درود و سلام کی اقسام اور نماز میں درود کا حکم ائمہ کے نزدیک

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کی کتاب الجواب الباہر فی زوار المقابر سے ماخوذ ہے جس کا ترجمہ شیخ عطا اللہ ثاقب نے کیا ہے۔

صلوۃ وسلام کی مختلف اقسام

رہا وہ سلام جو آپ نہیں سن پاتے تو اس کے بدلے رب کریم آپ پر 10 مرتبہ رحمت بھیجتا ہے جیسے نماز میں، مسجد میں داخل ہوتے اور مسجد سے نکلتے وقت سلام کہا جاتا ہے۔ یہ ایسا سلام ہے جس کا حکم ہر جگہ اور ہر وقت ہے۔ یہ دور کا سلام قریب والے سلام سے افضل ہے۔ قریب سے سلام پڑھنے میں مومنین خواہ زندہ ہوں یا فوت شدہ برابر ہیں۔ البتہ مطلق اور عام سلام کا حکم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے خاص ہے۔ جیسے درود شریف کا حکم آپ کی ذات کے لیے خاص ہے اگر چہ غیر نبی پر عموماً درود و سلام اور خصوصاً درود پڑھنے میں اختلاف ہے۔ بعض علماء نے درود اور سلام دونوں کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے مخصوص کیا ہے۔ یہ مسلک ابو محمد الجوینی سے منقول ہے۔
اس سلسلے میں جمہور علماء کا کہنا ہے کہ سلام نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے خاص نہیں ہے۔ اور صلوۃ میں اختلاف ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے خاص طور پر صلوۃ و سلام کے متعلق فرمایا ہے:
إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ ۚ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا ‎﴿٥٦﴾‏
”اللہ اور اس کے فرشتے نبی پر درود بھیجتے ہیں۔ اے لوگو جو ایمان لائے ہو تم بھی ان پر درود وسلام بھیجو۔“
(33-الأحزاب:56)
اس آیت کریمہ میں خبر اور امر دونوں موجود ہیں۔ لیکن عام مومنین کے بارے میں صرف خبر ہے جیسے:
هُوَ الَّذِي يُصَلِّي عَلَيْكُمْ وَمَلَائِكَتُهُ
”وہی ہے جو تم پر اپنی رحمت نازل فرماتا ہے اور اس کے فرشتے طلب رحمت کی دعاء کرتے ہیں۔“
(33-الأحزاب:43)
اس وجہ سے خطباء حضرات کا کہنا ہے کہ انسان کو اللہ تعالیٰ نے وہ حکم دیا ہے جس کی اس نے پہلے خود ابتداء کی ہے اور جس پر اللہ نے فرشتوں کی تعریف کی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر صلوۃ و سلام کہتے ہوئے اللہ نے اپنی تمام مخلوق میں سے صرف مومنین کو یا ایھا سے خطاب کیا اور مومنین پر اپنی صلاۃ (رحمت) کا ذکر کرتے ہوئے پہلے اپنی ذات سے ابتداء کی ہے اور پھر فرشتوں کا ذکر کیا ہے لیکن اس کے بعد یہاں مومنوں کو ایھا سے خطاب نہیں کیا۔ حدیث میں آیا ہے:
إن الله وملئكته يصلون على معلم الناس الخير
”اللہ رحمت بھیجتا ہے اور اس کے ملائکہ طلب رحمت کی دعاء کرتے ہیں اس شخص کے لیے جو لوگوں کو بھلائی کی تعلیم دیتا ہے۔“
(سنن ترمذی۔ كتاب العلم : باب ماجاء في فضل الفقه على العبادة حديث : 3785)
تمام مسلمانوں کا اس پر اتفاق ہے کہ انسان نماز اور غیر نماز میں اپنے لیے دعاء کرنے سے پہلے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود و سلام کہے اور اس کے بعد دعاء مانگے۔
فرض نمازوں میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود و سلام کہنے میں اختلاف ہے۔
● امام شافعی کے نزدیک واجب ہے۔
● امام ابو حنیفہ، امام مالک اور امام احمد کی ایک روایت کے مطابق واجب نہیں ہے۔
وجوب کی صورت میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آیا یہ نماز کا رکن ہے یا نہیں؟ یا اس کے ہوا ترک سے نماز باطل ہوگی یا نہیں؟
اس کے جواب میں دو روایات منقول ہیں۔
زیادہ صحیح یہ ہے کہ دعاء کے ساتھ درود شریف واجب ہے۔ ہمیں دعاء کی ابتداء آپ پر درود سے کرنی چاہئے اور نماز میں آپ پر سلام پڑھنے کا حکم ہے اور وہ ہے تشہد میں جو کہ امام احمد (کے مشہور قول کے مطابق) اور امام شافعی کے نزدیک نماز کا رکن ہے اسے عمداً یا سہواً ترک کرنے سے نماز باطل ہو جائے گی جبکہ امام مالک اور امام ابو حنیفہ کے نزدیک آخری تشہد میں ترک کرنے سے نماز باطل ہوگی۔
امام احمد (کے مشہور قول کے مطابق) اور امام مالک کے نزدیک اگر پہلے تشہد میں اسے عمداً ترک کر دیا جائے تو نماز باطل ہوگی لیکن سہواً چھوٹ گیا تو سجود سہو لازم ہوں گے۔
اسے امام احمد واجب اور اصحاب مالک واجب سنت کا نام دیتے ہیں۔ جو شخص عمداً چھوڑ دے اسے نماز دوبارہ ادا کرنے میں کسی کو اختلاف نہیں اور جو سہواً چھوڑ دے اسے سجدہ سہو کرنا ضروری ہوگا۔ امام مالک، امام احمد اور امام ابو حنیفہ کے نزدیک نماز کے اندر جتنے بھی افعال ہیں ان کی تین قسمیں ہیں۔
امام ابو حنیفہ کے نزدیک جو عمل ہے اگر کوئی شخص اسے عمداً یا سہواً چھوڑ دے تو وہ گنہگار ہوگا نماز کا اعادہ ضروری نہیں۔
امام شافعی کے نزدیک جو عمل واجب ہے وہ رکن ہے۔ بخلاف حج کے۔ کیونکہ حج کے اندر باتفاق ائمہ جو عمل مستحب ہے (نہ کہ رکن) ادائے دم سے اس کی تلافی ہو جاتی ہے۔