له علىٰ أصل.] مجھے اس کی کوئی اصل (سند) نہیں مل سکی۔
[فیض القدیر: 91/5]
نبی کریم ﷺ کے مبارک بالوں سے تبرک:
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
[إن رسول الله صلى الله عليه وسلم لما حلق رأسه؛ كان أبو طلحة أول من أخذ من شعره.]
جب نبی کریم ﷺ اپنا سر مبارک منڈواتے، تو سیدنا ابو طلحہ رضی اللہ عنہ وہ پہلے شخص ہوتے، جو آپ ﷺ کے مبارک بال حاصل کرتے۔ [صحیح البخاري: 171]
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
[إن رسول الله صلى الله عليه وسلم أتىٰ منى، فأتى الجمرة فرماها، ثم أتىٰ منزله بمنى ونحر، ثم قال للحلاق: خذ، وأشار إلىٰ جانبه الأيمن، ثم الأيسر، ثم جعل يعطيه الناس.]
نبی کریم ﷺ جب منیٰ میں تشریف لائے، تو پہلے جمرہ عقبہ پر گئے اور وہاں کنکریاں ماریں۔ پھر منیٰ میں اپنی قیام گاہ میں تشریف لے گئے، وہاں قربانی کی۔ حجام سے سر مونڈنے کو کہا اور اس کو دائیں جانب سے شروع کرنے کا اشارہ فرمایا: پھر بائیں جانب اشارہ فرمایا، بعد میں بال مبارک لوگوں کو عطا فرما دیئے۔
[صحيح مسلم: 1305]
صحیح مسلم (1305) ہی میں ہے کہ نبی کریم ﷺ نے سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کو بال مبارک دیئے اور حکم فرمایا:
[اقسمه بين الناس.]
یہ بال لوگوں میں تقسیم کر دیجئے۔
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
[رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم والحلاق يحلقه، وأطاف به أصحابه، فما يريدون أن تقع شعرة إلا في يد رجل.]
میں نے دیکھا کہ حجام نبی کریم ﷺ کے بال مبارک مونڈھ رہا تھا۔ آپ ﷺ کے صحابہ کرام اردگرد موجود تھے اور ان کی خواہش تھی کہ آپ ﷺ کا ہر بال (زمین پر گرنے کی بجائے) ان میں سے کسی کے ہاتھ پر گرے۔
[صحيح مسلم: 2325]
نبی کریم ﷺ کے مبارک لعابِ دہن سے تبرک:
سیدہ اسما بنتِ ابو بکر رضی اللہ عنہما بیان کرتی ہیں:
[إنها حملت بعبد الله بن الزبير بمكة، قالت: فخرجت وأنا متم، فأتيت المدينة، فنزلت قباء، فولدت بقباء، ثم أتيت به رسول الله صلى الله عليه وسلم، فوضعته في حجره، ثم دعا بتمرة، فمضغها، ثم تفل في فيه، فكان أول شيء دخل جوفه؛ ريق رسول الله صلى الله عليه وسلم، ثم حنكه بالتمرة، ثم دعا له، فبرك عليه، وكان أول مولود ولد في الإسلام.]
عبداللہ بن زبیر مکہ مکرمہ میں ان کے پیٹ میں تھے۔ ہجرت کے موقع پر وقتِ ولادت قریب تھا۔ مدینہ منورہ پہنچ کر میں نے سب سے پہلا پڑاؤ قبا میں ڈالا۔ یہیں عبداللہ بن زبیر کی ولادت ہوئی۔ میں بچے کو لے کر نبی کریم ﷺ کی خدمتِ اقدس میں حاضر ہوئی اور اسے آپ ﷺ کی گود میں رکھ دیا۔ آپ ﷺ نے کھجور منگوا کر اسے چبایا اور بچے کے منہ میں اپنا لعابِ دہن ڈال دیا۔ چنانچہ اس بچے کے پیٹ میں جانے والی سب سے پہلی چیز نبی کریم ﷺ کا مبارک لعاب تھا۔ آپ ﷺ نے کھجور کی گھُڑتی دی اور اس کے لیے برکت کی دعا فرمائی۔ یہ مدینہ منورہ میں مسلمانوں کا پیدا ہونے والا سب سے پہلا بچہ تھا۔
[صحيح البخاري: 5469، صحيح مسلم: 2146]
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
[ذهبت بعبد الله بن أبي طلحة الأنصاري إلىٰ رسول الله صلى الله عليه وسلم حين ولد، ورسول الله صلى الله عليه وسلم في عباءة يهنأ بعيرا له، فقال: هل معك تمر؟، فقلت: نعم، فناولته تمرات، فألقاهن في فيه، فلاكهن، ثم فغر فا الصبي فمجه في فيه، فجعل الصبي يتلمظه، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: حب الأنصار التمر، وسماه عبد الله.]
