حلال کو حرام اور حرام کو حلال قرار دینا شرک کے قبیل سے ہے :
اسلام نے ان لوگوں کی سخت مذمت کی ہے جو تحلیل و تحریم کے مختار و مجاز کلی بن جاتے ہیں۔ خاص طور سے اس نے حلال کو حرام کرنے والوں پر شدید گرفت کی ہے، کیونکہ اس کے نتیجہ میں انسان بلا وجہ تنگی اور مشقت میں مبتلا ہو جاتا ہے اور آخر کار تعمق (تشدد) پسندانہ مذہبیت کا رجحان پیدا ہو جاتا ہے حالانکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تعمیق و تشدد کے رجحان کو سختی سے دبایا اور اس قسم کا رویہ اختیار کرنے والوں کی سخت مذمت کی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
ألا هلك المتنطعون، ألا هلك المتنطعون، ألا هلك المتنطعون
آگاہ ہو جاؤ! دین میں تعمق و تشدد پیدا کرنے والے ہلاک ہو گئے آگاہ ہو جاؤ کہ دین میں تعمق و تشدد پیدا کرنے والے ہلاک ہو گئے آگاہ ہو جاؤ! کہ دین میں تعمق و تشدد پیدا کرنے والے ہلاک ہو گئے۔
(مسند احمد: 3861، مسلم، كتاب العلم، باب هلك المتنطعون، ح: 2670، ابو داود، كتاب السنة، باب في لزوم السنة ح : 4608)
اور رسالت محمدی صلی اللہ علیہ وسلم کی خصوصیت یہ بیان فرمائی :
بعثت بالحنيفية السمحة
میں ایسے دین کے ساتھ بھیجا گیا ہوں جو حنیف بھی ہے اور فراخ کشادہ بھی۔
(یہ روایت مسند احمد کے حوالہ سے صحیح لغیرہ ہے باختلاف الفاظ مسند احمد بن حنبل : 1/236، رقم الحديث : 1207 – 6/116 رقم الحديث : 24855، الادب المفرد للبخارى، رقم الحديث : 287، المعجم الكبير للطبراني : 8/216 ، رقم: 7868، سلسلة الاحاديث الصحيحة للالبانی رقم الحدیث : 188)
چنانچہ یہ دین عقیدہ و توحید کے معاملہ میں حنیف اور شریعت و اعمال کے معاملہ میں فراخ ہے۔ شرک و کفر اور حلال کو حرام کرنے جیسے افعال اس کی بالکل ضد ہیں۔ ایک حدیث میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے :
إني خلقت عبادي حنفاء وإنهم أتتهم الشياطين فاجتالتهم عن دينهم وحرمت عليهم ما أحللت لهم وأمرتهم أن لا يشركوا بي ما لم أنزل به سلطانا
میں نے اپنے بندوں کو دین حنیف پر پیدا کیا ہے لیکن شیطانوں نے انہیں بہکایا اور ان پر ان چیزوں کو حرام کر دیا جن کو میں نے حلال کیا تھا اور انہیں حکم دیا کہ وہ میرے ساتھ ان کو شریک ٹھہرائیں کہ جس کی میں نے کوئی سند نازل نہیں کی۔
(مسلم كتاب الجنة، باب الصفات التي يعرف بها في الدنيا اهل الجنة ح : 2865)
اس سے واضح ہے کہ حلال کو حرام کرنا شرک کے قبیل سے ہے. اس لیے قرآن نے مشرکین عرب کے شرک بت پرستی اور کھیتی اور چوپایوں جیسی پاکیزہ چیزوں کو اپنے اوپر حرام کر لینے پر سخت نکیر کی۔ بحیرہ، سائبہ، وصیلہ اور حام ان ہی کے حرام کردہ چوپائے تھے۔ جب اونٹنی پانچ بچے جنم دے لیتی اور آخری بچہ نر ہوتا تو یہ مشرکین اس اونٹنی کے کان کاٹ ڈالتے اور اس پر سواری کرنے کو ممنوع قرار دے کر اسے اپنے معبودوں کے لیے چھوڑ دیتے۔ پھر اس کو ذبح کرنا اور اس پر بار برداری کرنا سب حرام ہو جاتا اس کو پانی کے گھاٹ یا چراگاہ سے ہٹایا بھی نہیں جا سکتا تھا، اس کا نام انہوں نے بحیرہ یعنی کان کٹی ہوئی اونٹنی رکھا تھا۔
اسی طرح سائبہ اس اونٹنی کو کہتے تھے جس کو کوئی شخص اپنے سفر سے واپس آجانے یا مرض سے شفایاب ہو جانے پر اپنے معبودوں کے نام پر چھوڑ دیتا۔
بکری اگر مادہ جنتی تو اس کو اپنا حق سمجھتے اور اگر نر جنتی تو وہ ان کے معبودوں کا حق ہوتا اور اگر نر و مادہ دونوں جنتی تو نر کو اپنے معبودوں کے لیے ذبح کرنے کی بجائے اسے آزاد چھوڑ دیتے اور اس کا نام وصیلہ رکھتے۔ اسی طرح اس اونٹ کو جس کے بچے کا بچہ بار برداری کے قابل ہو جاتا تو اس بوڑھے اونٹ پر سواری اور بار برداری کو ممنوع قرار دیتے اور اس کا نام حام رکھتے۔ قرآن کریم نے اس تحریم کو منکر (نافرمانی اور گناہ کا کام) قرار دیا اور اس قسم کی گمراہیوں میں اپنے آباء کی تقلید کے لیے کوئی گنجائش نہیں رکھی فرمایا :
