قدر پر ایمان اور قضاء پر رضا کے احکامات

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ حسین بن مبارک الموصلی کی عربی کتاب الاوامر والنواهي سے ماخوذ ہے جس کا اُردو ترجمہ محمد سرور گوہر صاحب نے احکامات و ممنوعات کے نام سے کیا ہے۔

قدر پر ایمان اور اس کے متعلق احکامات

قضاء و قدر کے بارے میں اشاعرہ اور ماتریدیہ کے مابین اختلاف ہے۔ اشاعرہ کے نزدیک قدر حادث (نیا) اور قضاء قدیم ہے۔ جبکہ ماتریدیہ کے نزدیک قدر قدیم ہے اور قضاء حادث ہے۔
(دیکھئے جو ہرۃ التوحید ص 113)
① سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لا يؤمن عبد حتى يؤمن بالقدر خيره وشره، وحتى يعلم أن ما أصابه لم يكن ليخطئه، وأن ما أخطأه لم يكن ليصيبه
”جب تک بندہ تقدیر کے اچھے اور برے ہونے پر ایمان نہ لے آئے وہ مومن نہیں ہو سکتا، نیز وہ جان لے کہ جو چیز اسے پہنچی ہے وہ اس سے چوک نہیں سکتی تھی اور جو چیز اس سے چوک گئی ہے وہ اسے پہنچ نہیں سکتی تھی“۔
(الترمذى ، كتاب الإيمان بالقدر، حديث 2144)
یہ روایت انتہائی ضعیف ہے۔ کیونکہ اس میں عبد اللہ بن میمون منکر الحدیث ہے۔ (دیکھئے مختصر الکامل للمقریزی 990)
یہ حدیث اپنے شواہد کے ساتھ صحیح ہے۔ تفصیل کے لیے دیکھیں: سلسلة الاحاديث الصحيحة (2439)۔
② طاؤس رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعض صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو کہتے ہوئے سنا:
كل شيء بقدر حتى العجز والكسل
”ہر چیز حتیٰ کہ عجز (کمزوری) اور سستی بھی تقدیر کے مطابق ہے“۔
(صحيح مسلم ،القدر، حديث 2655/18 ، الموطاء ،القدر، حديث 4۔ مسند احمد، 110/2.)

راضی بر قضاء ہونا

① سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
من سعادة ابن آدم رضاه بما قضى الله، ومن شقاوة ابن آدم تركه استخارة الله، ومن شقاوة ابن آدم سخطه بما قضى الله
”ابن آدم کی سعادت مندی ہے کہ وہ اللہ کے فیصلوں پر راضی رہے، ابن آدم کی شقاوت و بدنصیبی ہے کہ وہ اللہ سے استخارہ (خیر طلب) کرنا ترک کر دے اور ابن آدم کی بدنصیبی ہے کہ وہ اللہ کے فیصلوں کو ناپسند کرے“۔
ترمذی، کتاب القدر (2151). روایت ضعیف ہے۔ اس کی سند میں محمد بن ابی حمید ضعیف الحدیث ہے۔
② سیدنا انس رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إن عظم الجزاء مع عظم البلاء، وإن الله تعالى إذا أحب قوما ابتلاهم، فمن رضي فله الرضا، ومن سخط فله السخط
”جس قدر آزمائش بڑی ہوگی اسی قدر جزا بڑی ہوگی۔ اسی لیے جب اللہ تعالیٰ کسی قوم کو پسند کرتا ہے تو انہیں آزمائش میں مبتلا کر دیتا ہے، پس جو شخص رضا مندی کا اظہار کرتا ہے تو اسے (اللہ کی) رضا نصیب ہو جاتی ہے اور جو ناراضی کا اظہار کرتا ہے تو اس کے حصے میں (اللہ کی) ناراضی آتی ہے“۔
ترمذى، كتاب الزهد (2396) ابن ماجه، کتاب الفتن (4031). روایت حسن ہے۔
③ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إذا نظر أحدكم إلى من فضل عليه فى المال والخلق، فلينظر إلى من هو أسفل منه ممن فضل عليه
”جب تم میں سے کوئی ایسے شخص کو دیکھے جو مال اور حسن و جمال میں اس سے بڑھ کر ہو تو اسے ان لوگوں کو بھی دیکھنا چاہئے جو ان چیزوں میں اس سے کم ہوں اور اسے ان پر فضیلت دی گئی ہو“۔
بخاری، کتاب الرقاق (6490) . مسلم، كتاب الزهد والرقائق (2963).