جب عبداللہ بن ابی طلحہ انصاری رضی اللہ عنہ پیدا ہوئے، تو میں انہیں لے کر نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ آپ ﷺ اپنی چادر مبارک اوڑھے ہوئے اپنے اونٹ کی مالش کر رہے تھے۔ آپ ﷺ نے دریافت کیا: کیا تمہارے پاس کھجور ہے؟ میں نے جواب دیا: جی ہاں! پھر میں نے آپ ﷺ کی خدمت میں کھجوریں پیش کیں۔ آپ ﷺ نے انہیں منہ میں ڈال کر چبایا اور اس بچے کا منہ کھول کر اس میں ڈال دیا۔ بچہ انہیں چوسنے لگا، تو فرمایا: کھجور انصار کو مرغوب ہے۔ نیز آپ ﷺ نے اس بچے کا نام عبداللہ رکھا۔
[صحيح مسلم: 2144]
صحابہ کی محبتِ رسول کا اندازہ لگائیں کہ جب انہیں اولاد کی نعمت نصیب ہوتی، تو وہ اپنے بچوں کو نبی کریم ﷺ سے گھٹی دلواتے۔ یہ معاملہ آپ ﷺ کی ذاتِ اقدس کے ساتھ خاص ہے، کیونکہ تبرک آپ ﷺ کا خاصہ ہے۔
نبی کریم ﷺ کے مبارک پسینہ سے تبرک:
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
[دَخَلَ عَلَيْنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ عِنْدَنَا، فَعَرِقَ، وَجَاءَتْ أُمِّي بِقَارُورَةٍ، فَجَعَلَتْ تُسْلِتُ الْعَرَقَ فِيهَا، فَاسْتَيْقَظَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا أُمَّ سُلَيْمٍ، مَا هَٰذَا الَّذِي تَصْنَعِينَ؟ قَالَتْ: هَٰذَا عَرَقُكَ، نَجْعَلُهُ فِي طِيبِنَا، وَهُوَ مِنْ أَطْيَبِ الطِّيبِ.]
نبی کریم ﷺ ہمارے ہاں تشریف لائے اور ہمارے ہاں قیلولہ فرمایا۔ آپ ﷺ کو پسینہ آیا، تو میری والدہ ایک شیشی لا کر پسینہ اس میں ڈالنے لگیں۔ اتنے میں نبی کریم ﷺ بیدار ہو گئے۔ آپ ﷺ نے دریافت فرمایا: ام سلیم! یہ آپ کیا کر رہی ہیں؟ انہوں نے عرض کیا: یہ آپ کا پسینہ ہے، اسے ہم خوشبو میں ملائیں گے، کیونکہ یہ عمدہ ترین خوشبو ہے۔
[صحيح مسلم: 2331]
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ ہی بیان کرتے ہیں:
[كان النبي صلى الله عليه وسلم يدخل بيت أم سليم، فينام علىٰ فراشها، وليست فيه، قال: فجاء ذات يوم، فنام علىٰ فراشها، فأتيت، فقيل لها: هٰذا النبي صلى الله عليه وسلم نام في بيتك، علىٰ فراشك، قال فجاءت وقد عرق، واستنقع عرقه علىٰ قطعة أديم على الفراش، ففتحت عتيدتها، فجعلت تنشف ذٰلك العرق، فتعصره في قواريرها، ففزع النبي صلى الله عليه وسلم، فقال: ما تصنعين يا أم سليم؟ فقالت: يا رسول الله، نرجو بركته لصبياننا، قال: أصبت.]
