داتا، مشکل کشا اور دستگیر صرف اللہ ہے قرآن و حدیث کی روشنی میں

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ ارشاد اللہ مان کی کتاب حق کی تلاش سے ماخوذ ہے۔
مضمون کے اہم نکات

اللہ تعالیٰ کو اپنے لیے کافی سمجھو:

فرمان باری تعالی ہے:

[اَلَیۡسَ اللّٰہُ بِکَافٍ عَبۡدَہٗ ؕ وَ یُخَوِّفُوۡنَکَ بِالَّذِیۡنَ مِنۡ دُوۡنِہٖ ؕ وَ مَنۡ یُّضۡلِلِ اللّٰہُ فَمَا لَہٗ مِنۡ ہَادٍ]

کیا اللہ اپنے بندے کو کافی نہیں اور وہ آپ کو ان لوگوں سے ڈراتے ہیں جو اس کے سوا ہیں اور جسے اللہ گمراہ کر دے تو اسے راہ پر لانے والا کوئی نہیں۔ [الزمر :26]

[فَاِنۡ تَوَلَّوۡا فَقُلۡ حَسۡبِیَ اللّٰہُ لَاۤ اِلٰہَ اِلَّا ہُوَ ؕ عَلَیۡہِ تَوَکَّلۡتُ وَ ہُوَ رَبُّ الۡعَرۡشِ الۡعَظِیۡمِ]

پھر اگر یہ لوگ پھر جائیں تو کہہ دو مجھے اللہ کافی ہے۔ اس کے سوا اور کوئی معبود نہیں۔ اس پر میں بھروسا کرتا ہوں اور وہی عرش عظیم کا مالک ہے۔ [التوبة :129]

سیدنا ابو الدرداء رضي اللہ عنہ فرماتے ہیں: کہ جو شخص یہ آیت [حسبی الله] صبح اور شام سات سات مرتبہ پڑھ لے گا اللہ تعالٰی اس کے فکر و مشکلات کو کافی ہو جائے گا۔ [أبو داود، كتاب الأدب، باب ما يقول إذا أصبح :5081]

[اَلَّذِیۡنَ قَالَ لَہُمُ النَّاسُ اِنَّ النَّاسَ قَدۡ جَمَعُوۡا لَکُمۡ فَاخۡشَوۡہُمۡ فَزَادَہُمۡ اِیۡمَانًا ٭ۖ وَّ قَالُوۡا حَسۡبُنَا اللّٰہُ وَ نِعۡمَ الۡوَکِیۡلُ]

جنھیں لوگوں نے کہا کہ مکہ والوں نے تمھارے مقابلے کے لیے سامان جمع کیا ہے، سو تم ان سے ڈرو تو ان کا ایمان اور زیادہ ہوا اور کہا کہ ہمیں اللہ کافی ہے اور وہ بہترین کارساز ہے۔ [آل عمران:173]

یہ جنگ احد کے بعد کا واقعہ ہے اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے یہ نہیں کہا کہ رسول اللہﷺ ہمارے پاس موجود ہیں، وہ ہمیں کافی ہیں، وہ بہت اچھے کارساز ہیں اور نہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: کہ میں کافی ہوں اور میں بہت اچھا کارساز ہوں۔ اتنی واضح آیات کے باوجود آج کل کے کچھ کلمہ گو کیا کیا کر رہے ہیں۔ سوچنے کی ضرورت ہے اور یہ سوچ بدلنے کی ضرورت ہے اور صرف اللہ کو کافی سمجھنا چاہیے۔

اللہ تعالیٰ کی قدر کرو جیسا کہ اس کی قدر کرنے کا حق ہے۔ قرآن مجید اور احادیث مبارکہ ہمیں بتاتی ہیں کہ انبیائے کرام و صالحین کو جب بھی ضرورت پڑی انھوں نے صرف اللہ تعالیٰ کے سامنے اپنی فریادیں پیش کیں۔ یعنی اللہ تعالیٰ کو اپنا غوث اور فریاد رس سمجھا۔ آدم علیہ السلام سے لے کر ہمارے پیارے رسولﷺ کی حیات مبارکہ تک ہمیں یہی درس ملتا ہے کہ ہم آرام و مصیبت کے وقت صرف اللہ تعالیٰ ہی کو پکاریں اور اسے مشکل کشا اور حاجت روا سمجھیں۔

