حج تمتع کا مسنون طریقہ صحیح احادیث کی روشنی میں

فونٹ سائز:
یہ اقتباس مکتبہ دارالسلام ریسرچ سینٹر کی شائع کردہ کتاب مسنون حج و عمرہ سے ماخوذ ہے۔
مضمون کے اہم نکات

حج تمتع

حج تمتع کرنے والے 8 ذو الحجہ کو فجر کی نماز ادا کرنے کے بعد اپنی رہائش گاہ سے حج کی نیت کرتے ہوئے احرام باندھیں اور منی کی طرف جاتے ہوئے تلبیہ شروع کر دیں، جبکہ حج قِرَانِ یا حج افراد کرنے والے میقات سے باندھے ہوئے احرام میں 8 ذوالحجہ کو منی کی طرف روانہ ہوتے وقت تلبیہ پکاریں۔

منی روانگی کا وقت:

منی جانے کے لیے کسی وقت کا تعین نہیں ہے۔ البتہ ظہر کی نماز سے پہلے پہلے منی پہنچ جانا چاہیے۔ [صحیح مسلم، الحج، حدیث: 1218]

منی میں قیام اور نمازوں کی ادائیگی:

ظہر، عصر، مغرب، عشاء اور فجر کی نمازیں منی میں اپنے اپنے وقت پر ادا کریں، نیز ظہر، عصر اور عشاء قصر ادا کریں، نبی کریمﷺ کی سنت مبارکہ یہی ہے۔ لیکن یہاں مزدلفہ اور عرفات کی طرح نمازیں جمع نہیں ہوں گی، ہر نماز اپنے وقت پر پڑھی جائے گی۔ [صحیح مسلم، الحج، حدیث: 1218]

یاد رکھیے!

ظہر، عصر اور عشاء کو قصر کر کے پڑھنا تمام حاجیوں کے لیے ضروری ہے، خواہ مکہ کے مقیم ہوں یا باہر کے رہنے والے ہوں۔ حجۃ الوداع کے موقع پر نبیﷺ نے بلا استثنا تمام حجاج کو نماز قصر پڑھائی اور اہل مکہ کو اپنی نماز پوری کرنے کا حکم نہیں دیا۔ [صحیح مسلم، الصلاة، حدیث: 696]

اس کے برعکس فتح مکہ کے موقع پر آپﷺ نے خود تو نماز قصر پڑھی اور اہل مکہ سے کہا کہ تم نماز پوری کر لو، اس لیے کہ ہم تو مسافر ہیں۔ [سنن أبي داود، صلاة السفر، حديث: 1229]

عرفات روانگی کا وقت

9 ذو الحجہ کو سورج طلوع ہونے کے بعد میدان عرفات کی طرف روانہ ہونا چاہیے۔ [صحیح مسلم، الحج، حدیث: 1218]

نوٹ: مکہ سے منی اور منی سے عرفات جانے والوں کے لیے پیدل چلنے کاالگ راستہ بنایا گیا ہے، جسے طَرِيقُ الْمُشَاةِ کہا جاتا ہے۔ اس راستے میں حکومت سعودیہ کی طرف سے جگہ جگہ ٹھنڈے پانی کا انتظام کیا گیا ہے۔

مسئلہ: منی سے عرفات جانا سواری پر افضل ہے یا کہ پیدل؟

بعض لوگ سواری کی سہولت ہونے کے با وجود پیدل چلنے کی مشقت کو ثواب جان کر پیدل چلتے ہیں، یاد رکھیں کہ رسول اللہﷺ  نے یہ سفر سواری پر طے فرمایا تھا، کیونکہ یہ کافی لمبا سفر ہے اور وہاں جا کر عبادت اور ذکر واذکار کرنے ہوتے ہیں تو جو شخص پیدل جائے گا وہ کبھی اس قابل نہیں رہ سکتا کہ مکمل چستی اور دل لگی سے اذکار کر سکے، لہذا ہر دو لحاظ سے سواری ہی افضل اور مستحب ہے۔ جمہور علماء بھی اسی کے قائل ہیں۔ [الضعيفة للألباني حديث:495]

راستے کا عمل:

منی سے عرفات جاتے ہوئے: تکبیر:الله اكبر…… تہلیل: لا إِلَهَ إِلَّا الله…. اور تلبيه لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ پکارنا مسنون ہے۔ 9 ذو الحجہ کے بعد وقتاً فوقتاً تکبیرات عید بھی پڑھی جا سکتی ہیں۔ [صحیح مسلم، الحج، حدیث:1285،1284]

مسنون عمل:

نبیﷺ  نے میدان عرفات میں داخل ہونے سے قبل دادی نمرہ [اب اسی نام سے یہاں مسجد ہے] میں آرام کیا۔ سورج ڈھلنے کے بعد آپ نے یہاں خطبہ ارشاد فرمایا، پھر ظہر کے وقت ظہر اور عصر جمع اور قصر کر کے ادا فرمائیں۔ ان کے درمیان کوئی نفلی نماز نہیں پڑھی۔ اس کے بعد آپ میدان عرفات میں داخل ہوئے۔ [صحيح مسلم، الحج، حديث:1218]

