اسلام اور حسنِ اسلام کے احکامات

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ حسین بن مبارک الموصلی کی عربی کتاب الاوامر والنواهي سے ماخوذ ہے جس کا اُردو ترجمہ محمد سرور گوہر صاحب نے احکامات و ممنوعات کے نام سے کیا ہے۔

اسلام اور اس کے احکامات

① سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إذا أحسن أحدكم إسلامه، فكل حسنة يعملها تكتب بعشر أمثالها، إلى سبع مائة ضعف، وكل سيئة يعملها تكتب بمثلها حتى يلقى الله
”جب تم میں سے کوئی شخص اپنے اسلام کو بہتر بنا لیتا ہے تو وہ جو بھی نیکی کرتا ہے دس گنا سے لے کر سات سو گنا تک لکھی جاتی ہے۔ اور وہ جو بھی برائی کرتا ہے وہ صرف اتنی ہی لکھی جاتی ہے حتیٰ کہ وہ اللہ سے جا ملتا ہے“۔
بخاری، كتاب الإيمان، حديث 42 . مسلم، كتاب الإيمان، حدیث 205/ 129.
”تم میں سے کوئی شخص“ لفظ کے حساب سے یہ خطاب حاضرین کے لیے ہے لیکن حکم ان کے لیے اور ان کے علاوہ دیگر لوگوں کے لیے عام ہے اور اس پر اتفاق ہے۔ اگرچہ کیفیتِ تناول میں تنازع ہے؛ کیا وہ حقیقتاً لغوی ہے یا شرعی یا مجازی۔
(ملاحظہ فرمائیں فتح الباری 124/1)
② سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ ہی بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
المسلم من سلم المسلمون من لسانه ويده، والمؤمن من أمنه الناس على دمائهم وأموالهم
”مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ ہوں اور مومن وہ ہے جس سے لوگوں کا جان و مال محفوظ ہو“۔
(الترمذى كتاب الايمان، حدیث 2627)
امام ترمذی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”یہ حدیث حسن صحیح ہے“۔
طبرانی نے عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت کی ہے اس کے آخر میں ہے: ”مہاجر وہ ہے جو برائی ترک کر دے اور اس سے اجتناب کرے“۔ لیکن اس کی سند ضعیف ہے کیونکہ اس میں روح بن صلاح ہے۔
(طبراني في الاوسط، حديث 232)

حسنِ اسلام کے متعلق احکامات

① سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إذا أحسن أحدكم إسلامه فكل حسنة يعملها تكتب بعشر أمثالها إلى سبعمائة ضعف، وكل سيئة يعملها تكتب بمثلها حتى يلقى الله تعالى
”جب تم میں سے کوئی شخص اچھی طرح اسلام پر عمل پیرا ہو جاتا ہے تو وہ جو بھی نیکی کرتا ہے وہ دس گنا سے لے کر سات سو گنا تک لکھی جاتی ہے اور وہ جو برائی کرتا ہے وہ اس کے موافق ہی لکھی جاتی ہے۔ حتیٰ کہ وہ شخص اللہ تعالیٰ سے جا ملتا ہے“۔
بخاری، کتاب الایمان (42). مسلم، كتاب الايمان (205/129)
② سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا:
إذا أسلم العبد فحسن إسلامه يكفر الله عنه كل سيئة كان زلفها، وكان بعد ذلك القصاص: الحسنة بعشر أمثالها إلى سبع مائة ضعف، والسيئة بمثلها إلا أن يتجاوز الله عنها
”جب کوئی بندہ مسلمان ہو جاتا ہے اور اسلام پر اچھی طرح عمل پیرا ہو جاتا ہے تو اللہ اس کے تمام گناہ معاف کر دیتا ہے جن کا اس نے (قبل از اسلام) ارتکاب کیا تھا۔ اور اس کے بعد قصاص (معاوضہ) شروع ہوتا ہے کہ نیکی کا بدلہ دس گنا سے لے کر سات سو گنا تک اور برائی کا بدلہ برائی کے موافق ہی دیا جاتا ہے مگر یہ کہ اللہ اس سے درگزر فرمائے“۔
بخاری، کتاب الایمان (41) نسائی، کتاب الصلوة (106/8)