مضمون کے اہم نکات
حدیث وحی ہے
[1] [وَ مَا یَنۡطِقُ عَنِ الۡہَوٰی ؕ]،[ اِنۡ ہُوَ اِلَّا وَحۡیٌ یُّوۡحٰی]
وہ (نبی کریم ﷺ اپنی) خواہش سے نہیں بولتے، بلکہ وہی بات کرتے ہیں، جو انہیں وحی کی جاتی ہے۔ (النجم:3-4)
اللہ تعالیٰ نے اس آیت کریمہ میں پہلے رسول کریم ﷺ سے "ہویٰ” کی نفی کی، بعد میں نطقِ رسول کو وحی قرار دیا۔ "إن” نافیہ "إلا” کے سیاق میں آیا ہے، اور ھو ضمیر کا مرجع نطق ہے، معنی حصر کا پیدا ہوا، نطقِ رسول صرف اور صرف وحی ہے۔
اگر حدیث منزل من اللہ نہ ہوتی، تو [وَ لَوۡ تَقَوَّلَ عَلَیۡنَا بَعۡضَ الۡاَقَاوِیۡلِ]،[ لَاَخَذۡنَا مِنۡہُ بِالۡیَمِیۡنِ]،[ ثُمَّ لَقَطَعۡنَا مِنۡہُ الۡوَتِیۡنَ]
وہ ہماری طرف کچھ جھوٹ منسوب کر دیتے، تو یقیناً ہم انہیں دائیں ہاتھ سے پکڑ لیتے اور ان کی رگِ جاں کاٹ دیتے۔ (الحاقة:44-46) کے تحت اللہ کریم رسول اللہ ﷺ کی رگِ جان کاٹ دیتے۔
علامہ ابن حزم رحمہ اللہ (456ھ) فرماتے ہیں:
"یقیناً وہ وحی ہے، جو اس کی طرف کی جاتی ہے۔” اس سے ہمیں معلوم ہو جاتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ پر دو قسم کی وحی ہوتی ہے۔ ایک وحی وہ ہے، جس کی تلاوت کی جاتی ہے، جو کہ تالیف کی گئی ہے اور اس کا نظم معجزاتی ہے، یہ قرآنی وحی ہے۔ دوسری وحی روایت ہوئی ہے، تالیف نہیں ہوئی، اس کا نظم معجزاتی ہے، نہ وہ تلاوت کی جاتی ہے، لیکن اس کو پڑھا جاتا ہے اور وہ رسول اللہ ﷺ سے وارد ہونے والی خبر ہے اور وہ اللہ کی مراد بیان کرنے والی وحی ہے۔”
(الإحكام في أصول الأحكام: 97/1)
[2] [وَ اَنۡزَلَ اللّٰہُ عَلَیۡکَ الۡکِتٰبَ وَ الۡحِکۡمَۃَ وَ عَلَّمَکَ مَا لَمۡ تَکُنۡ تَعۡلَمُ ؕ وَ کَانَ فَضۡلُ اللّٰہِ عَلَیۡکَ عَظِیۡمًا]
اللہ نے آپ کی طرف کتاب و حکمت نازل کی ہے اور آپ کو وہ کچھ سکھایا ہے، جو آپ نہیں جانتے تھے، آپ پر اللہ کا بہت بڑا فضل ہوا ہے۔ (النساء:113)
اس آیت سے ثابت ہوا کہ قرآن و حدیث منزل من اللہ ہیں، کتاب سے مراد قرآن اور حکمت سے مراد سنت ہے۔
علامہ ابن قیم رحمہ اللہ (751ھ) فرماتے ہیں:
"کتاب سے مراد قرآن ہے اور حکمت سے مراد سنت ہے، اس پر سلف کا اتفاق رہا ہے۔ جس چیز کی خبر رسول اللہ ﷺ نے دی، اس کی تصدیق کرنا اور اس پر ایمان لانا واجب ہے، جیسے رب تعالیٰ کی دی ہوئی خبر کی تصدیق کرنا واجب ہے، جو اللہ نے اپنے نبی کی زبان سے خبر دی ہے۔ یہ اہل اسلام کے ہاں ایک اجتماعی و اتفاقی قاعدہ ہے، اس کا انکار صرف وہی کرے گا، جو مسلمان نہیں ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "مجھے قرآن دیا گیا اور اس کی مثل دی گئی۔”
(الروح، ص 75)
❀ صرف ’الکتاب‘ کا ذکر ہو، تو اس میں سنت بھی شامل ہوتی ہے، ویسے بھی ’الکتاب‘ سے سنت پر التزامی دلالت ہو جاتی ہے، الکتاب کا معنی لکھی ہوئی چیز ہے اور قرآن اور حدیث دونوں لکھی ہوئی ہیں۔ نیز اس کا معنی حکمِ اللہ بھی ہوتا ہے۔
فرمان الہی ہے:
[کِتٰبَ اللّٰہِ عَلَیۡکُمۡ] ’’تم پر اللہ کا حکم ہے۔‘‘ (النساء: 24)
اگر کتاب کے ساتھ حکمت کا ذکر ہو، تو معنی حدیث ہوتا ہے، اکیلا حکمت کا لفظ ہو، تو اس میں قرآن بھی شامل ہے، جس طرح قرآن وحی ہے، لیکن ہر وحی قرآن نہیں، اسی طرح قرآن حکمت ہے، لیکن ہر حکمت قرآن نہیں۔
❀ مطلب یہ ہے کہ قرآن کے علاوہ بھی وحی اور حکمت ہے، وہ یقیناً حدیث ہے۔ جس طرح ایمان اور اسلام ایک ساتھ ذکر ہوں، تو ایمان کا معنی اور ہوتا ہے اور اسلام کا معنی اور ہوتا ہے، اکیلے ایمان کا ذکر ہو، تو اس میں اسلام بھی داخل ہوتا ہے، اسی طرح اکیلے اسلام کا ذکر ہو، تو اس میں ایمان بھی داخل ہوتا ہے۔ اسی طرح نیکی و تقویٰ ایک ساتھ ذکر ہوں، تو نیکی کا معنی الگ اور تقویٰ کا معنی الگ ہوتا ہے، اکیلی نیکی میں تقویٰ بھی شامل ہوتا ہے اور اکیلے تقویٰ میں نیکی بھی شامل ہوتی ہے۔ اسی طرح مسکین اور فقیر ایک ساتھ ذکر ہوں، تو الگ الگ معنی ہو گا اور اگر فقط مسکین کا ذکر ہو، تو اس میں فقیر بھی شامل ہوتا ہے۔ اسی طرح فقیر میں مسکین بھی شامل ہوتا ہے۔
حدیث کو حکمت اس لئے کہا گیا جیسا کہ کہا جاتا ہے: حكمة الدابة ’’جانور کی لگام‘‘ جس طرح لگام جانور کو سدھار کر رکھتی ہے، اسی طرح حدیث ایک مومن کو سیدھی راہ پر گامزن رکھتی ہے، حدیث کے بغیر راہِ ہدایت پر چلنا نا ممکن ہوتا ہے۔
نبی کریم ﷺ کے فرائضِ منصبی میں شامل ہے کہ وہ لوگوں کو کتاب و حکمت کی تعلیم دیتے ہیں۔ اگر کوئی یہاں حکمت سے مراد صرف کتاب لیتا ہے، تو یہ بات درست نہیں، اس کا مطلب ہو گا کہ قرآن نے مہمل تکرار کر دیا ہے۔ یعنی یوں کہہ دیا: [وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَابَ وَالْكِتَابَ] یہ قرآنی اسلوب کے منافی ہے۔ فصاحت و بلاغت اس کی حمایت نہیں کرتی۔