اس حدیث کی روشنی میں حجاج کرام کو چاہیے کہ وہ میدان عرفات میں خیمہ زن ہونے کی بجائے مسجد نمرہ میں ٹھریں۔ اگر مسجد میں جگہ نہ مل سکے تو اس کے قریب کسی جگہ پر ٹھریں۔ یہاں حج کا خطبہ سنیں اور ظہر و عصر کی نمازیں [جمع تقدیم کی صورت میں] باجماعت ادا کریں۔ بعد ازاں میدان عرفات میں وقوف کریں۔

وقوف عرفات کے اہم مسائل:

① میدان عرفات میں ظہر اور عصر کی نمازیں جمع تقدیم اور قصر کر کے ادا کرنا سنت ہے۔ اور پوری نمازیں پڑھنا خلاف سنت ہے۔

② میدان عرفات میں وقوف، حج کا بنیادی رکن ہے۔ اگر کسی شخص نے حج کے تمام مناسک ادا کر لیے لیکن میدان عرفات میں وقوف نہیں کیا تو اس کا حج نہیں ہوگا۔

③ اگر کوئی شخص عرفات میں دیر سے پہنچا اور اس نے 9 اور 10 ذوالحجہ کی درمیانی رات کو فجر سے پہلے پہلے کسی وقت میدان عرفات میں تھوڑی دیر کے لیے بھی وقوف کر لیا تو اس کا حج ہو جائے گا۔ [سنن النسائي، مناسك الحج، حديث:3019]

④ میدان عرفات میں وقوف کرنے کے لیے کوئی خاص جگہ متعین نہیں ہے۔ نبی کریم ﷺ نے جبل رحمت کے قریب وقوف کیا اور فرمایا: میں نے یہاں وقوف کیا ہے جب کہ سارا عرفات جائے وقوف [ٹھرنے کی جگہ] ہے۔ [صحیح مسلم، الحج، حدیث:1219]

لہذا جبل رحمت پر چڑھنا اور اس پر مانگی گئی دعا کو زیادہ اہم سمجھنا یہ سب من گھڑت باتیں ہیں۔

⑤مسجد نمرہ کا کچھ حصہ میدان عرفات میں اور زیادہ تر اس کی حدود سے باہر ہے، جیسا کہ دونوں جانب لگے ہوئے بورڈوں سے نشاندہی کی گئی ہے، لہذا حجاج کرام کو چاہیے کہ وہ خطبہ حج اور نمازوں کے فوراً بعد مسجد نمرہ سے آگے چل کر میدان عرفات میں وقوف کریں ورنہ حدود عرفات سے باہر وقوف سے حج باطل اور ضائع ہو جائے گا۔

⑥بعض لوگ لفظ وقوف سے صرف کھڑا رہنا ہی مسنون سمجھتے ہیں، یہ بات بلا دلیل ہے۔ اور اپنے آپ کو مشقت میں ڈالنے کے سوا کچھ نہیں۔

⑦ میدان عرفات کے چاروں طرف پیلے رنگ کے بڑے بڑے بورڈ لگے ہوئے ہیں جو اس کی حد بندی کی نشاندہی کرتے ہیں۔

حج تمتع کا مسنون طریقہ صحیح احادیث کی روشنی میں – image

میدان عرفات میں کثرت سے دعا ئیں کرنا:

یوم عرفہ [9 ذو الحجہ] اور میدان عرفات قبولیت دعا کا بہترین دن اور بہترین جگہ ہے۔ اس دن کی بہترین دعا جو نبیﷺ کے علاوہ تمام انبیاء کرام علیہم السلام نے بھی مانگی، یہ ہے:

[لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ]

اللہ کے سوا کوئی معبود [برحق] نہیں ہے۔ وہ اکیلا ہے۔ اس کا کوئی شریک نہیں ہے۔ اس کے لیے بادشاہی اور اسی کے لیے سب تعریف ہے اور وہ ہر شے پر خوب قدرت رکھنے والا ہے۔ [جامع الترمذي، الدعوات، حديث: 3585]

یوم عرفہ، جہنم کی آگ سے براءت کا دن:

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبیﷺ نے فرمایا: عرفہ کے سوا کوئی اور دن ایسا نہیں ہے کہ جس میں اللہ تعالیٰ اس کثرت سے بندوں کو [جہنم کی] آگ سے آزاد کرتا ہو، اس روز اللہ اپنے بندوں کے بہت قریب ہوتا ہے۔ اور فرشتوں کے سامنے ان [حاجیوں] کی وجہ سے فخر کرتا اور فرشتوں سے پوچھتا ہے کہ یہ لوگ کیا چاہتے ہیں؟ یعنی اپنی دنیاوی ضرورتوں کے باوجود مجھ سے صرف میری مغفرت اور رضا مندی کے طلبگار ہیں۔ [صحیح مسلم، الحج، حديث: 1348]

مسئلہ:

میدان عرفات میں قبلہ رخ ہو کر ہاتھ اٹھا کر دعا ئیں کرنی چاہیں۔ [سن النسائي، الحج، حديث: 3014]

یاد رکھیے!

