بشمول رسول اللہ کے غیر اللہ کی قسم حرام ہے :
بعض علماء کا خیال ہے کہ رسول اللہ کے نبی ہونے کی وجہ سے آپ کی قبر مکرم کو مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے۔ اس توجیہ کے پیش نظر وہ دوسرے انبیاء کرام کی قبروں کی طرف سفر کو بھی جائز سمجھتے ہیں۔ اور اسی توجیہ کو مدنظر رکھتے ہوئے لوگوں میں اختلاف پیدا ہوا ہے کہ آیا رسول اللہ کی قسم کھائی جا سکتی ہے یا نہیں؟ حالانکہ اس بات میں سب کا اتفاق ہے کہ اللہ تعالیٰ کی مخلوق جیسے عرش، کرسی، بیت اللہ اور ملائکہ وغیرہ کی قسم کھانا ممنوع ہے۔ (ایسے ہی رسول اللہ کی قسم کھانا بھی ممنوع و نا جائز ہے)
جمہور علماء جیسے امام مالک، امام شافعی، امام ابوحنیفہ اور امام احمد رحمہم اللہ کے ایک قول کے مطابق نبی کی قسم نہیں اٹھائی جا سکتی۔ اگر کوئی شخص قسم اٹھا بھی لے تو وہ منعقد نہ ہو گی جیسے عام مخلوق کی قسم اٹھانے سے قسم منعقد نہیں ہوتی۔ اور ایسے شخص پر کسی قسم کا کفارہ بھی واجب نہ ہو گا جو غیر اللہ کی قسم اٹھا کر توڑ دے۔ صحیح بخاری میں آپ کا ارشاد ہے:
لا تحلفوا إلا بالله
”صرف اللہ تعالیٰ کی قسم اٹھاؤ۔“
سنن ابی داود کتاب الايمان والنذور : باب في كراهية من الآباء (حدیث : 3248) سنن نسائی – كتاب الايمان والنذور : باب الحلف بالامهات (حديث : 3800) ولم اجده في الصحيحين والله اعلم
من كان حالفا فليحلف بالله أو ليصمت
”جو شخص قسم اٹھانے کا ارادہ کرے تو وہ صرف اللہ کی قسم اٹھائے ورنہ خاموش رہے۔“
صحیح بخاری کتاب الایمان والنذور : باب لا تحلفوا باباتكم (حديث : 6646) صحيح مسلم کتاب الايمان : باب النهي عن الحلف بغير الله (حديث : 1646)
کتب سنن میں آپ کا یہ ارشاد بصراحت موجود ہے:
من حلف بغير الله فقد أشرك
”جس نے غیر اللہ کی قسم کھائی اس نے شرک کیا۔“
سنن ابی داود کتاب الايمان والنذور : باب في كراهية الحلف بالآباء (حدیث : 3251) سنن ترمذی کتاب النذور والايمان : باب ماجاء في كراهية الحلف بغير الله (حديث : 1535 )
امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ سے ایک قول یہ بھی منقول ہے کہ رسول اللہ کی قسم کھائی جا سکتی ہے کیونکہ آپ پر ایمان لانا اور کلمہ شہادت اور اذان میں آپ کا ذکر واجب ہے۔ آپ پر ایمان لانا ایسی خصوصیت ہے جس میں کوئی دوسرا شخص آپ کا شریک نہیں ہو سکتا ہے۔
بسم الله الرحمٰن الرحيم
راقم الحروف زیر مطالعہ کتاب، ترجمہ و تفہیم کے دوران جب اس مقام پر پہنچا کہ امام اہل السنت احمد بن حنبل رحمہ اللہ سے حلف بالنبی کے جواز پر بھی ایک قول منقول ہے تو زمین پاؤں تلے سے نکل گئی۔ ایک سکتہ طاری ہو گیا۔ احقر نے علمائے حرمین الشریفین کی طرف رجوع کیا۔ مسئلہ کی نوعیت ان کے سامنے پیش کی۔ شیوخ الحرمین نے تحریری طور پر جو جوابات مرحمت فرمائے ان سے میری تشفی ہی نہیں ہوئی بلکہ وہ ایمان میں پختگی کا ذریعہ بھی بنے۔( فجزاهم الله عني وعن المسلمين خيرا)۔ جن کا خلاصہ پیش خدمت ہے۔ نیز فتاویٰ کی اصل کاپی بھی مترجم کے پاس موجود ہے جو کسی بھی راہ حق کے متلاشی کو دکھائی جا سکتی ہے۔