اسی طرح نحوی اعتبار سے بھی یہ درست نہیں، کیوں کہ عطف مغایرت چاہتا ہے، حکمت کا عطف کتاب پر ڈالا گیا ہے۔ معلوم ہوا کہ یہاں کتاب اور چیز ہے، حکمت الگ چیز ہے۔
اعتراض:
❀ لوہے کے بارے میں ہے: [وَ اَنۡزَلۡنَا الۡحَدِیۡدَ فِیۡہِ بَاۡسٌ شَدِیۡدٌ]
’’ہم نے لوہا نازل کیا، جس میں سخت قوت ہے۔‘‘ (الحديد:25)
❀ لباس کے بارے میں ہے۔ [قَدۡ اَنۡزَلۡنَا عَلَیۡکُمۡ لِبَاسًا یُّوَارِیۡ سَوۡاٰتِکُمۡ]
’’ہم نے تم پر لباس نازل کیا، جو تمہاری شرمگاہوں کو چھپاتا ہے۔‘‘ (الأعراف:26)
تو کیا لوہے کے ٹکڑے آسمان سے گرے؟ تو کیا شلوار اور قمیض آسمان سے اتاری گئیں؟
جواب:
قرآن کریم میں لفظِ أَنزَلْ چودہ معانی میں استعمال ہوا ہے، لوہے کے حوالے سے أَنزَلْنَا کا معنی خَلَقْنَا پیدا کرنا ہے، یعنی ہم نے لوہے کو پیدا کیا، یہاں نزول کا معنی خلق وانشاء ہے۔ اسی طرح لباس کے حوالے سے أَنزَلْنَا کا معنی أَلْبَسْنَا ہے کہ ہم نے تم کو لباس پہنایا ہے۔
لہٰذا آیت کریمہ میں جو نزول کا معنی قرآن کے لئے ہے، وہی حکمت کے لئے ہے، کیوں کہ حکمت کا عطف کتاب پر ڈالا گیا ہے، لہٰذا دونوں کے نزول کا ایک معنی ہے، اجماعِ امت اسی معنی کی تائید کرتا ہے، نیز اس کی تائید قرآن کریم سے ہوتی ہے۔
اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
[ذٰلِکَ مِمَّاۤ اَوۡحٰۤی اِلَیۡکَ رَبُّکَ مِنَ الۡحِکۡمَۃِ]
’’یہ حکمت وہ وحی ہے، جو آپ کے رب نے آپ کی طرف نازل کی ہے۔‘‘ (بني إسرائيل:39)
نیز فرمایا:
[وَ مَاۤ اَنۡزَلَ عَلَیۡکُمۡ مِّنَ الۡکِتٰبِ وَ الۡحِکۡمَۃِ یَعِظُکُمۡ بِہٖ]
’’اللہ نے جو کتاب اور حکمت آپ پر نازل کی ہیں، اس سے وہ آپ کو وعظ کرتا ہے۔‘‘ (البقرة:231)
یہ آیت کریمہ اپنی دلالت میں واضح ہے کہ کتاب و حکمت اللہ کی طرف سے نازل کی گئی ہیں۔
اعتراض:
يَعِظُكُم بِهِ میں ’’بِهِ‘‘ ضمیر مفرد ہے۔ لہٰذا حکمت کا معنی کتاب ہی ہے۔
جواب:
جب مقصد و مقصود ایک ہو، تو ضمیر مفرد آ سکتی ہے، قرآن وحدیث میں اس کی کئی مثالیں موجود ہیں، مثلاً
فرمان الہی ہے:
[یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوا اسۡتَجِیۡبُوۡا لِلّٰہِ وَ لِلرَّسُوۡلِ اِذَا دَعَاکُمۡ لِمَا یُحۡیِیۡکُمۡ]
’’اہل ایمان! اللہ و رسول کی اطاعت کرو، جب وہ تمہیں اس چیز کی دعوت دیں، جو تمہیں زندگی بخشتی ہے۔‘‘ (الأنفال:24)
اس آیت کریمہ میں اہل ایمان کو اللہ اور اس کے رسول کی بات کو قبول کرنے کا کہا گیا ہے، کیونکہ قرآن وحدیث میں ایمان والوں کے لئے زندگی ہے، حدیث کے بغیر کوئی زندگی نہیں۔ یہاں بھی دَعَا مفرد لایا گیا ہے، جبکہ دَعَوَا ہونا چاہئے تھا، کیوں کہ پیچھے اللہ اور رسول کا ذکر ہے۔ چونکہ قرآن وحدیث کا مقصد ایک ہے، اس لئے ضمیر مفرد لائی گئی ہے۔
فرمان باری تعالیٰ ہے:
[وَ الَّذِیۡنَ یَکۡنِزُوۡنَ الذَّہَبَ وَ الۡفِضَّۃَ وَ لَا یُنۡفِقُوۡنَہَا فِیۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ]
’’جو سونا اور چاندی ذخیرہ کرتے ہیں اور اسے اللہ کے راستے میں خرچ نہیں کرتے۔‘‘ (التوبة: 34)
یہاں ھا ضمیر مفرد ذکر ہوئی ہے۔ حالانکہ اس کا مرجع سونا اور چاندی ہے، تو یہاں مقصد ایک تھا، لہٰذا ضمیر بھی مفرد لائی گئی ہے۔
اعتراض:
کتاب (قرآن) کی تلاوت ہوتی ہے، تو حکمت (حدیث) کی تلاوت نہیں ہوتی۔
جواب:
حکمت کی بھی تلاوت ہوتی ہے۔
فرمانِ باری تعالیٰ ہے: [وَ اذۡکُرۡنَ مَا یُتۡلٰی فِیۡ بُیُوۡتِکُنَّ مِنۡ اٰیٰتِ اللّٰہِ وَ الۡحِکۡمَۃِ ؕ]
’’(ازواج نبی!) اللہ کے اس انعام کو یاد کرو، کہ تمہارے گھروں میں آیات وحکمت کی تلاوت کی جاتی ہے۔‘‘ (الأحزاب:34)
نبی کریم ﷺ کے گھر میں قرآن وحدیث دونوں سنے سنائے جاتے تھے اور پڑھے پڑھائے جاتے تھے، دونوں کی تعلیم اور تلاوت ہوتی تھی، اہل علم کا اتفاق ہے کہ یہاں حکمت سے مراد حدیث ہے، نیز أطيعوا الله وأطيعوا الرسول سے اس کی تائید بھی ہوتی ہے۔
[3] [اِنَّا نَحۡنُ نَزَّلۡنَا الذِّکۡرَ وَ اِنَّا لَہٗ لَحٰفِظُوۡنَ]
’’بے شک ہم نے ذکر کو نازل کیا اور ہم ہی اس کی حفاظت کرتے ہیں۔‘‘ (الحجر:9)
یہ آیت کریمہ واضح ثبوت فراہم کر رہی ہے کہ قرآن کی طرح حدیث بھی نازل ہوئی ہے، یہاں ذکر کا معنی نصیحت ہے، قرآن وحدیث دونوں نصیحت ہیں، ’ذکر‘ تذکیر کا اسم مصدر ہے، اسم فاعل کے معنی میں ہے، یعنی اگر قرآن نصیحت کرنے والا ہے، تو نبی کریم ﷺ کا فرمان بھی نصیحت کرنے والا ہے۔
علامہ ابن حزم رحمہ اللہ (456ھو) فرماتے ہیں:
ضمان الله تعالى قد صح في حفظ كل ما قاله رسول الله صلى الله عليه وسلم .