نمازوں سے فراغت کے بعد سورج غروب ہونے تک ادھر اُدھر گھومنے پھرنے، سونے یا فضول گفتگو کرنے کے بجائے اس وقت کو اذکار اور دعاؤں میں صرف کرنا چاہیے۔ یہ مقام اور یہ مواقع بار بار میسر نہیں آتے، لہذا ان سے بھر پور فائدہ اٹھانے کی کوشش کرنی چاہیے۔

حج اکبر کی اصطلاح:

اکثر لوگوں میں یہ مشہور ہے کہ اگر جمعہ کے دن حج، یعنی یوم عرفہ ہو تو یہ حج حج اکبر ہے۔ اور اس کا اجر و ثواب زیادہ ہے، یہ بات بلا دلیل ہے۔ قرآن مجید میں يوم الحج الاكبر [التوبة:3]  9 ذوالحجہ [یوم عرفہ] کو کہا گیا ہے، خواہ وہ کسی بھی دن آئے۔

عرفات سے مزدلفہ روانگی:

◈ سورج غروب ہونے کے بعد نماز مغرب ادا کیے بغیر عرفات سے مزدلفہ روانہ ہونا چاہیے۔ یہی مسنون عمل ہے۔ [صحیح مسلم، الحج، حديث: 1218]

◈ راستے میں اطمینان، سنجیدگی اور وقار کو ملحوظ رکھا جائے۔ [صحیح مسلم، الحج، حدیث: 1218]

◈ ساتھ ساتھ تلبیہ بھی پڑھتے رہنا چاہیے کیونکہ نبیﷺ دس ذو الحجہ کے دن جمرہ عقبہ کو کنکریاں مارنے تک تلبیہ پکارتے رہے۔ [صحيح البخاري، الحج، حدیث: 1544,1543]

مزدلفہ میں جمع بین الصلاتین:

مزدلفہ پہنچ کر جہاں بھی جگہ ملے ٹھہر جائیں۔ سب سے پہلے اذان اور اقامت کہہ کر مغرب کی نماز ادا کی جائے۔ بعد ازاں دوسری اقامت سے عشاء کی نماز قصر [دو رکعت] ادا کی جائے۔ اس موقع پر نبی ﷺ نے سنتیں یا نوافل یا وتر ادا نہیں فرمائے بلکہ آپ عشاء کی نماز پڑھ کر سو گئے اور رات کو تہجد بھی ادا نہیں فرمائی کیونکہ آپ فجر طلوع ہونے تک سوئے رہے۔ [صحیح مسلم، الحج، حدیث: 1218]

تنبیہ:

بعض لوگوں کو خیمے ایک ہی جگہ الاٹ کیے جاتے ہیں وہ منی میں دے دیے جائیں یا مزدلفہ میں۔ جب منی کی راتیں آئیں گی تو سعودی علماء کمیٹی کا فتوی ہے، کہ مزدلفہ کے خیمے منی کے حکم میں ہونگے، یعنی مزدلفہ والے لوگ اپنے خیموں میں رہیں گے، انھیں منی نہیں جانا کیونکہ اب سب خیمے ایک دوسرے سے ملے ہوئے اور متصل ہیں، لہذا سب ایک ہی کے حکم میں ہیں اور جب مزدلفہ کی رات آئے گی تو وہ خیمے حقیقی مزدلفہ ہی میں ہیں۔ بالکل علی ھذا القیاس یہی مسئلہ منی کی راتوں میں بھی ہے۔[فتاوى لجنة الدائمة، فتوى نمبر: 10884]

نماز فجر اور اس کے بعد دعا:

مزدلفہ میں نبیﷺ نے فجر کی نماز صبح صادق کے بعد مگر عام دنوں کی نسبت قدرے جلدی پڑھی۔ [صحيح البخاري، الحج، حديث: 1682]

نماز فجر کے بعد مشعر الحرام [مزدلفہ میں ایک پہاڑی] کے قریب قبلہ رخ کھڑے ہو کر خوب دعائیں مانگی جائیں۔ [صحیح مسلم، الحج، حدیث: 1218]

وضاحت:

عرفات اور منی کی طرح مزدلفہ میں بھی چاروں طرف نشانات لگے ہوئے ہیں جو اس کے آغاز اور اختتام حدود کی نشاندہی کرتے ہیں۔ اس کے اندر کسی بھی جگہ شب بسری اور فجر کی نماز کے بعد دعائیں مانگی جاسکتی ہیں۔

مسئلہ:

جس شخص نے نماز فجر مزدلفہ میں پالی اس کا وقوف مزدلفہ درست ہے۔ [جامع الترمذي، الحج، حدیث: 889]

کمزور اور بیمار لوگوں کا مزدلفہ کی رات ہی منی چلے جانا:

کمزور، بیمار، بچے اور بھاری جسامت والے لوگ چاند کے غروب ہونے تک مزدلفہ میں قیام کر کے رات کے پچھلے حصے میں منی چلے جائیں، تو ان کے لیے اجازت ہے۔ [صحیح البخاري، الحج، حديث: ]1679،[صحيح مسلم، الحج، حديث: 1290]

تنبیهات:

① جمرات کو مارنے کے لیے کنکریاں منی سے لینا مسنون ہے۔ [سنن النسائي، مناسك الحج، حدیث: 3060] اگر کوئی شخص مزدلفہ سے کنکریاں لے لیتا ہے تو بھی کوئی حرج نہیں، البتہ جمرات کو ماری ہوئی کنکریاں نہیں لینی چاہیں۔