نبی کریم ﷺ سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا کے گھر میں تشریف لایا کرتے تھے اور ان کی غیر موجودگی میں ان کے بستر پر سو جایا کرتے تھے۔ ایک دن آپ ﷺ ان کے گھر تشریف لائے اور وہیں سو گئے۔ سیدہ کو بتایا گیا کہ رسول اللہ ﷺ آپ کے گھر میں آپ کے بستر پر استراحت فرما ہیں، تو وہ آئیں اور دیکھا کہ نبی کریم ﷺ کو پسینہ مبارک آیا ہوا ہے اور کچھ پسینہ چمڑے کے بستر پر ایک جگہ اکٹھا ہوا پڑا ہے۔ سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا نے ایک شیشی کھول کر وہ پسینہ اس میں بھرنے لگیں۔ اسی دوران نبی کریم ﷺ بیدار ہو گئے اور دریافت فرمایا: ام سلیم! کیا کر رہی ہیں؟ عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم اس کے ذریعے اپنے بچوں کے حق میں برکت کے خواہش مند ہیں۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: آپ نے ٹھیک (سوچا) ہے۔
[صحيح مسلم: 2331]
نبی کریم ﷺ کے ملبوسات سے تبرک:
سیدہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ جس وقت نبی کریم ﷺ کی صاحبزادی سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کی وفات ہوئی، تو آپ ﷺ نے فرمایا:
[اغسلنها ثلاثا، أو خمسا أو أكثر من ذٰلك، إن رأيتن، فإذا فرغتن فآذنني]
انہیں تین یا پانچ یا اگر ضرورت محسوس کرو تو اس سے زائد بار غسل دینا۔ جب غسل سے فارغ ہو جاؤ تو مجھے مطلع کر دینا۔
ہم نے فارغ ہو کر آپ ﷺ کو اطلاع دی، تو آپ نے اپنا ازار ہمیں دیا اور فرمایا:
[أشعرنها إياه] اسے ان (زینب رضی اللہ عنہا) کے جسم کے ساتھ لگا دیں۔
[صحيح البخاري: 1257، صحيح مسلم: 939]
◈ سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک خاتون نے نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر چادر پیش کی۔ ایک صحابی نے عرض کیا: اللہ کے رسول! یہ کتنی حسین چادر ہے؟ مجھے عنایت فرما دیجئے۔ فرمایا: ٹھیک ہے۔ جب نبی کریم ﷺ کھڑے ہوئے، تو اس صحابی کے ساتھیوں نے انہیں ملامت کیا کہ آپ نے اچھا نہیں کیا۔ آپ کو معلوم تھا کہ نبی کریم ﷺ کسی سائل کو خالی ہاتھ نہیں لوٹاتے، تو آپ نے یہ چادر کیوں مانگی؟ جواب میں صحابیِ رسول نے جواب دیا:
[رجوت بركتها حين لبسها النبي صلى الله عليه وسلم، لعلي أكفن فيها]
جب نبی کریم ﷺ نے اسے زیبِ تن فرما لیا تھا، تو میں نے حصولِ برکت کی امید سے یہ حاصل کی تاکہ میں اسے اپنا کفن بنا سکوں۔
[صحيح البخاري: 6036]
ایک روایت کے الفاظ ہیں:
[إني والله، ما سألته لألبسه، إنما سألته لتكون كفني، قال سهل: فكانت كفنه]
اللہ کی قسم! میں نے یہ چادر پہننے کے لیے نہیں مانگی۔ میں نے تو (حصولِ تبرک کی غرض سے) اس لیے مانگی ہے تاکہ یہ مبارک چادر میرا کفن بنے۔ سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: چنانچہ وہ مبارک چادر ان کا کفن ہی بنی۔
[صحيح البخاري: 1277]
قصیدہ بردہ کے بارے میں تنبیہِ بلیغ:
محمد بن سعید بوصیری (696ھ) نے اپنے ایک خواب کی بنیاد پر قصیدہ بردہ (نبی کریم ﷺ کی چادرِ مبارک کی تعریف) لکھا تھا۔ یہ بوصیری جھوٹا تھا۔ اس کے بیان کردہ خواب کا کوئی اعتبار نہیں۔ اس قصیدہ میں بعض اشعار شرکیہ اور کفریہ ہیں۔ جو لوگ عقیدۂ محدثین سے بیزار ہیں، وہ بڑی چاہت واہتمام کے ساتھ اسے پڑھتے اور سنتے ہیں۔