’’اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ کے تمام فرامین کی حفاظت کی ضمانت دی ہے۔‘‘ (النبذة الكافية، ص 54)
اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
[قَدۡ اَنۡزَلَ اللّٰہُ اِلَیۡکُمۡ ذِکۡرًا]،[رَّسُوۡلًا یَّتۡلُوۡا عَلَیۡکُمۡ اٰیٰتِ اللّٰہِ]
’’اللہ نے تمہاری طرف ذکر نازل کیا ہے، یعنی رسول، جو تم پر اللہ کی آیات تلاوت کرتا ہے۔‘‘ (الطلاق:10-11)
ثابت ہوا کہ رسول کریم ﷺ بھی مُذَکِّر (نصیحت کرنے والے) ہیں، آپ ﷺ وحی سے ہی تذکیر کرتے تھے۔
فرمان الہی ہے: [قُلۡ اِنَّمَاۤ اُنۡذِرُکُمۡ بِالۡوَحۡیِ]
’’کہہ دیجئے، میں آپ کو وحی کے ذریعے ڈراتا ہوں۔‘‘ (الأنبياء:45)
تو بس قرآن وحدیث وحی ہیں، نبی کریم ﷺ وحی سے نصیحت فرماتے تھے۔ قرآن وحدیث دونوں اللہ کی طرف سے نازل کردہ ہیں، دونوں اللہ تعالیٰ کی حفاظت کے ساتھ محفوظ ہیں، قرآن متن ہے، تو حدیث شرح، قرآن متن ہے، تو حدیث اس کا بیان وتبیان ہے۔ دونوں کی تعلیمات ایک ہیں، ان میں کوئی تضاد اور تعارض نہیں اور دونوں معجزہ ہیں۔
علامہ ابن حزم رحمہ اللہ (456ھ) فرماتے ہیں:
’’اس آیت سے قطعی طور پر معلوم ہو جاتا ہے کہ قرآن اور صحیح حدیث باہم متفق ہیں، یہ ایک ہی چیز ہیں، ان میں کوئی تعارض ہے، نہ کوئی اختلاف ہے، اللہ جسے چاہتا ہے، اس کا فہم عطا کر دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے، اس سے محروم کر دیتا ہے، اس کے سوا کوئی الہ نہیں۔ جس طرح وہ مانگنے والوں میں سے جسے چاہے فہم، ذکا اور صبر عطا کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے کوتاہ فہم اور سست بنا دیتا ہے۔ ہم اللہ سے سوال کرتے ہیں کہ وہ ہمیں اپنی خاص عنایت سے فہم عطا کرے، جو ہمیں اس کی مراد سمجھا دے، آمین! اس بحث سے یہ بھی معلوم ہو گیا کہ جو لوگ قرآن کو قرآن سے ٹکراتے ہیں یا صحیح حدیث کو صحیح حدیث سے ٹکراتے ہیں یا پھر صحیح حدیث کو قرآن سے ٹکراتے ہیں، وہ باطل منہج پر ہیں۔‘‘
(الإحكام في أصول الأحكام: 100/1)
[4] [اِنَّ عَلَیۡنَا جَمۡعَہٗ وَ قُرۡاٰنَہٗ]،[فَاِذَا قَرَاۡنٰہُ فَاتَّبِعۡ قُرۡاٰنَہٗ]،[ثُمَّ اِنَّ عَلَیۡنَا بَیَانَہٗ]
’’یقیناً ہم پر اسے جمع کرنا اور پڑھنا ہے، تو جب ہم پڑھیں، تو آپ اس پڑھے ہوئے کا اتباع کیجئے، پھر اس کا بیان بھی ہمارے ذمے ہے۔‘‘ (القیامة:17-19)
یہ آیت حدیث کے وحی ہونے پر واضح دلیل ہے، حدیث قرآن کا بیان ہے، جس کا ذمہ خود اللہ تعالیٰ نے لیا ہے، جو نبی کریم ﷺ کی حدیث کے ذریعہ پورا ہو گا۔
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں:
[أن نبينه على لسانك]
’’ہم اس کا بیان آپ کی زبانی کریں گے۔‘‘ (صحیح البخاری: 4928، صحیح مسلم: 448)
علامہ ابن حزم رحمہ اللہ (456ھ) لکھتے ہیں:
أخبر تعالى أن بيان القرآن عليه عز وجل وإذا كان عليه فبيانه من عنده تعالى والوحي كله متلوه وغير متلوه فهو من عند الله عز وجل.
’’اللہ تعالیٰ نے خبر دی ہے کہ قرآن کا بیان اللہ پر ہے، جب قرآن کا بیان اللہ پر ہے، تو یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہی ہو گا، پس تمام وحی چاہے وہ متلو ہو یا غیر متلو ہو، اللہ عزوجل کی طرف سے ہوتی ہے۔‘‘ (الإحكام في أصول الأحكام: 82/1)
[5] [وَ اَنۡزَلۡنَاۤ اِلَیۡکَ الذِّکۡرَ لِتُبَیِّنَ لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ اِلَیۡہِمۡ وَ لَعَلَّہُمۡ یَتَفَکَّرُوۡنَ]
’’ہم نے آپ کی طرف ذکر اس لئے نازل کیا کہ آپ لوگوں کے لیے اللہ کی نازل کردہ وحی کی وضاحت کر دیں، تاکہ وہ غور وفکر کریں۔‘‘ (النحل:44)
شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ (728ھ) فرماتے ہیں:
يجب أن يعلم أن النبي صلى الله عليه وسلم بين لأصحابه معاني القرآن كما بين لهم ألفاظه فقوله تعالى: ،،لِتُبَیِّنَ لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ اِلَیۡہِمۡ،، يَتَنَاوَلُ هَذَا وَهَذَا.
’’یہ جان لینا واجب ہے کہ نبی کریم ﷺ نے اپنے صحابہ کو قرآن کے معانی بھی بیان کئے ہیں، جس طرح کہ قرآن کے الفاظ بیان کئے ہیں۔ چنانچہ فرمان الہی: ،،لِتُبَیِّنَ لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ اِلَیۡہِمۡ،، تاکہ آپ لوگوں پر وحی کی وضاحت کریں۔ قرآن کے الفاظ اور معانی دونوں کو شامل ہے۔‘‘ (مجموع الفتاوى: 331/13)
امام محمد بن جریر طبری رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
قد تبين ببيان الله جل ذكره، أن مما أنزل الله من القرآن، على نبيه صلى الله عليه وسلم، ما لا يوصل إلى علم تأويله، إلا ببيان الرسول صلى الله عليه وسلم.
