اہلِ ایمان کی قبروں کی زیارت مستحب ہے
سلف امت کی اکثریت کا خیال ہے کہ مؤمنوں کی قبروں کی زیارت مستحب ہے تاکہ ان کے لیے دعاء اور ان پر سلام بھیجا جائے۔ جیسے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا معمول تھا کہ آپ جنت البقیع تشریف لے جا کر وہاں ان کے لیے دعاء فرماتے۔ نیز صحیحین کی روایت سے بھی ثابت ہے کہ:
”إنه خرج إلى شهداء أحد فصلى عليهم صلاته على الموتى كالمودع للأحياء والأموات“
”آپ شہدائے احد کی قبروں کے پاس گئے اور ان کے لیے ایسی دعاء کی جیسے عام میت پر جنازہ پڑھا جاتا ہے جیسے کہ آپ سب زندوں اور فوت شدگان کو رخصت کر رہے ہو۔“
( صحیح بخاری کتاب الجنائز : باب الصلاة على الشهيد حدیث 1344، کتاب المغازی : باب غزوة احد حدیث 4042، صحیح مسلم کتاب الفضائل حدیث 2296)
زیارت قبور کی مسنون دعاء
صحیح مسلم میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو زیارت قبور کی یہ دعاء سکھلایا کرتے تھے:
السَّلَامُ عَلَيْكُمْ أَهْلَ الدِّيَارِ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُسْلِمِينَ وَإِنَّا إِنْ شَاءَ اللَّهُ بِكُمْ لَاحِقُونَ يَرْحَمُ اللَّهُ الْمُسْتَقْدِمِينَ مِنَّا وَمِنْكُمْ وَالْمُسْتَأْخِرِينَ نَسْأَلُ اللَّهَ لَنَا وَلَكُمُ الْعَافِيَةَ اللَّهُمَّ لَا تَحْرِمْنَا أَجْرَهُمْ وَلَا تَفْتِنَّا بَعْدَهُمْ وَاغْفِرْ لَنَا وَلَهُمْ
”اے مومنو! تم پر اللہ کی سلامتی ہو۔ ہم بھی ان شاء اللہ تم سے ملنے والے ہیں۔ اللہ تعالیٰ تم اور ہم سب پر رحم فرمائے۔ ہم اپنے اور تمہارے لیے اللہ سے عافیت کی دعاء کرتے ہیں۔ اے اللہ! ان کے اجر سے ہمیں محروم نہ کرنا۔ اور ان کے بعد ہمیں کسی آزمائش میں مبتلا نہ کرنا۔ اے اللہ! ان کو اور ہم سب کو معاف فرما۔“
(صحیح مسلم کتاب الجنائز : باب ما يقال عند دخول القبور حدیث 975، 974)
مؤمنین کی قبروں کی زیارت کا یہ مسنون طریقہ تھا۔ اب رہے کافر تو ان کی قبروں کی زیارت کی بھی اجازت ہے تاکہ آخرت کی یاد تازہ ہو۔ البتہ ان کے لیے استغفار کرنا جائز نہیں ہے۔ صحیح مسلم میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنا واقعہ منقول ہے کہ:
أَنَّهُ زَارَ قَبْرَ أُمِّهِ فَبَكَى وَأَبْكَى مَنْ حَوْلَهُ وَقَالَ اسْتَأْذَنْتُ رَبِّي فِي أَنْ أَزُورَ قَبْرَهَا فَأَذِنَ لِي وَاسْتَأْذَنْتُهُ فِي أَنْ أَسْتَغْفِرَ لَهَا فَلَمْ يَأْذَنْ لِي فَزُورُوا الْقُبُورَ فَإِنَّهَا تُذَكِّرُكُمُ الْآخِرَةَ
”آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی والدہ کی قبر پر تشریف لے گئے اور وہاں جا کر رو دیئے اور اپنے ساتھیوں کو بھی رلایا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے اللہ سے ان کی قبر کی زیارت کی اجازت طلب کی تھی جو مل گئی۔ میں نے ان کے لیے استغفار کی اجازت بھی طلب کی جس کی اجازت نہ ملی۔ لہذا قبروں کی زیارت کیا کرو کیونکہ یہ آخرت کی یاد تازہ کرتی ہیں۔“