علامہ حسین احمد مدنی دیوبندی صاحب (7731ھ) لکھتے ہیں:
انہیں افعالِ خبیثہ واقوالِ واہیہ کی وجہ سے اہل عرب کو ان (محمد بن عبدالوہاب اور ان کے ساتھیوں) سے نفرت بے شمار ہے۔ محمد بریلوی اور ان کے اتباع نے جب ان بزرگوارانِ دین کو وہابیت کی طرف منسوب کیا، تو ان لوگوں نے یہ خیال کیا کہ یہ حضرات (دیوبندی) بھی وہابیہ کے پورے موافق ہیں، مگر حقیقت الحال سے ان کو اطلاع ہی نہیں، ورنہ یہ لوگ بھی پوری طرح عقائد میں ان بزرگواروں کے موافق۔ وہابیہ کثرتِ صلاۃ وسلام، درود خیرالانام رحمہ اللہ، اور قراءتِ دلائل الخیرات، قصیدہ بردہ، وقصیدہ ہمزیہ (یہ دونوں بوصیری کے ہیں) وغیرہ اور اس کے پڑھنے اور اس کے استعمال کرنے اور درود بنانے کو سخت قبیح ومکدر جانتے ہیں اور بعض اشعارِ قصیدہ بردہ میں شرک وغیرہ کی طرف منسوب کرتے ہیں، مثلاً:
یا اشرف الخلق ما لی من الوذ بہٖ
سواك عند حلول حوادث العمم
اے افضلِ مخلوقات، میرا کوئی نہیں جس کی پناہ پکڑوں، بجز تیرے بوقتِ نزولِ حوادث۔۔۔
حالانکہ ہمارے مقدس بزرگانِ دین اپنے متعلقین کو دلائل الخیرات وغیرہ کی سند دیتے ہیں اور ان کو کثرتِ درود وسلام وتخریب وتحبیب وقراءتِ دلائل وغیرہ کا امر فرماتے رہے ہیں۔ ہزاروں کو مولانا گنگوہی، مولانا نانوتوی رحمۃ اللہ علیہما نے اجازت فرمائی اور مدتوں خود بھی پڑھتے رہے ہیں اور مولانا نانوتوی مثلِ شعرِ بردہ پڑھتے تھے:
مدد کر اے کرمِ احمدی کہ تیرے سوا
نہیں ہے قاسمِ بے کس کا کوئی حامی کار
جو تو ہی ہم کو نہ پوچھے تو کون پوچھے گا
بنے گا کون ہمارا تیرے سوا غم خوار
حضرت مولانا ذوالفقار علی صاحب مرحوم ومغفور دیوبندی نے فہمِ عوام کے واسطے قصیدہ بردہ کی اردو شرح فرمائی اور اس کو باعثِ سعادت خیال فرمایا۔ غرض ہمیشہ یہ جملہ اکابرین (آلِ دیوبند) سب کی قراءت وغیرہ کی اجازت دیتے رہے۔
[الشہاب الثاقب، ص 245]
قارئین کرام!
آپ اس عبارت کو بار بار پڑھیں اور ان کے عقیدۂ توحید کی اصلیت کو پہچانیں، یہ حضرات بھی مخلوق سے مدد مانگنا، مشکل میں غیر اللہ کو پکارنا، نبی کریم ﷺ کو فریاد رس سمجھنا جائز کہہ رہے ہیں۔ ان کے عقیدے کے مطابق نبی کریم ﷺ بعد از وفات بھی بے کسوں اور بے بسوں کا حال جانتے ہیں۔ نیز یہ لوگ آپ ﷺ سے پناہ پکڑنے کو بھی سندِ جواز پیش کر رہے ہیں۔ ساتھ ساتھ اہلِ بدعت کی شرک وکفر اور بدعات وخرافات پر مبنی کتابیں پڑھنے کی ترغیب دے رہے ہیں۔
نبی کریم ﷺ کے مبارک عصا سے تبرک:
سیدنا عبد اللہ بن انیس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
[دعاني رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: ” إنه قد بلغني أن خالد بن سفيان بن نبيح الهذلي، يجمع لي الناس ليغزوني وهو بعرنة، فأته فاقتله قال: قلت: يا رسول الله، انعته لي حتى أعرفه. قال: إذا رأيته وجدت له إقشعريرة. قال: فخرجت متوشحا بسيفي حتى وقعت عليه، وهو بعرنة مع ظعن يرتاد لهن منزلا، وحين كان وقت العصر، فلما رأيته وجدت ما وصف لي رسول الله صلى الله عليه وسلم من الإقشعريرة، فأقبلت نحوه، وخشيت أن يكون بيني وبينه محاولة تشغلني عن الصلاة، فصليت وأنا أمشي نحوه أومئ برأسي الركوع والسجود، فلما انتهيت إليه، قال: من الرجل؟ قلت: رجل من العرب سمع بك، وبجمعك لهذا الرجل، فجاءك لهذا. قال: أجل أنا في ذلك. قال: فمشيت معه شيئا، حتى إذا أمكنني حملت عليه السيف حتى قتلته، ثم خرجت، وتركت ظعائنه مكبات عليه، فلما قدمت على رسول الله صلى الله عليه وسلم فرآني، فقال: "أفلح الوجه” قال: قلت: قتلته يا رسول الله. قال: "صدقت” قال: ثم قام معي رسول الله صلى الله عليه وسلم، فدخل بي بيته، فأعطاني عصا، فقال: أمسك هذه عندك، يا عبد الله بن أنيس. قال: فخرجت بها على الناس، فقالوا: ما هذه العصا؟ قال: قلت: أعطانيها رسول الله صلى الله عليه وسلم، وأمرني أن أمسكها، قالوا: أو لا ترجع إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم فتسأله عن ذلك؟ قال: فرجعت إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم، فقلت: يا رسول الله، لم أعطيتني هذه العصا؟ قال: آية بيني وبينك يوم القيامة، إن أقل الناس المتخصرون يومئذ قال: فقرنها عبد الله بسيفه، فلم تزل معه حتى إذامات أمر بها فصبت معه في كفنه، ثم دفنا جمعا]
ایک مرتبہ نبی کریم ﷺ نے مجھے بلا کر فرمایا: مجھے معلوم ہوا ہے کہ خالد بن سفیان بن نبیح ہذلی میرے ساتھ جنگ کرنے کے لیے لوگوں کو جمع کر رہا ہے۔ اس وقت وہ عرنہ میں ہے۔ اس کے پاس جا کر اسے قتل کر آئیے۔ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! مجھے اس کی کوئی علامت بتا دیجیے تا کہ میں اسے پہچان سکوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: جب آپ اسے دیکھیں گے، تو اس کے جسم کے بال کھڑے ہوئے محسوس ہوں گے۔ میں اپنی تلوار لے کر نکل کھڑا ہوا۔ عصر کے وقت جب کہ وہ بھی بطنِ عرنہ میں اپنی عورتوں کے ساتھ تھا، جو ان کے لیے سفر کو آسان بناتی تھیں، میں اس کے پاس پہنچ گیا۔ جب میں نے اسے دیکھا، تو نبی کریم ﷺ کا بیان کردہ وصف اس میں پا لیا۔ میں اس کی طرف چل پڑا۔ پھر میں نے سوچا کہ کہیں میرے اور اس کے درمیان بات چیت شروع ہو گئی، تو نمازِ عصر فوت نہ ہو جائے۔ چنانچہ میں نے چلتے چلتے اشارہ سے رکوع اور سجدہ کر کے نماز ادا کر لی۔ جب میں اس کے پاس پہنچا تو وہ کہنے لگا: آپ کون ہو؟ میں نے کہا: میں عربی شخص ہوں، جس نے آپ کے بارے اور اس شخص (نبی کریم ﷺ) کے لیے لشکر جمع کرنے کے بارے میں سنا، تو آپ کے پاس آ گیا۔ اس نے کہا: بہت اچھا، میں اسی مقصد میں لگا ہوا ہوں۔ میں اس کے ساتھ تھوڑی دیر تک چلا اور جب اس پر قابو پا لیا، تو اس پر تلوار اٹھالی، یہاں تک کہ اسے قتل کر ڈالا۔ پھر میں وہاں سے نکلا اور اس کی عورتوں کو اس پر جھکا ہوا چھوڑ دیا۔ جب نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا، تو آپ ﷺ نے مجھے دیکھ کر فرمایا: یہ چہرہ کامیاب ہو گیا۔ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں اسے قتل کر آیا ہوں۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: آپ نے سچ کہا ہے۔ پھر نبی کریم ﷺ میرے ساتھ اٹھے اور اپنے گھر میں داخل ہوئے۔ وہاں سے ایک عصا لا کر مجھے دیا اور فرمایا: عبداللہ بن انیس! اسے اپنے پاس سنبھال کر رکھیے گا۔ میں وہ لاٹھی لے کر نکلا، تو صحابہ کرام مجھے روک کر پوچھنے لگے: اس لاٹھی کا کیا معاملہ ہے؟ میں نے بتایا کہ یہ نبی کریم ﷺ نے مجھے عنایت فرمائی ہے اور مجھے حکم دیا کہ اسے سنبھال کر رکھوں۔ وہ کہنے لگے: آپ جا کر نبی کریم ﷺ سے اس کے متعلق پوچھیں تو سہی۔ چنانچہ میں نے واپس آ کر آپ ﷺ سے پوچھا: اللہ کے رسول! آپ نے مجھے یہ لاٹھی کس لیے عنایت فرمائی ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: یہ قیامت کے دن میرے اور تمہارے درمیان ایک علامت ہو گی اور اس دن بہت کم لوگوں کے پاس لاٹھی ہو گی۔
