کتاب الفتن
فتنوں سے بچنا
① سیدنا مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، اللہ کی قسم! میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا:
إن السعيد لمن جنب الفتن، إن السعيد لمن جنب الفتن، إن السعيد لمن جنب الفتن، ولمن ابتلي فصبر فواها
جو شخص فتنوں سے بچا لیا گیا وہ سعادت مند ہے۔ بے شک سعادت مند وہ ہے جو فتنوں سے بچا لیا گیا اور بے شک وہ سعادت مند ہے جو فتنوں سے بچا لیا گیا۔ اور جو شخص آزمایا گیا اور اس نے صبر کیا تو وہ بہت اچھا ہے۔
ابو داؤد، کتاب الفتن 4263۔
مشتبہات سے بچنا
① سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ہاتھ کی انگلیاں دوسرے ہاتھ کی انگلیوں میں ڈالیں اور فرمایا:
كيف أنت يا عبد الله بن عمر إذا بقيت فى حثالة قد مرجت عهودهم وأماناتهم واختلفوا فصاروا هكذا
اے عبداللہ بن عمر! تمہاری اس وقت کیا حالت ہو گی جب تم ادنیٰ درجے کے لوگوں میں رہ جاؤ گے اور ان کے عہد و پیمان اور ان کی امانتیں خلط ملط ہو جائیں گی، وہ آپس میں اختلاف کریں گے اور اس طرح (آپ نے انگلیوں میں انگلیاں ڈال کر دکھایا) ہو جائیں گے؟
وہ عرض کرتے ہیں: تو پھر کس طرح (کروں)، اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
تأخذ ما تعرف، وتدع ما تنكر، وتقبل على خاصتك وتدعهم وعوامهم
جس کا تمہیں پتہ ہے وہ لے لو اور جس کا تمہیں پتہ نہیں اسے چھوڑ دو، اور جو خاص ہے اسے قبول کر لینا اور جو عام ہے اسے چھوڑ دینا۔
بخاری، کتاب الصلوة، حدیث 480، ابوداؤد، کتاب الملاحم، حدیث 4342، ابن ماجه، کتاب الفتن، حدیث 3957، مسند احمد 221/2 عن عبدالله بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما۔
برائی کو ختم کرنا
① سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا:
من رأى منكم منكرا فليغيره بيده فإن لم يستطع فبلسانه فإن لم يستطع فبقلبه وذلك أضعف الإيمان
تم میں سے جو شخص برائی دیکھے تو اسے اپنے ہاتھ سے تبدیل کر دے، اگر (اس کی) استطاعت نہ رکھے تو اپنی زبان سے اور اگر اس کی بھی استطاعت نہ رکھے تو اپنے دل سے، اور یہ ایمان کا کمزور ترین درجہ ہے۔
مسلم، کتاب الإیمان 49، ترمذی، کتاب الفتن عن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم 2172، ابن ماجه، کتاب الفتن عن رسول اللہ 1275، النسائی، کتاب الایمان و شرائعه 111/8۔
② سیدنا جریر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا:
ما من رجل يكون فى قوم يعمل فيهم بالمعاصي يقدرون على أن يغيروا عليه ولا يغيروا إلا أصابهم الله منه بعقاب قبل أن يموتوا
اگر کسی قوم میں کوئی شخص گناہ کرتا ہو اور وہ اسے تبدیل کرنے پر قادر ہوں لیکن اس کے باوجود وہ اسے تبدیل نہ کریں تو اللہ تعالیٰ اس وجہ سے ان کی موت سے پہلے پہلے انہیں عذاب میں مبتلا کر دے گا۔
روایت حسن ہے، ابوداؤد، کتاب الملاحم 4339، ابن ماجه، کتاب الفتن 4009۔