رسول اللہﷺ کی ساری حیات طیبہ کا جب ہم احادیث کی کتابوں میں مطالعہ کرتے ہیں تو ہمیں یہی پتا چلتا ہے کہ ہمارے پیارے نبیﷺ نے مصیبت یا غیرمصیبت میں، جنگوں میں جن میں بنفس نفیس سالار اعظم تھے، اپنے رب کے سامنے دعا کی اور اسے پکارا اور غزوہ تبوک سے لے کر آخری دم تک حتیٰ کہ ہجرت کے وقت غار ثور میں بھی سیدنا ابو بکر رضي اللہ عنہ سے یہی کہا کہ اللہ ہمارے ساتھ ہے، ہمارا مددگار ہے۔ (التوبہ:40) یہ آپﷺ نے کبھی نہیں فرمایا: کہ میرے صحابہ! میں یہاں موجود ہوں، نفع و نقصان میرے اختیار میں ہے، لہذا تمھیں کوئی خطرہ نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ ہی سے ہر موقع پر فریاد کی۔ اس سے ثابت ہوا کہ غوث اور فریاد رس صرف اللہ تعالی ہے۔

جنگ بدر کے لیے دیکھیے: (آل عمران:123)

جنگ احد کے لیے دیکھیے: (آل عمران:140تا166)

جنگ احزاب یا جنگ خندق کے لیے دیکھیے: (الاحزاب:9تا25،11)

فتح  مکہ کے لیے دیکھیے: (النصر:1)

جنگ حنین کے لیے دیکھیے: (التوبہ:26،25)

یہاں ہم جنگ حنین کے متعلق قرآنی آیات و ترجمہ لکھیں گے۔ اس جنگ میں رسول اللہﷺ خود سالار اعظم تھے۔ اور آپﷺ کے ساتھ کئی ہزار صحابہ اس جنگ میں شریک تھے۔ لیکن اللہ تعالی نے قرآن میں اس جنگ کا جو نقشہ کھینچا ہے وہ ہمیں توحید کا عظیم درس دیتا ہے۔ باقی جنگوں کے متعلق مندرجہ بالا حوالوں کو دیکھ کر آپ خود قرآن کا مطالعہ کریں:

[لَقَدۡ نَصَرَکُمُ اللّٰہُ فِیۡ مَوَاطِنَ کَثِیۡرَۃٍ ۙ وَّ یَوۡمَ حُنَیۡنٍ ۙ اِذۡ اَعۡجَبَتۡکُمۡ کَثۡرَتُکُمۡ فَلَمۡ تُغۡنِ عَنۡکُمۡ شَیۡئًا وَّ ضَاقَتۡ عَلَیۡکُمُ الۡاَرۡضُ بِمَا رَحُبَتۡ ثُمَّ وَلَّیۡتُمۡ مُّدۡبِرِیۡنَ]،[ ثُمَّ اَنۡزَلَ اللّٰہُ سَکِیۡنَتَہٗ عَلٰی رَسُوۡلِہٖ وَ عَلَی الۡمُؤۡمِنِیۡنَ وَ اَنۡزَلَ جُنُوۡدًا لَّمۡ تَرَوۡہَا وَ عَذَّبَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا ؕ وَ ذٰلِکَ جَزَآءُ الۡکٰفِرِیۡنَ]

[بلاشبہ یقیناً اللہ نے بہت سی جگہوں میں تمھاری مدد فرمائی اور حنین کے دن بھی، جب تمھاری کثرت نے تمھیں خود پسند بنا دیا، پھر وہ تمھارے کچھ کام نہ آئی اور تم پر زمین تنگ ہو گئی، باوجود اس کے کہ وہ فراخ تھی، پھر تم پیٹھ پھیرتے ہوئے لوٹ گئے]،[پھر اللہ نے اپنی سکینت اپنے رسول پر اور ایمان والوں پر نازل فرمائی اور وہ لشکر اتارے جو تم نے نہیں دیکھے اور ان لوگوں کو سزا دی جنھوں نے کفر کیا اور یہی کافروں کی جزا ہے] [التوبة:26،25]

