قبر پر سلام اور اس کا جواب عام ہے
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اس سے بخوبی آگاہ تھے کہ قبر مکرم پر وہی سلام مستحب ہے جو عام ملاقات کے وقت کہا جاتا ہے اور جو ہر مسلمان پر مستحب ہے کہ وہ اپنے بھائی کو ملتے وقت یا اس کی قبر پر حاضری کے وقت کہے۔ اس سلام میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور عام مؤمن برابر شامل ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:
ما من رجل يسلم على إلا رد الله على روحي حتى أرد عليه السلام
”اگر کوئی شخص مجھ پر سلام بھیجے گا تو اللہ تعالیٰ میرے جسم میں روح کو واپس کر دے گا۔ یہاں تک کہ میں اس کے سلام کا جواب دوں گا۔“
(سنن ابی داؤد كتاب المناسك : باب زيارة القبور حديث : 2040)
اور عام مومنین کے بارے میں مروی ہے:
ما من رجل يمر بقبر أخيه المؤمن كان يعرفه فيسلم عليه إلا عرفه ورد عليه السلام
”جب کوئی شخص اپنے اس مؤمن بھائی کی قبر کے پاس سے گزرتا ہے جس کو وہ پہچانتا تھا، تو وہ اسے سلام کرتا ہے تو وہ اس کو پہچان لیتا ہے اور اس کے سلام کا جواب دیتا ہے۔“
(اخرجه ابن عبدالبر في التمهيد والاستذكار 1/185 كما في شرح الصدور للسيوطي ص : 202 و تقدم تخريجه مفصلاً ص : 137)
زیارت قبور کی مسنون دعاء
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا معمول تھا کہ جب آپ قبرستان تشریف لے جاتے تو یہ دعاء پڑھتے:
السَّلَامُ عَلَيْكُمْ أَهْلَ الدِّيَارِ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُسْلِمِينَ وَإِنَّا إِنْ شَاءَ اللَّهُ بِكُمْ لَاحِقُونَ أَنْتُمْ لَنَا فَرَطٌ وَنَحْنُ لَكُمْ تَبَعٌ أَسْأَلُ اللَّهَ الْعَافِيَةَ لَنَا وَلَكُمْ
”سلامتی ہو تم پر اے گھر والو! مؤمنوں اور مسلمانوں میں سے اگر اللہ تعالیٰ نے چاہا تو ہم تمہیں ملنے والے ہیں۔ تم ہم سے پہلے گئے اور ہم تمہارے تابع ہیں۔ میں اپنے اور تمہارے لیے اللہ تعالیٰ سے عافیت مانگتا ہوں۔ “
(صحيح مسلم كتاب الجنائز : باب ما يقال عند دخول القبور حديث : 974 ، 975)
نماز والا صلوۃ وسلام قبر پر صلاۃ وسلام سے افضل ہے
آپ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو بھی یہی دعاء سکھلایا کرتے تھے۔ دوران نماز آپ پر درود و سلام کہنا قبر مکرم کے نزدیک کہنے سے افضل ہے۔ اس کا ہر مسلمان کو حکم بھی ہے اور آپ کا خاصہ بھی۔ جو شخص آپ پر درود و سلام کہتا ہے اللہ تعالیٰ اس پر رحمتیں نازل فرماتا ہے۔ جو شخص رسول مکرم پر ایک دفعہ درود بھیجتا ہے اللہ اس پر دس دفعہ رحمت نازل فرماتا ہے اور جو شخص ایک دفعہ سلام کہتا ہے اللہ اس پر دس مرتبہ رحمت بھیجتا ہے۔ لہذا یہ مقصد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور امتی کو اس وقت حاصل ہو جاتا ہے جب وہ مسجد نبوی میں یا کسی دوسری مسجد میں داخل ہوتے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود و سلام کہتا ہے لہذا قبر مکرم کے پاس جانے سے نہ آپ کو اور نہ سلام کہنے والے کو کوئی خاص فائدہ ہے۔ البتہ مسجد قبا اس سے مستثنیٰ ہے۔ کیونکہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ہر ہفتہ کے دن وہاں جا کر اتباع سنت کا مظاہرہ کیا کرتے تھے۔ انہیں علم تھا کہ مسجد قباء میں حاضری دے کر اتباع رسول کا فریضہ بھی ادا کرتے اور مسجد نبوی میں جمعہ اور نماز کے اندر درود و سلام پڑھ کر دونوں اجروں کو سمیٹ لیتے تھے کیونکہ مسجد قباء میں نماز ادا کرنے سے دونوں فائدے بیک وقت حاصل ہو جاتے ہیں۔
یہی حال اس شخص کا ہے جو اہل بقیع اور شہدائے احد کی قبروں کی زیارت کے لیے جاتا ہے۔ جیسے رحمتِ دو عالم وہاں تشریف لے جا کر ان کے لیے دعاء فرماتے تھے۔ اس میں صرف فائدہ ہی فائدہ ہے خرابی کوئی نہیں۔ جنت البقیع اور شہدائے احد کے لیے نماز کے اندر دعا نہیں کی جاتی، اسی وجہ سے ان کی قبروں پر جانا ایک مستقل مسئلہ ہے۔ بایں ہمہ امام مالک رحمہ اللہ سے منقول ہے کہ اس کو سنت قرار دے لینا مکروہ ہے۔ اس سلسلے میں ابن عمر رضی اللہ عنہما کا عمل واجب اتباع نہ ہو گا۔ جیسے ان کے منبرِ نبوی میں نبی کریم کے اس حصے کو چھونا جہاں رسول اللہ تشریف فرما ہوا کرتے تھے، قابلِ عمل نہیں سمجھا گیا۔
رسول معظم نے جن مقامات پر نماز ادا کی ہے ابن عمر رضی اللہ عنہما وہاں جانا مستحب سمجھتے تھے، بلکہ وہاں جا کر نماز ادا کرنا ان کا معمول بن گیا تھا۔ اس کے باوجود جمہور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے اسے استحباب کی نگاہ سے نہیں دیکھا۔ جمہور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ہر اس عمل کو محبوب سمجھتے تھے جسے رسول اللہ نے پسند فرمایا تھا اور وہ یہ کہ جہاں نماز کا وقت ہو جائے وہیں نماز ادا کرنا ضروری ہے۔