’’اللہ کے اس بیان سے واضح ہو گیا کہ قرآن میں کچھ ایسی چیزیں بھی ہیں، جن کی حقیقت کا علم رسول اللہ ﷺ کی وضاحت کے بغیر نہیں ہوسکتا۔‘‘ (تفسير الطبري: 68/1)
❀ ثابت ہوا کہ قرآن کا بیان نبی کریم ﷺ کے ذمہ تھا، جسے آپ نے کما حقہ پورا کیا۔ وہ بیان حدیث ہی تو ہے، یعنی وحی کا بیان وحی سے ہوا اور اللہ کی حفاظت سے ہوا، اگر احادیث دین نہیں ہیں تو قرآن کی وضاحت کہاں ہے؟ جو نبی کریم ﷺ کے فرائض منصبی میں شامل تھا، آپ کی حدیث محفوظ نہیں، تو قرآن کا بیان کہاں ہے؟ نبی کریم ﷺ کی احادیث قابل حجت ہیں، تب ہی بیان قرآن ٹھہریں، اگر حدیث نہ مانی جائے، تو ،،وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ،، کا کیا مطلب ہوگا؟
اللہ کا فرمان ہے:
[وَ مَاۤ اَنۡزَلۡنَا عَلَیۡکَ الۡکِتٰبَ اِلَّا لِتُبَیِّنَ لَہُمُ الَّذِی اخۡتَلَفُوۡا فِیۡہِ]
’’ہم نے آپ پر کتاب صرف اس لئے نازل کی ہے کہ آپ لوگوں کو وہ باتیں کھول کھول کر بیان کر دیں جس میں وہ اختلاف کرتے ہیں۔‘‘ (النحل:64)
قرآن کی تعبیر کا اختلاف اگر رسول اللہ ﷺ حل نہیں کریں گے، تو کون کرے گا؟ اگر یوں انسانوں کو کھلا چھوڑ دیا جائے، تو کیا تعبیر میں الجھیں جائیں گے؟
فرمان الہی ہے:
[وَ نَزَّلۡنَا عَلَیۡکَ الۡکِتٰبَ تِبۡیَانًا لِّکُلِّ شَیۡءٍ] ’’ہم نے آپ پر کتاب نازل کی ہے، جو ہر چیز کا بیان ہے۔‘‘ (النحل:89)
نیز فرمایا:
[مَا فَرَّطۡنَا فِی الۡکِتٰبِ مِنۡ شَیۡءٍ] ’’ہم نے کتاب میں کوئی چیز نہیں چھوڑی۔‘‘ (الأنعام:38)
نیز فرمایا:
[وَّ ہُوَ الَّذِیۡۤ اَنۡزَلَ اِلَیۡکُمُ الۡکِتٰبَ مُفَصَّلًا ؕ] ’’اس نے آپ کی طرف کتاب نازل کی، جو مفصل ہے۔‘‘ (الأنعام:114)
ان آیات میں ’الکتاب‘ سے مراد قرآن و حدیث ہے، کیونکہ کتاب میں حدیث کی التزامی دلالت ہو جاتی ہے، حدیث قرآن کا بیان ہے، قرآن مجمل ہے، تو اس کی تفصیل حدیث کرتی ہے۔
اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
[وَ اَحَلَّ اللّٰہُ الۡبَیۡعَ وَ حَرَّمَ الرِّبٰوا ؕ] ’’اللہ نے بیوع کو حلال قرار دیا ہے اور سود کو حرام قرار دیا ہے۔‘‘ (البقرة:275)
❀ قرآن نے سود کو حرام قرار دیا ہے، یہ نہیں بتایا کہ سود کیا ہے؟ اس کی کتنی انواع و اقسام ہیں؟ وہ حدیث بیان کرتی ہے۔ نیز اللہ تعالیٰ کا فرمان اس کی تائید کرتا ہے:
[وَ مَاۤ اٰتٰىکُمُ الرَّسُوۡلُ فَخُذُوۡہُ ٭ وَ مَا نَہٰىکُمۡ عَنۡہُ فَانۡتَہُوۡا ۚ وَ اتَّقُوا اللّٰہَ ؕ اِنَّ اللّٰہَ شَدِیۡدُ الۡعِقَابِ]
’’تمہیں جو چیز رسول دیں، اسے لے لو اور جس چیز سے منع کریں، اس سے رک جاؤ، اللہ سے ڈر جاؤ، یقیناً اللہ دردناک عذاب دینے والا ہے۔‘‘ (الحشر:7)
اس آیت میں تو قرآن کا ذکر نہیں ہے، حدیثِ رسول کی بات ہو رہی ہے، معلوم ہوا کہ حدیث قرآن کی طرح دین کی دلیل ہے۔
امام عبدالرحمن ابن ابی حاتم رحمہ اللہ (327ھ) فرماتے ہیں:
’’اللہ کریم نے رسول اللہ ﷺ کو تمام انسانوں کی طرف رسول بنا کر بھیجا ہے۔ آپ پر ایک کتاب نازل کی ہے، جس میں ہر چیز کا بیان ہے اور آپ ﷺ کو اس کی وضاحت کرنے والا بنایا ہے، فرمان الہی ہے: ،،وَ اَنۡزَلۡنَاۤ اِلَیۡکَ الذِّکۡرَ لِتُبَیِّنَ لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ اِلَیۡہِمۡ،، ’’ہم نے آپ کی طرف ذکر اس لئے نازل کیا کہ آپ لوگوں کے لیے اللہ کی نازل کردہ وحی کی وضاحت کر دیں۔‘‘ اللہ کا فرمان ہے: ،،وَ مَاۤ اَنۡزَلۡنَا عَلَیۡکَ الۡکِتٰبَ اِلَّا لِتُبَیِّنَ لَہُمُ الَّذِی اخۡتَلَفُوۡا فِیۡہِ،، ’’ہم نے آپ پر کتاب صرف اس لئے نازل کی ہے کہ آپ لوگوں کو وہ باتیں کھول کھول کر بیان کر دیں جس میں وہ اختلاف کرتے ہیں۔‘‘ رسول اللہ ﷺ اللہ کے حکم کو کھول کر بیان کرنے والے ہیں۔ آپ ﷺ نے اس کی کتاب کے وہ معانی بیان کئے ہیں، جن میں لوگوں کو مخاطب کیا گیا ہے۔ اللہ نے اس سے مراد کیا لی ہے، اسی طرح آپ نے قرآن کے معانی کی شرح کی ہے، شریعت کے فرائض و واجبات، مندوبات، آداب، احکام اور سنتیں بتائی ہیں۔ اسی طرح آپ نے احکام دیئے ہیں اور آثار بیان کئے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ مکہ اور مدینہ میں تئیس برس رہے۔ آپ لوگوں کو دین کے معالم بتاتے رہے، دین کے فرائض اور سنتوں کی آگاہی دیتے رہے، حرام و حلال کی معرفت دی اور قول و فعل کے ساتھ لوگوں پر حق کا راستہ واضح کیا۔ دن گزرتے گئے، یہاں تک کہ نبی کریم ﷺ اللہ کے پاس چلے گئے، آپ پر افضل ترین درود و سلام ہو۔ آپ نے مخلوق کو حق بیان کر کے اللہ کی حجت قائم کر دی۔ قرآن کے محکمات اور متشابہات بیان کر دیئے، اسی طرح اس کے خاص و عام اور ناسخ و منسوخ بیان کر دیئے، اسی طرح آپ نے ڈرا دیا، بشارتیں دیں۔ فرمان الہی ہے: [رُسُلًا مُّبَشِّرِیۡنَ وَ مُنۡذِرِیۡنَ لِئَلَّا یَکُوۡنَ لِلنَّاسِ عَلَی اللّٰہِ حُجَّۃٌۢ] ’’ہمارے رسول عذاب سے ڈراتے اور جنت کی بشارت دیتے ہیں، تاکہ رسولوں کے بعد لوگوں کی اللہ تعالیٰ پر کوئی حجت نہ رہے۔‘‘