② بعض لوگ مزدلفہ سے کنکر مزدلفہ سے کنکریاں جمع کرنے کے بعد ان کو پانی سے دھوتے ہیں۔ یہ من گھڑت فعل ہے۔

③ کنکریاں چنے کے دانے کے برابر یا اس سے کچھ بڑی ہوئی چاہئیں۔ [صحیح مسلم، الحج، حدیث: 1299]

مزدلفہ سے منی روانگی:

مزدلفہ میں نماز فجر ادا کر کے مشعر الحرام پر دعا مانگنے اور خوب روشنی ہو جانے کے بعد، سورج طلوع ہونے سے پہلے منی کی طرف روانہ ہونا چاہیے۔ یہی مسنون ہے۔ [صحیح مسلم، الحج، حدیث: 1218]

راستے میں تلبیہ:

منی کی طرف آتے ہوئے راستے میں تلبیہ پکارتے رہیں۔ [صحیح البخاري، الحج، حديث: 1685]

وادی محسر کے آداب:

مزدلفہ اور منی کے درمیان وادی محسر ہے جہاں ابرہہ اور اس کا لشکر ہاتھیوں سمیت چھوٹے چھوٹے پرندوں کی سنگ باری سے ہلاک ہوا تھا۔ اس وادی سے تیزی سے گزریں۔ [مسلم، الحج، حدیث: 1218]

دس ذو الحجہ کے اہم اعمال:

دس ذو الحجہ [یوم النحر] کو بالترتیب چار اہم کام سر انجام دیے جاتے ہیں:

جمرہ عقبہ کو کنکریاں مارنا:

سورج طلوع ہونے کے بعد سے زوال تک جمرہ عقبہ [جسے جمرہ کبری بھی کہتے ہیں] کو سات کنکریاں ماری جائیں، یہ واجب ہیں کیونکہ نبی ﷺ نے کنکریاں مارتے ہوئے فرمایا: مجھ سے حج کے احکام سیکھ لو۔ [صحیح مسلم، الحج، حديث: 1297]

مسئلہ:

کنکریاں مارنے سے قبل تلبیہ بند کر دیں کیونکہ نبیﷺ نے اسی طرح کیا تھا۔ [صحیح البخاري، الحج، حديث: 1687،1686]

کنکریاں مارنے کا طریقہ:

◈ کنکریاں مارنے والا ایسی جگہ کھڑا ہو جہاں مکہ مکرمہ اس کے بائیں اور منی دائیں جانب ہو، یعنی جمرہ کے جنوب کی طرف کھڑا ہو۔ لیکن اگر یہ نا ممکن ہو تو کسی طرف سے بھی کنکریاں ماری جا سکتی ہیں۔ [صحيح البخاري، الحج، حديث: 1748]

◈ ہرکنکری اللہ اکبر کہتے ہوئے ماری جائے۔ [صحيح البخاري، الحج، حديث: 1750]

◈ ساتوں کنکریاں ایک ایک کر کے ماری جائیں۔ [صحيح البخاري، الحج، حديث: 1750]

◈ اگر کوئی شخص ایک ہی بار ساتوں کنکریاں مار دیتا ہے، تو یہ ایک شمار ہو گی۔ اسے ایک ایک کر کے مزید چھ کنکریاں مارنا ہوں گی۔

◈ کنکریاں مارنے کے بعد یہاں دعا کے لیے نہ رکیں کیونکہ نبی ﷺ نے جمرہ عقبہ کو کنکریاں مارنے کے بعد دعا نہیں کی۔ [صحيح البخاري، الحج، حديث: 1751]

حج تمتع کا مسنون طریقہ صحیح احادیث کی روشنی میں – pic 5

تنبیه:

① سعودی حکومت نے جمرات پر نہایت کشادہ چار منزلہ پل بنا دیے ہیں۔ جمرات کے ستونوں کو پلوں میں سے گزار کر بلند کر دیا گیا ہے، اب ان کے اوپر سے بھی کنکریاں مارنے کی سہولت موجود ہے۔

② جمرات کو کنکریاں اتباع سنت میں ماری جاتی ہیں، لہذا اس موقع پر یہ سمجھتے ہوئے کہ ہم شیطان کو کنکریاں مار رہے ہیں، زبان سے گالی دینا، جوتے مارنا یا بے ہودہ گفتگو کرنا غلط ہے۔

کنکریاں مارنے میں نیابت:

کمزور، بوڑھے، بچے اور عذر والی عورتوں کی طرف سے کوئی دوسرا بھی کنکریاں مار سکتا ہے۔ اس کا طریقہ یہ ہے کہ پہلے اپنی طرف سے سات کنکریاں مارے، پھر دوسرے شخص کی طرف سے نیت کر کے اس کی طرف سے مارے۔ بالفرض اگر کنکریاں مارنے والا حاجی نہ بھی ہو تو وہ کسی کی طرف سے رمی کر سکتا ہے۔

رمی میں تاخیر:

اگر زوال تک جمرہ عقبہ کو رمی نہیں کر سکے بلکہ بعد میں کی ہے تو بھی کوئی حرج نہیں۔ [صحیح البخاري، الحج، حديث: 1723]