(صحیح مسلم کتاب الجنائز : باب استئذان النبي صلى الله عليه وسلم ربه عز وجل في زيارة قبر امه حدیث 976)
علماء کے اختلاف پر کس کی بات مانیں؟
جس مسئلے میں علماء کا اختلاف ہو اس میں جس کے پاس دلیل شرعی ہو اس کا قول تسلیم کیا جائے۔ ہو سکتا ہے کہ ایک کے پاس شرعی ثبوت نہ ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ علماء ہی انبیاء کے صحیح وارث ہیں۔ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:
وَدَاوُودَ وَسُلَيْمَانَ إِذْ يَحْكُمَانِ فِي الْحَرْثِ إِذْ نَفَشَتْ فِيهِ غَنَمُ الْقَوْمِ وَكُنَّا لِحُكْمِهِمْ شَاهِدِينَ ﴿٧٨﴾ فَفَهَّمْنَاهَا سُلَيْمَانَ ۚ وَكُلًّا آتَيْنَا حُكْمًا وَعِلْمًا ۚ وَسَخَّرْنَا مَعَ دَاوُودَ الْجِبَالَ يُسَبِّحْنَ وَالطَّيْرَ ۚ وَكُنَّا فَاعِلِينَ ﴿٧٩﴾
”یاد کرو وہ واقعہ جب کہ داؤد اور سلیمان دونوں ایک کھیت کے مقدمے میں فیصلہ کر رہے تھے جس میں رات کے وقت دوسرے لوگوں کی بکریاں پھیل گئی تھیں اور ہم ان کی عدالت خود دیکھ رہے تھے۔ اس وقت ہم نے صحیح فیصلہ سلیمان کو سمجھا دیا تھا حالانکہ حکم اور علم ہم نے دونوں ہی کو عطا کیا تھا۔“
(21-الانبیاء:78-79)
نیت و عمل کے اعتبار سے زیارت قبور کی تین اقسام
مندرجہ بالا تینوں اقوال باعتبارات مختلفہ ہیں۔
◈ اگر زیارت قبور کے ساتھ شرک، کذب، بین، نوحہ وغیرہ کا سلسلہ وابستہ ہو تو ایسی زیارت بالاجماع حرام ہے۔ جیسے مشرکین اور اللہ کے نافرمان بندوں کا عمل۔ کیونکہ اللہ کے ہاں پسندیدہ دین اسلام ہے اور وہ یہ کہ اللہ کے احکام کے سامنے سر تسلیم خم کر دیا جائے۔ اس کے فیصلے کو بسر و چشم قبول کر لیا جائے۔ جس کام کا وہ حکم دے اسے مان لیا جائے، اور جس سے وہ محبت رکھے اس سے محبت کی جائے۔ ہم اس پر عمل کرتے ہیں اور اسی کی طرف لوگوں کو دعوت دیتے ہیں اور اسی واحد و یکتا ذات پر ہمارا بھروسہ ہے۔ ہم اللہ کے رب ہونے، اسلام کے دین ہونے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے نبی ہونے پر راضی ہیں اور ہم اپنی نمازوں میں اس کا اقرار کرتے ہیں کہ:
إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ
”ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد طلب کرتے ہیں۔“
(1-الفاتحہ:5)
ہم یہ اقرار اس لیے بھی کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
فَاعْبُدْهُ وَتَوَكَّلْ عَلَيْهِ
”پس اے نبی! تو اس کی بندگی کر اور اس پر بھروسہ کر۔“
(11 – هود:123)
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اسْتَعِينُوا بِالصَّبْرِ وَالصَّلَاةِ ۚ إِنَّ اللَّهَ مَعَ الصَّابِرِينَ
”اے لوگو جو ایمان لائے ہو! صبر اور نماز سے مدد لو۔ اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔“
(2-البقرة:153)
وَأَقِمِ الصَّلَاةَ طَرَفَيِ النَّهَارِ وَزُلَفًا مِّنَ اللَّيْلِ ۚ إِنَّ الْحَسَنَاتِ يُذْهِبْنَ السَّيِّئَاتِ ۚ ذَٰلِكَ ذِكْرَىٰ لِلذَّاكِرِينَ ﴿١١٤﴾ وَاصْبِرْ فَإِنَّ اللَّهَ لَا يُضِيعُ أَجْرَ الْمُحْسِنِينَ ﴿١١٥﴾