فضیلۃ الشیخ عبدالعزیز بن عبداللہ بن باز، رئیس ادارات البحوث العلمیۃ والافتاء والدعوۃ والارشاد، الریاض اس موضوع پر سیر حاصل علمی بحث کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
رسول اللہ سے صحیح روایات سے ثابت ہے کہ غیر اللہ کی قسم کھانا شرک ہے۔ ایسی قسم اٹھانے کا نتیجہ قسم اٹھانے والے کے حسب حال شرک اصغر یا شرک اکبر کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے۔ جیسا کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ایک حدیث میں رسول اللہ نے فرمایا:
من حلف بغير الله فقد كفر أو أشرك
”جس نے غیر اللہ کی قسم کھائی اس نے کفر کیا یا شرک کیا۔“
سنن ابی داود کتاب الايمان والنذور : باب في كراهية المحلف بالآباء ( حليش 3251) سنن ترمذی کتاب النذور والأيمان : باب ماجاء في كراهية الحلف بغیر الله (حدیث : 1535)
صحیحین میں سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إن الله ينهاكم أن تحلفوا بآبائكم من كان حالفا فليحلف بالله أو ليصمت
”آباؤ اجداد کی قسمیں کھانے سے اللہ تعالی تمہیں منع کرتا ہے۔ اور جو شخص قسم کھانا چاہے تو وہ صرف اللہ کی قسم کھائے یا وہ خاموش رہے۔“
(صحيح بخاري كتاب الأيمان والنذور : باب لا تحلفوا بآبائكم حديث : 2146 صحيح مسلم كتاب الأيمان : باب النهي عن الحلف بغير الله حديث : 1642)
ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ایک حدیث نبوی کے یہ الفاظ بھی موجود ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
من كان حالفا فلا يحلف إلا بالله
”جو شخص قسم کھانا چاہے اسے صرف اللہ کی قسم کھانی چاہئے۔“
(صحيح بخاري كتاب مناقب الأنصار : باب أيام الجاهلية حديث : 3836 صحيح مسلم حوالہ سابق)
قریش کی عادت تھی کہ وہ اپنے آباؤ اجداد کی قسمیں کھایا کرتے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بایں الفاظ ممانعت فرمائی:
إن الله ينهاكم أن تحلفوا بآبائكم
”آباؤ اجداد کی قسمیں کھانے سے اللہ تمہیں منع کرتا ہے۔“
(صحيح بخاري كتاب الأيمان والنذور : باب لا تحلفوا بآبائكم حديث : 6646 صحيح مسلم حوالہ سابق)
ایک صحیح روایت میں ذکر ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
من حلف فقال فى حلفه واللات والعزى فليقل لا إله إلا الله وليستغفر
”جو شخص لات اور عزی کی قسم کھائے تو اسے لا الہ الا اللہ کا اقرار اور استغفار کرنا چاہئے۔“
(صحيح بخاري كتاب الأيمان والنذور : باب لا يحلف باللات والعزى ولا بالطواغيت حديث : 2250 صحيح مسلم كتاب الأيمان والنذور : باب من حلف باللات والعزى حديث : 1647)
ایک دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کو لات اور عزی کی قسم کھاتے ہوئے سنا تو فوراً فرمایا: ”لا اله الا الله كهو.“ مندرجہ بالا واقعات میں کلمہ توحید اور استغفار کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حلف بغیر اللہ کا کفارہ قرار دیا ہے۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا مشہور قول ہے:
لأن أحلف بالله كاذبا أحب إلى من أن أحلف بغيره صادقا
”اللہ کی جھوٹی قسم کرنا مجھے اس بات سے زیادہ پسند ہے کہ میں غیر اللہ کی سچی قسم کھاؤں۔“
(المعجم الكبير : 8902 مصنف ابن أبي شيبة : 179/2)