(الجرح والتعديل: 1/1-2)
علامہ ابن حزم رحمہ اللہ (456ھ) فرماتے ہیں:
’’اس آیت میں واضح بیان اور نص ہے کہ اللہ نے رسول اللہ ﷺ پر ذکر نازل کیا ہے، تاکہ آپ لوگوں کو بیان کریں، بیان کلام کے ساتھ ہوتا ہے، جب رسول اللہ ﷺ قرآن کی تلاوت کرتے، تو گویا بیان کرتے، پھر اگر وہ مجمل ہوتا، جس کے لفظوں سے اس کا معنی سمجھ نہ آ رہا ہوتا، تو اس وقت وحی کے ساتھ بیان کر دیتے، وہ وحی متلو ہوتی یا غیر متلو، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: [فَاِذَا قَرَاۡنٰہُ فَاتَّبِعۡ قُرۡاٰنَہٗ]،[ثُمَّ اِنَّ عَلَیۡنَا بَیَانَہٗ] ’’جب ہم پڑھیں، تو آپ اس پڑھے ہوئے کی اتباع کیجئے، پھر اس کی وضاحت کرنا بھی ہم پر ہے۔‘‘ پس اللہ تعالیٰ نے خبر دی ہے کہ قرآن کی وضاحت اس کے ذمہ ہے، جب قرآن کی وضاحت اللہ کے ذمہ ہے، تو رسول اللہ ﷺ کی وضاحت اللہ کی طرف سے ہوئی، تو ساری کی ساری وحی خواہ وہ متلو ہو یا غیر متلو، اللہ کی طرف سے ہی ہے۔‘‘
(الإحكام في أصول الأحكام: 82/1)
[6] [قُلۡ اِنۡ کُنۡتُمۡ تُحِبُّوۡنَ اللّٰہَ فَاتَّبِعُوۡنِیۡ یُحۡبِبۡکُمُ اللّٰہُ وَ یَغۡفِرۡ لَکُمۡ ذُنُوۡبَکُمۡ ؕ وَ اللّٰہُ غَفُوۡرٌ رَّحِیۡمٌ]،[قُلۡ اَطِیۡعُوا اللّٰہَ وَ الرَّسُوۡلَ ۚ فَاِنۡ تَوَلَّوۡا فَاِنَّ اللّٰہَ لَا یُحِبُّ الۡکٰفِرِیۡنَ]
’’نبی! کہہ دیجئے، اگر آپ اللہ سے محبت کرتے ہیں، تو میرا اتباع کیجئے، اللہ آپ سے محبت کرے گا اور آپ کے گناہ معاف کر دے گا، اللہ تعالیٰ معاف کرنے والا اور مہربان ہے، کہہ دیجئے! اللہ اور رسول کی اطاعت وفرماں برداری کریں، اگر انہوں نے آپ ﷺ کے حکم کی مخالفت کی ہے تو یاد رکھیں کہ اللہ تعالیٰ کافروں سے محبت نہیں رکھتا۔‘‘ (آل عمران:31-32)
حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ (م:774ھ) لکھتے ہیں:
هذه الآية الكريمة حاكمة على كل من ادعى محبة الله، وليس هو على الطريقة المحمدية فإنه كاذب في دعواه في نفس الأمر، حتى يتبع الشرع المحمدي والدين النبوي في جميع أقواله وأحواله.
’’ہر شخص، جو اللہ سے محبت کا دعویٰ کرتا ہے اور نبی ﷺ کے طریقے کی پیروی نہیں کرتا، اس آیت کا فیصلہ ہے کہ وہ حقیقت اپنے دعویٰ میں جھوٹا ہے، جب تک نبی ﷺ کے تمام اقوال وافعال کی پیروی نہیں کرتا۔‘‘ (تفسير ابن كثير: 32/2)
اس آیت کریمہ میں رسول اللہ ﷺ کے قول فَاتَّبِعُونِي ’’پس تم میرا اتباع کرو‘‘ کا ذکر ہے، رسول اللہ ﷺ نے اپنے اتباع کا حکم دیا ہے۔ آپ کا اتباع درحقیقت اللہ تعالیٰ کا اتباع ہے۔
فرمانِ باری تعالیٰ ہے:
[مَنۡ یُّطِعِ الرَّسُوۡلَ فَقَدۡ اَطَاعَ اللّٰہَ] ’’جس نے رسول کی اطاعت کی، یقیناً اس نے اللہ کی اطاعت کی۔‘‘ (النساء:80)
رسول اللہ ﷺ کا اتباع اللہ کا اتباع تب ہوگا، جب آپ کے اقوال وافعال اور احوال وحی کے تابع ہوں گے۔
اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
[وَ مَاۤ اَرۡسَلۡنَا مِنۡ رَّسُوۡلٍ اِلَّا لِیُطَاعَ بِاِذۡنِ اللّٰہِ ؕ] ’’ہم نے ہر رسول اس لئے بھیجا، کہ اس کی اللہ کے اذن سے اطاعت کی جائے۔‘‘ (النساء:64)
رسول اللہ ﷺ کی اطاعت کا حکم تو اللہ نے دیا ہے، ورنہ اس آیت کا کوئی معنی نہیں؟ یہ بات بھی ذہن نشین رہے کہ خود رسول اللہ ﷺ کو وحی کی پیروی کا حکم ہے۔
ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
[وَّ اتَّبِعۡ مَا یُوۡحٰۤی اِلَیۡکَ مِنۡ رَّبِّکَ ؕ] ’’آپ اس وحی کی پیروی کریں، جو آپ کی طرف آپ کے رب نے نازل کی ہے۔‘‘ (الأحزاب:2)
شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ (728ھ) فرماتے ہیں:
إن قال قائل: فما أحسن طرق التفسير؟ فالجواب: أن أصح الطرق في ذلك أن يفسر القرآن بالقرآن؛ فما أجمل في مكان فإنه قد فسر في موضع آخر وما اختصر من مكان فقد بسط في موضع آخر فإن أعياك ذلك فعليك بالسنة فإنها شارحة للقرآن وموضحة له.
