عرفہ کا روزہ سعودی تاریخ کے مطابق یا اپنے ملک کی تاریخ کے مطابق؟

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ فاروق رفیع صاحب کی کتاب قُربانی، عقیقہ اور عشرہ زی الحجہ سے ماخوذ ہے۔

کیا عرفہ کا روزہ مکہ مکرمہ کی تاریخ کے مطابق رکھا جائے؟

عرفہ کا روزہ سعودی تاریخ کے مطابق رکھا جائے یا ہر علاقے کے لوگ قمری تاریخ کے اعتبار سے نو ذی الحجہ کا روزہ رکھیں۔ موجودہ دور میں یہ ایک مصنوعی اشکال پیدا کر کے یومِ عرفہ کی تعیین میں شکوک و شبہات پیدا کرنے اور یومِ عرفہ کی تعیین کی آڑ میں اس مقدس روزہ کو ایک پیچیدہ مسئلہ بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ حالانکہ اس موقف کے قائل علماء رمضان کے روزوں، دیگر نفلی روزوں اور شبِ قدر کی تعیین میں تو قمری تقسیم کو تسلیم کرتے ہیں لیکن یومِ عرفہ سے دھوکا کھا کر اس کو سعودی تاریخ سے نتھی کرنے کی فضول کوشش کی جاتی ہے، حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ اس موقف کو تسلیم کر لیا جائے تو تمام اسلامی دنیا سعودی یومِ عرفہ کے مطابق روزہ رکھ ہی نہیں سکتی، کیونکہ مشرقی ممالک میں سحری سعودی وقت سے دو یا تین گھنٹے قبل شروع ہوتی ہے اور افطاری بھی ان سے پہلے ہوتی ہے۔ اسی مناسبت سے تو مشرقی لوگ سعودی تاریخ کے مطابق روزہ رکھ ہی نہیں سکتے اور بعض مغربی ممالک میں قمری تاریخ سعودی تاریخ سے آگے ہے۔ چنانچہ مکہ مکرمہ میں جب یومِ عرفہ ہوتا ہے تو وہاں عید الاضحی منائی جا رہی ہوتی ہے، تو اس غیر منصفانہ تقسیم سے تو مغربی ممالک کے مسلمان یومِ عرفہ کے روزہ کی فضیلت ہی سے محروم رہیں گے کیونکہ عید الاضحی کے دن روزہ رکھنا ممنوع ہے۔ اس اعتراض کا مزید تشفی بخش جواب آئندہ فتاویٰ میں ملاحظہ کریں:

حافظ عبد الستار حماد حفظہ اللہ کا فتویٰ:

سوال: سیف الرحمن صدیقی سوال کرتے ہیں کہ عرفہ کا روزہ نویں ذی الحجہ کو رکھنا چاہیے یا جس دن مکہ میں عرفہ کا دن ہوتا ہے؟ خواہ ہمارے ہاں ذوالحجہ کی سات یا آٹھ تاریخ ہو۔
جواب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے: ”یومِ عرفہ کا روزہ رکھنے سے گزشتہ اور آئندہ سال کے گناہ معاف ہو جاتے ہیں۔“
صحيح مسلم : 11562۔ سنن أبي داود : 2420۔ جامع ترمذی : 749۔ سنن ابن ماجه : 1713۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رسولِ رحمت ہیں اور آسان دین لے کر آئے ہیں۔ اس رحمت اور آسانی کا تقاضا یہ ہے کہ عرفہ کا روزہ نویں ذی الحجہ کو رکھا جائے۔ سعودیہ میں یومِ عرفہ کے ساتھ اس کا مطابق ہونا ضروری نہیں، اس کی درج ذیل وجوہات ہیں:
① میں نے علامہ البانی رحمہ اللہ کی تصانیف میں خود اس روایت کو دیکھا ہے، لیکن اب اس کا حوالہ متحضر نہیں، اس روایت میں یومِ عرفہ کے لیے ”اليوم التاسع“ کے الفاظ ہیں، جس کا معنی یہ ہے کہ نویں ذی الحجہ کا روزہ رکھا جائے۔
② تیسیر اور رحمت کا تقاضا اس طرح ہے کہ اس اُمت کو عبادت کی بجا آوری میں اپنے احوال و ظروف سے وابستہ کیا گیا ہے۔ اگرچہ ہم سائنسی دور سے گزر رہے ہیں لیکن آج سے چند سال قبل معلومات کے یہ ذرائع میسر نہ تھے، جن سے سعودیہ میں یومِ عرفہ کا پتا لگایا جا سکتا، اب بھی دیہاتوں اور دور دراز کے باشندوں کو کیسے پتا چلے گا کہ سعودیہ میں یومِ عرفہ کب ہے تاکہ وہ اس دن روزے کا اہتمام کریں۔ لہذا اپنے حالات کو سامنے رکھتے ہوئے نویں ذی الحجہ کا تعین کر کے عرفہ کا روزہ رکھ لیا جائے۔
③ روئے زمین پر ایسے خطے موجود ہیں کہ سعودیہ کے لحاظ سے یومِ عرفہ کے وقت وہاں رات ہوتی ہے، ان کے لیے روزہ رکھنے کا کیا اُصول ہو گا؟ اگر انھیں عرفہ کے وقت روزہ رکھنے کا پابند کیا جائے تو وہ رات کا روزہ رکھیں گے حالانکہ رات کا روزہ شرعاً ممنوع ہے اور اگر وہ اپنے حساب سے روزہ رکھیں گے تو عرفہ کا وقت ختم ہو چکا ہو گا، اس لیے آسانی اسی میں ہے کہ اپنے حالات و ظروف کے اعتبار سے روزہ رکھا جائے۔
④ ہمارے ہاں پاکستان میں یومِ عرفہ کو سات یا آٹھ ذی الحجہ ہوتی ہے۔ کچھ مغربی ممالک ایسے بھی ہیں کہ وہاں یومِ عرفہ کو ذوالحجہ کی دس تاریخ ہوتی ہے۔ اگر سعودی عرب کے اعتبار سے انہیں عرفہ کے دن کا روزہ رکھنے کا مکلف قرار دیا جائے تو وہ اپنے لحاظ سے دس ذوالحجہ کو روزہ رکھیں گے، حالانکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس دن روزہ رکھنے سے منع فرمایا ہے۔ لہذا ضروری ہے کہ ہم اپنے حساب سے نویں ذوالحجہ کا روزہ رکھیں۔
⑤ ہمارے اور سعودی عرب کے طلوع و غروب میں دو گھنٹے کا فرق ہے۔ اگر عرفہ کے روزہ کو سعودی عرب میں یومِ عرفہ سے وابستہ کر دیا جائے تو جب ہم روزہ رکھیں گے تو اس وقت سعودی عرب میں یومِ عرفہ کا آغاز نہیں ہوا ہوگا۔ اسی طرح جب ہم روزہ افطار کریں گے تو سعودی عرب کے لحاظ سے یومِ عرفہ ابھی باقی ہوگا، یہ الجھنیں صرف اس صورت میں دور ہو سکتی ہیں کہ ہم اپنے روزے کو سعودی عرب سے وابستہ نہ کریں بلکہ اپنے حساب سے نویں ذوالحجہ کا تعین کر لیں۔ ان وجوہات کا تقاضا ہے کہ عرفہ کا روزہ ہم اپنے لحاظ سے نویں ذوالحجہ کو ہی رکھیں، خواہ اس وقت وہاں یومِ عرفہ ہو یا نہ ہو۔
فتاوى اصحاب الحديث : 221/11، 220۔

حافظ عبد المنان نورپوری رحمہ اللہ کا فتویٰ:

سوال: نو ذوالحجہ کے روزے کے فضائل تو حدیث سے ثابت ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں اللہ تعالیٰ سے اُمید رکھتا ہوں کہ یومِ عرفہ (نو ذوالحجہ) کے روزہ کے بدلے میں اللہ تعالیٰ ایک گزشتہ اور ایک آئندہ سال کے گناہ معاف فرمائیں گے اور یومِ عاشورا کے روزہ کے بدلہ میں گزشتہ ایک سال کے گناہ معاف فرمائیں گے۔“
مختصر صحیح مسلم : 620۔
ایک عالم دین جو صحیح بخاری پڑھاتے ہیں، ان کا موقف ہے کہ عرب کا نو ذوالحجہ کا روزہ ہمارے ہاں آٹھ ذوالحجہ کا روزہ بنتا ہے، لہذا ہمیں نو کے بجائے آٹھ ذوالحجہ کا روزہ رکھنا چاہیے۔ نیز عرفہ کا روزہ، میدانِ عرفات میں حاجی صاحبان رکھیں یا نہ رکھیں؟
جواب: پاکستان اور سعودی عرب کے مابین قمری تاریخ کا فرق ہے۔ کبھی ایک یوم اور کبھی دو یوم کا فرق معلوم ہے، بڑی عید اور چھوٹی عید پاکستان کی تاریخ کے مطابق منائی جاتی ہے۔ اسی طرح رمضان المبارک کا آغاز بھی ملکی تاریخ کے موافق ہوتا ہے۔ ان تینوں اُمور میں اپنے ملک کی قمری تاریخ کو محوظ رکھا جاتا ہے۔ ظاہر ہے اس کے جو دلائل ہیں وہ 9 ذوالحجہ پر بھی صادق آتے ہیں، لہذا 9 ذوالحجہ میں بھی اپنے ملک ہی کی قمری تاریخ معتبر ہوگی۔
کریب رحمہ اللہ جو ابن عباس رضی اللہ عنہما کے غلام ہیں سے مروی ہے:
سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کی زوجہ سیدہ ام فضل رضی اللہ عنہا نے انہیں (کریب رحمہ اللہ کو) سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس شام بھیجا۔ کریب رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے شام آکر ان کا کام کیا۔ میں ابھی شام ہی میں تھا کہ رمضان کا چاند نظر آ گیا۔ میں نے بھی جمعہ کی رات چاند دیکھا، پھر میں رمضان کے آخر میں مدینہ واپس آ گیا۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے چاند کے بارے میں مجھ سے دریافت کیا کہ تم نے (وہاں) چاند کب دیکھا تھا؟ میں نے جواب دیا: ”ہم نے تو جمعہ کی رات کو دیکھا تھا۔“ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے پھر پوچھا: ”کیا تم نے خود دیکھا تھا؟“ میں نے جواب دیا: ”ہاں، بہت سے آدمیوں نے بھی دیکھا تھا اور سب لوگوں نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ (دوسرے دن یعنی ہفتہ کا) روزہ رکھا تھا۔“ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”ہم نے تو چاند ہفتہ کے دن (یعنی ایک دن کے فرق سے) دیکھا ہے۔ ہم اس حساب سے روزے رکھتے رہیں گے، یہاں تک کہ تیس دن پورے کر لیں۔“ کریب رحمہ اللہ نے کہا: ”کیا آپ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی رؤیت اور ان کے روزے کو کافی نہیں سمجھتے؟“ فرمایا: ”نہیں! ہمیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی طرح حکم فرمایا ہے۔“
مختصر صحیح مسلم : 578۔
اس حدیث سے پتا چلا کہ ہر علاقے کا علاقائی طور پر چاند کا نظر آنا اور دیکھنا معتبر ہوگا اور روزہ، عیدین، یومِ عاشوراء، یومِ عرفہ اور دوسرے تمام شرعی احکامات میں ہر علاقہ کی اپنی رؤیت ہی معتبر ہوگی۔
احکام و مسائل از حافظ عبد المنان نور پوری :419/2، 418۔