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے مندرجہ بالا فرمان کی شرح میں امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
حلف باللہ توحید ہے اور حلف بغیر اللہ شرک ہے۔ توحید والی نیکی صدق والی نیکی سے بڑی ہے اور کذب کی برائی شرک کی برائی سے کم تر ہے۔ اس اصول کو پیش نظر رکھتے ہوئے سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے اللہ تعالی کی جھوٹی قسم کو حلف بغیر اللہ پر ترجیح دی۔
اب جواز حلف بالرسول صلی اللہ علیہ وسلم کو لیجیے جسے بعض حنابلہ درست تسلیم کرتے ہیں۔ اس کا جواب سیدنا امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کا وہ مشہور قول ہے جس میں وہ مطلقاً حلف بغیر اللہ کو ممنوع اور شرک قرار دیتے ہیں۔ امام موصوف کے اس قول کو جمہور علماء نے صحیح کہا ہے اور یہی قول معتمد علیہ ہے۔ حلف بالرسول صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں ہم پوری ذمہ داری اور انشراح صدر سے دلائل قطعیہ کی بنیاد پر عرض کرنا چاہتے ہیں کہ امام موصوف کا حلف بالرسول کے جواز والا قول
مخالف للأصول والنصوص الثابتة عن النبى صلى الله عليه وسلم فى النهي عن الحلف بغير الله وتحريمه مطلقا
”اصول اور نصوص قطعیہ جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے حلف بغیر اللہ کی نفی اور حرام ہونے پر دلالت کناں ہیں کے خلاف ہے۔“
کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہی نجات اور خیر کے تمام راستوں کو امت کے لیے واضح اور متعین فرمایا اس لیے تمام علمائے امت کا اتفاق ہے کہ صرف اللہ تعالیٰ یا اس کی صفات ہی کی قسم کھائی جا سکتی ہے اور بس۔
علامہ ابن عبدالبر رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
لا يجوز الحلف بغير الله إجماعا
”غیر اللہ کی قسم کھانے کی ممانعت پر اجماع ہے۔“
شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ اپنے فتاویٰ میں رقم طراز ہیں:
إن الحلف بسائر المخلوقات حرام عند جماهير علماء المسلمين
”جمہور علماء کے نزدیک تمام مخلوقات میں سے کسی کی قسم کرنا حرام ہے۔“
پس مندرجہ بالا احادیث و اقوال نیز کتب صحاح اور سنن میں اس موضوع پر جو احادیث درج ہیں ان میں ان لوگوں کے دلائل اور توہمات کی تردید پائی جاتی ہے جو حلف بالنبی صلی اللہ علیہ وسلم کے قائل ہیں۔
سوال:
فضیلۃ الشیخ محمد بن عبداللہ السبیل حفظہ اللہ تعالی امام الحرم المکی الشریف
بعض لوگ حلف بغیر اللہ کے جواز پر دو امور سے استدلال کرتے ہیں:
پہلی دلیل یہ پیش کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوق میں سے کئی چیزوں کی قسم کھائی ہے جس کا تذکرہ قرآن کریم میں موجود ہے۔ دوسری دلیل یہ پیش کی جاتی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک دیہاتی نے آ کر اسلام کے بارے میں کچھ سوالات کیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو جواب دے کر فرمایا:
أفلح وأبيه إن صدق
”اگر اس نے سچ کہا ہے تو اس کے باپ کی قسم وہ کامیاب ہوا۔“
جواب:
