بعثتِ محمدی ﷺ کے بعد صرف اسلام ہی مقبول دین ہے

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ محمد اقبال کیلانی کی کتاب "الولاء والبراء” سے ماخوذ ہے۔

ألإسلام ناسخ لجمیع الادیان

اسلام کے علاوہ باقی تمام ادیان منسوخ ہیں

رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت مبارک کے بعد اسلام کے علاوہ باقی تمام ادیان منسوخ ہو چکے ہیں۔

[وَ مَنۡ یَّبۡتَغِ غَیۡرَ الۡاِسۡلَامِ دِیۡنًا فَلَنۡ یُّقۡبَلَ مِنۡہُ ۚ وَ ہُوَ فِی الۡاٰخِرَۃِ مِنَ الۡخٰسِرِیۡنَ] جو شخص اسلام کے علاوہ کوئی اور دین تلاش کرے گا اس سے وہ ہر گز قبول نہیں کیا جائے گا اور وہ آخرت میں خسارہ پانے والوں میں سے ہوگا۔ (سورہ آل عمران:85)
[اِنَّ الدِّیۡنَ عِنۡدَ اللّٰہِ الۡاِسۡلَامُ ۟ وَ مَا اخۡتَلَفَ الَّذِیۡنَ اُوۡتُوا الۡکِتٰبَ اِلَّا مِنۡۢ بَعۡدِ مَا جَآءَہُمُ الۡعِلۡمُ بَغۡیًۢا بَیۡنَہُمۡ ؕ وَ مَنۡ یَّکۡفُرۡ بِاٰیٰتِ اللّٰہِ فَاِنَّ اللّٰہَ سَرِیۡعُ الۡحِسَابِ] بلا شبہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک (قابل قبول) دین اسلام ہی ہے اور اہل کتاب نے علم پہنچنے کے بعد (اسلام کی) مخالفت کا طرز عمل محض ضد کی بناء پر اختیار کیا۔ جو شخص اللہ تعالیٰ کی آیات کا انکارکرے گا، اللہ تعالیٰ اس سے جلد حساب لینے والا ہے۔ (سورہ آل عمران:19)

اسلام ہی اللہ تعالیٰ کا پسندیدہ دین ہے۔

[اَلۡیَوۡمَ اَکۡمَلۡتُ لَکُمۡ دِیۡنَکُمۡ وَ اَتۡمَمۡتُ عَلَیۡکُمۡ نِعۡمَتِیۡ وَ رَضِیۡتُ لَکُمُ الۡاِسۡلَامَ دِیۡنًا] آج میں نے تمہارے لئے تمہارا دین مکمل کردیا اور تم پر اپنی نعمت پوری کردی اور میں نے تمہارے لئے اسلام بطور دین پسند کیا ہے۔ (سورہ المائدۃ:3)

اسلام کے علاوہ کوئی دوسرا دین اختیار کرنے والے جہنم میں جائیں گے۔

[وَ مَنۡ یُّشَاقِقِ الرَّسُوۡلَ مِنۡۢ بَعۡدِ مَا تَبَیَّنَ لَہُ الۡہُدٰی وَ یَتَّبِعۡ غَیۡرَ سَبِیۡلِ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ نُوَلِّہٖ مَا تَوَلّٰی وَ نُصۡلِہٖ جَہَنَّمَ ؕ وَ سَآءَتۡ مَصِیۡرًا] اور جو شخص ہدایت واضح ہو جانے کے بعد رسول کی مخالفت کرے اور اہل ایمان کے طریقہ کے علاوہ کوئی دوسرا طریقہ اختیار کرے ہم اسی طرف اسے پھیر دیں گے جدھر وہ خود پھرے گااور (بالآخر) اسے جہنم میں ڈال دیں گے جو بہت ہی برا ٹھکانہ ہے۔ (سورۃ النساء:115)
❀ [عن ابی ہریرۃ رضی اللٰه عنہ عن رسول اللٰہ صلی اللٰه علیہ وسلم انہٗ قال، والذی نفس محمد بیدہٖ لا یسمع بی احد من ہٰذہ الأمۃ یہودی و لا نصرانی ثم یموت و لم یؤمن بالذی ارسلت بہٖ الا کان من اصحاب النار] سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے، اس امت کا کوئی بھی آدمی خواہ وہ یہودی ہو یا عیسائی، میرے بارے میں سن لے اور مجھ پر ایمان نہ لائے اور اس تعلیم کو نہ مانے جسے دے کر میں بھیجا گیا ہوں، تو وہ جہنمی ہے۔ اسے مسلم نے روایت کیا ہے۔ [صحیح مسلم:153]