② قربانی کرنا:

10 ذوالحجہ کا دوسرا کام قربانی کرنا ہے۔ حج قران اور حج تمتع کرنے والے پر قربانی واجب ہے۔ اگر قارن اور متمتع کے پاس قربانی کی استطاعت نہ ہو تو اسے ایام حج میں تین اور واپس گھر آ کر سات روزے رکھنے چاہئیں، البتہ حج افراد کرنے والے پر قربانی واجب نہیں ہے۔ ہاں اگر وہ نفلی کرنا چاہے تو کر سکتا ہے۔ [البقرة: 196]،[صحيح البخاري، الحج ، حدیث: 1691]، ایسا حاجی یہ تین روزے 9 ذو الحجہ سے پہلے پہلے رکھ لے تو بہتر ہے ورنہ 10 ذوالحجہ کے بعد ایام تشریق [13.12.11 ذوالحجہ] میں رکھنا ضروری ہوگا کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے حج کے دوران میں 9 ذو الحجہ [یوم عرفہ] کا روزہ نہیں رکھا۔ [صحیح البخاري، حديث: 1989] اور 10 ذو الحجہ عید کا دن ہے، نیز ایام تشریق کے بعد ایام حج ویسے ہی ختم ہو جاتے ہیں۔ شاید اسی لیے بعض صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے یہ روزے ان دنوں میں رکھنا ثابت ہے۔ [صحيح البخاري، الصوم، حدیث: 1999،1996] [والله أعلم]

قربانی کے احکام و مسائل

① منی یا مکہ میں کسی بھی جگہ [حدود حرم کے اندر] قربانی کرنا جائز ہے۔ [سنن أبي داود، الحج، حديث: 1937]

تنبیہ:

اگر کسی وجہ سے کسی پر دم [بطور فدیہ قربانی کرنا] لازم آتا ہے تو یہ دم بھی حدود حرم میں دینا ہوگا۔ مگر دم والے جانور کا گوشت وہ حاجی نہیں کھا سکتا جس نے دم دیا ہے بلکہ وہ صرف وہاں کے فقراء کا حق ہے۔

② اگر 10 ذوالحجہ کو کسی وجہ سے قربانی نہیں کر سکتے تو ایام تشریق، یعنی 11 ، 12 اور 13 ذو الحجہ کے غروب آفتاب تک کسی بھی وقت قربانی کر سکتے ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي:395/9]

③ استطاعت کے مطابق اگر کوئی شخص ایک سے زیادہ قربانیاں کرنا چاہے تو یہ بھی رسول اللہ ﷺ کی سنت ہے۔ [صحيح البخاري، الحج، حديث: 1712]

④ کسی دوسرے سے بھی قربانی کا جانور ذبح کرایا جا سکتا ہے۔ نبیﷺ نے خود بھی اونٹ ذبح کیے اور کچھ کے لیے سیدنا علی رضي اللہ عنہ کو حکم دیا۔ [صحیح مسلم، الحج، حدیث: 1218]

⑤ حج کی قربانی کے لیے وہی شرائط ہیں جو عید الاضحی کی قربانی کے لیے ہیں۔

⑥ اپنے جانور کی قربانی سے خود گوشت کھانا مسنون ہے۔ [صحیح مسلم، الحج، حدیث: 1218]

تنبیہ:

آج کل قربانی کی رقم بینک یا مخصوص کاؤنٹر پر جمع کرانے کا بھی انتظام ہے، جس کے تحت بینک خود جانور خریدتا اور منی میں ذبح کرتا ہے، تاہم یہ سہولت بھی موجود ہے کہ جو اپنی قربانی خود کرنا چاہے وہ وہاں مذبح میں جا کر اپنی پسند سے خرید کر قربانی کر سکتا ہے۔ چونکہ پہلے قربانی کا اکثر گوشت ضائع ہو جاتا تھا، اس لیے حکومت سعودیہ نے اس سکیم کے ذریعے گوشت محفوظ کر کے مستحقین تک پہنچانے کا بندو بست کیا ہے، لہذا اس طور پر رقم جمع کرانا بھی جائز ہے۔

⑦ جو شخص اپنا جانور خود ذبح کرنا چاہے وہ بِسْمِ اللهِ وَاللهُ أَكْبَر کہہ کرذبح کرے۔ [صحيح البخاري، الأضاحي، حديث: 5558]

⑧ اونٹ اور گائے میں سات سات آدمی شریک ہو سکتے ہیں۔

③ حجامت:

10 ذو الحجہ کا تیسرا کام بال منڈوانا یا کٹوانا ہے۔ حجامت سے متعلق وہی احکام ہیں جن کا بیان پہلے گزر چکا ہے۔

احرام کی پابندیاں ختم:

قربانی اور حجامت کے بعد اب احرام کی تمام پابندیاں ختم ہو چکی ہیں۔ صرف بیوی سے مجامعت کی پابندی بدستور باقی ہے۔ حجاج کرام احرام کھول دیں۔ اسے تحلل اصغر بھی کہتے ہیں۔

④طواف زیارت [افاضه]:

چوتھا اور آخری کام طواف زیارت ہے۔ اسے طواف افاضہ بھی کہتے ہیں۔ یہ طواف، حج کا رکن ہے۔ اس طواف میں احرام، اضطباع اور رمل کی کوئی ضرورت نہیں۔ البته با وضو ہونے، حجر اسود کو بوسہ دینے یا استلام یا اشارہ کرنے اور ذکر و اذکار کرنے کے وہی مسائل ہیں جن کا ذکر پہلے گزر چکا ہے۔ حجاج کرام اگر کسی عذر کی وجہ سے اس دن طواف نہ کر سکیں تو ایام تشریق میں کسی بھی وقت کر سکتے ہیں۔

البتہ بعض علماء کے نزدیک [سنن ابی داود کی حدیث: 1999] کو مد نظر رکھتے ہوئے غروب شمس تک اگر طواف افاضہ نہیں کیا تو دوبارہ محرم پر احرام کی پابندیاں عائد ہو جائیں گی، یہاں تک کہ وہ طواف افاضہ کر لے۔ [مناسك الحج والعمرة للألباني رحمہ اللہ]

لیکن شیخ عثیمین اور ابن باز وغیرہ نے اس حدیث کو مختلف لحاظ سے ضعیف قرار دیا ہے۔ بنا بریں اگر غروب شمس سے پہلے پہلے طواف افاضہ کر لیا جائے تو بہتر ہے، تاہم اگر کسی معقول عذر کی وجہ سے ایسا نہ ہو سکے تو بعد میں کر لیا جائے، شاید عذر کی وجہ سے وہ عند الله معذور سمجھا جائے۔ والعلم عند الله.

طواف افاضہ اور حائضہ خاتون:

عورت 10 ذوالحجہ تک پاک نہ ہو تو وہ کیا کرے؟

جب سفر حجاز کے لیے آنے جانے کی یہ پابندیاں نہیں تھیں، جو اب ہیں کہ واپسی کی تاریخیں بھی مقرر ہوتی ہیں اور تنہا عورت اپنے قافلے اور گروپ سے علیحدہ بھی نہیں ہو سکتی، تو اہل قافلہ رک جایا کرتے تھے اور جب عورت پاک ہو جاتی تو وہ طواف افاضہ کر لیتی تھی، اور پھر قافلہ واپسی کے لیے روانہ ہو جاتا۔ اب صورت حال یکسر بدل گئی ہے، اب واپسی میں کسی کا اختیار نہیں ہے اور ایک دن کی تاخیر بھی بالعموم ممکن نہیں۔ اب عورت کیا کرے؟

فقہائے کرام نے اس کے مختلف حل تجویز کیے ہیں لیکن سب میں مشکلات ہیں، جبکہ عورت کا یہ عذر ایسا ہے، جو اس کے اختیار میں نہیں ہے۔ اور شریعت نے غیر اختیاری عذر میں سہولتیں دی ہیں، صاحب عذر کو مشکل میں نہیں ڈالا ہے، جیسے مریض کو اس کی بیماری کی نوعیت کے اعتبار سے سہولتیں دی ہیں۔ حتی کہ مضطر اور لا چار کو جان بچانے کے لیے مردار تک کھانے کی اجازت دی گئی ہے۔ اور اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں اعلان بھی فرمایا ہے: [وَ مَا جَعَلَ عَلَیۡکُمۡ فِی الدِّیۡنِ مِنۡ حَرَجٍ]

اور اللہ نے تم پر دین میں کوئی تنگی نہیں رکھی۔ [الحج:78]

[لَا یُکَلِّفُ اللّٰہُ نَفۡسًا اِلَّا وُسۡعَہَا]

اللہ تعالی کسی جان کو اس کی طاقت سے زیادہ مکلف [ذمے دار] نہیں بناتا۔ [البقرة:286]

[یُرِیۡدُ اللّٰہُ بِکُمُ الۡیُسۡرَ وَ لَا یُرِیۡدُ بِکُمُ الۡعُسۡرَ]

اللہ تعالیٰ تمھارے ساتھ آسانی چاہتا ہے اور تمھارے ساتھ تنگی نہیں چاہتا۔ [البقرة:185]

اس طرح کے اور بھی بے شمار دلائل ہیں۔ جب اللہ تعالیٰ صاحب عذر کو اختیاری آسانی مہیا فرماتا ہے، تو حائضہ عورت کو، جس کا عذر بھی طبعی اور غیر اختیاری ہے، کس طرح مشکل میں ڈالنا جائز ہوگا! اس لیے شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ اور ان کے تلمیذ رشید حافظ ابن القیم رحمہم اللہ دونوں نے اس مسئلے پر بڑی تفصیل سے بحثیں کی ہیں اور فقہاء کے تجویز کردہ تمام حلوں کو مزاج شریعت کے خلاف قرار دیا ہے۔ اور خود اس کا یہ حل تجویز کیا ہے کہ حائضہ عورت، مستحاضہ عورت کی طرح، اچھی طرح لنگوٹ وغیرہ کس لے اور اسی حالت میں طواف افاضہ کر لے اور اس پر کوئی دم وغیرہ بھی نہیں ہے۔ [مجموع الفتاوى:26/ 241،176]،[إعلام الموقعين لابن القيم]

