تقدیر کو جھٹلانے کی ممانعت
① سیدنا نافع رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس آیا تو اس نے کہا: فلاں شخص آپ کو سلام کہتا ہے۔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: مجھے پتہ چلا ہے کہ وہ تقدیر کو جھٹلاتا ہے۔ اگر واقعی ہی اس کا یہ عقیدہ بن گیا ہے تو پھر مجھے اس کا سلام نہ پہنچاؤ۔ اس لیے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے:
يكون فى هذه الأمة أو فى أمتي الشك منه خسف ومسخ وقذف وذلك فى المكذبين بالقدر
”اس امت یا فرمایا میری امت میں زمین میں دھنسنا، صورتوں کا بدلنا اور پتھروں کا برسنا ہوتا رہے گا اور یہ ان لوگوں کے بارے میں ہوگا جو تقدیر کو جھٹلاتے ہیں“۔
ترمذى، كتاب القدر عن رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم (2152).
② سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لكل أمة مجوس، ومجوس هذه الأمة الذين يقولون: لا قدر، من مات منهم فلا تشهدوا جنازته، ومن مرض منهم فلا تعودوهم، وهم شيعة الدجال، وحق على الله أن يلحقهم بالدجال
”ہر امت کے کچھ مجوس ہیں، اور اس امت کے مجوس وہ لوگ ہیں جو کہتے ہیں: تقدیر کوئی چیز نہیں۔ جو شخص ان میں فوت ہو جائے اس کے جنازے میں شریک نہ ہو اور ان میں سے جو بیمار ہو جائے تو اس کی عیادت نہ کرو وہ دجال کے ساتھی ہیں اور اللہ پر یہ حق ہے کہ وہ انہیں دجال کے ساتھ ملا دے“۔
ابو داؤد، کتاب السنة (4692).
بدعتوں اور گناہ گاروں سے لاتعلقی
① سیدنا یحییٰ بن یعمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے کہا: اے ابو عبد الرحمن (عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی کنیت تھی)! ہماری طرف کچھ ایسے لوگ ہیں جو قرآن کی تلاوت کرتے ہیں اور وہ دعویٰ کرتے ہیں کہ تقدیر کچھ بھی نہیں۔ اور یہ فکر ابھی ابھی پیدا ہوئی ہے۔ تو انہوں نے فرمایا:
”جب تم ان لوگوں سے ملو تو انہیں بتا دو کہ میں ان سے بیزار ہوں، اور وہ مجھ سے بیزار ہیں“۔
مسلم، کتاب الايمان (1/8) ابودائود، کتاب السنة (4695) مسند احمد، مسند العشرة المبشرين بالجنة (27/1).
② سیدنا ابو بردہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، سیدنا ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ کو اس قدر شدید تکلیف ہوئی کہ وہ بے ہوش ہو گئے اور اس وقت ان کا سر ان کے اہل میں سے کسی عورت کی گود میں تھا۔ اتنے میں ان کے گھر والوں میں سے کوئی عورت چیخی چلائی۔ آپ اس وقت تو اسے کچھ نہ کہہ سکے لیکن جب افاقہ ہوا تو فرمایا: ”جس چیز سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیزاری کا اظہار کیا ہے اس سے میں بھی بیزاری کا اظہار کرتا ہوں، اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مصیبت پر چیخنے چلانے والی، سر مونڈنے والی اور گریبان چاک کرنے والی سے بیزاری کا اظہار فرمایا“۔
بخاری (1396). مسلم، کتاب الايمان (167/104).