جھوٹے الزام، شراب نوشی اور چوری کی سزا کے احکامات

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ حسین بن مبارک الموصلی کی عربی کتاب الاوامر والنواهي سے ماخوذ ہے جس کا اُردو ترجمہ محمد سرور گوہر صاحب نے احکامات و ممنوعات کے نام سے کیا ہے۔

لوگوں پر جھوٹا الزام لگانے والے کی سزا

① سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ بکر بن لیث قبیلے کا ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو اس نے اقرار کیا کہ اس نے ایک عورت سے چار بار زنا کیا ہے پس اس کو سو کوڑے مارے گئے اس لیے کہ وہ غیر شادی شدہ تھا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے عورت کے متعلق دلیل اور شہادت طلب کی تو اس عورت نے کہا:
”اللہ کے رسول! اللہ کی قسم! اس نے جھوٹ کہا ہے۔
“تو پھر اسے جھوٹا الزام لگانے کی پاداش میں اسی کوڑے مارے گئے۔
ابوداؤد، کتاب الحدود 4467۔ یہ روایت ضعیف ہے کیونکہ اس کی سند میں قاسم بن فیاض مجہول راوی ہے۔ دیکھئے: التقریب 5474۔

شراب نوش کی سزا

① سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لایا گیا، اس نے شراب پی رکھی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھجور کی دو شاخوں کے ساتھ اسے چالیس بار مارا۔ راوی بیان کرتے ہیں، سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے بھی ایسے ہی کیا۔
بخاری، کتاب الحدود 63/12۔ مسلم، کتاب الحدود 1706۔ ابوداؤد، کتاب الحدود 4479۔
② سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نعلین کے ساتھ چالیس مرتبہ مار کر حد قائم کی۔ مسعر بیان کرتے ہیں، میرا خیال ہے کہ یہ شراب کے بارے میں تھی۔
ترمذی، کتاب الحدود 1442۔ یہ روایت ضعیف ہے، اس کی سند میں سفیان بن وکیع اور زید العمی ضعیف ہیں۔

چور کی سزا

① سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ مخزومیہ عورت کی قریش کے ہاں بہت اہمیت تھی، جس نے چوری کی تھی، انہوں نے کہا اس کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں کون سفارش کرے؟ پھر انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہیتے اور محبوب سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کے سوا کوئی اور اس کی جرات نہیں کر سکتا۔ پس سیدنا اسامہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بات کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
أتشفع فى حد من حدود الله؟
کیا تم اللہ کی حدود میں سے کسی حد کے بارے میں سفارش کرتے ہو؟
پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دینے کے لیے کھڑے ہوئے تو فرمایا:
إنما أهلكت الذين من قبلكم أنهم كانوا إذا سرق فيهم الشريف تركوه، وإذا سرق فيهم الضعيف أقاموا عليه الحد، وأيم الله لو أن فاطمة بنت محمد سرقت لقطعت يدها
تم سے پہلے لوگوں کو اسی چیز نے ہلاک کر دیا ان کا طرز عمل یہ تھا کہ جب ان میں سے کوئی معزز شخص چوری کرتا تو وہ اسے چھوڑ دیتے تھے اور جب ان میں سے کوئی ضعیف شخص چوری کرتا تو وہ اس پر حد قائم کر دیتے تھے۔ اللہ کی قسم! اگر فاطمہ بنت محمد صلی اللہ علیہ وسلم بھی چوری کرتی تو میں اس کا بھی ہاتھ کاٹتا۔
بخاری، کتاب الحدود 6788۔ مسلم، کتاب الحدود (688) 1۔ ابوداؤد، کتاب الحدود 4373۔

چور کا ہاتھ کاٹنے کے متعلق احکامات

① سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چوتھائی دینار اور اس سے زائد مقدار کی چوری کرنے پر چور کا ہاتھ کاٹا کرتے تھے۔
بخاری، کتاب الحدود 6789۔ مسلم، کتاب الحدود 1684۔ ابوداؤد، کتاب الحدود 4383۔
② سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ڈھال، جس کی قیمت تین درہم تھی، کی چوری کرنے پر چور کا ہاتھ کاٹ دیا۔
بخاری، کتاب الحدود 6795۔ مسلم، کتاب الحدود 1686۔ ابوداؤد، کتاب الحدود 4386۔
③ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ بنو مخزوم کی ایک عورت نے چوری کر لی تو اسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کیا گیا تو اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی پناہ طلب کی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
والله لو كانت فاطمة لقطعت يدها
اللہ کی قسم! اگر فاطمہ بنت محمد صلی اللہ علیہ وسلم بھی ہوتیں تو میں اس کا بھی ہاتھ کاٹ دیتا۔
بخاری، کتاب الحدود 6788۔ مسلم، کتاب الحدود 1689۔