لا إله إلا اللہ پڑھنے کی فضیلت
① سیدنا ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
من قال لا إله إلا الله وحده لا شريك له له الملك وله الحمد وهو على كل شيء قدير عشر مرات كان كمن أعتق أربعة أنفس من ولد إسماعيل
”جس شخص نے لا إله إلا الله وحده لا شريك له له الملك وله الحمد وهو على كل شيء قدير دس مرتبہ پڑھا تو وہ اس طرح ہے جیسے اس نے اولادِ اسماعیل سے دس (یا چار) غلام آزاد کیے“۔
بخاری، کتاب الدعوات 6404، مسلم، الذکر والدعاء والتوبة والاستغفار 2693۔ ترمذی، کتاب الدعوات 3553۔
② سیدنا عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ وہ جب سلام پھیرتے تو ہر نماز کے بعد یہ دعا پڑھتے:
لا إله إلا الله وحده لا شريك له له الملك وله الحمد وهو على كل شيء قدير لا حول ولا قوة إلا بالله لا إله إلا الله ولا نعبد إلا إياه له النعمة وله الفضل وله الثناء الحسن لا إله إلا الله مخلصين له الدين ولو كره الكافرون
”اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ یکتا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، بادشاہت اور حمد و ثناء اس کے لیے ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے، گناہوں سے بچنا اور نیکی کرنا محض اللہ کی توفیق سے ممکن ہے، اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، ہم صرف اس کی عبادت کرتے ہیں، نعمت و فضل اسی کا ہے، اچھی ثنا بھی اسی کی ہے، اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، اسی کے لیے دین کو خالص کرتے ہیں، خواہ کافروں کو ناگواری گزرے۔ سیدنا ابن زبیر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر نماز کے بعد یہ کلمات پڑھا کرتے تھے“۔
مسلم، کتاب المساجد و مواضع الصلوة 594، ابوداؤد، کتاب الصلوة 1506۔
③ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
من دخل السوق فقال: لا إله إلا الله وحده لا شريك له له الملك وله الحمد يحيي ويميت وهو حي لا يموت بيده الخير وهو على كل شيء قدير كتب الله له ألف ألف حسنة ومحا عنه ألف ألف سيئة ورفع له ألف ألف درجة
”جو شخص بازار میں داخل ہوتے وقت یہ دعا پڑھتا ہے: اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ یکتا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اس کی بادشاہت اور اس کے لیے حمد ہے، وہی زندہ کرتا اور مارتا ہے، وہ ہمیشہ زندہ رہے گا، اسے موت نہیں آئے گی، ہر قسم کی بھلائی اسی کے ہاتھ میں ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے؛ اللہ اس کے لیے دس لاکھ نیکی لکھ دیتا ہے، اس کی دس لاکھ برائیاں مٹا دیتا ہے اور اس کے دس لاکھ درجے بلند کر دیتا ہے“۔
ترمذی، کتاب الدعوات 3428، یہ روایت صحیح لغیرہ ہے، اور یہ بازار کی دعا کے طور پر معروف ہے۔
لا حول ولا قوة إلا بالله کی فضیلت
① سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
ألا أدلك على كنز من كنوز الجنة؟
”کیا میں تمہیں جنت کے خزانوں میں سے ایک خزانہ نہ بتاؤں؟“
تو میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم! ضرور بتائیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لا حول ولا قوة إلا بالله
”گناہ سے بچنا اور نیکی کرنا محض اللہ کی توفیق سے ممکن ہے“۔
بخاری، کتاب الدعوات 6409، مسلم، کتاب الذکر والدعاء والتوبة والاستغفار 2704۔
② سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
أكثروا من قول: لا حول ولا قوة إلا بالله فإنها كنز من كنوز الجنة
”لا حول ولا قوة إلا بالله کثرت کے ساتھ پڑھا کرو، اس لیے کہ یہ جنت کا خزانہ ہے“۔
ترمذی، کتاب الدعوات 3601۔ روایت ضعیف ہے، کیونکہ یہ مکحول کے واسطے سے مروی ہے، اس کی سند متصل نہیں، مکحول نے سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے نہیں سنا۔
مسنون دم کے متعلق احکامات
① سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں، جب ہم میں سے کسی انسان کو کوئی تکلیف پہنچتی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس پر اپنا دایاں ہاتھ پھیرتے، پھر فرماتے:
أذهب الباس رب الناس واشف أنت الشافي لا شفاء إلا شفاؤك شفاء لا يغادر سقما
”پروردگار! لوگوں کی بیماری دور کر دے، شفا عطا فرما، تو ہی شفا دینے والا ہے، تیرے علاوہ کوئی شفا دینے والا نہیں، اور شفا درحقیقت تیری ہی شفا ہے جو کسی بیماری کو نہیں چھوڑتی۔“
بخاری، کتاب المرضى 5675، مسلم، کتاب السلام 2191۔
② سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جبریل علیہ السلام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو کہنے لگے:
”اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم! آپ بیمار ہیں؟“
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
نعم
”ہاں!“
تو جبریل علیہ السلام نے دعا پڑھی:
بسم الله أرقيك
”اللہ کے نام سے آپ کو دم کرتا ہوں۔“
مسلم، کتاب السلام 2186، ترمذی، کتاب الجنائز 979.
③ سیدنا عثمان بن ابی العاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اس تکلیف کی شکایت کی جو وہ مسلمان ہونے کے دن سے اپنے جسم میں محسوس کر رہے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
ضع يدك على الذى تألم من جسدك وقل بسم الله ثلاث مرات ، وقل سبع مرات : أعوذ بالله وقدرته من شر ما أجد وأحاذر
”جسم کے جس حصے میں تکلیف محسوس کرتے ہو وہاں اپنا ہاتھ رکھو اور تین مرتبہ ’بسم اللہ‘ اور سات مرتبہ یہ دعا پڑھو: میں اللہ اور اس کی قدرت کی پناہ چاہتا ہوں اس تکلیف کے شر سے جو میں محسوس کرتا ہوں اور جس کا مجھے اندیشہ ہے۔“
مسلم، کتاب السلام 2202، ابوداؤد، کتاب الطب 3891۔
④ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
من عاد مريضا لم يحضره أجله ، فقال عنده سبع مرات : أسأل الله العظيم رب العرش العظيم أن يشفيك إلا عافاه الله عز وجل
”جو شخص کسی ایسے مریض کی عیادت کرے جس کا وقت وفات نہ آپہنچا ہو اور وہ اس کے پاس سات مرتبہ یہ دعا پڑھے:
”أسأل الله العظيم رب العرش العظيم أن يشفيك“
میں اللہ عظمت والے اللہ جو عرش عظیم کا رب ہے سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ تجھے شفا عطا فرمائے.
تو اللہ عزوجل اسے شفا عطا فرما دیتا ہے۔“
ابوداؤد، کتاب الجنائز 3106، ترمذی، کتاب الطب عن رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم 2083، روایت صحیح ہے.