یہاں رسولﷺ کی ایک دعا کا ذکر بےجا نہ ہوگا۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: کہ رسول اللہﷺ فرماتے تھے: کوئی سچا معبود نہیں سوائے اللہ تعالی کے، وہ اکیلا ہے۔ اس نے عزت دی اپنے لشکر کو اور مدد کی اپنے بندے کی اور مغلوب کیا کافروں کی جماعتوں کو اس اکیلے نے اس کے بعد کوئی شے نہیں ہے۔ [مسلم، كتاب الحج، باب ما يقول إذا رجع من سفر الحج وغيره:1344]

آج کل کچھ لوگ شیخ عبدالقادر جیلانی رحمہ اللہ کو غوث الاعظم کہتے ہیں، ان کے اس غلط عقیدہ کا قرآن میں جواب موجود ہے کہ انھوں نے اور ان کے باپ دادا نے یہ نام رکھ لیے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اس کی کوئی سند نہیں اتاری۔ یہی بات دوسرے ناموں پر بھی صادق آتی ہے۔ جو انھوں نے اپنی طرف سے رکھ لیے ہیں جیسے داتا گنج بخش، غریب نواز، مشکل کشا، دستگیر وغیرہ حالانکہ مشکل کشا و دستگیر صرف اللہ تعالیٰ ہے:

[اَمَّنۡ یُّجِیۡبُ الۡمُضۡطَرَّ اِذَا دَعَاہُ وَ یَکۡشِفُ السُّوۡٓءَ وَ یَجۡعَلُکُمۡ خُلَفَآءَ الۡاَرۡضِ ؕ ءَ اِلٰہٌ مَّعَ اللّٰہِ ؕ قَلِیۡلًا مَّا تَذَکَّرُوۡنَ]

بھلا کون ہے جو بے قرار کی دعا قبول کرتا ہے اور برائی کو دور کرتا ہے اور تمھیں زمین میں نائب بناتا ہے، کیا اللہ کے ساتھ کوئی اور معبود بھی ہے، تم بہت ہی کم سمجھتے۔ [النمل:62]

مزید حوالہ جات کے لیے دیکھے: [بنی اسرائیل:67]،[النمل:53]

داتا، مشکل کشا اور دستگیر صرف اللہ ہے قرآن و حدیث کی روشنی میں – Haq-Ki-Talash_page-0328

قرآنی فیصلے اور آج کل کے کلمہ گو:

اللہ تعالیٰ ہی سب کا غریب نواز ہے ( یعنی غریبوں کو نوازنے والا):

[ یٰۤاَیُّہَا النَّاسُ اَنۡتُمُ الۡفُقَرَآءُ اِلَی اللّٰہِ ۚ وَ اللّٰہُ ہُوَ الۡغَنِیُّ الۡحَمِیۡدُ]

اے لوگو! تم سب اللہ کے محتاج (ف48) اور اللہ ہی بے نیاز ہے، سب خوبیوں والاہے۔ [فاطر:15]

(ف: 48) یعنی اس کے فضل و احسان کے حاجت مند ہو اور تمام خلق اس کی محتاج ہے۔ خلق ہر دم اور ہر لحظہ اللہ تعالی کی محتاج ہے اور کیوں نہ ہوگی ان کی ہستی اور ان کی بقا سب اس کے کرم سے ہے۔ (ترجمہ احمد رضا خان صاحب و تفسیر مراد آبادی)

اللہ ہی سب کا مشکل کشا ہے، یعنی مشکلات کے ختم کرنے والا:

[مَا یَفۡتَحِ اللّٰہُ لِلنَّاسِ مِنۡ رَّحۡمَۃٍ فَلَا مُمۡسِکَ لَہَا ۚ وَ مَا یُمۡسِکۡ ۙ فَلَا مُرۡسِلَ لَہٗ مِنۡۢ بَعۡدِہٖ ؕ وَ ہُوَ الۡعَزِیۡزُ الۡحَکِیۡمُ]

اللہ جو رحمت لوگوں کے لیے کھولے (ف:4) اس کا کوئی روکنے والا نہیں ہے اور جوکچھ روک لے تو اس کی روک کے بعد اس کو کوئی چھوڑنے والا نہیں ہے اور وہی عزت و حکمت والا ہے۔ [فاطر:2]