’’اگر کوئی پوچھے کہ قرآن کی تفسیر کا بہترین ذریعہ کیا ہے؟ تو جواب یہ ہے کہ صحیح ترین طریقہ یہ ہے کہ قرآن کی قرآن سے تفسیر کی جائے، جو ایک جگہ مجمل ہو گا، اس کو دوسری جگہ مفسر بیان کیا گیا ہو گا، جو ایک جگہ مختصر ہو گا، اسے دوسری جگہ مفصل بیان کیا گیا ہو گا، اگر قرآن میں نہ ملے، تو پھر سنت کو لازم پکڑیں، کیونکہ سنت قرآن کی شارح اور اس کی وضاحت کرنے والی ہے۔‘‘ (مجموع الفتاوى: 362/13)
[7] [ثُمَّ جَعَلۡنٰکَ عَلٰی شَرِیۡعَۃٍ مِّنَ الۡاَمۡرِ فَاتَّبِعۡہَا وَ لَا تَتَّبِعۡ اَہۡوَآءَ الَّذِیۡنَ لَا یَعۡلَمُوۡنَ]
’’ہم نے آپ کو ایک شریعت پر بھیجا ہے، اس کا اتباع کریں اور لاعلم لوگوں کی خواہشات کی پیروی نہ کریں۔‘‘ (الجاثية:18)
رسول اللہ ﷺ پیکر وحی تھے۔ آپ کا اپنا قول قرآن نے نقل کیا ہے:
[اِنۡ اَتَّبِعُ اِلَّا مَا یُوۡحٰۤی اِلَیَّ ؕ] ’’میں صرف اللہ کی وحی کی پیروی کرتا ہوں۔‘‘ (الأنعام:50)
مومنوں کو بھی وحی کی پیروی کا حکم ہے۔
فرمان باری تعالیٰ ہے:
[اِتَّبِعُوۡا مَاۤ اُنۡزِلَ اِلَیۡکُمۡ مِّنۡ رَّبِّکُمۡ] ’’اس وحی کا اتباع کرو، جو تمہارے لیے تمہارے رب کی طرف سے نازل کی گئی ہے۔‘‘ (الأعراف:3)
تو اس آیت سے فاتبعوني ’’تم میرا اتباع کرو‘‘ کی تعبیر واضح ہوتی ہے، نبی کریم ﷺ کا اتباع قرآن وحدیث کا اتباع ہے۔
فرمان باری تعالیٰ ہے:
[فَاسۡتَمۡسِکۡ بِالَّذِیۡۤ اُوۡحِیَ اِلَیۡکَ ۚ اِنَّکَ عَلٰی صِرَاطٍ مُّسۡتَقِیۡمٍ]
’’جو آپ کی طرف وحی کی گئی ہے، اسے لازم پکڑیں، یقیناً آپ صراط مستقیم پر ہیں۔‘‘ (الزخرف:43)
فرمان الہی ہے:
[وَ اِنَّکَ لَتَہۡدِیۡۤ اِلٰی صِرَاطٍ مُّسۡتَقِیۡمٍ] ’’بے شک آپ صراط مستقیم کی طرف راہنمائی کرتے ہیں۔‘‘ (الشورى:52)
ثابت ہوا کہ حدیث صراط مستقیم ہے اور ہدایت کا راستہ ہے، یہی رسول اللہ ﷺ کے ارشادات قرآن کا بیان بنے، یوں قرآن پر عمل ممکن ہوا۔
[8] [یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اَطِیۡعُوا اللّٰہَ وَ اَطِیۡعُوا الرَّسُوۡلَ وَ اُولِی الۡاَمۡرِ مِنۡکُمۡ ۚ فَاِنۡ تَنَازَعۡتُمۡ فِیۡ شَیۡءٍ فَرُدُّوۡہُ اِلَی اللّٰہِ وَ الرَّسُوۡلِ اِنۡ کُنۡتُمۡ تُؤۡمِنُوۡنَ بِاللّٰہِ وَ الۡیَوۡمِ الۡاٰخِرِ ؕ ذٰلِکَ خَیۡرٌ وَّ اَحۡسَنُ تَاۡوِیۡلًا]
’’اہل ایمان! اللہ اور رسول کی اطاعت کرو اور اپنے ولی الامر کی اطاعت کرو، اگر تمہارے درمیان کوئی اختلاف ہو جائے، تو اسے اللہ اور رسول کی طرف لوٹاؤ، اگر تم اللہ اور روز آخرت پر ایمان رکھتے ہو، اس میں خیر ہے اور بہترین انجام ہے۔‘‘ (النساء: 59)
علامہ شوکانی رحمہ اللہ (1250ھ) فرماتے ہیں:
معنى الرد إلى الله سبحانه الرد إلى كتابه، ومعنى الرد إلى رسوله صلى الله عليه وسلم الرد إلى سنته بعد وفاته، وهذا مما لا خلاف فيه بين جميع المسلمين.
’’اللہ کی طرف پھیرنے کا معنی قرآن کی طرف پھیرنا ہے۔ رسول اللہ ﷺ کی طرف پھیرنے کا معنی آپ ﷺ کی وفات کے بعد آپ کی سنت کی طرف رجوع ہے، اس بارے میں تمام مسلمانوں کے درمیان کوئی اختلاف نہیں۔‘‘ (شرح الصدور بتحريم رفع القبور، ص 3)
❀ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت فرض ہے، اللہ نے اپنی اطاعت کے ساتھ رسول کریم ﷺ کی اطاعت کا حکم دیا ہے اور رسول کی مخالفت سے بطور خاص ڈرایا ہے۔
اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
[وَ اَطِیۡعُوا اللّٰہَ وَ اَطِیۡعُوا الرَّسُوۡلَ وَ احۡذَرُوۡا ۚ فَاِنۡ تَوَلَّیۡتُمۡ فَاعۡلَمُوۡۤا اَنَّمَا عَلٰی رَسُوۡلِنَا الۡبَلٰغُ الۡمُبِیۡنُ]
’’اللہ اور رسول کی اطاعت کرو اور باز آ جاؤ، اگر تم پھر گئے، تو جان لو کہ ہمارے رسول کے ذمہ کھول کھول کر بیان کرنا ہے۔‘‘ (المائدة:92)
❀ اس آیت کریمہ سے ان لوگوں کا رد ہوتا ہے، جو نبی کریم ﷺ کی اطاعت کو بحیثیت شریعت نہیں لیتے، ان کا کہنا ہے کہ مسلمان حکمران کی بات ماننا فرض ہے، چوں کہ رسول اللہ ﷺ بھی ایک حکمران تھے، اس لئے آپ کی اطاعت کو بھی بطور حکمران فرض قرار دیا گیا ہے، بطور رسول آپ کی اطاعت کا حکم نہیں دیا گیا۔
❀ اس استدلال میں بہت سارے جھول ہیں، مثلاً قرآن کی فصاحت پر حرف آتا ہے، قرآن نے کیوں ایسی مبہم بات کہہ دی؟ جس کا سیاق سے دور تک تعلق نہیں تھا اور یہ بھی کیوں نہ ہوا کہ اللہ کریم نے واضح طور پر کیوں نہ کہہ دیا کہ بطور حاکم آپ کی اطاعت کرو، آپ کے بعد دوسرے حاکموں کی اطاعت کیجئے گا، آپ کی اطاعت نہیں کرنی، اللہ نے تو دوسرے حکمرانوں کی اطاعت بھی آپ کی اطاعت سے مشروط کر دی ہے؟
