كتاب الحج
ذوالحجہ کے دس دنوں میں عبادت
① سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
ما من أيام العمل الصالح فيها أحب إلى الله من هذه يعني من أيام العشر
”ایسے کوئی ایام نہیں جن میں کیے گئے عملِ صالح اللہ کو ان یعنی ذوالحجہ کے دس دنوں میں کیے گئے عملِ صالح سے زیادہ محبوب ہوں“۔
انہوں نے (صحابہ کرام رضی اللہ عنہم) نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم! اللہ کی راہ میں کیا جانے والا جہاد بھی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
ولا الجهاد فى سبيل الله إلا رجل خرج بنفسه وماله فلم يرجع بشيء
”اللہ کی راہ میں کیا جانے والا جہاد بھی (اس سے بڑھ کر نہیں)، سوائے اس شخص کے جو اپنے مال و جان کے ساتھ جائے اور پھر اس کی کوئی بھی چیز واپس نہ آئے“۔
بخارى كتاب الجمعة 969۔ ابوداؤد، کتاب الصوم 3438۔ ترمذى، كتاب الصوم عن رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم 757 ۔ ابن ماجه، کتاب الصيام 1727۔
② سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
ما من أيام أحب إلى الله أن يتعبد له فيها من عشر ذي الحجة يعدل صيام يوم منها بصيام سنة ، وقيام كل ليلة منها بقيام ليلة القدر
”اللہ کو ذوالحجہ کے دس دنوں سے بڑھ کر کوئی ایام زیادہ پسند نہیں کہ ان میں اس کی عبادت کی جائے۔ ان دنوں میں سے ایک دن کا روزہ سال بھر کے روزوں کے برابر ہے اور اس کی ہر رات کا قیام لیلۃ القدر کے قیام کے برابر ہے“۔
یہ روایت ضعیف ہے۔ ترمذی، کتاب الصوم عن رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم 757۔ اس کی سند میں مسعود بن واصل ضعیف ہے۔ دیکھئے التقريب 6603۔ اور اس میں نہاس بن فہم ضعیف ہے۔ التقريب 7188۔
حج میں تلبیہ پکارنا
① سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
يلبي المقيم والمعتمر حتى يستلم الحجر
”مقیم اور عمرہ کرنے والا حجرِ اسود کا استلام (بوسہ لینا، چھڑی لگانا یا ہاتھ لگانا) کرنے تک تلبیہ پکاریں گے“۔
یہ روایت مرفوعاً ضعیف اور موقوفا صحیح ہے۔ ابو داؤد، کتاب المناسك 1817۔ ترمذى، كتاب الحج عن رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم 919۔
② سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں، میں جانتی ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیسے تلبیہ پکارا کرتے تھے:
لبيك اللهم لبيك ، لبيك لا شريك لك لبيك إن الحمد والنعمة لك
”حاضر ہوں اے اللہ! حاضر ہوں، حاضر ہوں، تیرا کوئی شریک نہیں، حاضر ہوں بے شک تمام تعریفیں اور نعمتیں تیرے لیے ہیں“۔
مسند ابن عمر رضی اللہ عنہما میں یہ الفاظ زیادہ ہیں:
والملك لا شريك لك
”تمام بادشاہت تیرے لیے ہے تیرا کوئی شریک نہیں“۔
بخاري، كتاب الحج 1549۔ مسلم، كتاب الحج 1184 ۔ ابوداؤد، كتاب المناسك 8182 مسند احمد، مسند المكثرين من الصحابه 43،41،28/2 ۔
عمرہ کے احکامات
① سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو وادی عقیق میں فرماتے ہوئے سنا:
أتاني الليل آت من ربي فقال: صل فى هذا الوادي المبارك و قل : عمرة فى حجة
”آج رات میرے رب کی طرف سے ایک آنے والا آیا تو اس نے کہا اس مبارک وادی میں نماز پڑھیں اور کہیں: میں نے حج کے ساتھ عمرہ کی بھی نیت کی“۔
بخاري، كتاب الحج 1534۔ ابوداؤد، کتاب الحج 1800۔