(ف:4) مثل بارش و رزق وصحت وغیرہ کے (ترجمہ احمد رضا خان صاحب و تفسیر مرادآبادی)

اللہ تعالیٰ ہی سب کا دستگیر ہے، یعنی مصیبت کے وقت تھا منے والا:

[اَمَّنۡ یُّجِیۡبُ الۡمُضۡطَرَّ اِذَا دَعَاہُ وَ یَکۡشِفُ السُّوۡٓءَ وَ یَجۡعَلُکُمۡ خُلَفَآءَ الۡاَرۡضِ ؕ ءَ اِلٰہٌ مَّعَ اللّٰہِ ؕ قَلِیۡلًا مَّا تَذَکَّرُوۡنَ]

یا وہ جو لا چار کی سنتا ہے (ف110) جب اسے پکارے اور دور کر دیتا ہے برائی اور تمھیں زمین کا وارث کرتا ہے۔ کیا اللہ کے سوا کوئی اور معبود ہے، بہت ہی کم دھیان کرتے ہو۔ [النمل:62]

(ف:110) اور حاجت روائی فرماتا ہے۔ (ترجمه احمد رضا خان صاحب و تفسیر مراد آبادی)

اللہ تعالٰی ہی سب کی ڈوبتی کشتیوں کا پار لگانے والا ہے:

[ہُوَ الَّذِیۡ یُسَیِّرُکُمۡ فِی الۡبَرِّ وَ الۡبَحۡرِ ؕ حَتّٰۤی اِذَا کُنۡتُمۡ فِی الۡفُلۡکِ ۚ وَ جَرَیۡنَ بِہِمۡ بِرِیۡحٍ طَیِّبَۃٍ وَّ فَرِحُوۡا بِہَا جَآءَتۡہَا رِیۡحٌ عَاصِفٌ وَّ جَآءَہُمُ الۡمَوۡجُ مِنۡ کُلِّ مَکَانٍ وَّ ظَنُّوۡۤا اَنَّہُمۡ اُحِیۡطَ بِہِمۡ ۙ دَعَوُا اللّٰہَ مُخۡلِصِیۡنَ لَہُ الدِّیۡنَ ۬ۚ لَئِنۡ اَنۡجَیۡتَنَا مِنۡ ہٰذِہٖ لَنَکُوۡنَنَّ مِنَ الشّٰکِرِیۡنَ]،[ فَلَمَّاۤ اَنۡجٰہُمۡ اِذَا ہُمۡ یَبۡغُوۡنَ فِی الۡاَرۡضِ بِغَیۡرِ الۡحَقِّ ؕ یٰۤاَیُّہَا النَّاسُ اِنَّمَا بَغۡیُکُمۡ عَلٰۤی اَنۡفُسِکُمۡ ۙ مَّتَاعَ الۡحَیٰوۃِ الدُّنۡیَا ۫ ثُمَّ اِلَیۡنَا مَرۡجِعُکُمۡ فَنُنَبِّئُکُمۡ بِمَا کُنۡتُمۡ تَعۡمَلُوۡنَ]

[وہی ہے جو تمھیں خشکی اور سمندر میں چلاتا ہے، یہاں تک کہ جب تم کشتیوں میں ہوتے ہو اور وہ انھیں لے کر عمدہ ہوا کے ساتھ چل پڑتی ہیں اور وہ اس پر خوش ہوتے ہیں تو ان (کشتیوں) پر سخت تیز ہوا آجاتی ہے اور ان پر ہر جگہ سے موج آجاتی ہے اور وہ یقین کر لیتے ہیں کہ ان کو گھیر لیا گیا ہے، تو اللہ کو اس طرح پکارتے ہیں کہ ہر عبادت کو اس کے لیے خالص کرنے والے ہوتے ہیں، یقینا اگر تو نے ہمیں اس سے نجات دے دی تو ہم ضرور ہی شکر کرنے والوں سے ہوں گے]،[ پھر جب اس نے انھیں نجات دے دی اچانک وہ زمین میں ناحق سرکشی کرنے لگتے ہیں۔ اے لوگو! تمھاری سرکشی تمھاری جانوں ہی پر ہے، دنیا کی زندگی کے فائدے کے لیے، پھر ہماری ہی طرف تمھارا لوٹ کر آنا ہے، تو ہم تمھیں بتائیں گے جو کچھ تم کیا کرتے تھے] [یونس:23،22]