❀ اور یہ استدلال اصول عقل ونقل کے بھی خلاف ہے، کیوں کہ اگر کسی کو کہا جا رہا ہے کہ بھائی عالم کی عزت کرو، تو مراد یہ نہیں ہو گا کہ چوں کہ اس کے سر پر ٹوپی ہوتی ہے، اس لئے عزت کرو، بلکہ مراد ہوتا ہے کہ اس کے پاس علم ہے، اس لئے اس کی عزت کرو، اسی طرح اگر کہا جائے کہ مشرک جنت نہیں جا سکتا، تو اس سے مراد یہ نہیں ہو گا کہ مشرک آدمی حاجیوں کو پانی پلاتا ہے، اس لئے جہنم جائے گا، بلکہ مراد یہ ہو گا کہ وہ شرک کرتا ہے، اس لئے جہنم جائے گا۔ اسی طرح جب کہا کہ رسول کی اطاعت کرو، تو کوئی دوسری دوسری مراد نہیں ہو سکتی، بلکہ یہی مراد ہے کہ اس کو رسالت دی گئی ہے، سو اس رسالت کی اطاعت کرو۔
فرمان باری تعالیٰ ہے:
[لَقَدۡ کَانَ لَکُمۡ فِیۡ رَسُوۡلِ اللّٰہِ اُسۡوَۃٌ حَسَنَۃٌ لِّمَنۡ کَانَ یَرۡجُوا اللّٰہَ وَ الۡیَوۡمَ الۡاٰخِرَ وَ ذَکَرَ اللّٰہَ کَثِیۡرًا]
’’تمہارے لئے رسول اللہ کی ذات بہترین نمونہ ہے، ان کے لئے جو اللہ اور یوم آخرت پر یقین رکھتے ہیں اور اللہ کا بہت زیادہ ذکر کرتے ہیں۔‘‘ (الأحزاب:21)
یہاں تو قیامت تک کے لئے رسول اللہ ﷺ کے اسوہ کو باقی رکھنے کی بات ہو رہی ہے، اگر بطور حاکم ہی آپ کی اطاعت کی جانی ہوتی، تو پھر آپ کے اسوہ کو آپ کی وفات کے ساتھ ہی ختم کر دیا جاتا؟
نیز آپ ﷺ کی اطاعت کو مدارِ ایمان قرار دیا گیا ہے۔
اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
[فَلَا وَ رَبِّکَ لَا یُؤۡمِنُوۡنَ حَتّٰی یُحَکِّمُوۡکَ فِیۡمَا شَجَرَ بَیۡنَہُمۡ ثُمَّ لَا یَجِدُوۡا فِیۡۤ اَنۡفُسِہِمۡ حَرَجًا مِّمَّا قَضَیۡتَ وَ یُسَلِّمُوۡا تَسۡلِیۡمًا]
’’(نبی!) آپ کے رب کی قسم! یہ لوگ اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتے جب تک اپنے باہمی اختلافات میں آپ کو حاکم نہ مان لیں، آپ کے فیصلے پر دلوں میں گھٹن محسوس نہ کریں، بلکہ سر تسلیم خم کر دیں۔‘‘ (النساء:65)
اللہ تعالیٰ قسم اٹھا کر فرما رہے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کو اپنے جھگڑوں میں حاکم مانے بغیر ان کا ایمان ہی نہیں ہے، تو اگر بحیثیت حکمران آپ کو حاکم بنایا جا رہا ہوتا، تو ہر حکمران کے فیصلوں پر عمل کرنا ایمان کے لئے ضروری قرار پاتا۔
فرمان باری تعالیٰ ہے:
[یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اَطِیۡعُوا اللّٰہَ وَ اَطِیۡعُوا الرَّسُوۡلَ وَ لَا تُبۡطِلُوۡۤا اَعۡمَالَکُمۡ]
’’اہل ایمان! اللہ اور رسول کی اطاعت کرو اور اپنے اعمال باطل نہ کرو۔‘‘ (محمد:33)
اللہ تعالیٰ نے اپنی اور اپنے رسول کی اطاعت کا حکم دیا، نیز یہ بتایا کہ اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت سے اعمال برباد ہو جاتے ہیں، حکمران کی مخالفت پر اعمال برباد ہونے کا کوئی مطلب نہیں۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے:
[قُلۡ یٰۤاَیُّہَا النَّاسُ اِنِّیۡ رَسُوۡلُ اللّٰہِ اِلَیۡکُمۡ جَمِیۡعَۨا]
’’(نبی!) کہہ دیجئے کہ میں آپ سب کے لئے اللہ کا رسول ہوں۔‘‘ (الأعراف:158)
حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ (774ھ) لکھتے ہیں:
يقول تعالى لنبيه ورسوله محمد صلى الله عليه وسلم: قل يا محمد: يا أيها الناس، وهذا خطاب للأحمر والأسود، والعربي والعجمي، إني رسول الله إليكم جميعا، أي جميعكم، وهذا من شرفه وعظمته أنه خاتم النبيين، وأنه مبعوث إلى الناس كافة.
’’اللہ تعالیٰ اپنے نبی اور رسول محمد ﷺ سے فرماتا ہے: محمد (ﷺ)! فرما دیجئے کہ لوگو! میں آپ سب کی طرف اللہ کا رسول بن کر آیا ہوں۔ یہ خطاب سرخ و سیاہ اور عربی و عجمی سب کے لیے ہے۔ یہ آپ ﷺ کا شرف اور عظمت ہے کہ آپ خاتم النبیین ہیں اور تمام لوگوں کی طرف مبعوث فرمائے گئے ہیں۔‘‘
(تفسير ابن كثير: 489/3)
رسول اللہ ﷺ کی رسالت کو قیامت تک کے لئے باقی رکھا گیا ہے، لہذا آپ کی اطاعت اس لئے واجب ہے کہ آپ ﷺ تمام انسانوں کی طرف رسول بنا کر بھیجے گئے۔
فرمان باری تعالیٰ ہے:
[وَ مَا کَانَ لِمُؤۡمِنٍ وَّ لَا مُؤۡمِنَۃٍ اِذَا قَضَی اللّٰہُ وَ رَسُوۡلُہٗۤ اَمۡرًا اَنۡ یَّکُوۡنَ لَہُمُ الۡخِیَرَۃُ مِنۡ اَمۡرِہِمۡ ؕ وَ مَنۡ یَّعۡصِ اللّٰہَ وَ رَسُوۡلَہٗ فَقَدۡ ضَلَّ ضَلٰلًا مُّبِیۡنًا]
’’کسی مومن مرد اور عورت کے لئے جائز نہیں کہ جب اللہ اور رسول کوئی فیصلہ کر دیں، تو پھر وہ ان کے حکم سے اپنے لئے کوئی چیز اختیار کریں، جو اللہ اور رسول کی نافرمانی کرتا ہے، وہ واضح گمراہی میں ہے۔‘‘ (الأحزاب:36)
یہاں دو باتیں قابل ذکر ہیں کہ مومنوں کا شعار قرآن وسنت کا اتباع ہے، وہ اللہ اور اس کے رسول کی باتوں کی مخالفت پر کمر بستہ نہیں ہوتے، دوسرا یہ کہ جو اللہ اور اس کے رسول کا نافرمان ہے، وہ واضح گمراہی میں ہے، یہ اس صورت میں ہی ممکن ہے جب رسول اللہ ﷺ کی اطاعت بحیثیت رسول کے ہو گی، تب آپ کی مخالفت گمراہی کہلوائے گی۔ ان آیات سے اس نظریے کا بھی رد ہوتا ہے کہ آپ ﷺ کی اطاعت صرف صحابہ پر فرض تھی، یہ بے دلیل نظریہ ہے۔
[9] [وَ مَا کَانَ لِبَشَرٍ اَنۡ یُّکَلِّمَہُ اللّٰہُ اِلَّا وَحۡیًا اَوۡ مِنۡ وَّرَآیِٔ حِجَابٍ اَوۡ یُرۡسِلَ رَسُوۡلًا فَیُوۡحِیَ بِاِذۡنِہٖ مَا یَشَآءُ ؕ]