اللہ تعالی کا اپنی کسی مخلوق کی قسم کھانے کا اسے حق ہے کہ جس کی چاہے قسم کھائے کیونکہ اللہ تعالی جس چیز کی قسم کھاتا ہے اس کی تخلیق میں اللہ تعالیٰ کی قدرت و حکمت ہے اس کی ربوبیت و الوہیت کا اثبات ہے۔ گویا ان کی تعظیم درحقیقت اللہ تعالی ہی کی تعظیم ہے کیونکہ اللہ ہی نے ان کو پیدا کیا ہے۔ اس میں اللہ کی قدرت، حکمت، ربوبیت، الوہیت اور اس کی کامل صفات کی دلالت موجود ہے۔ رہی اس کی مخلوق تو اسے یہ حق نہیں کہ وہ کسی کی بڑائی بیان کرے کیونکہ اللہ کا حکم ہے کہ صرف اس کی بڑائی بیان کی جائے اور مخلوق کو حق نہیں کہ اس کی تعظیم بیان کی جائے کیونکہ وہ مخلوق ہے، مربوب ہے۔ رب کریم نے اپنے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے سے ہمیں حکم دیا ہے کہ ہم غیر اللہ میں سے کسی کی بھی قسم نہ کھائیں۔
جیسے صحیحین کی روایت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
من كان حالفا فليحلف بالله أو ليصمت
”جو شخص قسم کھانا چاہے اسے صرف اللہ کی قسم کھانی چاہئے یا وہ خاموش رہے۔“
(صحيح بخاري كتاب الأيمان والنذور : باب لا تحلفوا بآبائكم حديث : 6646 صحيح مسلم كتاب الأيمان : باب النهي عن الحلف بغير الله تعالى حديث : 1646)
امام شعبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
الخالق يقسم بما شاء من خلقه والمخلوق لا يقسم إلا بالخالق
”خالق کائنات اپنی مخلوق میں سے جس کی چاہے قسم کھا سکتا ہے البتہ مخلوق صرف اپنے خالق کی قسم کھا سکتی ہے۔“
امام شعبی رحمہ اللہ مزید فرماتے ہیں:
لأن أقسم بالله فأحنث أحب إلى من أن أقسم بغيره فأبر
”اللہ کی قسم کھا کر توڑ دینے کو میں اس بات پر ترجیح دیتا ہوں کہ غیر اللہ کی قسم کھا کر اسے پورا کروں۔“
رہی دوسری دلیل جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ أفلح وأبيه إن صدق تو اس حدیث کے بارے میں علامہ ابن عبدالبر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ لفظ وأبيه غیر محفوظ ہے کیونکہ اسماعیل بن جعفر کی روایت کے مطابق الفاظ یہ ہیں:
أفلح والله إن صدق
”اگر اس نے سچ کہا ہے تو واللہ وہ کامیاب ہو گیا۔“
علامہ ابن عبد البر رحمہ اللہ ایک نکتہ یہ بھی بیان کرتے ہیں کہ بعض راویوں نے لفظ والله کی جگہ غلطی سے وابيه پڑھ لیا جو بعد میں مشہور ہو گیا۔ بعض علماء کا موقف یہ ہے کہ ابتدائے اسلام میں حلف بغیر اللہ کی ممانعت نہ تھی، البتہ بعد میں اس کی حرمت بیان کر دی گئی چنانچہ حلف بغیر اللہ کی ممانعت اور اس کے شرک ہونے پر کافی احادیث نبوی موجود ہیں جیسے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إن النبى أدرك عمر بن الخطاب فى ركب يحلف بأبيه فقال ألا إن الله ينهاكم أن تحلفوا بآبائكم من كان حالفا فليحلف بالله أو ليصمت
”سیدنا عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ ایک قافلے کے ساتھ جا رہے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو اپنے باپ کی قسم کھاتے ہوئے سنا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: خبردار! اللہ تعالیٰ نے تمہیں اپنے آباؤ اجداد کی قسمیں کھانے سے منع کیا ہے۔ لہذا جو شخص قسم کھانا چاہے تو اسے صرف اللہ کی قسم کھانی چاہئے یا وہ خاموش رہے۔“