مَا جَعَلَ اللَّهُ مِنْ بَحِيرَةٍ وَلَا سَائِبَةٍ وَلَا وَصِيلَةٍ وَلَا حَامٍ ۙ وَلَٰكِنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا يَفْتَرُونَ عَلَى اللَّهِ الْكَذِبَ ۖ وَأَكْثَرُهُمْ لَا يَعْقِلُونَ 103 وَإِذَا قِيلَ لَهُمْ تَعَالَوْا إِلَىٰ مَا أَنْزَلَ اللَّهُ وَإِلَى الرَّسُولِ قَالُوا حَسْبُنَا مَا وَجَدْنَا عَلَيْهِ آبَاءَنَا ۚ أَوَلَوْ كَانَ آبَاؤُهُمْ لَا يَعْلَمُونَ شَيْئًا وَلَا يَهْتَدُونَ
اللہ نے نہ بحیرہ مقرر کیا ہے نہ سائبہ نہ وسیلہ اور نہ ہی حام۔ یہ کافر اللہ پر جھوٹی تہمت لگاتے ہیں۔ اور ان میں سے اکثر بے عقل ہیں۔ جب انہیں دعوت دی جاتی ہے کہ آؤ اس چیز کی طرف جو اللہ نے اتاری ہے اور اس کے رسول کی طرف تو کہتے ہیں کہ ہمارے لیے وہ طریقہ کافی ہے جس پر ہم نے اپنے باپ دادا کو (عمل کرتے ہوئے) پایا ہے۔ کیا یہ اس صورت میں بھی اپنے باپ دادا کی تقلید کریں گے جبکہ ان کے باپ دادا نہ کچھ جانتے رہے ہوں اور نہ ہدایت پر رہے ہوں؟
(المائدة : 103-104)
سورۃ اعراف میں اصل حرام چیزوں کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا :
قُلْ مَنْ حَرَّمَ زِينَةَ اللَّهِ الَّتِي أَخْرَجَ لِعِبَادِهِ وَالطَّيِّبَاتِ مِنَ الرِّزْقِ
کہو! کس نے حرام ٹھہرایا ہے اللہ کی اُس زینت کو جو اُس نے اپنے بندوں کے لیے پیدا کی ہے اور رزق کی پاکیزہ چیزوں کو؟
(الاعراف : 32)
قُلْ إِنَّمَا حَرَّمَ رَبِّيَ الْفَوَاحِشَ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَمَا بَطَنَ وَالْإِثْمَ وَالْبَغْيَ بِغَيْرِ الْحَقِّ ۖ وَأَنْ تُشْرِكُوا بِاللَّهِ مَا لَمْ يُنَزِّلْ بِهِ سُلْطَانًا وَأَنْ تَقُولُوا عَلَى اللَّهِ مَا لَا تَعْلَمُونَ
کہو! میرے رب نے تو جن چیزوں کو حرام ٹھہرایا ہے وہ یہ ہیں، بے حیائی کے کام خواہ کھلے ہوں یا چھپے، گناہ، ناحق زیادتی اور یہ کہ اللہ کا کسی کو شریک ٹھہراؤ جس کی سند اللہ نے نہیں نازل کی۔ نیز یہ کہ اللہ کی طرف منسوب کر کے کوئی ایسی بات کہو جس کا تمہیں علم نہیں۔
(الاعراف : 33)
تحلیل و تحریم کی یہ بحث مکی سورتوں میں آئی ہے جو اس بات کی دلیل ہے کہ قرآن کی نظر میں یہ مسئلہ فروعات و جزئیات کا نہیں بلکہ اصول و کلیات کا ہے۔
مدینہ میں کچھ مسلمان ایسے تھے جن کے اندر شدت پسندی اور طیبات (پاکیزہ چیزوں) کو اپنے نفس پر حرام کرنے کا رُجحان پیدا ہو گیا تھا۔ اس موقع پر اللہ تعالیٰ نے محکم آیات نازل فرما کر ان کو حدود اللہ اور صراط مستقیم پر قائم رہنے کی ہدایت فرمائی :
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تُحَرِّمُوا طَيِّبَاتِ مَا أَحَلَّ اللَّهُ لَكُمْ وَلَا تَعْتَدُوا ۚ إِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ الْمُعْتَدِينَ 87 وَكُلُوا مِمَّا رَزَقَكُمُ اللَّهُ حَلَالًا طَيِّبًا ۚ وَاتَّقُوا اللَّهَ الَّذِي أَنْتُمْ بِهِ مُؤْمِنُونَ
اے ایمان والو! جو پاکیزہ چیزیں اللہ نے تمہارے لیے حلال کی ہیں ان کو حرام نہ ٹھہراؤ اور حد سے تجاوز نہ کرو۔ یقین جانو! اللہ حد سے تجاوز کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔ جو حلال و طیب رزق اللہ نے تم کو بخشا ہے اسے کھاؤ اور اس اللہ سے ڈرتے رہو جس پر تم ایمان لائے ہو۔
(المائدة : 87-88)