قیامت کی نشانی : ہر بندہ مؤمن کی روح قبض کر لی جائے گی
عن النواس بن سمعان رضى الله عنه عن النبى صلى الله عليه وسلم قال : فبينما هم كذلك إذ بعث الله ريحا طيبة فتأخذهم تحت آباطهم فتقبض روح كل مؤمن وكل مسلم ويبقى شرار الناس يتهارجون فيها تهارج الحمر فعليهم تقوم الساعة
حضرت نواس بن سمعان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : (دجال نکلے گا پھر عیسیٰ علیہ السلام اسے قتل کریں گے پھر یاجوج ماجوج نکل کر ہلاک ہو جائیں گے پھر امن و امان کا دور دورہ ہو گا پھر) اسی اثنا اللہ تعالیٰ ایک عمدہ ہوا بھیجیں گے جو ان کی بغلوں کے نیچے سے اثر کرتی ہوئی گزرے گی اور ہر مؤمن و مسلم کی روح قبض کرلے گی پھر بدترین لوگ باقی رہ جائیں گے جو گدھوں کی طرح باہم جھگڑیں گے (یا بد کاریاں کریں گے) اور انہیں پر قیامت قائم ہوگی۔
مسلم : کتاب الفتن : باب ذكر الدجال (2937) احمد (248/4) ابو داؤد (4321) ترمذی (2240) ابن ماجة (4126) حاكم (537/4) طبری (95/9)
عن عبد الله بن عمرو رضى الله عنه عن النبى صلى الله عليه وسلم قال : ثم يرسل الله ريحا باردة من قبل الشام فلا يبقى على وجه الأرض أحد فى قلبه مثقال ذرة من خير أو إيمان إلا قبضته حتى لو أن أحدكم دخل فى كبد جبل لدخلته عليه حتى تقبضه
حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی سنا کہ پھر اللہ تعالیٰ ملک شام کی طرف سے ایک ٹھنڈی ہوا بھیجیں گے جو روئے زمین پر ہر اس شخص کو فوت کرلے گی جس کے دل میں رائی برابر بھی ایمان یا نیکی ہوگی حتی کہ اگر تم میں سے کوئی شخص کسی پہاڑی سرنگ میں بھی گھس جائے تو یہ ہوا (وہاں) پہنچ کر اسے بھی فوت کر دے گی۔
مسلم : كتاب الفتن : باب في خروج الدجال (2940)
عن أبى هريرة رضى الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : إن الله عز و جل يبعث ريحا من اليمن ألين من الحرير فلا تدع أحدا فى قلبه مثقال حبة من إيمان إلا قبضته
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : بے شک اللہ تعالیٰ یمن کی طرف سے ایک ہوا بھیجیں گے جو ریشم سے زیادہ نرم و ملائم ہوگی اور کسی ایسے بندے کو فوت کیے بغیر نہ چھوڑے گی جس کے دل میں رائی برابر بھی ایمان ہو گا۔
مسلم : كتاب الايمان : باب فى الريح التي تكون في قرب القيامة (117)
وعن عياش بن أبى ربيعة رضى الله عنه قال : سمعت النبى صلى الله عليه وسلم يقول : تجيء ريح بين يدي الساعة تقبض فيها أرواح كل مؤمن
عیاش بن ابی ربیعہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ قیامت کے قریب ایک ہوا چلے گی جس میں ہر مؤمن کی روح قبض کر لی جائے گی۔
حاکم : كتاب الفتن و الملاحم (8503) حاکم اور ذہبی نے اسے بخاری و مسلم کی شرط پر صحیح کہا ہے۔ احمد (538/3)
وعن عبد الله بن عمرو رضى الله عنه قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول : ثم يبعث الله ريحا كريح المسك مسها مس الحرير فلا تترك نفسا فى قلبه مثقال حبة من إيمان إلا قبضته
حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : پھر اللہ تعالیٰ ایک ہوا بھیجیں گے جس کی خوشبو کستوری جیسی اور لطافت ریشم جیسی ہوگی جو ہر اس شخص کو فوت کرلے گی جس کے دل میں رائی برابر بھی ایمان ہو گا۔
مسلم : کتاب الامارة : باب قوله لا تزال طائفة …. (1924)
فوائد :
➊ اللہ تعالیٰ قیامت کے قریب ایک نرم و لطیف ہوا بھیجیں گے جو روئے زمین پر بسنے والے ہر مسلم و مؤمن کو فوت کر لے گی۔
➋ یہ نشانی ظہور عیسیٰ علیہ السلام، خروج دجال اور یا جوج ماجوج کے خروج کے واقعات کے بعد ظاہر ہو گی۔
➌ مخلص مسلمانوں کے سوا ہر وہ بندہ فوت کر دیا جائے گا جس کے دل میں ذرہ برابر بھی نیکی کا اثر ہوگا جیسا کہ دوسری روایات سے ثابت ہے کہ لفظ اللہ کہنے والا بھی کوئی نہیں ہوگا تو پھر اللہ تعالیٰ قیامت برپا کر دیں گے۔
➍ عام حالات میں اللہ تعالیٰ نے ملک الموت کو روحیں قبض کرنے کا حکم دے رکھا ہے مگر قیامت کے قریب مذکورہ نشانی میں ہوا کے ذریعے نیک لوگوں کی یک لحظہ روحیں قبض کر لی جائیں گی۔
➎ یہ ایسی لطیف اور عمدہ ہوا ہو گی جس سے کستوری کی مہک اٹھے گی اور ریشم کی نزاکت محسوس ہو گی جبکہ اہل ایمان کی ارواح بلا کلفت و مشقت قبض کی جائیں گی۔
➏ یہ ہوا ظالم و سرکش اور باغی کافروں کی روح قبض نہیں کرے گی۔
➐ اللہ تعالیٰ اہل ایمان پر مہربانی فرماتے ہوئے قیامت کی ہولناکیوں سے پہلے ہی انہیں فوت کر لیں گے۔
➑ مذکورہ نشانی کے بعد قیامت انتہائی قریب ہوگی۔
➒ بعض روایات میں ہے کہ یہ ہوا شام کی طرف سے آئے گی جبکہ دیگر احادیث میں ہے کہ یہ ہوا یمن کی طرف سے بھیجی جائے گی جس سے بظاہر تعارض معلوم ہوتا ہے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ شاید یہ دو الگ الگ ہوائیں ہوں گی یا یہ ایک ہی ہوا ہو گی جو ایک طرف سے شروع ہوگی پھر دوسرے ملک جا پہنچے گی اور وہاں سے ساری دنیا میں پھیل جائے گی۔
دیکھئے شرح النووی (132/2) أشراط الساعة وأسرارها (88)