سیدنا عبداللہ بن انیس رضی اللہ عنہ نے اسے اپنی تلوار کے ساتھ لگا لیا۔ پھر وہ ہمیشہ ان کے پاس رہی اور جب ان کی وفات ہوئی، تو ان کی وصیت کے مطابق وہ ان کے کفن میں رکھ دی گئی۔ ہم نے ان کے ساتھ اس چھڑی کو بھی دفن کر دیا۔
[مسند الإمام أحمد:16047، وسندهٗ حسن]
اسے امام ابن خزیمہ (982) اور امام ابن حبان رحمہ اللہ (7160) نے ”صحیح“ کہا ہے۔
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے اس کی سند کو ”صحیح“ قرار دیا ہے۔
[فتح الباري: 437/2]
نبی کریم ﷺ کے عطا شدہ سونے سے تبرک:
سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ میں نبی کریم ﷺ کے ہمراہ ایک سفر میں تھا۔ ایک سست اونٹ پر سوار ہونے کی وجہ سے میں سب سے پیچھے رہتا تھا۔ جب نبی کریم ﷺ میرے پاس سے گزرے، تو دریافت فرمایا: کون؟ میں نے عرض کیا: جابر بن عبداللہ۔ آپ ﷺ نے فرمایا: کیا بات ہے؟ میں نے عرض کیا: میں ایک سست اونٹ پر سوار ہوں۔ آپ ﷺ نے مجھ سے چھڑی طلب فرمائی۔ میں نے چھڑی آپ ﷺ کی خدمتِ اقدس میں پیش کی۔ آپ ﷺ نے اس اونٹ کو مارا اور ڈانٹا۔ نبی کریم ﷺ کی برکت سے وہ اونٹ سب سے آگے بڑھ گیا۔ آپ ﷺ نے میرے اونٹ کو خریدنے کی خواہش ظاہر کی، تو میں عرض گزار ہوا: اللہ کے رسول! یہ آپ ہی کا ہے؟ بلا معاوضہ آپ کی خدمت میں حاضر ہے، مگر نبی کریم ﷺ نے خریدنے پر اصرار کیا اور فرمایا: میں نے چار دینار کے عوض اسے خرید لیا ہے اور مجھے مدینہ منورہ تک اس پر سواری کرنے کی اجازت مرحمت فرمائی۔ جب ہم مدینہ منورہ پہنچے، تو آپ ﷺ نے فرمایا:
[يا بلال، أقضه وزده.]
بلال! جابر کو اس کی قیمت ادا دیجیے اور کچھ اضافی بھی دے دیں۔
بلال رضی اللہ عنہ نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کو چار دینار اور ایک قیراط سونا اضافی دے دیا۔
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں:
[لا تفارقني زيادة رسول الله صلى الله عليه وسلم، فلم يكن القيراط يفارق جراب جابر بن عبد الله.]
اللہ کے رسول ﷺ کا اضافی دیا ہوا ایک قیراط سونا مجھ سے کبھی جدا نہیں ہوا۔ راوی کہتے ہیں: سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کو نبی کریم ﷺ کا عطا کیا ہوا اضافی ایک قیراط سونا ہمیشہ ان کی تھیلی میں رہا، کبھی جدا نہیں ہوا۔
[صحيح البخاري: 2309، صحيح مسلم: 715]
نبی کریم ﷺ کے بلغم سے تبرک:
سیدنا مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
[والله، ما تنخم رسول الله صلى الله عليه وسلم نخامة؛ إلا وقعت في كف رجل منهم، فدلك بها وجهه وجلده.]
اللہ کی قسم! رسول اللہ ﷺ نے جب بھی بلغم تھوکا، (زمین پر گرنے کے بجائے) صحابہ کرام میں سے کسی ایک کے ہاتھ پر گرا۔ انہوں نے اسے لے کر اپنے چہرے اور بدن پر مل لیا۔
[صحيح البخاري: 2731]