صرف اللہ تعالیٰ ہی رب یعنی داتا ہے:

اللہ تعالی رب العالمین ہے یعنی سارے جہانوں کا داتا ہے۔ قرآن مجید ان الفاظ سے بھرا پڑا ہے کہ اللہ تعالیٰ رب العالمین (یعنی) سارے جہانوں کا داتا ہے۔ (یاد رہے) کہ داتا سنسکرت کا لفظ ہے، عربی میں اس کے مترادف الفاظ رب، وہاب اور وکیل ہیں۔ ان تینوں لفظوں پر ہم اس کتاب میں بحث کریں گے۔ قرآن مجید میں جگہ جگہ ہے کہ اللہ تعالی آدم علیہ السلام سے لے کر ہمارے پیارے رسولﷺ تک سب کا رب یعنی داتا ہے۔ رب العالمین کے معنی ہیں ہر چیز مثلاً جن، انسان، ملائکہ، مویشی، پرندے، آبی مخلوق وغیرہ کو پیدا کر کے ان کی ضروریات ان کے احوال اور اجسام کے مطابق مہیا کرنے والا اور ان کے نفع و نقصان کا مالک:

[وَ اِذۡ اَخَذَ رَبُّکَ مِنۡۢ بَنِیۡۤ اٰدَمَ مِنۡ ظُہُوۡرِہِمۡ ذُرِّیَّتَہُمۡ وَ اَشۡہَدَہُمۡ عَلٰۤی اَنۡفُسِہِمۡ ۚ اَلَسۡتُ بِرَبِّکُمۡ ؕ قَالُوۡا بَلٰی ۚۛ شَہِدۡنَا ۚۛ اَنۡ تَقُوۡلُوۡا یَوۡمَ الۡقِیٰمَۃِ اِنَّا کُنَّا عَنۡ ہٰذَا غٰفِلِیۡنَ]،[ اَوۡ تَقُوۡلُوۡۤا اِنَّمَاۤ اَشۡرَکَ اٰبَآؤُنَا مِنۡ قَبۡلُ وَ کُنَّا ذُرِّیَّۃً مِّنۡۢ بَعۡدِہِمۡ ۚ اَفَتُہۡلِکُنَا بِمَا فَعَلَ الۡمُبۡطِلُوۡنَ]،[ وَ کَذٰلِکَ نُفَصِّلُ الۡاٰیٰتِ وَ لَعَلَّہُمۡ یَرۡجِعُوۡنَ]

[اور جب تیرے رب نے آدم کے بیٹوں سے ان کی پشتوں میں سے ان کی اولاد کو نکالا اور انھیں خود ان کی جانوں پر گواہ بنایا، کیا میں واقعی تمھارا رب نہیں ہوں؟ انھوں نے کہا کیوں نہیں، ہم نے شہادت دی۔ (ایسا نہ ہو) کہ تم قیامت کے دن کہو بے شک ہم اس سے غافل تھے]،[ یا یہ کہو کہ شرک تو ہم سے پہلے ہمارے باپ دادا ہی نے کیا تھا اور ہم تو ان کے بعد ایک نسل تھے، تو کیا تو ہمیں اس کی وجہ سے ہلاک کرتا ہے جو باطل والوں نے کیا؟]،[ اور اسی طرح ہم آیات کو کھول کر بیان کرتے ہیں اور تاکہ وہ پلٹ آئیں] [الأعراف:172تا174]

اللہ تعالی نے عالم ارواح میں ہر انسان سے اقرار کرایا کہ اللہ ہی اس کا رب یعنی داتا ہے، اور کوئی نہیں۔ اب کئی لوگ اس اقرار سے پھر گئے ہیں اور دیگر کو اپنا داتا بنا لیا ہے جو شرک ہے۔ اور اللہ تعالیٰ قرآن میں کھول کھول کر بیان کر رہا ہے کہ اور کوئی داتا نہیں:

[اِنَّ الَّذِیۡنَ قَالُوۡا رَبُّنَا اللّٰہُ ثُمَّ اسۡتَقَامُوۡا تَتَنَزَّلُ عَلَیۡہِمُ الۡمَلٰٓئِکَۃُ اَلَّا تَخَافُوۡا وَ لَا تَحۡزَنُوۡا وَ اَبۡشِرُوۡا بِالۡجَنَّۃِ الَّتِیۡ کُنۡتُمۡ تُوۡعَدُوۡنَ]

بے شک جنھوں نے کہا تھا کہ ہمارا رب یعنی داتا اللہ ہے پھر اس پر قائم رہے، ان پر فرشتے اتریں گے (موت کے وقت ) کہ تم خوف نہ کرو اور نہ غم کرو اور جنت میں خوش رہو، جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا تھا۔ [حم السجدة :30]

(یعنی) جنھوں نے دنیا میں آکر عالم ارواح کا وعدہ یاد رکھا کہ اللہ ہی رب یعنی داتا ہے اور اس بات پر قائم رہے وہ جنتی ہیں۔

مزید حوالہ جات کے لیے دیکھیے: [الانعام:161 تا 165]،[آل عمران:80،79،64،51]،[الكهف:37 تا 44]،[مومن:60تا68]

عالم ارواح کا ذکر ہو چکا، دنیا میں داتا کہنے کا ذکر ہو چکا، اب یاد رہے کہ موت کے بعد قبر میں پہلا سوال یہ ہوگا: ،،من ربك،، تیرا رب یعنی داتا کون ہے؟ یہ سوال نہیں ہو گا کہ تیرا اللہ کون ہے؟ کیونکہ اللہ کو اللہ تو تقریباً ساری مخلوق مانتی ہے۔ کئی لوگ اوروں کو داتا مانتے ہیں۔ قبر میں سوال یہ ہوگا کہ تیرا داتا کون ہے؟ جو لوگ دوسروں کو اللہ کے علاوہ داتا مانتے ہیں وہ۔ مارے جائیں گے کیونکہ انھوں نے شرک کا ارتکاب کیا ہے اور شرک ظلم عظیم ہے۔ جس کا رب نے واضح وعدہ کیا ہے کہ وہ شرک کو معاف نہیں کرے گا۔

بے قراری کی دعا:

[لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ الْعَظِيمُ الْحَلِيمُ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ رَبُّ السَّمَوَاتِ وَرَبُّ الْأَرْضِ، وَرَبُّ الْعَرْشِ الْكَرِيمِ]

اللہ صاحب عظمت اور بردبار کے سوا کوئی معبود نہیں، اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں جو عرش عظیم کا رب ہے ، اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں جو آسمانوں اور زمینوں کا رب ہے اور عرش عظیم کا رب ہے۔ [بخاری، کتاب الدعوات، باب الدعاء عند الكرب:6346]،[مسلم، كتاب الذكر والدعاء، باب الدعاء الكرب:2730]

[اللَّهُ, اللَّهُ رَبِّي لَا أُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا] الله! اللہ میرا رب (یعنی) داتا ہے، میں اس کےساتھ کسی چیز کو شریک نہیں کرتا۔

[ابن ماجه، أبواب الدعاء، باب الدعاء عند الكرب:3882]،[أبو داود: كتاب الوتر: باب في الإستغفار:1525]

ثابت ہوا کہ اللہ کے سوا کسی اور کو داتا سمجھنا شرک ہے۔

صرف اللہ ہی سب کا وہاب اور داتا ہے:

فرمان الہی ہے:

[لِلّٰہِ مُلۡکُ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ ؕ یَخۡلُقُ مَا یَشَآءُ ؕیَہَبُ لِمَنۡ یَّشَآءُ اِنَاثًا وَّ یَہَبُ لِمَنۡ یَّشَآءُ الذُّکُوۡرَ]،[ اَوۡ یُزَوِّجُہُمۡ ذُکۡرَانًا وَّ اِنَاثًا ۚ وَ یَجۡعَلُ مَنۡ یَّشَآءُ عَقِیۡمًا ؕ اِنَّہٗ عَلِیۡمٌ قَدِیۡرٌ]