سعودی علماء کا فتوی

عصر حاضر کے سعودی علماء نے بھی امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کی رائے سے اتفاق کرتے ہوئے یہی فتوی دیا ہے، کہ حائضہ عورت [سفر کی موجودہ مشکلات کی وجہ سے] لنگوٹ باندھ کر طواف افاضہ کر لے کیونکہ اس کے لیے قافلے سے الگ ہو کر پاک ہونے تک مکہ مکرمہ میں ٹھرنا بھی ناممکن ہے۔ اور اپنے ملک واپس جا کر آئیندہ سال دوبارہ حج کے لیے آنا بھی یا اپنے ملک میں جاکر طواف افاضہ کے انتظار تک حالت احرام میں رہنا بھی نہایت مشکل ہے۔ [فتاوی اركان الإسلام للشيخ عثيمين: 1/ 429,428]،[فتاوى اسلامية: مجموعة فتاوى علمائے سعودی عرب:2/ 318،317] مطبوعة دارالسلام

تنبیہ:

اگر کوئی کسی وجہ سے طواف زیارت نہیں کر سکا حتی کہ حج کا آخری دن آگیا تو اسے یہ رخصت حاصل ہے کہ وہ طواف وداع اور طواف زیارت کی نیت سے ایک ہی طواف کر لے، اس طرح ایک طواف دونوں کو کفایت کر جائے گا، اگر اس نے ابھی تک حج کی سعی نہیں کی تو وہ ساتھ حج کی سعی بھی کرلے۔ [مناسك الحج والعمرة، ص: 36،32]

طواف زیارت کے بعد احرام کی تمام پابندیاں ختم ہو جاتی ہیں، حتی کہ بیوی سے تعلق کی پابندی بھی ختم ہو جاتی ہے۔ اسے تحلل اکبر بھی کہتے ہیں۔ [سنن أبي داود المناسك، حديث: 1999]

◈ اگر بھیڑ کی وجہ سے نیچے مطاف میں طواف کرنا مشکل ہو تو دوسری منزل یا چھت پر بھی طواف کر سکتے ہیں۔

حج کی سعی:

طواف زیارت کے بعد حج تمتع کرنے والے کے لیے حج کی سعی بھی ضروری ہے۔ حج قران اور حج افراد کرنے والوں نے اگر قبل ازیں طواف قدوم کے وقت سعی نہیں کی تو وہ بھی ضرور کریں، ورنہ ان کے لیے ضروری نہیں۔

اس سعی کے وہی احکام و مسائل ہیں جو پہلے بیان ہو چکے ہیں، البتہ اس کے بعد حجامت کی ضرورت نہیں ہے۔

تنبیهات:

① رسول اللہﷺ نے دس تاریخ کو مذکورہ کام اسی ترتیب سے انجام دیے، اگر یہ ترتیب قائم رہ سکے تو بہتر ہے اور اگر ان میں تقدیم و تاخیر ہو جائے تو کوئی دم یا فدیہ نہیں ہے، مثلاً: اگر کسی نے جمرہ عقبہ کو کنکریاں مارنے سے قبل قربانی کر لی یا قربانی سے پہلے حجامت بنوالی یا حجامت سے پہلے طواف افاضہ [زیارت] اور سعی کر لی تو کوئی حرج نہیں ہے۔ [صحيح البخاري، الحج، حديث: 1722]

② بعض لوگ ان امور میں تقدیم و تاخیر پر دم ضروری قرار دیتے ہیں، یہ غلو ہے۔ کیونکہ رسول اللہﷺ نے ان امور میں تقدیم و تاخیر کرنے والوں سے فرمایا تھا: کوئی حرج نہیں۔ کوئی حرج نہیں۔ [صحيح البخاري، الحج، حديث: 1722]

مکہ سے منیٰ واپسی:

طواف زیارت اور سعی کرنے کے بعد حجاج کرام کو چاہیے کہ وہ واپس منیٰ آجائیں اور رات منی میں گزاریں۔

ایام تشریق:

13,12,11 ذوالحجہ کو ایامِ تشریق کہتے ہیں۔ ان تین دنوں کی راتیں منی میں گزارنا واجب ہے۔ صرف ضروری خدمت انجام دینے والوں کو منی کی راتیں مکہ یا اس کے گردونواح میں گزار نے کی اجازت دی گئی ہے۔ اور دی جاسکتی ہے، جس کا فیصلہ کسی ثقہ عالم دین سے کروایا جا سکتا ہے۔ [صحیح البخاري، الحج، حديث: 1745]

نمازوں کی ادائیگی:

جو حجاج کرام منی کی مسجد خیف کے قریب ہوں یا ان کے لیے مسجد خیف تک رسائی ممکن ہو تو انھیں چاہیے کہ وہ مسجد خیف میں نمازیں باجماعت قصر ادا کریں۔ اور جن کے لیے مسجد تک رسائی مشکل ہو، وہ اپنے خیموں میں نماز با جماعت قصر کا اہتمام کریں۔

رمی جمرات:

ان تین ایام میں روزانہ تینوں جمرات [جمرہ اولی ، جمرہ وسطی اور جمرہ عقبہ] کو سورج ڈھلنے کے بعد کنکریاں ماری جا جائیں۔[صحيح البخاري، الحج، حديث: 1746]،[سنن أبي داود، المناسك، حدیث:1973]