(بخاري ومسلم : صحيح مسلم كتاب الإيمان : باب بيان الصلوات التي هي أحد أركان الإسلام حديث : 11/9)
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے ایک اور روایت بھی منقول ہے جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
من كان حالفا فلا يحلف إلا بالله
”جو شخص قسم کھانا چاہے وہ صرف اللہ کی قسم کھائے۔“ (تقدم تخريجه)
قریش کی عادت یہ تھی کہ وہ اپنے آباؤ اجداد کی قسمیں کھایا کرتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو منع کرتے ہوئے فرمایا:
لا تحلفوا بآبائكم
”اپنے آباؤ اجداد کی قسمیں نہ کھایا کرو۔“(مسلم)
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ میں لات اور عزی کی قسمیں کھا بیٹھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
قل لا إله إلا الله وحده لا شريك له ثم انفث عن يسارك وتعوذ ولا تعد
”لا الہ الا اللہ وحدہ لا شریک لہ کہو اور اپنی بائیں جانب تھوک دو اور اللہ کی پناہ مانگو اور پھر ہرگز ایسا نہ کرنا۔“
(سنن نسائي كتاب الأيمان والنذور : باب الحلف باللات والعزى حديث : 3807، 3808 سنن ابن ماجه كتاب الكفارات : باب النهي أن يحلف بغير الله حديث : 2097)
خلاصہ گفتگو یہ نکلا کہ حلف غیر اللہ زبان زد عام تھا حتی کہ اس کی نفی اور ممانعت کر دی گئی۔
امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کی تالیفات میں یہ بات نہیں ملتی کہ آپ نے حلف بغیر اللہ یا حلف بالنبی صلی اللہ علیہ وسلم کو جائز لکھا ہو۔ البتہ آپ کے بعض شاگرد اپنی کتب میں حلف بالنبی صلی اللہ علیہ وسلم کو امام صاحب کی طرف منسوب کرتے ہیں اور دلیل یہ پیش کرتے ہیں:
”امام صاحب کے نزدیک جو شخص غیر اللہ کی قسم کھائے اس پر کفارہ ہے۔“
جواب:
اس سے تو یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ حلف بغیر اللہ اور کفارہ آپس میں لازم و ملزوم نہیں کیونکہ امام صاحب رحمہ اللہ نے ہمیشہ احتیاط کو پیش نظر رکھا اور احتیاط ہی کے پیش نظر غیر اللہ کی قسم کھانے والے پر کفارہ ضروری قرار دیا ہے تاکہ وہ بری الذمہ ہو جائے۔
چنانچہ امام موصوف کے اصحاب میں اختلاف ہے کہ آیا کفارہ واجب ہے یا مستحب؟ چنانچہ بعض وجوب کے اور بعض استحباب کے قائل ہیں جیسے شیخ الحنابلہ المغنی میں لکھتے ہیں کہ: امام احمد رحمہ اللہ کا کلام وجوب کی بجائے استحباب پر محمول کیا جائے گا کیونکہ اگر قسم منعقد ہوتی تو کفارہ واجب ہوتا۔ احتیاط کے قرین قیاس بھی یہی ہے جیسا کہ امام موصوف سے منقول ہے کہ آپ فرقہ جہمیہ کے پیچھے نماز کو جائز سمجھتے تھے حالانکہ آپ فرقہ جہمیہ کو کافر قرار دیتے تھے بایں ہمہ آپ نے ان کے پیچھے نماز کو احتیاطاً جائز سمجھا اس کی مثال یوں دی جا سکتی ہے کہ جیسے مطلع ابر آلود ہونے کی صورت میں شک کا فائدہ دیتے ہوئے آپ نے روزہ رکھنا واجب لکھا ہے حالانکہ احادیث میں شک کی صورت میں روزہ رکھنے کی ممانعت ہے۔
ائمہ اور دیگر علمائے امت کا معروف مسلک بھی یہی ہے کہ مخلوق میں سے کسی کی قسم کھانا ممنوع ہے۔ چنانچہ علامہ ابن عبدالبر رحمہ اللہ نے صحیحین کی ایک حدیث کی روشنی میں اس پر اجماع نقل کیا ہے۔ حدیث کے الفاظ یہ ہیں:
إن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال من كان حالفا فليحلف بالله أو ليصمت
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص قسم کھانا چاہے اسے صرف اللہ کی قسم کھانی چاہئے یا وہ خاموش رہے۔“(تقدم تخريجه)
سیدنا عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً روایت ہے جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
من حلف بغير الله فقد كفر أو أشرك
”جس شخص نے کسی بھی غیر اللہ کی قسم کھائی اس نے کفر کیا یا شرک کیا۔“(تقدم تخريجه)
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کا مشہور قول ہے کہ:
لأن أحلف بالله كاذبا أحب إلى من أن أحلف بغيره صادقا
”غیر اللہ کی سچی قسم کھانے پر اللہ کی جھوٹی قسم کھانے کو میں ترجیح دیتا ہوں۔“(تقدم تخريجه)
شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے مندرجہ بالا قول کے موافق سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما اور سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے بھی اقوال منقول ہیں۔ پس ثابت ہوا کہ حلف بغیر اللہ کذب سے بڑا گناہ ہے۔ حالانکہ تمام امتوں میں کذب حرام ہے۔ نتیجہ نکلا کہ حلف بغیر اللہ تمام محرمات سے بڑا ہے۔ اگر بالفرض تسلیم کر لیا جائے کہ امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ حلف بالنبی صلی اللہ علیہ وسلم کے قائل تھے تو ہم یہ کہنے میں حق بجانب ہیں کہ امام صاحب رحمہ اللہ معصوم نہ تھے جیسا کہ انبیاء علیہم السلام معصوم ہیں۔ امام صاحب کیا، ہر شخص سے غلطی کا امکان ہے۔ لہذا امام صاحب رحمہ اللہ نے اپنے اس قول میں بطور دلیل نہ کوئی آیت پیش کی اور نہ ہی حدیث۔ لہذا کسی بھی امام کی رائے کو قبول کرنا ضروری نہیں، خصوصاً جب کہ وہ کتاب و سنت سے معارض ہو۔ کتاب و سنت سے تعارض کی صورت میں اپنے قول کی تردید اور عدم عمل واجب ہو جاتا ہے۔ خود امام صاحب رحمہ اللہ اور دوسرے ائمہ کرام رحمہم اللہ نے بھی ایسے قول کی تردید کی وصیت اور تلقین کی ہے۔ امام احمد رحمہ اللہ نے اپنی اور دوسرے ائمہ کی تقلید کی تردید میں فرمایا:
خذوا مما أخذوا ولا تقلدوا الرجال فى دينكم
”احکام شریعت وہیں سے لو جہاں سے ائمہ کرام نے لیے تھے اور اپنے دین کے معاملے میں لوگوں کی تقلید نہ کرو۔“
ایک دوسرے مقام پر فرماتے ہیں:
عجبت لقوم عرفوا الإسناد وصحته يذهبون إلى ر أى سفيان والله يقول فليحذر الذين يخالفون عن أمره أن تصيبهم فتنة أو يصيبهم عذاب أليم
حتی کہ ابن مسعود اور ابن عباس میں سے ایک کا یہ قول مشہور ہے: ”مجھے ان لوگوں پر تعجب ہوتا ہے جو سند اور اس کی صحت کو جان کر پھر سفیان رحمہ اللہ کی رائے کی طرف جاتے ہیں، حالانکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جو لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت کرتے ہیں، ان کو ڈرنا چاہئے کہ (کہیں ایسا نہ ہو کہ) ان پر کوئی آفت پڑ جائے یا تکلیف دینے والا عذاب نازل ہو۔“
(كتاب التوحيد ص : 172 مغني المريد : 6/2391)
