قبر پرستوں پر اللہ کی لعنت
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے مرض الموت میں فرمایا:
لعن الله اليهود والنصارى اتخذوا قبور أنبيائهم مساجد يحذر ما صنعوا
”اللہ تعالیٰ نے یہود و نصاری پر اس لیے لعنت کی کہ انہوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کو عبادت گاہ بنا لیا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے اس عمل بد سے ڈرا رہے تھے۔“
(صحيح بخاري، كتاب الجنائز، باب ما يكره من اتخاذ المساجد على القبور، حديث: 1330، صحيح مسلم، كتاب المساجد، باب النهي عن بناء المساجد على القبور، حديث: 529)
حجرہ مبارک میں قبر کی حکمت :
آپ رضی اللہ عنہا مزید فرماتی ہیں:
ولولا ذلك لأبرز قبره ولكن كره أن يتخذ مسجدا
”اگر یہ خدشہ نہ ہوتا تو آپ کی قبر مکرم ظاہر کر دی جاتی لیکن آپ نے اسے پسند نہیں کیا کہ آپ کی قبر عبادت گاہ بنے۔“
(صحيح بخاري و صحيح مسلم (حواله سابق)
قبروں کے پاس عبادت سے ممانعت :
صحیح مسلم کی روایت کے مطابق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی وفات سے پانچ روز قبل فرمایا:
إن من كان قبلكم كانوا يتخذون قبور أنبيائهم وصالحيهم مساجد ألا فلا تتخذوا القبور مساجد إني أنهاكم عن ذلك
”تم سے پہلے لوگ انبیاء اور صالحین کی قبروں کو عبادت گاہ بنا لیا کرتے تھے، خبردار! تم قبروں کو مساجد نہ بنا لینا، میں تم کو اس سے منع کر رہا ہوں۔“
صحيح مسلم كتاب المساجد باب النهي عن بناء المسجد على القبور (حديث : 532)
صحیح مسلم میں مندرجہ ذیل الفاظ بھی مروی ہیں:
لا تجلسوا على القبور ولا تصلوا إليها
”نہ تو قبر کے پاس مجاور بن کر بیٹھنا اور نہ قبر کی طرف منہ کر کے نماز ہی پڑھنا۔“
صحيح مسلم كتاب الجنائز : باب النهي عن الجلوس على القبور والصلاة اليها (حدیث : 972)
قبر پرستی اور شرک کی تاریخ :
ان روایات سے معلوم ہوا کہ قبور کو عبادت گاہ بنانے اور ان کی طرف منہ کر کے نماز پڑھنے سے منع کیا گیا ہے اور یہود و نصاری پر اس لیے لعنت کی گئی کہ انہوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کو عبادت گاہ بنا لیا تھا۔ اور اسی وجہ سے قوم نوح میں شرک کی وبا پھیلی۔ قوم نوح کے بارے میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
وَدًّا وَلَا سُوَاعًا وَلَا يَغُوثَ وَيَعُوقَ وَنَسْرًا ﴿٢٣﴾ وَقَدْ أَضَلُّوا كَثِيرًا
”انہوں نے کہا ہرگز نہ چھوڑو اپنے معبودوں کو اور نہ چھوڑو ود اور سواع کو اور نہ یغوث اور یعوق اور نسر کو اور وہ بہت سے لوگوں کو گمراہ کر چکے ہیں۔“
(71-نوح:23-24)
سلف امت میں سے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اور بعض دیگر اکابر علماء کا قول ہے کہ: ”ود، سواع، یغوث، یعوق اور نسر وغیرہ قوم نوح میں صالح اور دیندار افراد تھے جب وہ فوت ہو گئے تو لوگ ان کی قبروں پر مجاور بن کر بیٹھ گئے پھر کچھ عرصہ بعد ان کی تصاویر بنا لیں اور پھر کچھ عرصہ گزر جانے کے بعد ان کی پرستش شروع ہو گئی۔“
صحیح بخارى كتاب التفسير : سورة نوح (حديث : 4920 )