أَيَّامِ تشریق میں رمی کا طریقہ:

جمرہ اولی جو منی کی جانب سے پہلا جمرہ ہے، اسے پہلے رمی کی جائے [اسے جمرہ دنیا اور جمرۂ صغری بھی کہا جاتا ہے]، پھر درمیانے جمرے کو اور سب سے آخر میں جمرہ عقبہ کو رمی کی جائے۔ [صحیح البخاري، الحج، حديث: 1751]

پہلے دونوں جمروں کو سات سات کنکریاں ماری جائیں اور ہر کنکری مارتے ہوئے اللہ اکبر کہا جائے، پھر ذرا ہٹ کر دعا کی جائے۔ لیکن تیسرے جمرے کو رمی کرنے کے بعد وہاں رکیں اور نہ دعا کریں۔ [صحيح البخاري، الحج، حديث: 1753]

تینوں جمروں کو اس طرح رمی کی جائے کہ مکہ بائیں اور منی دائیں جانب ہو۔ اگر یہ مشکل ہو تو پھر کسی بھی طرف سے رمی کی جاسکتی ہے۔

حج تمتع کا مسنون طریقہ صحیح احادیث کی روشنی میں – pic 5

ایام منی میں اللہ کا ذکر:

ان ایام میں بکثرت اللہ تعالیٰ کا ذکر کریں۔ نبیﷺ نے فرمایا: ایام تشریق کھانے، پینے اور [بکثرت] اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنے کے دن ہیں۔ [صحیح مسلم، الحج، حدیث:1141]

ایام تشریق میں بیت اللہ کا طواف کرنا:

ان ایام میں مکہ جا کر بیت اللہ کا [نفلی] طواف کرنا بھی ثابت ہے۔ [صحیح البخاري، الحج، قبل الحديث: 1732]،[السنن الكبرى للبيهقي:146/5]

12 ذو الحجہ کو واپسی کی اجازت:

ایام تشریق کے تینوں دن منی میں گزارنا مسنون ہے، نبیﷺ نے ایسا ہی کیا تھا۔ [سنن أبي داود، المناسك ، حديث: 1973]

اگر کوئی شخص 12 ذوالحجہ کو واپس جانا چاہے، تو شرعا اس کی اجازت ہے۔ قرآن مجید میں ہے:

[فَمَنۡ تَعَجَّلَ فِیۡ یَوۡمَیۡنِ فَلَاۤ اِثۡمَ عَلَیۡہِ وَ مَنۡ تَاَخَّرَ فَلَاۤ اِثۡمَ عَلَیۡہِ لِمَنِ اتَّقٰی]

جو شخص دو دنوں میں [منی چھوڑنے کی]جلدی کرتا ہے تو اس پر کوئی گناہ نہیں ہے۔ اور جو تاخیر کرتا ہے اس پر بھی کوئی گناہ نہیں بشر طیکہ اللہ سے ڈرنے والا ہو۔ [البقرة:203]

یہ اجازت حدیث سے بھی ثابت ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي:152/5] تاہم 12 ذوالحجہ کے دن واپس آنے والے کو چاہیے کہ وہ صرف اسی دن کی رمی کرے اور سورج ڈوبنے سے پہلے منی کی حدود سے نکل جائے۔ اگر منی کی حدود چھوڑ نے سے قبل سورج غروب ہو گیا تو پھر 13 کی رات منی میں گزارنا اور دن کو رمی کرنا ضروری ہوگا۔ [السنن الكبرى للبيهقي:152/5]،[موطأ إمام مالك، الحج، عن ابن عمر موقوفا]

اگر ٹریفک کے ہجوم کی وجہ سے وہ منی سے نہیں نکل سکا حتی کہ سورج غروب ہو گیا تو کوئی حرج نہیں۔ اس کے لیے منی میں رات گزارنا ضروری نہیں۔

طواف وداع:

حج مکمل کرنے کے بعد مکہ معظمہ سے رخصت ہونے سے قبل، الوداعی طواف کرنا واجب ہے۔ [صحیح مسلم، الحج، حديث: 1327]

حائضہ کے لیے رعایت:

حاجی کے لیے مکہ مکرمہ سے روانہ ہوتے وقت سب سے آخری کام طواف وداع کرنا ہے، البتہ وہ عورت جو حیض سے ہو اس کے لیے طواف وداع ضروری نہیں ہے۔ بشرطیکہ وہ طواف زیارت کر چکی ہو۔ [صحیح البخاري، الحج، حديث: 1757،1755]

تنبیہ:

بعض لوگ مسجد حرام سے نکلتے وقت الٹے پاؤں واپس ہوتے ہیں۔ ایسا کرنا نبیﷺ اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے قطعاً ثابت نہیں ہے۔

◈ مسجد حرام سے باہر نکلتے وقت بایاں پاؤں پہلے نکالیں اور یہ دعا پڑھیں:اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ مِنْ فَضْلِكَ

اے اللہ! بے شک میں تجھ سے تیرا فضل مانگتا ہوں۔ [صحيح مسلم صلاة المسافرين، حدیث:713]