حسنِ اعمال کے متعلق احکامات
① سیدنا ابو بکرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے عرض کیا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم! کون سے لوگ بہتر ہیں؟
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
من طال عمره وحسن عمله
”جس کی عمر دراز ہو اور اس کے اعمال بھی اچھے ہوں۔“
اس نے عرض کیا: ”کون سے لوگ برے ہیں؟“
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
من طال عمره وساء عمله
”جس کی عمر دراز ہو اور اس کے اعمال برے ہوں۔“
ترمذی، کتاب الزہد 2330۔ روایت صحیح ہے۔
زیادہ نیکیاں کرنے کے احکامات
① سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
ما من أحد يموت إلا ندم ، إن كان محسنا ندم أن لا يكون ازداد ، و إن كان مسيئا ندم أن لا يكون نزع
”ہر مرنے والا ندامت محسوس کرتا ہے؛ اگر کوئی نیکو کار ہو تو وہ نادم ہوتا ہے کہ وہ زیادہ نیکیاں نہ کر سکا اور اگر کوئی خطا کار ہوتا ہے تو وہ نادم ہوتا ہے کہ وہ ان سے باز نہ رہا۔“
ترمذی، کتاب الزہد عن رسول اللہ 2403۔ روایت نہایت ضعیف ہے۔ اس کی سند میں یحییٰ بن عبید اللہ متروک الحدیث ہے۔ دیکھئے: میزان الاعتدال 4 / 395۔
مؤمن کے لئے خیر ہی خیر ہے
① سیدنا صہیب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
عجبا لأمر المؤمن إن أمره كله خير وليس ذاك لأحد إلا للمؤمن إن أصابته سراء شكر فكان خيرا له ، وإن أصابته ضراء صبر فكان خيرا له
”مومن کا معاملہ بھی بڑا عجیب ہے، اس کے ہر معاملے میں خیر ہے اور یہ سعادت صرف مومن کے نصیب میں ہے۔ جب اسے کوئی خوشی نصیب ہوتی ہے اور وہ شکر ادا کرتا ہے تو یہ اس کے لیے بہتر ہے، اور اگر اسے کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو صبر کرتا ہے اور یہ بھی اس کے لیے بہتر ہے۔“
مسلم، کتاب الزہد والرقائق 2999۔
مشکوک چیز سے اجتناب کرنا
① سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یاد کیا:
دع ما يريبك إلى ما لا يريبك فإن الصدق طمأنينة والكذب ريبة
”جو چیز تمہیں شک میں مبتلا کر دے اسے چھوڑ دو اور جو شک میں مبتلا نہ کرے اسے اختیار کرو۔ اس لیے کہ صدق میں اطمینان ہے اور جھوٹ شک ہے۔“
ترمذی، کتاب صفة القيامة والرقائق والورع عن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم 2518، نسائی، کتاب الأشربة 327/8، 328۔ روایت صحیح ہے۔