اللہ ہی کے لیے ہے آسمانوں اور زمین کی سلطنت (ف126) پیدا کرتا ہے جو چاہے، جسے چاہے بیٹیاں عطا فرمائے (ف127) اور جسے چاہے بیٹے دے (ف128) یا دونوں ملا دے بیٹے اور بیٹیاں اور جسے چاہے بانجھ کر دے (ف129)۔ (الشورى:50،49)

(ف:126) جیسا چاہتا ہے تصرف فرماتا ہے، کوئی دخل دینے اور اعتراض کرنے کی مجال نہیں رکھتا۔

(ف:127) اسی طرح یہ بات نکلتی ہے کہ کسی کو یا پھر اسے بانجھ ہی کر دے بیٹے نہ دے۔

(ف:128) دختر نہ دے۔

(ف:129) یعنی اس کی اولاد ہی نہ ہو۔ وہ مالک ہے، اپنی نعمت کو جس طرح چاہے تقسیم کرے، جسے جو چاہے دے، انبیاء علیہم السلام میں بھی یہ سب صورتیں پائی جاتی ہیں۔ سیدنا لوط علیہ السلام اور سیدنا شعیب علیہ السلام کی صرف بیٹیاں تھیں۔ کوئی بیٹا نہ تھا۔ سیدنا ابراہیم علیہ السلام کے صرف فرزند تھے، کوئی دختر نہ تھی۔ اور ہمارے رسول اللہﷺ کو اللہ تعالیٰ نے چار فرزند عطا فرمائے اور چار صاحبزادیاں۔ سیدنا یحیی علیہ السلام اور سیدنا عیسی علیہ السلام کے کوئی اولاد ہی نہیں۔

(ترجمہ احمد رضا خان صاحب و تفسیر مراد آبادی)

 وہاب (یعنی) داتا کے لیے مزید حوالہ جات: (سوره مریم:53،50،49،5)

داتا، مشکل کشا اور دستگیر صرف اللہ ہے قرآن و حدیث کی روشنی میں – Haq-Ki-Talash_page-0335

صرف اللہ ہی سب کا وکیل یعنی کارساز اور داتا ہے:

فرمان باری تعالی ہے:

[رَبُّ الۡمَشۡرِقِ وَ الۡمَغۡرِبِ لَاۤ اِلٰہَ اِلَّا ہُوَ فَاتَّخِذۡہُ وَکِیۡلًا]

وہ مشرق کا رب اور مغرب کا رب ہے، اس کے سوا کوئی معبود نہیں تو تم (اے نبی!) اس کو اپنا کارساز بنالو۔ (المزمل:9)

مزید حوالہ جات کے لیے دیکھیے: [آل عمران:173،160،159]،[النساء:171،132،81]

غیر اللہ کے لیے رب اور اس طرح کے دوسرے الفاظ:

قرآن میں غیراللہ کے لیے رب کے الفاظ استعمال ہوئے مثلاً والدین کے لیے: (بنی اسرائیل:24) بادشاہ کے لیے: (یوسف:50،42،41،12) اور فرعون نے موسی علیہ السلام کو جو بچپن میں پالا اس کے لیے: (الشعراء:18) اسی طرح ملکہ سبا کے تخت کے لیے: عرش عظیم کا لفظ آیا ہے (النمل:23) اور اللہ کے عرش کے لیے یہی لفظ عرش عظیم آیا ہے۔ (النمل:26) اور دوزخی کے لیے قرآن کریم میں آیا ہے: [ذُقۡ ۚۙ اِنَّکَ اَنۡتَ الۡعَزِیۡزُ الۡکَرِیۡمُ] اب دوزخ کا مزا چکھ تو دنیا میں بہت طاقت والا، عزت والا تھا۔ [الدخان:49]

یہ عربی الفاظ ہیں جو خالق اور مخلوق دونوں کے لیے استعمال ہوئے ہیں۔ مخلوق کے لیے بہت محدود اسباب کے تحت اور عارضی ہیں۔ اور خالق کے لیے ان باتوں کے برعکس ہیں یعنی لا محدود، اسباب کے بغیر اور مستقل ہیں (یعنی) ازل سے ابد تک اور مخلوق کے دنیاوی اختیارات اللہ کی مرضی کے تابع ہیں۔ جب انسان فوت ہو جاتا ہے تو سب اختیارات ختم ہو جاتے ہیں۔