’’کسی بشر کی یہ شان نہیں کہ اللہ تعالیٰ اس سے کلام کرے، مگر وحی کے ساتھ یا پردے کے پیچھے، یا وہ قاصد (فرشتہ) بھیجے، تو وہ اس کے حکم سے جو چاہے وحی کرے۔‘‘ (الشورى:51)
یہ آیت کریمہ حدیث کے وحی ہونے پر بین دلیل ہے، اس میں وحی کی تین قسمیں ذکر ہوئی ہیں؛ ارسالِ رسول، جبریل کا وحی لے کر آنا، یہ قرآن وحديث میں مشترک ہے۔
فرمان باری تعالیٰ ہے:
[فَاِنَّہٗ نَزَّلَہٗ عَلٰی قَلۡبِکَ بِاِذۡنِ اللّٰہِ] ’’اس (جبریل) نے اللہ کے حکم سے یہ (وحی) آپ کے دل پر نازل کی ہے۔‘‘ (البقرة:97)
معلوم ہوا کہ قرآن کے علاوہ بھی وحی ہے، وہ حدیث ہی تو ہے۔ جیسا کہ مستقل وحی کا لفظ ذکر کر کے وحی غیر متلو یعنی حدیث کے وحی ہونے کا ثبوت دیا گیا ہے، وحی غیر متلو یا وحی خفی کی ایک چوتھی صورت یہ ہے کہ انبیاء کرام کے خواب وحی ہوتے ہیں، جیسا کہ ابراہیم علیہ السلام کے بارے میں ہے:
[قَالَ یٰبُنَیَّ اِنِّیۡۤ اَرٰی فِی الۡمَنَامِ اَنِّیۡۤ اَذۡبَحُکَ] ’’(ابراہیم علیہ السلام نے) کہا: بیٹا! میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ آپ کو ذبح کر رہا ہوں۔‘‘ (الصافات:102)
جب انبیاء کے خواب وحی ہیں، تو شریعت کے متعلق ان کا کلام بالاولیٰ وحی ہے۔
[10] [ وَ مَا جَعَلۡنَا الۡقِبۡلَۃَ الَّتِیۡ کُنۡتَ عَلَیۡہَاۤ اِلَّا لِنَعۡلَمَ مَنۡ یَّتَّبِعُ الرَّسُوۡلَ مِمَّنۡ یَّنۡقَلِبُ عَلٰی عَقِبَیۡہِ ؕ]
’’آپ جس قبلہ پر تھے، ہم نے صرف اس لئے بنایا تھا کہ پتہ چل جائے کہ کون رسول کی اطاعت کرتا ہے اور کون اپنی ایڑیوں پر پھر جاتا ہے؟‘‘ (البقرة:143)
اللہ تعالیٰ نے بیت المقدس کو قبلہ بنایا، جس کا ذکر قرآن کریم میں نہیں ہے، وہ وحی غیر متلو حدیث کی صورت میں تھا، نیز ثابت ہوا کہ حدیث مومن اور منافق میں فرق کرتی ہے۔
حدیث بتاتی ہے کہ نبی کریم ﷺ کا مطیع اور فرماں بردار کون ہے اور آپ کا مخالف کون ہے؟ کون ہے جو حدیث کے سامنے سرِ تسلیم خم ہوتا ہے، کون ہے، جو حدیث سن کر ایڑیوں کے بل پھر جاتا ہے؟
اگر اللہ تعالیٰ چاہتے، تو نبی کریم ﷺ کی تمام باتوں کو قرآن میں نازل کر دیتے، جبکہ ایسا نہیں ہوا، جب سے نماز ہے، تب سے وضو ہے۔ مگر اس کا ثبوت ہجرت کے بعد سورت مائدہ میں دیا گیا ہے، وغیرہ
اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ کی تمام باتوں کو قرآن میں نازل نہیں کیا، تاکہ منافقوں کی پہچان ہو جائے۔
[11] [عَلِمَ اللّٰہُ اَنَّکُمۡ کُنۡتُمۡ تَخۡتَانُوۡنَ اَنۡفُسَکُمۡ]
’’اللہ جانتا ہے کہ یقیناً تم اپنی جانوں سے خیانت کرتے ہو۔‘‘ (البقرة:187)
رمضان کی راتوں میں بیویوں سے مجامعت کو قرآن نے خیانت قرار دیا ہے، جبکہ اس سے پہلے اس سے روکا نہیں، البتہ بعد میں اجازت دے دی، چوں کہ یہ مسئلہ وحی غیر متلو کا تھا، جس کی مخالفت کو خیانت کہا گیا۔
[12] [اِنَّاۤ اَنۡزَلۡنَاۤ اِلَیۡکَ الۡکِتٰبَ بِالۡحَقِّ لِتَحۡکُمَ بَیۡنَ النَّاسِ بِمَاۤ اَرٰىکَ اللّٰہُ ؕ وَ لَا تَکُنۡ لِّلۡخَآئِنِیۡنَ خَصِیۡمًا]
’’ہم نے آپ پر حق کے ساتھ کتاب نازل کی ہے، تاکہ آپ لوگوں کے درمیان اس کے مطابق فیصلہ کریں، جو اللہ نے آپ کو علم دیا ہے اور خیانت کرنے والوں کی خاطر جھگڑا نہ کریں۔‘‘ (النساء:105)
،،بِمَا أَرَاكَ اللَّهُ،، سے مراد علم ہے، یعنی جو اللہ نے آپ کو علم دیا ہے، قرآن وحدیث دونوں اللہ تعالیٰ کا علم ہیں، جو وحی کی صورت میں آپ پر اتارا گیا۔
فرمان باری تعالیٰ ہے:
[وَ اَنۡزَلَ اللّٰہُ عَلَیۡکَ الۡکِتٰبَ وَ الۡحِکۡمَۃَ وَ عَلَّمَکَ مَا لَمۡ تَکُنۡ تَعۡلَمُ ؕ وَ کَانَ فَضۡلُ اللّٰہِ عَلَیۡکَ عَظِیۡمًا]
’’اللہ نے آپ کی طرف کتاب و حکمت نازل کی ہے اور آپ کو وہ کچھ سکھایا ہے، جو آپ نہیں جانتے تھے، آپ پر اللہ کا بہت بڑا فضل ہوا ہے۔‘‘ (النساء:113)
رسول اللہ ﷺ کا سارا علم اللہ کی طرف سے تھا۔
نیز ارشاد باری تعالیٰ ہے:
[وَ اَنِ احۡکُمۡ بَیۡنَہُمۡ بِمَاۤ اَنۡزَلَ اللّٰہُ وَ لَا تَتَّبِعۡ اَہۡوَآءَہُمۡ وَ احۡذَرۡہُمۡ اَنۡ یَّفۡتِنُوۡکَ عَنۡۢ بَعۡضِ مَاۤ اَنۡزَلَ اللّٰہُ اِلَیۡکَ ؕ فَاِنۡ تَوَلَّوۡا فَاعۡلَمۡ اَنَّمَا یُرِیۡدُ اللّٰہُ اَنۡ یُّصِیۡبَہُمۡ بِبَعۡضِ ذُنُوۡبِہِمۡ ؕ وَ اِنَّ کَثِیۡرًا مِّنَ النَّاسِ لَفٰسِقُوۡنَ]
’’ان کے درمیان اللہ کی نازل کردہ وحی کے مطابق فیصلہ کریں اور ان کی خواہشات کی پیروی نہ کریں۔ ان سے بچ کر رہیے کہ وہ آپ کو اللہ کی نازل کردہ وحی کے متعلق فتنے میں مبتلا نہ کر دیں، اگر وہ پھر جائیں، تو جان لیں کہ اللہ ان کو ان کے کسی گناہ پر پکڑنا چاہتا ہے، یقیناً بہت سے لوگ فاسق ہوتے ہیں۔‘‘ (المائدة:49)
[13]
قرآن کریم میں پہلے انبیاء کرام کی احادیث کا ذکر ہوا، جن کا ماننا ان کے امتیوں پر واجب تھا، وہ نہ مانے، تو ان پر عذاب الہی نازل ہوا۔