حجرہ مبارک کے قرب کو عبادت سمجھنے کی شرعی حیثیت

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کی کتاب الجواب الباہر فی زوار المقابر سے ماخوذ ہے جس کا ترجمہ شیخ عطا اللہ ثاقب نے کیا ہے۔

حجرہ مبارک سے متعلق کسی عمل کی کوئی دلیل نہیں

اللہ تعالیٰ نے جس چیز کا حکم دیا یا جن حقوقِ رسول کی طرف بلایا، ان کا حجرہ مبارک سے کوئی تعلق نہیں اور نہ ہی کوئی حکم حجرہ نبوی سے خاص ہے بلکہ وہ ایسے اعمال ہیں جو دنیا کے کسی بھی حصے میں ادا کیے جا سکتے ہیں۔ جیسے:
● رسول اللہ پر ایمان لانا،
● رسول اللہ سے محبت رکھنا،
● رسول اللہ سے دوستی کرنا،
● رسول اللہ کی تعلیمات کو لوگوں تک پہنچانا،
● رسول اللہ کی تعلیمات کے مطابق جہاد کرنا،
● رسول اللہ کے دوستوں سے دوستی رکھنا،
● رسول اللہ کے دشمنوں سے عداوت رکھنا،
● رسول اللہ پر درود و سلام کہنا۔
یہ تو وہ چیزیں ہیں جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ایمان، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رسالت کا اقرار اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود اور سلام جیسے مشروع اعمال میں سے ہیں، لیکن:
ہر وہ کام جسے اللہ تعالیٰ پسند کرے یا جس سے قربِ الہی حاصل ہو، اس پر عمل کرنے کے لیے حجرہ نبوی کا قرب ضروری نہیں اور نہ ہی وہ حجرہ کے قریب فضیلت رکھتا ہے، خواہ وہ درود و سلام کی صورت میں ہو یا کوئی دوسرا عمل۔ بلکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تو اس بات سے منع فرمایا ہے کہ آپ کے گھر کو میلہ گاہ بنا لیا جائے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس طرح کی کسی چیز کے اختصاص کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے گھر کے قصد سے منع فرمایا ہے۔ اب جو شخص یہ عقیدہ رکھے کہ درود و سلام یا کوئی دوسرا عمل حجرہ کے قریب افضل ہے تو ایسا شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مخالف ہے۔
ہر وہ کام جسے اللہ تعالیٰ نے مقرر نہیں فرمایا یا اس پر کوئی دلیل و برہان نازل نہیں کی بلکہ اس سے منع فرمایا ہے، جیسے:
● غیر اللہ کو پکارنا،
● ملائکہ، انبیاء یا کسی بھی غیر اللہ کی عبادت کرنا،
● صالحین کی قبور کی طرف رختِ سفر باندھنا وغیرہ
تو ان امور کی طرف وہی شخص بلائے گا جو علم سے کورا ہوگا اور نہ ہی اس کے پاس کتاب و سنت کی کوئی دلیل و برہان ہوگی۔ پس یہ ایسے لوگوں کے ساتھ مشابہت اختیار کرتا ہے جو غیر اللہ کی عبادت کرتے ہیں جس کے جواز پر کوئی دلیل نازل نہیں کی گئی اور نہ ہی ان کے پاس علم ہے۔