”اور نماز قائم کرو دن کے دونوں سروں پر اور کچھ رات گزرنے پر۔ در حقیقت نیکیاں برائیوں کو دور کر دیتی ہیں۔ یہ ایک یاد دہانی ہے ان لوگوں کے لیے جو اللہ کو یاد رکھنے والے ہیں اور صبر کرو۔ اللہ نیکی کرنے والوں کا اجر کبھی ضائع نہیں کرتا۔“
(11-هود:113)
◈ زیارت قبور کی دوسری قسم یہ ہے کہ صرف میت کے غم، اس کی رشتہ داری اور دوستی کی وجہ سے ہو۔ یہ زیارت مباح ہوگی جیسے بغیر بین اور نوحہ کے رونا مباح ہے۔
جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی والدہ کی قبر پر تشریف لے گئے، وہاں خود بھی روئے اور آپ کے ساتھی بھی روئے۔ اور پھر فرمایا:
زوروا القبور فإنها تذكركم الآخرة
”قبروں کی زیارت کیا کرو۔ کیونکہ یہ آخرت کی یاد دہانی کراتی ہیں۔“
(صحیح مسلم کتاب الجنائز : باب استئذان النبي صلى الله عليه وسلم ربه عز وجل في زيارة قبر امه حدیث : 976)
اس سے پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسی زیارت سے منع فرمایا تھا کیونکہ لوگ اپنے رشتہ داروں کی قبروں پر جا کر غیر شرعی حرکات کا ارتکاب کرتے تھے۔ کچھ عرصے بعد جب احکام اسلامی کی معرفت مسلمانوں کے دلوں میں راسخ ہو گئی تو پھر اس کی اجازت دے دی کیونکہ زیارت قبور میں موت کی یاد مضمر ہے۔ اکثر لوگوں کا حال یہ ہے کہ جب وہ اپنے کسی رشتہ دار کی قبر دیکھتے ہیں تو آخرت کی تیاری کا جذبہ ان کے دل میں پیدا ہو جاتا ہے اور بعض اوقات اس موقع پر جزع فزع کا بھی صدور ہو جاتا ہے جس سے دو متعارض امور پیدا ہو جاتے ہیں یعنی فی نفسہ زیارت قبور مباح ہے۔ لیکن اگر اس سے مقصد سراسر اطاعت ہو تو یہ زیارت مستحسن ہوگی اور اگر اس میں کوئی غیر شرعی عمل کار فرما ہو تو پھر یہ معصیت کے دائرہ میں داخل ہوگی۔
◈ تیسری قسم یہ ہے کہ میت کے لیے دعاء و استغفار کی نیت ہو۔ ایسی زیارت مستحب قرار پائے گی۔ اس کے استحباب پر سنت نبوی دلالت کرتی ہے کیونکہ ایسی زیارت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود کی ہے اور بطور خاص صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو اس کی تلقین بھی فرمائی ہے۔
رہی مسجد قبا کی زیارت! تو جو شخص مدینہ منورہ جائے اس کے لیے مستحب ہے کہ وہ مسجد قبا میں جا کر دو رکعت نماز ادا کرے نیز جنت البقیع اور شہدائے احد کی قبروں پر بھی جائے۔ جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا معمول تھا۔
اہل قبور کے حق میں دعاء کی جائے
پس زیارت قبور کا مقصد یہ ہے کہ صاحب قبر کے لیے دعاء کی جائے۔ مگر یہ جائز نہیں کہ قبر کو عبادت گاہ بنا لیا جائے۔ یہ عقیدہ کرنا بھی منع ہے کہ قبر پر دعاء کی جائے تو وہ جلدی قبول ہوتی ہے یا قبر پر دعاء کرنا گھر یا مسجد میں دعاء کرنے سے افضل ہے۔ ہاں! ائمہ اسلام کا اس پر اتفاق ہے کہ قبرستان میں جا کر اہل قبور کے لیے دعاء کرنے سے نماز جنازہ میں شریک ہونا افضل ہے۔ یہ مشروع بھی ہے اور فرض کفایہ بھی۔