مجھے ان لوگوں پر تعجب ہوتا ہے جو سند اور اس کی صحت کو جان کر پھر سیدنا سفیان کی رائے کی طرف جاتے ہیں حالانکہ اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے کہ جو لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت کرتے ہیں ان کو ڈرنا چاہئے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ ان پر کوئی آفت پڑ جائے یا تکلیف دینے والا عذاب نازل ہو۔
سید تا این عباس کا مشہور قول ہے:
يوشك أن تنزل عليكم حجارة من السماء أقول قال رسول الله وتقولون قال أبو بكر وعمر
”قریب ہے کہ تم پر آسمان سے پتھر برسیں میں تم کو یہ کہتا ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یوں فرمایا ہے اور تم یہ کہتے ہو کہ ابوبکر وعمر رضی اللہ عنہما کہتے تھے۔“
(كتاب التوحيد ص : 146 والخطيب في الفقيه والمتفقه : 379، 380)
غور کا مقام ہے کہ جب سیدنا ابوبکر وعمر رضی اللہ عنہما کے بارے میں یہ موقف ہو تو ائمہ کرام یا کسی دوسرے عالم کی رائے کی کتاب و سنت کے مقابلے میں کیا حیثیت ہوگی؟ حقیقت یہ ہے کہ امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ دوسرے ائمہ کے مقابلے میں کتاب و سنت سے دلیل اخذ کرنے میں زیادہ سخت اور محتاط تھے۔
ائمہ اربعہ اور دوسرے علماء امت کے نزدیک حلف بالمخلوق کے جواز پر کوئی دلیل اور حدیث مروی نہیں ہے بلکہ اس کی ممانعت میں احادیث موجود ہیں جیسے صحیحین کی روایت کے مطابق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
من كان حالفا فليحلف بالله أو ليصمت
”جو شخص قسم کھانا چاہے اسے صرف اللہ کی قسم کھانی چاہئے یا وہ خاموش رہے۔“(تقدم تخريجه)
ترمذی اور حاکم کی روایت کے مطابق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
من حلف بغير الله فقد كفر أو أشرك
”جس شخص نے کسی بھی غیر اللہ کی قسم کھائی اس نے کفر کیا یا شرک کیا۔“واللہ اعلم(تقدم تخريجه)
ابن عقیل رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ آپ کی قسم کھانا اس لیے جائز ہے کہ آپ نبی مرسل ہیں اس پر دوسرے انبیاء علیہم السلام کو بھی قیاس کیا جا سکتا ہے۔
لیکن صحیح مسلک وہی ہے جس پر سلف و خلف ائمہ اسلام کا اتفاق ہے یعنی یہ کہ کسی مخلوق کی قسم نہیں کھائی جا سکتی خواہ وہ کوئی نبی یا غیر نبی ہو فرشتہ ہو بادشاہ ہو یا کوئی بڑا پیر ہو۔ اکثر اہل علم کے نزدیک غیر اللہ کی قسم کھانا حرام ہے جیسا کہ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک بھی غیر اللہ کی قسم کھانا حرام ہے۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا مشہور قول ہے:
لأن أحلف بالله كاذبا أحب إلى من أن أحلف بغير الله صادقا
”مجھے اللہ کی جھوٹی قسم کھانا زیادہ پسند ہے اس سے کہ میں غیر اللہ کی سچی قسم کھاؤں۔“
(المعجم الكبير للطبراني: 8901، مصنف ابن أبي شيبة: 2/179)
مندرجہ ذیل الفاظ بھی مروی ہیں:
لأن أحلف بالله كاذبا أحب إلى من أن أضاهي
”اللہ کی جھوٹی قسم کھانا مجھے زیادہ پسند ہے اس سے کہ میں اس کے ساتھ کسی کو مشابہ قرار دوں۔“
(حوالہ سابق)
لہذا ثابت ہوا کہ غیر اللہ کی قسم کھانا شرک ہے۔ اور شرک بہر حال جھوٹ سے بڑا گناہ ہے کیونکہ یہ جھوٹ کی برائی کی انتہا ہے کہ اسے شرک سے مشابہت دی جائے۔ جیسا کہ ایک صحیح حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو یا تین مرتبہ فرمایا:
عدلت شهادة الزور بالإشراك بالله
”جھوٹی گواہی شرک باللہ کے برابر قرار دی گئی ہے۔“
(مسند أحمد: 4/321، سنن الترمذي: 2299، و اسناده ضعیف سنن أبي داؤد: 3594، سنن ابن ماجه: 2372)
اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن کریم کی یہ آیت تلاوت فرمائی:
وَاجْتَنِبُوا قَوْلَ الزُّورِ ﴿٣٠﴾حُنَفَاءَ لِلَّهِ غَيْرَ مُشْرِكِينَ بِهِ ۚ وَمَن يُشْرِكْ بِاللَّهِ فَكَأَنَّمَا خَرَّ مِنَ السَّمَاءِ فَتَخْطَفُهُ الطَّيْرُ أَوْ تَهْوِي بِهِ الرِّيحُ فِي مَكَانٍ سَحِيقٍ ﴿٣١﴾
”جھوٹی باتوں سے پرہیز کرو، یکسو ہو کر اللہ کے بندے بنو، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو۔ اور جو کوئی اللہ کے ساتھ شرک کرے تو گویا وہ آسمان سے گر گیا، اب یا تو اسے پرندے اچک لے جائیں گے یا ہوا اس کو ایسی جگہ لے جا کر پھینک دے گی جہاں اس کے چیتھڑے اڑ جائیں گے۔“
(22-الحج:30-31)
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے نزدیک یہ ایسا ممنوع عمل، بلکہ فعل حرام ہے جو جھوٹی قسم کھانے سے بھی زیادہ سنگین ہے۔ اہل علم کے ایک گروہ کا گمان یہ ہے کہ حلف بغیر اللہ ایسا فعل ہے جس کی نہی ثابت نہیں ہے۔ اور اس گروہ نے ادھر ادھر کے بے بنیاد دلائل بھی دیے ہیں۔ لیکن ہم ان کے سامنے اللہ تعالیٰ کا ارشاد پیش کرتے ہیں جس میں حکم ہے:
أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَأُولِي الْأَمْرِ مِنكُمْ ۖ فَإِن تَنَازَعْتُمْ فِي شَيْءٍ فَرُدُّوهُ إِلَى اللَّهِ وَالرَّسُولِ إِن كُنتُمْ تُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ ۚ ذَٰلِكَ خَيْرٌ وَأَحْسَنُ تَأْوِيلًا ﴿٥٩﴾
”اطاعت کرو اللہ کی اور اطاعت کرو رسول کی، اور ان لوگوں کی جو تم میں سے صاحب امر ہوں۔ پھر اگر تمہارے درمیان کسی معاملہ میں نزاع ہو جائے تو اسے اللہ اور رسول کی طرف پھیر دو، اگر تم واقعی اللہ اور روز آخر پر ایمان رکھتے ہو۔ یہی ایک صحیح طریق کار ہے اور انجام کے اعتبار سے بھی بہتر ہے۔“
(4-النساء:59)
پس اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول نے جو حکم دیا ہے وہی صحیح ہے اور وہ یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غیر اللہ کی قسم کھانے، طلوع شمس اور غروب آفتاب کے وقت نماز پڑھنے، قبروں کو مسجد بنانے، اپنی قبر مکرم کو میلہ بنانے اور تین مساجد کے علاوہ کسی بھی مسجد کی طرف سفر کرنے سے منع فرمایا ہے۔
اور اس قسم کے تمام احکام کا مقصد یہ ہے کہ:
دین خالص اللہ کے لیے ہو جائے۔ عبادت صرف اللہ وحدہ لا شریک لہ کی ہو۔ توحید کی حفاظت ہو۔ دین سارے کا سارا اللہ ہی کے لیے ہو جائے۔ اس کے سوا کسی کی عبادت نہ ہو۔ اس کے سوا کسی کو نہ پکارا جائے۔ اس کے سوا کسی سے خوف نہ کھایا جائے۔
اس کے سوا کسی کے لیے نہ روزہ رکھا جائے نہ نماز پڑھی جائے۔ اس کے سوا کسی کے نام کی نذر نہ مانی جائے۔ اس کے سوا کسی کی قسم نہ کھائی جائے، بیت اللہ کے سوا کسی دوسرے گھر کا حج نہ کیا جائے کیونکہ فرض حج اللہ کے مقدس گھر کے علاوہ کسی کا نہیں اور وہ صرف مسجد الحرام (بیت اللہ) ہے۔