بچوں کے کھلونے، گڑیاں اور ناقص مجسموں کا شرعی حکم

فونٹ سائز:
یہ اقتباس ڈاکٹر یوسف القرضاوی کی کتاب اسلام میں حلال و حرام سے ماخوذ ہے جس کا اُردو ترجمہ محمد طاھر نقاش صاحب نے کیا ہے۔

بچوں کے کھلونے جائز ہیں :

کچھ مجسمے ایسے بھی ہوتے ہیں جن سے نہ تعظیم مقصود ہوتی ہے اور نہ تعیش اور نہ ان سے وہ اندیشے لاحق ہوتے ہیں جن کا ذکر اس سے پہلے گزر چکا۔ ایسے مجسموں کے بارے میں اسلام نے کسی تنگی کا ثبوت نہیں دیا۔ اس کی مثال چھوٹے بچوں کے کھلونے ہیں جو گڑیا، بلی وغیرہ جانداروں کی شکل میں بنائے جاتے ہیں۔ یہ بے وقعت بھی ہوں گے اور ان کو بچے بس کھیلنے کے کام میں لاتے ہیں۔ اُم المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں :
كنت ألعب بالبنات عند رسول الله صلى الله عليه وسلم وكان يأتيني صواحب لي، فكن ينقمعن خوفا من رسول الله صلى الله عليه وسلم وكان رسول الله يسربهن إلي، فيلعبن معي
”میں لڑکیوں کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں کھیلا کرتی تھی۔ میری سہیلیاں آتیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خوف سے چھپ جاتیں۔ حالانکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کو میرے پاس بھیج دیتے۔ پھر وہ میرے ساتھ کھیلا کرتیں۔“
بخاری کتاب الادب باب الانبساط الى الناس ح : 6130 – مسلم کتاب فضائل الصحابة : باب من فضائل ام المؤمنين عائشة رضی اللہ عنہا ح : 2440
دوسری روایت میں ہے :
ان النبى صلى الله عليه وسلم قال لها يوما ما هذا؟ قالت بناتي – قال: ما هذا الذى فى وسطهن؟ قالت فرس – قال: ما هذا الذى عليه؟ قالت جناحان – قال: فرس له جناحان؟ قالت: أوما سمعت أنه كان لسليمان بن داود خيل لها أجنحة؟ فضحك رسول الله حتى بدت نواجذه
”نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا : یہ کیا ہے؟ انہوں نے کہا : یہ میری گڑیاں ہیں۔ پوچھا : ان کے درمیان میں کیا چیز ہے؟ کہا: یہ گھوڑا ہے۔ پوچھا: اس گھوڑے کے اوپر کیا چیز ہے؟ کہا: دو پر ہیں۔ فرمایا: گھوڑا اور اس کے پر بھی! سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: کیا آپ نے نہیں سنا سیدنا سلیمان بن داود علیہ السلام کے گھوڑے پر والے تھے؟ یہ سن کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہنس پڑے یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دندان مبارک دکھائی دینے لگے۔“
ابوداود کتاب الادب باب اللعب بالبنات ح : 4932
ان گڑیوں سے، جن کا ذکر حدیث میں ہوا بچے کھیلا کرتے ہیں اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا تو شادی کے وقت بالکل کم سن تھیں۔
امام شوکانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
مذکورہ حدیث میں اس بات کی دلیل ہے کہ بچوں کو اس قسم کے مجسموں سے کھیلنے دینا جائز ہے۔ البتہ امام مالک رحمہ اللہ سے منقول ہے کہ وہ بچوں کے لیے اس کو خرید کر لانا مکروہ خیال کرتے تھے۔ اور قاضی عیاض کا قول ہے کہ چھوٹی بچیوں کا گڑیوں سے کھیلنا جائز ہے۔
نيل الأوطار 6-232
اور بچوں کے کھلونوں میں وہ مجسمے بھی شامل ہیں جو مٹھائی سے بنائے جاتے ہیں اور تہواروں وغیرہ کے موقع پر فروخت کیے جاتے ہیں۔ بچے تھوڑی دیر ان سے کھیلتے ہیں اور اس کے بعد اُن کو کھا لیتے ہیں۔

ناقص اور مسخ شدہ مجسمے :

حدیث میں آیا ہے کہ سیدنا جبریل علیہ السلام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر میں داخل ہونے سے اس لیے رُک گئے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر کے دروازہ پر ایک مجسمہ تھا۔ دوسرے دن بھی داخل نہیں ہوئے، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا :
مر برأس التمثال فليقطع حتى يصير كهيئة الشجرة
”مجسمہ کا سر کٹوا دیجئے اس طرح کہ درخت کی شکل میں مجسمہ رہ جائے۔“
ابو داود کتاب اللباس : باب فى الصور ح : 4158 – ترمذی کتاب الادب : باب ماجاء ان الملائكة لا تدخل بيتا ح : 2806 – نسائی کتاب الزينة باب ذكر اشد الناس عذابا ح : 5367
علماء کے ایک گروہ نے اس حدیث سے استدلال کرتے ہوئے کہا ہے کہ حرام تصویر وہ ہے جو مکمل ہو لیکن جس تصویر کا ایسا عضو غائب ہو جس کے بغیر زندہ رہنا ممکن نہیں ہے تو وہ جائز ہے۔
اصل بات یہ ہے کہ سیدنا جبریل علیہ السلام نے مجسمہ کا سر اُڑا دینے کے لیے کہا تھا کہ وہ درخت کی شکل میں رہ جائے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اعتبار کسی ایسے عضو کے ختم کرنے کا نہیں ہے جس کے بغیر زندگی ممکن نہیں، بلکہ اعتبار مسخ کر دینے کا ہے تا کہ وہ ایسی شکل میں باقی ہی نہ رہے کہ اسے دیکھ کر تعظیم کے جذبات پیدا ہونے لگیں۔
اگر ہم غور و فکر کریں اور انصاف سے کام لیں تو کسی شک وشبہ کے بغیر کہہ سکتے ہیں کہ نصف مجسمے جن کو بادشاہوں اور لیڈروں کی یادگار کے طور پر میدانوں میں نصب کیا جاتا ہے حرمت میں ان چھوٹے اور مکمل مجسموں سے بڑھ کر ہیں جو گھروں میں زینت کے لیے رکھے جاتے ہیں۔